تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     26-03-2026

سوال جو ناگفتہ رہ گئے

سفر اور میرا چولی دامن کا ساتھ ہے اور میری یادداشت کے مطابق میں اور سفر تب سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے۔ گھر کا سب سے چھوٹا بچہ ہونے کے ناتے لاڈلا تو تھا ہی لیکن میں نے اس کا یہ استعمال کیا کہ ابا جی لائبریری کی کتب کی خرید یا کسی اور کام کے سلسلے میں ملتان سے باہر جاتے تو میں ان کے ساتھ اور ماں جی کسی شادی بیاہ یا فیملی معاملات میں شرکت کے لیے کسی دوسرے شہر جاتیں تو میں ان کے ساتھ نتھی ہو جاتا۔ تھوڑا بڑا ہوا تو سکول کا مسئلہ آن پڑا اور ہمہ وقت کا سفر تھوڑا مشکل ہو گیا۔ گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں کے اڑھائی تین مہینے لاہور کے نام کر دیے گئے‘ جہاں خالہ‘ ماموں اور تایا بانہیں پھیلائے ہمارے منتظر ہوتے تھے۔ کیا زمانہ تھا! اب سوچتا ہوں تو اپنی خوش قسمتی پر باقاعدہ رشک آتا ہے۔ کیسے مہمان نواز اور مہربان لوگ تھے۔ وسیع القلب اور محبت میں گندھے ہوئے۔ اب ایسے لوگ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتے۔
سفر میری زندگی سے ایسا چپکا کہ اب اس کے بغیر نہ تو گزارہ ہے اور نہ ہی دل لگتا ہے۔ اوپر سے سفر کے مسائل کو برداشت کرنے کے مزاج نے بہت آسانی کر دی۔ ایک لمبے سفر میں میرے ساتھ سہیل وڑائچ بھی تھے۔ تین چار ہفتوں پر مشتمل اس سفر میں ہمارے ساتھ شاندار شاعر اور انسان سید وصی شاہ بھی تھے۔ میرے پاس لگ بھگ ایک ماہ کے اس سفر کے لیے صرف ایک ہینڈ کیری تھا۔ جب باقی لوگ ایئرپورٹ پر اپنے وزنی سوٹ کیس جمع کروا رہے ہوتے تھے‘ میں مزے سے اپنا ہینڈ کیری پکڑے ایک طرف کھڑا اس بھاگ دوڑ کے ماحول سے لطف اندوز ہوتا تھا۔ سفر کے اختتام پر سہیل وڑائچ کہنے لگے کہ میں نے اس سفر میں آپ سے سفر کو آسان بنانے کے بہت سے کارآمد اور مفید گْر سیکھے ہیں۔ میں نے کہا: سہیل صاحب! میں نے بھی اس سفر کے دوران پوری کوشش کی کہ آپ سے سخت بات نرم پیرائے میں کرنے کا فن سیکھ سکوں لیکن مجھے اعتراف ہے کہ میں ایک ایسا نالائق اور نکما شاگرد ہوں جو اس فن کے استاذِ کامل سے بھی کسبِ فیض حاصل کرنے میں مکمل ناکام رہا ہے۔
مظفر گڑھ‘ لاہور اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے گاؤں چک 325 ج ب (دُلم) سے شروع ہونے والے یہ اسفار وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کے ہر کونے تک پہنچ گئے۔ لیکن اس دوران پاکستان کی اتنی خاک چھانی کہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوئی ہو گی۔ عالم یہ ہے کہ چند روز سفر نہ کروں تو لگتا ہے گویا کوئی بہت اہم شے کھو گئی ہے۔ کچھ نہ ہو تو لاہور یا اسلام آباد نکل جانا ہی اس بے چینی کا علاج دکھائی دیتا ہے۔ موٹر وے کے سہولت سے سفر آسان اور برق رفتار ہو گیا ہے۔ اب لاہور تک کا سفر اتنا بسہولت اور چھوٹے دورانیے کا رہ گیا ہے کہ رات آٹھ نو بجے بھی فارغ ہوں تو لاہور رکنے کے بجائے ساڑھے تین گھنٹے میں ملتان پہنچ جانے کی سہولت کے باعث ملتان کا رخ کر لیتا ہوں۔ ویسے بھی اب رات بارہ ایک بجے سے پہلے بھلا سوتا ہی کون ہے۔
رات گئے دیر سے سونے سے یاد آیا کہ اب دیر سے سونا اور پھر دن چڑھے تک سوئے رہنا شاید ہماری قومی عادت سی بن چکی ہے‘ تاہم میں رات کتنی ہی دیر سے کیوں نہ سوؤں صبح فون پر اپنے طے شدہ وقت کے مطابق لگے ہوئے الارم کی گھنٹی پر اٹھتا ہوں اور اپنے دن کا آغاز کر دیتا ہوں۔ عالم یہ ہے کہ اب بازار اور دکانیں آدھا دن گزرنے کے بعد دوپہر کو کہیں جا کر کھلتی ہیں۔ عام دکانوں کی بات چھوڑیں‘ اب تو وہ دکانیں بھی بمشکل دس گیارہ بجے کھلتی ہیں جن کا علی الصبح کھلنا امرِ لازم تھا۔ گوشت‘ سبزی‘ دودھ دہی اور حجاموں کی دکانیں سورج نکلنے کے ساتھ کھل جاتی تھیں۔ چچا گل محمد عرف گُلّو نائی اپنی دکان گل محمد ہیئر کٹنگ ایند گرم حمام جب صبح سورج نکلنے کے ساتھ کھولتا تو اس سے کہیں پہلے وہ دکان میں بنے ہوئے تین عدد غسل خانوں کے پانی کے ڈرموں میں پانی بھر کر‘ لکڑیاں جلا کر اپنا گرم حمام تیار کر چکا ہوتا تھا۔ گزشتہ دنوں میں صبح دس بجے اپنی کالونی کی باربر شاپ پہنچا تو استاد غائب تھا جبکہ اس کے دو شاگرد جھاڑ پونچھ میں مصروف تھے۔ استاد کے بارے معلوم کیا تو پتا چلا کہ وہ گیارہ بجے آتے ہیں۔ ساڑھے گیارہ بجے دوبارہ گیا تو استاد جی اسی وقت اپنی دکان‘ میرا مطلب ہے اپنے سیلون میں داخل ہو رہے تھے۔ ان سے کہا کہ باربر شاپس تو ان دکانوں میں شامل ہوا کرتی تھیں جو منہ اندھیرے کھل جایا کرتی تھیں اب آپ گیارہ بجے کے بعد آ رہے ہیں؟ جواب ملا: اب صبح منہ اندھیرے دکان کھول کر گیارہ بارہ بجے تک گاہک کا انتظار کرنا بھلا کون سا عقلمندی کا کام ہے؟
بات سفر کی ہو رہی تھی اور حجام کی دکان تک پہنچ گئی۔ موٹر وے پر سفر کرتے ہوئے خیال آتا ہے کہ سرکار سے ٹارگٹ کے مطابق ٹیکس تو اکٹھا ہوتا نہیں لہٰذا اس نے اپنے اللّے تللّے المعروف خرچے پورے کرنے کے لیے جرمانے اور جگا ٹیکس از قسم ٹول ٹیکس وغیرہ کی مد میں عوام کی جیب کاٹنے پر کمر باندھ رکھی ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران موٹر وے ٹول ٹیکس میں ساٹھ فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ عام رابطہ سڑکوں پر ٹول ٹیکس پہلے بیس روپے‘ پھر تیس روپے ہوتا تھا‘ اب یہ ستر روپے ہے۔ شام کوٹ (خانیوال) تا اسلام آباد کار وغیرہ کے لیے یہ ٹیکس ہزار روپے کے لگ بھگ ہوتا تھا‘ اب ایم ٹیگ لگا ہو تو ایک ہزار سات سو ساٹھ روپے اور ٹیگ نہ لگا ہو تو یہ رقم تقریباً دو ہزار چھ سو روپے بنتی ہے۔ لیکن بدانتظامی‘ آمدنی اور خرچے میں عدم توازن کا یہ عالم ہے کہ این ایچ اے پاکستان کے سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ نقصان کرنے والا ادارہ ہے۔ این ایچ اے کا گزشتہ سال مجموعی خسارہ 295 ارب روپے کے لگ بھگ تھا۔ اس خسارے کے تناظر میں سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ خسارے کی اتنی ہولناک رقم کے باوجود نئی سڑکیں نہیں بن رہیں اور پرانی سڑکوں بشمول موٹر ویز کی حالت یہ ہے کہ اس پر افسوس ہوتا ہے۔ خانیوال تا فیصل آباد موٹر وے پر درمیان میں بنے ہوئے ڈیوائیڈر پر رات کو دوسری جانب سے آنے والی ٹریفک کی ہیڈ لائٹ سے بچنے کے لیے سبز رنگ کے فائبر گلاس ٹائپ میٹریل کی تقریباً چھ انچ چوڑی اور دو اڑھائی فٹ اونچی سلیٹیں لگائی گئی ہیں۔ سارا دن سورج کی روشنی تلے رہنے والی ان لاکھوں سلیٹوں کا میٹریل اتنا ناقص ہے کہ تقریباً آدھی ٹوٹ چکی ہیں اور بقیہ اس مرحلے سے گزرنے والی ہیں۔ سورج سے نکلنے والے الٹرا وائلٹ شعائیں یو وی سٹیبلائزر کے بغیر ہر قسم کے پلاسٹک میٹریل کو خستہ اور بُھربھرا کر کے ختم کر دیتی ہیں۔ ان کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔
تار کے لگے ہوئے حفاظتی جنگلے کو درجنوں جگہوں سے کاٹ کر اردگرد کے دیہات والوں نے آر پار جانے کا راستہ بنا لیا ہے۔ موٹر وے پر پہلے کبھی کبھار کتے دکھائی دیتے تھے‘ اب اردگرد کے گاؤں کے بچے بالے اور نوجوان شام کو اس کے کنارے بیٹھ کر سگرٹ کے دھوئیں سے مرغولے بناتے ہیں۔ اسلام آباد سے تھوڑا پہلے کیپٹل سمارٹ سٹی والے زیر تعمیر انٹر چینج کے پاس درجن بھر گائیں مزے کر رہی تھیں۔ سڑک کے کناروں پر لگے ہوئے لوہے کے گارڈر جگہ جگہ سے نہ صرف ٹوٹ چکے ہیں بلکہ کئی جگہ سے تو باقاعدہ غائب ہو چکے ہیں۔ ہر طرف کھڈے‘ ٹوٹ پھوٹ اور خستہ حالی دکھائی دیتی ہے۔ میں نے شاہ جی سے پوچھا کہ ہماری وزارتِ مواصلات کیا کر رہی ہے؟ شاہ جی کہنے لگے: تمہارے اس سوال کا کیا جواب دوں؟ کل کلاں تم پوچھ لو گے کہ وزارتِ قانون وانصاف کا کیا مصرف ہے؟ وزارتِ تعلیم کیا کر رہی ہے؟ پھر پوچھو گے وزارتِ داخلہ کی کیا ضرورت ہے؟ موسمیاتی تبدیلیوں اور بین الصوبائی تعلقات کی وزارتیں کس لیے ہیں؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved