امریکہ‘اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ جنگ کسی ایک محاذ‘ کسی ایک شہر یا کسی ایک تنازعے تک محدود واقعہ نہیں بلکہ اسے اُس لمحے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب طاقت کے غرور نے حقیقت سے ٹکرا کر خود کو بے نقاب کر دیا۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں ہتھیاروں سے زیادہ غلط اندازے استعمال ہوئے‘ اور ہر غلط اندازہ ایک نئی ناکامی میں تبدیل ہوتا چلا گیا۔ اگر اس جنگ کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہو گا کہ اس جنگ کے پانچ بڑے اہداف طے کیے گئے اور کوئی ایک ہدف بھی حاصل نہ ہو سکا۔ یہ کوئی جزوی ناکامی نہیں بلکہ حکمتِ عملی‘ دور اندیشی اور بصیرت کی مکمل شکست ہے۔
اس جنگ کا پہلا ہدف ایران میں نظام کی تبدیلی تھا۔ اس منصوبے کو اسرائیل کی طرف سے امریکہ کے سامنے اس انداز میں پیش کیا گیا کہ امریکی حملے کے بعد ایرانی عوام سڑکوں پرنکل آئیں گے‘ اندرونی بغاوت جنم لے گی اور نظام خود بخود گر جائے گا ‘مگر زمینی حقائق نے اس بیانیے کو مکمل طور پر رد کیا ہے۔ نہ عوام باہر آئے نہ کوئی انقلاب برپا ہوا اور نہ ہی وہ عناصر امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوئے جنہیں اس سازش میں اپنا اہم ہتھیار سمجھا جا رہا تھا۔ دوسرا ہدف ایران کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ تھا۔ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے ہوئے مگر نہ یہ پروگرام ختم ہوا اور نہ ہی اس کی صلاحیت متاثر ہوئی۔ تیسرا ہدف ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا تھا‘ جو حاصل نہیں ہو سکا۔ چوتھا ہدف یہ تعین کرنا تھا کہ ایران میں کون حکومت کرے گا‘ یہ بھی مذاق بن کر رہ گیا۔ پانچواں ہدف پورے خطے میں ایک نیا سٹرٹیجک نظام نافذ کرنا تھا‘ جو بری طرح ناکام ہوا۔ یوں کوئی ایک ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا۔ یہ ایک ایسی مکمل ناکامی ہے جس میں کسی ابہام کی گنجائش نہیں۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ محض وقتی شور تھا‘ کوئی سٹرٹیجک کامیابی نہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا ایجنڈا واضح تھا: خطے کو تقسیم کرنا‘ ریاستوں کو کمزور کرنا اور بحران پیدا کرنا‘ جیسا کہ عراق‘ لیبیا اور شام میں کیا گیا۔ مگر یہاں حساب کتاب غلط ثابت ہوا۔ نہ زمین وہ تھی نہ لوگ وہ تھے اور نہ ہی ردعمل ویسا تھا جس کی توقع کی گئی تھی۔ یہیں سے اصل دھچکا لگا اور امریکہ کی عسکری برتری کا تاثر ٹوٹ گیا۔ اب یہ روایتی میڈیا کا دور نہیں کہ حقائق کو مسخ کر کے عوام کو مطمئن رکھا جا سکے۔ سوشل میڈیا نے وہ سب کچھ دکھا دیا جو امریکہ اور اسرائیل شاید دنیا کو نہیں دکھانا چاہتے تھے‘ اور اسی میں ان کی بے بسی بھی نمایاں ہوئی۔ جنگی نقصانات پر متعدد رپورٹس سامنے آئیں‘ حتیٰ کہ جدید ترین امریکی طیاروں کے متاثر ہونے کی اطلاعات بھی گردش میں رہیں۔ یہ نقصان ایک بڑی عسکری شرمندگی تھاجس نے امریکہ کے ناقابلِ شکست ہونے کے تصور کو چکنا چور کر دیا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایسے فیصلے کن بنیادوں پر کیے گئے؟ وہ لوگ جو نہ منتخب تھے اور نہ ہی خاطر خواہ تجربہ رکھتے تھے‘ ان کے کہنے پر؟ قریبی حلقے‘ عزیز و اقارب‘ دوست اور غیرمنتخب مشیر‘ انہی کے مشوروں پر ایک عالمی طاقت جنگ میں داخل ہو گئی۔ نہ کانگریس سے منظوری لی گئی اور نہ ہی ماہرین کو اعتماد میں لیا گیا۔ یہ وہی غلطی تھی جو ویتنام جنگ کے دوران امریکی صدر لنڈن جانسن نے کی تھی‘ جب زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا۔ تاریخ نے خود کو دہرایا اور نتیجہ بھی وہی نکلا: پریشانی‘ تقسیم اور ناکامی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس ہزیمت کے بعد امریکی صدارت کا وہ دبدبہ برقرار رہا ہے؟ کیا امریکہ کے سپر پاور ہونے کا تصور پہلے جیسا ہے؟ امریکہ کی عالمی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اربوں ڈالر کی کمٹمنٹس پر نظرثانی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں‘ یورپ نے امریکہ سے فاصلہ اختیار کر لیا جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے اتحادی بھی ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور ہو گئے کہ آیا وہ واقعی ایک مستحکم قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ محض پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ عالمی اعتماد کے ایک بڑے خلا کی علامت ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ 1945ء کا عالمی نظام 2026ء میں اپنی افادیت کھو رہا ہے۔ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ چکی ہے جہاں چین‘ روس اور دیگر طاقتیں نمایاں ہو رہی ہیں۔ اب فیصلے یکطرفہ نہیں ہوں گے بلکہ ہر طاقت کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔
روس اور چین نے اس جنگ میں خاموش مگر مؤثر حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے براہِ راست جنگ میں مداخلت سے گریز کیا اور اس اصول پر عمل کیا کہ اپنے دشمن کو اس وقت نہ روکو جب وہ غلطی کر رہا ہو۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکہ کی مسلسل غلطیوں نے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ اس جنگ کا سب سے حساس اور خطرناک پہلو آبنائے ہرمز کی بندش ہے‘ جہاں سے عالمی ضرورت کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ ایران نے جنگ سے قبل واضح پیغام دیا تھا کہ اگر اس پر دباؤ بڑھا تو وہ اس عالمی تجارتی راستے کو بند کر سکتا ہے جس سے یہ تنازع صرف علاقائی نہیں رہا بلکہ عالمی تنازعے کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ اب ایران نے جنگ بندی کیلئے 6 اہم سٹریٹجک شرائط پیش کر دی ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ جنگ دوبارہ شروع نہ ہونے کی واضح اور قابلِ عمل ضمانت دی جائے۔ دوسری شرط خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی بندش ہے۔ تیسری شرط میں جارح قوتوں کو پیچھے ہٹانے اور ایران کو جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ چوتھی شرط کے تحت ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام علاقائی محاذوں پر جنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ پانچویں شرط آبنائے ہرمز کیلئے ایک نیا قانونی نظام نافذ کرنا ہے جبکہ چھٹی شرط ایران مخالف میڈیا سرگرمیوں کے خلاف قانونی کارروائی اور ان عناصر کو ملک بدر کرنا ہے۔
ایران کی پراکسیز بھی اس تنازع کا حصہ رہیں مگر وہ ایران کو کوئی فیصلہ کن کامیابی نہیں دلا سکے۔ اس جنگ کے خود امریکہ پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ امریکی کانگریس اس جنگ پر تقسیم ہے‘ ٹرمپ کے بہت قریبی افراد بھی ان کی پالیسیوں سے اتفاق کرنے کے بجائے اس سے دور ہونے لگے ہیں‘ ان کی غلطیوں کو کوئی اپنانے کو تیار نہیں۔ اب آتے ہیں اس جنگ کے سب سے بڑے اور اصل پہلو پر‘ اور وہ ہے معاشی تباہی۔ اس جنگ کے بعد سے عالمی سیاحت رک چکی ہے۔ ٹرانزٹ روٹس بند ہو رہے ہیں۔ عالمی تجارت متاثر ہے۔شپنگ مہنگی ہو گئی ہے۔ انشورنس کے اخراجات آسمان پر پہنچ چکے ہیں۔ انفراسٹرکچر تباہ ہو رہا ہے۔ عالمی سرمایہ کاری متاثر ہونے لگی ہے۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں عالمی معاشی بحران کی شروعات ہے۔ توانائی کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ تیل مہنگا‘ گیس مہنگی یعنی ہر چیز مہنگی ہورہی ہے۔ دنیا بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان آ رہا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کیلئے یہ صورتحال تباہ کن ہے کیونکہ ہم توانائی درآمد کرتے ہیں۔ تیل مہنگا ہوگا تو پٹرول مہنگا‘ بجلی مہنگی‘ ٹرانسپورٹ مہنگی‘ خوراک مہنگی یعنی عام آدمی کا کچن براہِ راست اس جنگ کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ جنگ اب صرف میدان کی جنگ نہیں رہی یہ عوام کے گھروں تک پہنچ چکی ہے۔ یہ جنگ معیشت‘ روزگار‘ مہنگائی اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔
اسرائیل سمجھ رہا تھا کہ ریاستوں کو توڑ کر‘ حکومتوں کو کمزور کر کے اور مسلسل دباؤ کے ذریعے وہ ایک ایسا خطہ تشکیل دے سکتا ہے جہاں کوئی مزاحمت باقی نہ رہے مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ طاقت کے ذریعے استحکام مسلط کرنے کی کوشش ہمیشہ الٹا نتیجہ دیتی ہے اور ایران میں بھی یہی ہوا۔ اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ سے مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم ضرور کیا مگر اس عمل میں خود کو بھی ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جس کا کوئی واضح انجام دکھائی نہیں دیتا۔ اس جنگ کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ طاقت عارضی ہوتی ہے مگر غلط فیصلے تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج کے فیصلے کل کے بحران بنتے ہیں۔ اور جب تاریخ خود کو دہراتی ہے تو اس کی قیمت صرف حکومتیں نہیں بلکہ پوری انسانیت ادا کرتی ہے۔ اس سبق کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھی سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved