تحریر : عمران یعقوب خان تاریخ اشاعت     26-03-2026

جنگ تو ختم ہو جائے گی لیکن…

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے خبر دی کہ پاکستان خود کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اخبار نے اس پیش رفت سے باخبر دو افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی۔ اس خبر کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی لیکن پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان سامنے آ گیا کہ ایران امریکہ مذاکرات کی بات کی گئی ہے۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز ایران کے حوالے کر دی ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع نے امریکی تجویزکی تفصیلات نہیں بتائیں لیکن بہت سے معاملات طے ہونا باقی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مابین ممکنہ مذاکرات کے مقام کا فیصلہ ہونا بھی ابھی باقی ہے۔ ترکیہ اور پاکستان دونوں مذاکرات کے ممکنہ میزبان کے طور پر زیر غور ہیں۔ دوسری جانب پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین بلا واسطہ یا بالواسطہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی‘ پاکستان جیسے دوست ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی بنیاد ڈالنا چاہتے ہیں‘ اور امید ہے دوست ممالک کی کوششیں کامیاب ہو جائیں گی۔ اس وقت معاملات جو بھی چل رہے ہوں ایک بات طے ہے کہ جس طرح بے بنیاد معاملات کو ایشو بنا کر یہ جنگ اچانک اور بے منصوبہ شروع کی گئی تھی اسی طرح یہ بے نتیجہ ختم بھی ہونے والی ہے اور یہ بات بھی طے ہے کہ یہ جنگ مکمل طور پر امریکہ کی شرائط پر ختم نہیں ہو گی بلکہ اب ایران بھی اس پوزیشن میں ہے کہ اپنی بہت سی باتیں منوا سکے۔ اس جنگ میں یقینا ایران کو فاتح قرار دیا جائے گا اور وہی اپنے مطالبات منوانے کی پوزیشن میں ہو گا۔ امریکہ سمیت کسی ملک کو یہ توقع نہ تھی کہ ایران اندر سے اتنا مضبوط ہے اور اس نے جنگ کی اتنی زیادہ تیاریاں کر رکھی ہیں۔
جس بے ہنگم انداز میں یہ جنگ شروع کی گئی اور جس طرح بغیر کوئی نتیجہ نکلے یہ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اس کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ امریکہ کے اندر سے بھی شدید تنقید کا سامنا ہے اور میں نے اپنے گزشتہ کسی کالم میں لکھا تھا کہ یہی تنقید ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے قدم پیچھے ہٹانے پر مجبور کر دے گی۔ میرا خیال ہے وہ وقت اب آ پہنچا ہے کہ جنگیں شروع کرنے والے ممالک اور لیڈروں کا مواخذہ ہو کیونکہ اس جنگ نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور عالمی سطح پر توانائی کے ذرائع کا ایسا بحران شروع ہوا ہے جس کو ختم ہوتے کئی سال لگ جائیں گے۔ ایک اطلاع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات سے بھرے ہزاروں بحری جہاز اس وقت آبنائے ہرمز کے اس پار کھڑے ہیں تاکہ ایران کی طرف سے اجازت ملے تو آگے کا سفر شروع کر سکیں۔
بہرحال اس جنگ کے خاتمے کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے مطالبات کو کتنا اور کس قدر تسلیم کرتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں اب کوئی قیادت باقی نہیں رہی اور ایران میں وہ شاندار کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران رضا مند ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور یہ کہ ہم (امریکہ) نے ان کی (ایرانیوں کی) قیادت ختم کر دی ہے اور یہی رجیم چینج ہے۔ کیا ٹرمپ کے دعووں کی کوئی اہمیت بنتی ہے؟ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے متعلق جس قیمتی تحفے کی بات کی ہے وہ آبنائے ہرمز کو کھولے جانے کی ہے؟ اس سوال کا جواب ہو سکتا ہے یہ سطور چھپ کر آپ کے سامنے آنے تک آ چکا ہو۔
یہ جنگ تو ان شاء اللہ جلد ختم ہو جائے گی لیکن میرے خیال میں وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر میں جنگیں شروع کرنے والے افراد‘ ممالک اور ممالک کے اتحادوں کے جنگی اقدامات کی وجوہات تلاش کی جائیں اور ان وجوہات کی بنا پر حملہ کرنے والے ممالک کا احتساب بھی کیا جائے۔ مارچ 2003ء میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا الزام عائد کرتے ہوئے عراق پر حملہ کیا تھا اور ان کی فوجوں نے حقیقتاً پورے عراق کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔ مجھے یاد ہے اس جنگ کے دوران عراق کے تیل کے کنوئوں میں آگ بھی لگا دی گئی تھی جس کے شعلے اس جنگ کے ختم ہو جانے کے بعد بھی ہفتوں بھڑکتے رہے اور توانائی کے وسائل کے وسیع پیمانے پر ضیاع کا باعث بنتے رہے تھے۔ وہ جنگ ختم ہو گئی لیکن عراق کے عوام برباد ہو گئے‘ عراق کا انفراسٹرکچر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا اور حقیقت یہ ہے کہ آج اس جنگ کو ختم ہوئے 23برس ہو چکے ہیں‘ اس کے باوجود عراق وہ پہلے جیسا عراق نہیں بن سکا۔ لیکن عراق پر حملہ کرنے والے اتحادی ممالک کے سربراہوں کی جانب سے بعد ازاں یہ کہہ کر معذرت کر لی گئی کہ انہیں عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کے بارے میں غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں‘ جن کی بنیاد پر عراق پر حملے کا فیصلہ ہوا۔ سوال یہ ہے کہ ایک پوری قوم برباد ہو گئی‘ اثرات اس کی اگلی نسلوں تک چلے آ رہے ہیں اور حملہ کرنے والوں کی جانب سے محض یہ کہہ کر معذرت کر لی گئی کہ غلطی ہو گئی۔ کیا اتنا کافی ہے؟ میرا عالمی ضمیر سے سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی فاش غلطیاں کرنے والوں سے باز پرس نہیں ہونی چاہیے؟ میرا تو خیال ہے کہ ہونی چاہیے کیونکہ اگر باز پرس نہ کی گئی تو آئندہ بھی بے بنیاد الزامات پر دوسرے ممالک پر جنگ مسلط کرنے کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ اسی طرح عالمی معیشت تباہی اور بربادی کی نت نئی شکلیں دیکھتی رہے اور تباہی کے بحران سر اٹھاتے رہیں گے۔
وسیع پیمانے پر احتساب اور مواخذے کی بات اس لیے ذہن میں آئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کی ذمہ داری اپنے وزیر دفاع ہے پیٹ ہیگسیتھ پر ڈال دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے وزیر دفاع نے سب سے پہلے جنگ کی حمایت کی تھی اور ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے فوری کارروائی کی تجویز پیش کی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق وزیر دفاع نے ایرانی میزائلوں‘ ڈرونز اور بحری صلاحیتوں کی خاتمے کے مقاصد بھی بیان کیے تھے۔ اچھا ہوتا ڈونلڈ ٹرمپ وہ مقاصد بھی بیان کر دیتے تاکہ دنیا پر واضح ہو جاتا کہ امریکی صدر اپنے وزیر دفاع کی باتوں کے سامنے کتنے بے بس ہو جاتے ہیں کہ ایک بڑی جنگ تک شروع کر دیتے ہیں۔ یہ سب بتانے کا مطلب مقصد یہ ہے کہ ایک بار پھر اسی طرح کی آئیں بائیں شائیں شروع ہو چکی ہے جس طرح عراق کی جنگ کے بعد سننے میں آئی تھی۔ جرمنی کے صدر فرینک والٹر نے امریکہ کی ایران جنگ کو تباہ کن سیاسی غلطی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے لیے امریکہ کا جواز قابلِ قبول نہیں ہے‘ اگر جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا تو یہ غیر ضروری جنگ ہے۔ ترک صدر نے کہا کہ گزشتہ 25 دنوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جنگ اسرائیل کی ہے مگر اس کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے‘ یہ نیتن یاہو کی بقا کی جنگ ہے لیکن اس کا بوجھ 8ارب انسان اٹھا رہے ہیں‘ خطے کے امن اور انسانیت کے مفاد میں نیتن یاہو کی قیادت میں چلنے والے قتل عام کے اس نظام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا خمیازہ اگر پوری دنیا بھگت رہی ہے تو عالمی سطح پر اس کے خلاف بھرپور آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved