اب کے گاؤں کئی ماہ بعد جانا ہوا۔ تیل کے کئی کنویں کامیابی سے چل رہے ہیں۔ گاؤں کے بالکل پاس‘ کھیتوں کے درمیان‘ ایک فلک بوس‘ مینار نما مشین دیکھ کر معلوم ہوا کہ مزید کھدائیاں اور تلاش جاری ہے۔
یہ ساٹھ باسٹھ سال پہلے کی بات ہے۔ میں گیارہویں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا اور گرما کی تعطیلات میں گاؤں آیا ہوا تھا۔ میں اور وہ عمر رسیدہ‘ تہمد پوش شخص‘ جو میرے دادا تھے اور جن کی زندگی فقہ اور فارسی ادب کی تدریس میں گزری تھی‘ گاؤں سے باہر ایک پہاڑی پر کھڑے تھے۔ سامنے گاؤں تھا اور گاؤں کے پار دور حدِ نظر تک ایک وسیع و عریض منظر! ان کی نظر اس منظر پر تھی۔ انہوں نے ایک بات کہی‘ آہستہ‘ نرم جیسے مجھ سے نہیں اپنے آپ سے کہہ رہے ہوں ''یہ ساری زمین کشتی نما ہے‘ اس کے نیچے تیل ہے‘ جو منطقہ کشتی نما ہو‘ وہاں تیل ہوتا ہے‘‘۔ چند برس بعد وہ دنیا سے اٹھے اور سعدی اور نظامی سے جا ملے۔ میں تعلیم سے فارغ ہوا۔ ملازمت کے مراحل طے کیے۔ بچوں کی شادیاں کیں۔ ریٹائر ہوا۔ پوتوں‘ نواسوں‘ پوتیوں‘ نواسیوں کی نعمت سے نوازا گیا۔ اس بات کو جو تہمد پوش سکالر نے اُس گرم شام پہاڑی پر کھڑے ہو کر کہی تھی‘ باون تریپن برس گزر گئے۔ نصف صدی سے زیادہ! یہاں تک کہ 2017ء کے اکتوبر کا تیرہواں دن آیا جب اُس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ اور والی ٔ پنجاب شہباز شریف رفقا اور معاونین کے ہمراہ مرحوم تہمد پو ش کے گاؤں جھنڈیال میں پہنچے اور تیل اور گیس کے ایک عظیم الشان ذخیرے کا افتتاح کیا۔ اس ذخیرے میں ماہرین کے تخمینے کی رُو سے دو کروڑ تیس لاکھ بیرل تیل اور دو سو بانوے ارب کیوبک فٹ گیس موجود ہے۔ یہ پہلا کنواں تھا۔ اس کے بعد یکے بعد دیگرے کئی کنویں دریافت ہوئے۔ پرسوں جب یہ لکھنے والا اپنے گاؤں پہنچا اور ایک اور فلک بوس مینار نما مشین کو زمین کھودتے دیکھا تو تہمد پوش بابے کی بات یاد آ گئی۔ نہیں معلوم کشتی نما شکل والی بات سے آج کے ماہرین اتفاق کریں گے یا نہیں مگر بات یہ ہے کہ علم کی اَن گنت سمتیں ہیں‘ آگہی کی بے شمار صورتیں ہیں اور عرفان کے لاتعداد پہلو ہیں ''اور ہر ایک دانا سے بڑھ کر دوسرا دانا ہے‘‘۔ (یوسف: 76)۔
گاؤں جانے کے بعد پہلا فریضہ قبرستان کی زیارت ہے‘ ایک دردناک فریضہ!! ایک زمانہ تھا کہ قبرستان میں راکھا ہوتا تھا۔ اس کی جھونپڑی قبرستان ہی میں ہوتی تھی جہاں وہ رات دن رہتا تھا۔ قبروں کے درمیان اور اردگرد موجود خود رَو گھاس کو کاٹتا تھا۔ صفائی کا خیال رکھتا تھا۔ اب زمانہ اور ہے۔ اب اس اناج کیلئے کوئی نہیں کام کرتا جو ہر چھ ماہ بعد فصل اترتے وقت مزدوری کے طور پر ملتا تھا۔ اب کیش کا دور ہے۔ بزرگوں کی قبروں پر جا کر احساس ہوتا ہے کہ وقت بہت سا گزر چکا۔ جو ہم پر جان چھڑکتے تھے اور ہمیں اپنے پروں میں چھپا کر آلامِ زمانہ سے محفوظ رکھتے تھے‘ وہ زمین کے نیچے جا کر لمبی نیند سو گئے۔ ہمیں زمانے کی کڑکتی‘ چلچلاتی دھوپ میں برہنہ سر چھوڑ گئے۔ پھر ہمارے بچوں نے ہمارے زیر زمین جانے کا انتظار نہ کیا اور کرۂ ارض پر بکھرے دور کے دیاروں میں جا بسے:
اولاد میری سات سمندر کے اس طرف
اجداد میرے خاک کے نیچے پڑے ہوئے
اب وہ رنگین چیتھڑے بھی نہیں نظر آتے جو قبرستان میں درختوں پر لٹکے ہوتے تھے۔ اب قبرستان میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم یا اہل القبور! کوئی نہیں کہتا۔ قبروں کے سرہانے بیٹھ کر تلاوت کرنے کا رواج بھی تقریباً ختم ہو چکا۔ بے شک انسان خسارے میں ہے اور اس نے یہ سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ جہاں جانا ہے وہاں جانے سے پہلے بھی کبھی کبھار کچھ وقت گزارا جائے کہ عادت پڑے اور یاد رہے کہ کوٹھی‘ کار کو چھوڑ کر آخر کار یہیں آنا ہے۔ راکھے کا دور لد گیا۔ اب قبرستان میں لمبی لمبی گھاس ہے۔ قبروں کے درمیان پائی جانے والی پتلی پگڈنڈیاں غائب ہو چکیں۔ بہت سی قبریں دھنس چکیں‘ بہت سی دھنسنے کے عمل سے گزر رہی ہیں:
وہ گھاس اگی ہے کہ کتبے بھی چھپ گئے اظہارؔ
نہ جانے آرزوئیں اپنی دفن کی تھیں کہاں!
نوجوان جو گاؤں میں ملاقات کرتے ہیں ان سے پوچھنا پڑتا ہے کہ کس کے بیٹے ہو؟ وہ بتاتے ہیں تو یاد آتا ہے کہ اس کے خاندان سے کتنے قریبی تعلقات تھے۔ ان کے ماں باپ‘ دادا دادی کا تذکرہ کرتا ہوں اور انہیں وہ باتیں بتاتا ہوں جن کا انہیں علم نہیں! گاؤں میں گزارے ہوئے وقت کے درمیان حال کا زمانہ غائب ہو جاتا ہے۔ پتا ہی نہیں چلتا اور اچانک محسوس ہوتا ہے کہ ماضی ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ جو گزر گئے ان کے چہرے آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتے ہیں۔ جہاں مکان ہیں وہاں پہلے درخت تھے اور میدان! جہاں سڑک ہے وہاں پہلے مٹی کے سرخ ٹیلے تھے۔ مگر یہ کیسا ماضی ہے جو ساتھ ساتھ چل رہا ہے مگر ادھورا ہے۔ وہ خواتین کہاں ہیں جو پانی کے تین تین‘ چار چار گھڑے سر پر رکھے گلیوں میں چلتی تھیں۔ وہ ماسیاں‘ دادیاں‘ نانیاں کیوں نہیں نظر آرہیں جو راہ چلتے روک کر سر پر ہاتھ رکھتی تھیں‘ کندھے تھپتھپاتی تھیں اور کہتی تھیں ''میرا پتر آیا ہے‘ میں صدقے قربان!‘‘ یہ کیسا گاؤں ہے جہاں ایک شخص بھی تہمد میں نہیں نظر آرہا۔ جہاں مٹی کے پیالے میں چاٹی کی لسی کے بجائے کولا کی بوتل سامنے لا رکھتے ہیں۔ وہ درخت کہاں گیا جس کے نیچے چراغ والی قبر تھی اور جس کے تنے کو ہاتھ لگا کر ہاتھ کو چوما جاتا تھا۔ یہ دھول اڑاتی گاڑیاں کہاں سے آ گئیں۔ تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے وہ مسافر کہاں چلے گئے جو میلوں پیدل سفر کرتے تھے۔ وہ گھڑ سوار کیوں نہیں دکھائی دے رہے جو گاؤں کی گلیوں سے ہوتے ہوئے دوسرے گاؤں کا رخ کر رہے ہوتے تھے!
میں پوچھتا ہوں فلاں کا کیا حال ہے۔ بتایا جاتا ہے اب وہ چل پھر نہیں سکتا اور گھر ہی میں ہوتا ہے۔ فلاں کہاں ہے؟ بتایا جاتا ہے وہ قصبے میں مکان بنا کر وہاں جا بسا ہے۔ گاؤں والا گھر اس کا مقفل ہے۔ فلاں کہاں ہے؟ وہ شہر میں بیٹے کے ہاں منتقل ہو گیا ہے۔ اب موت یا شادی پر ہی گاؤں آتا ہے۔ فلاں کہاں ہے؟ وہ زمین کے نیچے جا سویا ہے۔ میرا بچپن کا دوست سباج گاؤں سے باہر اپنی ڈھوک میں رہتا ہے۔ میں اسے جا کر ملتا ہوں۔ وہ گلے لگاتا ہے۔ پھر اپنے بڑے بڑے کھردرے ہاتھوں سے مصافحہ کر کے شکوہ کرتا ہے آپ تو گاؤں کو بھول ہی گئے۔ اتنے عرصہ کے بعد چکر لگایا ہے۔ میں اسے کس طرح بتاؤں کہ ٹھیک ہے میں لمبے وقفوں کے بعد آتا ہوں مگر گاؤں کو بھول کیسے سکتا ہوں۔ گاؤں تو میری رگوں میں دوڑ رہا ہے۔ ہر روز کسی نہ کسی بہانے گاؤں یاد آتا ہے۔ سوؤں تو خواب میں گاؤں کی گلیوں میں چلتا ہوں اور ان کے ساتھ بیٹھتا ہوں جو اَب زندہ ہی نہیں! بچوں اور ان کے بچوں کو کیسے بتاؤں کہ میرے اندر ایک اور دنیا بسی ہے۔ ایک اور جہان آباد ہے۔ اب بھی بکریاں چراتا ہوں۔ اب بھی گائے کیلئے گتاوا بناتا ہوں‘ اب بھی گھوڑی کی پیٹھ پر کمبل ڈال کر اس پر سوار ہوتا ہوں اور اسے گاؤں کے باہر مغربی تالاب میں لے جا کر پانی پلاتا ہوں۔ میں اور بچے اور ان کے بچے شہر میں ایک ہی مکان میں رہتے ہیں مگر میں ان کے ساتھ نہیں رہتا۔ میں تو گاؤں میں رہتا ہوں۔ آج کے گاؤں میں نہیں! اس گاؤں میں جو پچاس ساٹھ برس پہلے تھا۔ میں گاؤں میں ہوں اور گاؤں مجھ میں ہے!!
یہ جو خاک ہے مرے گاؤں کی مرا خون ہے
مرے خون میں اسی خار و خس کا خمار ہے
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved