تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     25-03-2026

والد مرحوم

دنیا میں ہرسلیم الطبع شخص کو اپنے والدین سے پیار اور بے انتہا محبت ہوتی ہے۔ فرمانبردار اولاد اپنے والدین کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھتی ہے۔ کئی لوگوں کو تادیر اپنے والدین کی خدمت کا موقع ملتا ہے جبکہ اس کے برعکس بہت سے لوگ اوائل عمری میں ہی والدین کی شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان کو والدین کی خدمت کی سعادت کا موقع میسر نہیں آ پاتا۔ میرے والد مرحوم علامہ احسان الٰہی ظہیر بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جو اپنی چھوٹی عمرکی اولاد کو داغِ مفارقت دے گئے۔
علامہ احسان الٰہی ظہیر اپنے وقت کے معروف خطیب‘ جید عالم دین اور مؤثر مذہبی و سیاسی رہنما تھے۔ اوائل عمری ہی میں انہوں نے قرآن مجید کو حفظ کیا اور ساری زندگی قرآن مجید کو سنانے کی سعادت حاصل کی۔ حفظِ قرآن کے بعد تقریباً 36 برس تک آپ ہر رمضان میں قرآن مجید کو سناتے رہے۔ قرآن مجید یاد کرنے کے بعد علامہ صاحب نے درس نظامی کیا اور حدیث کے عظیم استاذ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ سے صحیح بخاری شریف کو پڑھا۔ اس کے ساتھ ساتھ حافظ عبداللہ بڈھیمالوی‘ مولانا ابولبرکات اور دیگر بہت سے معروف اساتذہ سے مختلف علوم و فنون کی تعلیم حاصل کی۔ پاکستان سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے مدینہ یونیورسٹی میں کلیۃ الشریعہ میں بیچلرز ڈگری کو نمایاں پوزیشن کے ساتھ مکمل کیا۔ وطن واپس آ کر مختلف عصری علوم میں ماسٹرز ڈگریز حاصل کیں اور اس کے ساتھ ساتھ دین کی تبلیغ‘ نشر واشاعت اور اس کی سربلندی کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔
علامہ احسان الٰہی ظہیر نے اپنی زندگی میں دینی حوالے سے چلنے والی مختلف قومی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تحریک ختم نبوت کے دوران آپ نے منکرین ختم نبوت کے تعاقب میں اردو اور عربی زبان میں مختلف کتب تحریر کیں اور اس کے ساتھ ساتھ رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے مختلف اجتماعات سے خطاب بھی کرتے رہے۔ بین الجماعتی اور بین المسلکی اجتماعات میں آپ کے خطابات کو سننے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہوتے اور آپ ان کو ختم نبوت کی اہمیت سے آگاہ کرتے اور اس ضمن میں قرآن مجید کی آیاتِ بینات‘ احادیث طیبہ اور اجماعِ امت کے حوالے سے لوگوں کی ذہن سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
جس وقت ملک میں نظام مصطفی کی تحریک کا آغاز ہوا تو علامہ احسان الٰہی ظہیر نے بھی اس حوالے سے اپنی خدمات کو بھرپور انداز سے پیش کیا اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے مختلف پلیٹ فارمز سے مؤثر انداز میں اپنی آواز کو اٹھاتے رہے۔ علامہ شہید نے پاکستان کے طول وعرض ہی میں دینی اجتماع سے خطاب نہیں کیا بلکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں آپ کو دینی اجتماعات سے خطاب کرنے کا موقع میسر آتا رہا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو اردو زبان کے ساتھ ساتھ عربی اور فارسی پر بھی مکمل عبور دے رکھا تھا اور آپ عرب ممالک میں بھی ایک معروف خطیب اور عالم دین کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے۔ آپ کے خطابات کو سننے کے لیے نہ صرف یہ کہ عرب عوام بلکہ طالب علم اور علما بھی بڑی تعداد میں اُن کانفرنسز اور پروگراموں میں شرکت کرتے جہاں آپ خطاب کرنے کے لیے تشریف لے جاتے۔ آپ کی تبلیغ سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد دین کی طرف راغب ہوئی اور آپ نے زندگی کے آخری سانس تک دین کے فروغ کیلئے جدوجہد جاری رکھی۔
تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ آپ نے ملک میں آئین وقانون‘ انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی۔ آپ نے کبھی بھی غیر منتخب حکومتوں یا ماورائے آئین اقدامات کو قبول نہیں کیا اور اُن تمام طاقتوں کے ساتھ ہم آہنگ رہے جو ملک میں آئین اور قانون کی بحالی کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر کو مذہبی طبقات کے ساتھ ساتھ آئین کی سربلندی کے لیے کام کرنے والے طبقات میں بھی انتہائی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مجھے 2025ء میں دو مرتبہ بنگلہ دیش کا دورہ کرنے کا موقع ملا اور وہاں جا کر اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر کو بنگلہ دیش میں بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اکثر علماء علامہ شہید کے 1985ء کے دورۂ بنگلہ دیش کا حوالہ دیتے نظر آئے۔ جب میں بنگلہ دیش کے مشہور شہر راجشاہی میں پہنچا تو وہاں مجھ سے ایک ایسے عالم دین نے بھی ملاقات کی جنہوں نے راجشاہی یونیورسٹی سے علامہ احسان الٰہی ظہیر پر پی ایچ ڈی کی تھی۔ علامہ شہید کی دینی و علمی خدمات پر نہ صرف یہ کہ پاکستان بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں بہت سے مقالہ جات لکھے گئے ہیں اور مکہ مکرمہ کی ام القریٰ یونیورسٹی سے ایک عرب محقق ڈاکٹر علی موسیٰ زہرانی نے بھی علامہ شہید کی دینی خدمات پر پی ایچ ڈی کے ایک تفصیلی مقالے کو مرتب کیا جس پر انہیں نہ صرف یہ کہ اعلیٰ کامیابی حاصل ہوئی بلکہ ان کے مکالے کو یونیورسٹی کی طرف سے طبع کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔
علامہ احسان الٰہی ظہیر نہ صرف یہ کہ عوام میں ایک مؤثر ادیب اور عالم دین کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے بلکہ دنیا کے بہت سے ممالک کے سرکردہ رہنما اور حکومتی اراکین بھی ان کو بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ علامہ صاحب کو بہت سے مؤثر فورمز پر نمائندگی کرنے کا موقع بھی میسر آتا رہا۔ نہ صرف یہ کہ انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین سے والہانہ وابستگی تھی بلکہ مملکت پاکستان کے ساتھ بھی وہ والہانہ محبت کرتے اور اس کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے دیگر دینی طبقات کے ساتھ مل کر جدوجہد بھی کیا کرتے تھے۔
علامہ احسان الٰہی ظہیر بیرونی دنیا میں جہاں اسلام کے ایک ترجمان کی حیثیت سے سفر کرتے وہیں پاکستان کی ترجمانی کرنے کا موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ وہ دوستوں کے دوست تھے اور اپنے دوستوں اور رفقا کے لیے ساری زندگی اپنے دستر خوان کو بھی وسیع رکھا۔ ان کے دوست احباب میں معاشرے کے تمام طبقات کے لوگ شامل تھے اور ان لوگوں کی شخصیت پر والد گرامی کی شخصیت کے گہرے اثرات تھے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر جہاں مذہبی اور سماجی ذمہ داریوں کو پوری دلجمعی سے نبھاتے رہے وہیں انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت کے لیے بھی بھرپور کوشش کی اور ہمیں ارکانِ اسلام کی بجا آوری کا ہمہ وقت درس دیتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے فروغ کی بھی ترغیب دلاتے رہے۔
علامہ احسان الٰہی ظہیر کی جب وفات ہوئی تو میری عمر اس وقت 16 برس بھی نہ ہوئی تھی۔ آج ان کو دنیا سے رخصت ہوئے 39 برس کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن زندگی میں ہر خوشی اور غمی کے موقع پر ان کی یاد ستاتی رہتی ہے۔ ہم ان کی خدمت کی سعادت تو حاصل نہ کر سکے لیکن ان کی نصیحتوں پر عمل پیرا ہونے کو آج بھی اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں اور اپنے چاہنے والوں کو یہی راستہ دکھایا کہ اللہ کے دین کی سربلندی‘ مملکت کے آئین وقانون کے تحفظ اور مظلوم انسانیت کی خدمت کے لیے انسان کو ہمیشہ متحرک رہنا چاہیے کہ زندگی اُسی شخص کی قابلِ رشک ہے جو اعلیٰ مقاصد اور اقدار کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دیتا ہے۔ جو شخص زندگی میں اعلیٰ اقدار کے فروغ کے بجائے فقط اپنی مادی ضروریات کے لیے کوشاں رہتا ہے گردشِ دوراں اس کو فراموش کر دیتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے آپ کو عظیم مقاصد کے لیے وقف کیے رکھتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ آنے والوں کے لیے ایک تحریک کا سبب بنتے ہیں بلکہ تاریخ بھی ان کو ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں محفوظ کر لیتی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ان کی علمی و دینی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے لیے صدقہ جاریہ بننے کی توفیق دے‘ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved