تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     26-03-2026

قومی ریاست اور سیاسی اسلام

یہ محض شیعہ سنی تقسیم کا مسئلہ نہیں‘ ایک مذہبی تعبیر کا معاملہ بھی ہے۔ اس کو ماننے والے‘ شیعہ سنی‘ دونوں طبقات میں پائے جاتے ہیں۔ علم کی دنیا میں اس تعبیر کو 'سیاسی اسلام‘ کہا جاتا ہے۔ بیسویں صدی میں دو شخصیات اس کی نمائندہ تھیں۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اورجناب روح اللہ خمینی۔
اس تعبیر کے مطابق 'قومی ریاست‘ کے مقابلے میں 'اسلامی ریاست‘ کا تصور پیش کیا گیا۔ اس نظامِ فکر میں ریاست‘ قوم یعنی وطن یا نسل کے بجائے نظریے کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ نظریہ عالمگیر ہوتا ہے۔ اسے جغرافیائی دائروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ اگر دو ریاستیں نظریاتی ہم آہنگی رکھتی ہیں تو ان کے باہمی تعلق میں جغرافیائی سرحدیں بے معنی ہیں۔ 'سیاسی اسلام‘ اگر اسے قبول کرتا ہے تو تاریخی جبر کے طور پر۔ اس تعبیر میں مسلمانوں کے مابین تعلق کی بنیاد روحانی یا مذہبی سے زیادہ سیاسی ہے۔ امتِ مسلمہ ایک سیاسی تصور ہے۔ آج جو لوگ پاکستان سے زیادہ ایران کے حامی دکھائی دے رہے ہیں‘ زیادہ تر 'سیاسی اسلام‘ کے ماننے والے ہیں۔ ان کیلئے یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ جب نظریہ ایک ہے تو پاکستان اس جنگ میں امریکہ کے خلاف ایران کے ساتھ کیوں کھڑا نہیں ہو رہا۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی فوج ایرانی فوج کے ساتھ ہم قدم ہو کر اس جنگ میں کود جائے۔ انہوں نے پاکستان کی ریاست کو مسلسل سینگوں پر اٹھا رکھا ہے۔ ان کی نظر میں پاکستان کی سفارتی کاوشیں بے معنی ہیں۔ ہمارا کام اس معرکۂ حق و باطل میں ثالث بننا نہیں فریق بننا ہے جو نظریاتی وحدت کا ناگزیر تقاضا ہے۔
جو لوگ ریاستی مناصب پر فائز ہیں ان کے سامنے پاکستان نام کی ایک قومی ریاست ہے۔ یہ ایک جغرافیائی وحدت ہے جس کے مفادات کا تحفظ ان کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انہیں کوئی مؤقف یا پالیسی اختیار کرتے وقت اس وحدت کو پیشِ نظر رکھنا ہے۔ انہیں ایران کے عوام سے محبت ہے۔ وہ اس محبت کا اظہار اس دائرے میں رہ کر ہی کر سکتے ہیں جس کا نام 'پاکستان‘ ہے۔ ان کے پیشِ نظر چند سوالات ہیں: کیا امریکہ سے مخاصمت پاکستان کے مفاد میں ہے؟ کیا پاکستان کو میدانِ جنگ میں ایران کے شانہ بشانہ کھڑا ہو جانا چاہیے؟ پاکستان کو اگر ایران کی حمایت کرنی ہے تو وہ کہاں تک جا سکتا ہے؟ ریاستِ پاکستان کو ان سوالات کا سامنا صرف ایران کے معاملے میں نہیں ہے۔ افغانستان اور فلسطین سمیت چینی اور چیچن مسلمانوں کے بارے میں بھی ہے۔ یہاں بھی ریاست پاکستانی مفاد کے تناظر میں ان سوالات کے جواب تلاش کرتی ہے۔ یہ قومی ریاست کی مجبوری ہے۔ وہ مذہبی یا نظریاتی تعلق کو قومی مفاد سے لاتعلق ہو کر نہیں دیکھ سکتی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فکر کے حاملین جہاں بھی برسرِ اقتدار آئے ہیں‘ انہیں قومی ریاست کے مفادات ہی کو سامنے رکھنا پڑا ہے۔ ایران ہی کو دیکھ لیجیے۔ وہ پاک بھارت تنازع میں فریق نہیں ہمیشہ ثالث بنا ہے۔ بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوا تو ایران میں پاکستان کے حق میں کوئی مظاہرہ نہیں ہوا۔ ترکیہ کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں قیامت ڈھا دی مگر ترکیہ نے اسرائیل پر کوئی حملہ نہیں کیا۔ حملہ کیا کرتا‘ اس نے تو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلق بھی ختم نہیں کیا۔ آج ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف برسرِ پیکار ہے تو ترکیہ اس میں فریق نہیں بنا۔
اب ایسا نہیں ہے کہ ایران کے عوام یا ریاست میں پاکستان کیلئے خیر خواہی کے جذبات موجود نہیں۔ یا ترکیہ ایران کے مقابلے میں جذباتی طور پر امریکہ کو ترجیح دیتا ہے۔ جذبات اپنی جگہ مگر جب وہ کوئی مؤقف اور حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں تو ان کے پیشِ نظر پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ ایران یا ترکیہ کے مفاد کا تقاضا کیا ہے؟ کیا ترکیہ کو ایران کے خاطر امریکہ سے دشمنی مول لینا چاہیے؟ کیا ایران کو بھارت کے خلاف پاکستان کے ساتھ ہم قدم ہو جانا چاہیے؟ 'سیاسی اسلام‘ کو مانتے ہوئے بھی ان کیلئے لازم ہو گیا کہ وہ اپنی ریاست کے مفادات کو مقدم رکھیں۔ 'قومی ریاست‘ کے تناظر میں دیکھیے تو انہیں یہی کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان کو ایران سے یا ایران کو ترکیہ سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
آج پاکستان میں 'سیاسی اسلام‘ کے حاملین کو جذبات کی گرفت سے نکل کر اس عملی حقیقت کو سمجھنا ہو گا جسے 'قومی ریاست‘ کہتے ہیں۔ ایسے ہی جیسے ایران کے قیادت اور طیب اردوان نے اسے سمجھا ہے۔ دنیا میں نظر یاتی سیاست کے سب تجربات‘ وہ مذہبی ہوں یا غیر مذہبی‘ ناکام ہو چکے۔ نظریے کو بھی اب قومی ریاست ہی کے تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ دوسرے لفظوں میں 'سیاسی اسلام‘ کو بھی اب مقامی ہونا پڑے گا۔ میرے نزدیک اس کا مقدر بھی ناکامی ہے لیکن برسبیلِ تذکرہ اگر آج کوئی ریاست نظریاتی اساس کے ساتھ قائم ہوتی یا اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی ہے تو غلبۂ دین کی کوشش کو انہی حدود تک محدود کرنا ہو گا جو قومی ریاست کی حدود ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر یہ دیکھنا ہو گا کہ مسلمانوں کا باہمی تعلق سیاسی نہیں‘ اخوت کی بنیاد پر ہے۔ پاکستان دنیا کے ہر خطے میں بسنے والے مسلمانوں کا خیر خواہ ہے مگر یہ خیر خواہی پاکستان کے مفاد سے مشروط ہے۔ اس کی ایک مثال پاک افغانستان تنازع ہے۔ طالبان کیلئے ہم نے جو کچھ کیا اسے دہرانا تحصیلِ حاصل ہے۔ جیسے ہی پاکستان کے مفاد نے تقاضا کیا افغانستان پاکستان کی توپوں کی زد میں آ گیا۔ دوسری طرف افغان طالبان پاکستان کے خلاف بھارت کی مدد لینے پر آمادہ ہو گئے۔ یہاں بھی 'سیاسی اسلام‘ کو معاملہ فہمی میں مشکل پیش آئی اور اب ایران کے معاملے میں بھی وہ اسی صورتِ حال سے دوچار ہے۔
پاکستان کی ریاست نے موجودہ حالات میں جس حسنِ توازن کا مظاہرہ کیا ہے‘ وہ بین الاقوامی تعلقات کے نصاب کا حصہ بنے گا۔ ایک طرف قومی ریاست کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا گیا اور دوسری طرف اسلامی اخوت کے تحت ایران کے مسائل کم کرنے کیلئے غیر معمولی سرگرمی کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہی نہیں اس بات کی شعوری کوشش کی گئی کہ یہ جنگ مسلم ممالک کے مابین جنگ میں تبدیل نہ ہو۔ آج 'سیاسی اسلام‘ کو ماننے والے بہت سے لوگ اپنے دل کی بات زبان پر لے آئے ہیں کہ ان کی ترجیح پاکستان نہیں‘ ایران ہے۔ کچھ لوگ اسے ابھی دل میں چھپائے ہوئے ہیں مگر ریاست پر تنقید میں دوسرے گروہ کے ہمنوا ہیں۔ ان کی خدمت میں یہی گزارش ہے کہ وہ قومی ریاست اور نظریاتی ریاست کے فرق کو سمجھیں۔ ہم ظلم کی مذمت کرتے ہیں‘ اس کا ارتکاب امریکہ کرے‘ اسرائیل کرے یا کوئی اور۔ جہاں تک ظلم کے خلاف اقدام کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ پاکستان کے مفادات کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔
جنگ کے آغاز سے پہلے پاکستان نے اسے رکوانے کی کوشش کی تھی۔ اگر ایران امریکہ کے ابتدائی مذاکرات پاکستان میں ہوتے تو شاید صورتِ حال بہتر ہوتی‘ اگرچہ صہیونی لابی اس وقت صدر ٹرمپ کو اپنی گرفت میں لے چکی تھی اور وہ حملے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب نے مہارت کے ساتھ ان کے دل و دماغ تک جو رسائی حاصل کی‘ ممکن تھا کہ وہ اثر دکھاتی۔ اب پھر یہ صورت پیدا ہوئی ہے کہ دونوں فریق پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ پاکستان کیلئے باعثِ عزت ہے۔ لازم ہے کہ اس معاملے میں ہماری قیادت کو پوری قوم کی تائید حاصل ہو۔ اگر کچھ لوگ اپنی وفاداری کے مراکز پاکستان سے باہر بنائے ہوئے ہیں تو پاکستانی عوام کو‘ وہ شیعہ ہوں یا سنی‘ ان سے اعلانِ برأت کرنا چاہیے۔ سیاسی اسلام کے دوسرے علم برداروں کو بھی اپنے اندازِ نظر پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved