تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     24-03-2026

چائنہ اوپننگ اَپ

عالمی منظرنامہ اس وقت شدید جغرافیائی اور معاشی انتشار کا شکار ہے۔ یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے محاذوں پر جاری جنگوں کے ساتھ ساتھ عالمی قوتوں کی معاشی کشمکش نے سپلائی چین کے ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے‘ جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا اس وقت ایسی بساط بن چکی ہے جہاں ہر ملک اپنی سرحدیں محفوظ کرنے اور دیواریں کھڑی کرنے میں مصروف ہے لیکن اس گمبھیر اور مایوس کن عالمی فضا میں چین نے ایک منفرد اور جرأت مندانہ راستہ اختیار کیا ہے۔ جب دنیا کی بڑی معیشتیں معاشی تحفظ پسندی کی بات کر رہی ہیں‘ چین نے اپنے جزیرہ نما صوبے ہائی نان کے شہر بوائو (Boao)میں جاری ایشیا بوائو فورم 2026 ء کے ذریعے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ چین کے دروازے بند نہیں ہو رہے بلکہ پہلے سے زیادہ وسعت کے ساتھ کھل رہے ہیں۔ ہائی نان جو جنوبی چین میں واقع ایک خوبصورت جزیرہ ہے‘ چند برس پہلے تک مچھیروں اور سیاحت کے لیے جانا جاتا تھا تاہم دسمبر 2025ء میں چینی صدر شی جن پنگ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے ایک انقلابی فیصلے نے اس کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔ ہائی نان کو مکمل فری ٹریڈ پورٹ کا درجہ دینا محض ایک معاشی اعلان نہیں تھا بلکہ ایک جیو پولیٹکل اقدام تھا۔ یہ جزیرہ جنوبی چین میں ایک ایسے مقام پر واقع ہے جہاں سے عالمی بحری تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ یہاں چین کی بحریہ کا سب سے بڑا ایئر بیس بھی موجود ہے جو اس کی دفاعی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ صدر شی جن پنگ کے ''چائنہ اوپننگ اَپ‘‘ ویژن کے تحت ہائی نان کو شین زین کے بعد سب سے بڑا پائلٹ پروجیکٹ بنایا گیا ہے۔ 1980 ء کی دہائی میں شین زین نے چین کی معاشی ترقی کا رخ موڑا تھا اور اب 2026 ء میں ہائی نان چین کی ماڈرنائزیشن کا استعارہ بن کر ابھرا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ہائی نان کو ہانگ کانگ‘ سنگاپور اور دبئی جیسے عالمی تجارتی مراکز کے ہم پلہ لانا ہے‘ جہاں قوانین لچکدار ہوں اور سرمایہ کاری محفوظ ہو۔
رواں سال منعقد ہونے والا ایشیا بوائو فورم غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس فورم میں دنیا بھر کے سیاسی رہنمائوں‘ ماہرینِ معیشت اور کارپوریٹ سیکٹر کے سربراہوں نے شرکت کی تاکہ اس نئے معاشی ڈھانچے کو سمجھا جا سکے۔ فورم کا بنیادی ایجنڈا یہ تھا کہ کس طرح ہائی نان کو ایک ایسے مرکز میں تبدیل کیا جائے جہاں دنیا کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھنے والا تاجر بغیر کسی رکاوٹ کے اپنا کاروبار سیٹ کر سکے۔ چند برس پہلے تک غیر ملکی کمپنیوں کو محض چینی مارکیٹوں تک صرف رسائی حاصل تھی لیکن اب ہائی نان کے ذریعے بیرونی تاجر چین کے اندر رہ کر اپنا کاروبار عالمی سطح پر پھیلا سکتے ہیں۔ یہ آزادانہ اوپننگ اَپ کی وہ پالیسی ہے جو چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا کلیدی حصہ ہے۔ اس پالیسی کے تحت چین اپنی معیشت کو عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ مزید ہم آہنگ کر رہا ہے‘ جس سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری ہمیشہ امن اور استحکام کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں مشرقِ وسطیٰ کے وہ ممالک جنہیں دہائیوں سے محفوظ ترین تجارتی مراکز سمجھا جاتا تھااب عدم استحکام کا شکار ہیں۔ متحدہ عرب امارات‘ قطر اورکویت جیسے ممالک علاقائی کشیدگی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لیے وہ کشش کھو رہے ہیں جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ ایسے میں عالمی سرمایہ کار ایک ایسے متبادل کی تلاش میں ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہو‘ ٹیکس کی مراعات ہوں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں امن و امان کی صورتحال مثالی ہو۔ چین نے ہائی نان کو اسی متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ ہائی نان میں کمپنی کی رجسٹریشن کا عمل دنیا کے تیز ترین نظاموں میں سے ایک ہے۔ یہاں زیرو ٹیرف کی پالیسی اپنائی گئی ہے‘ جس کا مطلب ہے کہ خام مال کی درآمد اور مصنوعات کی برآمد پر کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں لی جاتی۔ ہائی نان منصوبہ پاکستان اور چین کی دوستی کو ایک نئی معاشی جہت عطا کر رہا ہے۔ پاکستان کے وہ کاروباری حضرات جو ماضی میں سرمایہ کاری کے لیے دبئی‘ پانامہ یا سنگاپور کا رخ کرتے تھے‘ اب ہائی نان انہیں قانونی اور محفوظ سرمایہ کاری کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ بہت سے پاکستانی سرمایہ کاروں کو بیرونِ ملک چھپی ہوئی یا غیر دستاویزی سرمایہ کاری کی وجہ سے قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا‘ لیکن ہائی نان میں شفافیت اور چینی حکومت کی سرپرستی انہیں قانونی راستہ فراہم کرتی ہے۔ بوائو فورم 2026ء میں پاکستان کا اعلیٰ سطح سرکاری وفد چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں شریک ہے جبکہ ایک بڑا تجارتی وفد بھی شرکت کر رہا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ہائی نان کو ایک گولڈن گیٹ وے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کے لیے ہائی نان میں سرمایہ کاری کا مطلب منافع کے ساتھ ساتھ چینی ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے جدید طریقوں تک براہِ راست رسائی بھی ہے۔ ہائی نان کی ترقی کا ماڈل چین کے دیگر روایتی ترقی یافتہ علاقوں کے مقابلے میں منفرد اور جدید ہے‘ جسے ایک خصوصی انتظامی اور معاشی زون کے طور پر نہایت حکمت عملی سے تیار کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کی بنیاد جدید ترین لاجسٹکس اور بہترین کنیکٹوٹی پر ہے‘ ہائی نان کا اسٹرٹیجک ایئر بیس اور جدید بندرگاہیں اسے بحر ہند اور بحر الکاہل کے سنگم پر ایک مثالی تجارتی مرکز بناتی ہیں‘ جس سے مشرق بعید‘ جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا تک رسائی انتہائی سہل ہو گئی ہے۔ معاشی اعتبار سے پورے جزیرے کو ایک مخصوص کسٹم بائونڈری قرار دے کر ٹیکس فری زون میں تبدیل کر دیا گیا ہے‘ جہاں غیر ملکی اشیا کی آمد و رفت پر کسی قسم کی ڈیوٹی عائد نہیں ہوتی۔ مزید برآں یہاں فائیو جی نیٹ ورک‘ مصنوعی ذہانت اور بلاک چین ٹیکنالوجی پر مبنی ایک جدید ڈیجیٹل ایکو سسٹم قائم کیا گیا ہے جو مستقبل کی عالمی تجارت کی بنیادی ضرورت ہے۔ ان تجارتی و تکنیکی خصوصیات کے ساتھ ساتھ ہائی نان کو اپنی قدرتی خوبصورتی اور بلند پایہ معیارِ زندگی کی وجہ سے ''مشرق کا ہوائی‘‘ بھی کہا جاتا ہے‘ جہاں بین الاقوامی معیار کی رہائش گاہیں اور جدید طرزِ زندگی دنیا بھر کے ماہرین اور بڑے تاجروں کو اپنی جانب راغب کر رہا ہے۔
ہائی نان منصوبے کا مقصد چین کو ایک ایسی عالمی طاقت بنانا ہے جو صرف مصنوعات برآمد نہ کرے بلکہ عالمی معاشی نظام کے قوانین وضع کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت ہائی نان ''میری ٹائم سلک روڈ‘‘ کا وہ مرکزی نکتہ ہے جو سمندری تجارت کے ذریعے براعظموں کوآپس میں جوڑتا ہے۔ صدر شی جن پنگ کا ویژن یہ ہے کہ چین کی ترقی کو دنیا کی ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی نان کے ذریعے چین یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ ایک ایسی اوپن مارکیٹ بننا چاہتا ہے جہاں مقابلہ شفاف ہو اور فوائد سب کے لیے یکساں ہوں۔ یہ ماڈل دنیا کے ان حصوں کے لیے ایک سبق ہے جو دیواریں کھڑی کر کے اپنی معیشت کو بچانا چاہتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کیلئے ہائی نان ایک نادر موقع ہے جس کے ذریعے ہم عالمی معیشت کے مرکزی دھارے میں شامل ہو سکتے ہیں۔ صدر شی جن پنگ کا ''چائنہ اوپننگ اَپ‘‘ کا خواب اب ہائی نان کی شکل میں حقیقت بن چکا ہے اور یہ جزیرہ آنے والے برسوں میں عالمی تجارت کا نیا مرکز ثابت ہو گا۔ ہائی نان کے دروازے اب ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو امن‘ ترقی اور خوشحالی کے سفر میں چین کا شراکت دار بننا چاہتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved