بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کی امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت اور بات چیت کی کوششوں بارے جو نامناسب الفاظ استعمال کیے ہیں‘ اس پر بھارت کے اندر بھی سنجیدہ اور سمجھدار حلقوں کی جانب سے شدید ردِعمل آیا ہے۔ جے شنکر نے پاکستان کے کردار بارے یہ الفاظ بھارتی پارلیمانی کمیٹی‘ جس میں اپوزیشن ارکان بھی شامل تھے‘ کو ایران امریکہ جنگ پر بریفنگ دیتے ہوئے استعمال کیے۔ بھارتی عوام‘ میڈیا اور سیاستدان اس بات پر برہم ہیں کہ پاکستان اتنا بڑا‘ اہم یا معتبر ملک کیسے ہو گیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مذاکرات کرانے جا رہا ہے اور کسی نے بھارت سے پوچھا تک نہیں۔بھارتی میڈیا دیکھیں گے تو آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ جلن کیا ہوتی ہے‘ یا ہمسائے کے گھر میں بڑے بڑے لوگ لاؤ لشکر سمیت اپنے دشمن سے صلح کرنے آجائیں تو آپ کو کیسے آگ لگتی ہے۔ وہی بات جو اپنے پچھلے کالم میں کہی تھی کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن حسد ہے جو آپ کے مخالف کا تو کوئی نقصان نہیں کرتا لیکن آپ کو اندر سے جلا دیتا ہے۔ یہی کچھ اس وقت بھارت کیساتھ ہو رہا ہے کہ مسلسل چیخ و پکار جاری ہے کہ کہاں مر گئے ہمارے وشواگرو مودی صاحب۔ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ اب مودی ہے تو ممکن ہے۔ اب دنیا ان سے گیان لیا کرے گی۔ وہی یوکرین‘ غزہ اور ایران میں جنگیں رکوائیں گے۔ پاکستان کو اب پوری دنیا میں اکیلا کر دیا گیا ہے اور چار سُو بھارت کے چرچے ہیں‘ پاکستان تو اب کسی کھیل میں نہیں رہا۔ اب اپن ہی بھگوان ہے۔ اپن ہی وشواگرو ہے۔
بھارتیوں کو گزشتہ کئی برسوں سے یہ گولی مسلسل دی جاتی رہی ہے کہ وہ اس دنیا کی سب سے اہم اور عظیم ترین قوم ہیں‘ جس کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چل سکتا‘ اس لیے وہ اب یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں کہ امریکہ انڈیا کو نظر انداز کرکے پاکستان کے پاس اپنی جنگ ختم کرانے کیلئے خود چل کر آ یا ہے۔ جب آپ نے اپنے حامیوں کو بانس پر اونچا چڑھایا ہوا ہو تو پھر انہیں نیچے اتارنا آسان نہیں ہوتا کہ سرکار کافی ہو گیا‘ اب حقیقی زندگی میں لوٹ آئیں۔ اونٹ کو بھی اس وقت احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں اس سے بھی قدآور مخلوق موجود ہے جب وہ صحرا سے باہر کسی پہاڑی وادی میں پہنچتا ہے‘ ورنہ صحرا میں تو وہ خود کو ہی سب سے عظیم تصور کرتا ہے۔ مودی صاحب کے ساتھ بھی پچھلے سال مئی میں یہی کچھ ہوا جب انہوں نے پاکستان کے خلاف آپریشن سِندور شروع کیا۔ بھارتیوں کا خیال تھا کہ پوری دنیا مودی جی کی دیوانی ہے اور ان کی ایک آواز پر سب مل کر پاکستان کا خاتمہ کر دیں گے۔ ہمارا اتنا ہی کہا کافی ہے کہ پہلگام حملہ پاکستان نے کرایا ہے۔ ہم خود جج‘ جیوری اور جلاد ہیں۔ خود ہی الزام لگائیں گے اور خود ہی سزا سنائیں گے۔ بھارت کی اس خوش فہمی کے پیچھے ان کی تیس چالیس کروڑ کی مڈل کلاس ہے جس کی قوتِ خرید اچھی ہے اور یہی بھارت کا سب سے بڑا بارگیننگ پوائنٹ ہے۔ بھارت کی کل آبادی تقریباً ڈیڑھ ارب ہے‘ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے دنیا بھر سے بہت کچھ درآمد کرتا ہے۔ ایران‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے وہ اربوں ڈالر کی تیل اور گیس خریدتا ہے۔ لہٰذا جو گاہک آپ کو اربوں ڈالرز کا بزنس دے رہا ہو آپ کو اس کا دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ برسوں میں سعودی عرب‘ یو اے ای اور ایران انڈیا کے زیادہ قریب آئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے تو انڈیا میں تقریباً دو سو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدے تک کیے جس سے پاکستان اور سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات بھی ابھرے تھے۔ 2019ء میں پاکستان نئی اوآئی سی بنانے کی دھمکی بھی دے چکا ہے جس کے بعد عرب ممالک سے پاکستان کے تعلقات بہت خراب ہوئے جو اپریل 2022ء کے بعد بحال ہونا شروع ہوئے۔ اس طرح بھارت نے یورپی ممالک خصوصاً فرانس اور امریکہ اور اسرائیل سے جنگی سازو سامان لینا شروع کیا۔ اسرائیل نے انڈیا کو جنگی ٹیکنالوجی دی۔ یوں مودی کے نزدیک اس نے تمام بڑے ممالک کو کور کیا جن پر پاکستان اپنی ضروریات کیلئے روایتی طور پر انحصار کرتا آیا تھا۔ ان ممالک سے خود ساختہ مضبوط تعلقات قائم کرنے کے بعد پہلگام واقعہ بھارت کے پاس پہلا بڑا موقع تھا کہ وہ پاکستان پر حملہ آور ہو سکے۔ لیکن اُس موقع پر بھارت کے ساتھ عملاً کوئی ایک ملک بھی کھڑا نہ ہوا اور پاکستان جسے وہ اپنے تئیں دنیا میں اکیلا کر چکا تھا اس کے ساتھ چین‘ ترکیہ اور آذربائیجان کھل کر کھڑے تھے۔ یوں جے شنکر‘ جو شاید خود کو جدید دور کا ہنری کسنجر سمجھتے ہیں‘ ان پر سارا دباؤ آیا کہ انہوں نے وزیر خارجہ بن کر خاک سفارتکاری کی تھی کہ اس مشکل وقت میں ایک ملک بھی بھارت کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ محض بھارتی میڈیا اور اَندھ بھگتوں کے ذریعے سوشل میڈیا پر جو ''وشواگرو‘‘ ہونے کا شور مچایا گیا تھا وہ الٹا پڑ گیا۔ غصے سے بھرے جے شنکر ہر ملک کو پڑ گئے اور کھری کھری سنا دیں۔
ایک دور تھا کہ بھارت کی ڈپلومیسی ٹاپ پر تھی اور ہم پاکستانی ڈپلومیٹس کو طعنے دیتے تھے کہ آپ بھارتیوں سے سیکھیں کہ ڈپلومیسی کیسے کرتے ہیں۔ لیکن آج ششی تھرور جیسا سیاستدان‘ جو لوک سبھا کی فارن افیئرز کمیٹی کا چیئرمین بھی ہے‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی داد دے کر کہہ رہا ہے کہ پاکستانی ہمارے مخالف سہی لیکن انہوں نے اپنی فارن پالیسی کا جو داؤ لگایا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ چند برس قبل امریکہ میں تعینات ایک انڈین سفیر نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستانی ڈپلومیٹس امریکہ میں ہماری سفارتکاری کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس میں سچائی بھی تھی کہ کانگریس یا سینیٹ میں ان کی لابنگ بہت طاقتور تھی اور وہ ہر محاذ پر پاکستانی ڈپلومیٹس کو شکست دیتے آئے تھے‘ اور کئی دفعہ ایسے بلز یا قراردادیں ہاؤس میں پیش کرائیں یا منظور کرائیں جس سے پاکستان کو سیٹ بیک ہوا۔ اس بھارتی سفیر نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ پاکستانی سفیروں کو بھارتیوں سے سیکھنا چاہیے۔ آج ششی تھرور جیسا بندہ انڈیا میں کھڑا ہو کر کہہ رہا ہے کہ ہمیں پاکستان سے سفارت کاری سیکھنی چاہیے جنہوں نے اس مشکل ترین جنگی حالات میں بھی ایران‘ امریکہ‘ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں سمیت سب کے ساتھ تعلقات نارمل رکھے ہوئے ہیں اور وہ سب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہ رہے ہیں جبکہ ہمارے وزیر خارجہ پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاس میں نامناسب الفاظ کا استعمال کر کے اپنی ناکامیوں کا دفاع کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے مخالفوں کی خوبیوں کو سراہنے یا ان سے سیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے‘ خصوصاً وہ لوگ جو اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوں اور غصہ یا فرسٹریشن ان پر حاوی ہو جائے تو سمجھ لیں کہ وہ ناکام سیاستدان اور ناکام وزیر ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ کے پاکستان کیخلاف نامناسب الفاظ استعمال کرنے سے ان کا اپنا قد نیچا ہوا ہے۔ بھارت کو سبکی ہوئی ہے کہ پوری دنیا پاکستان کے کردار کو سراہ رہی ہے کہ وہ جنگ رکوانے کی کوشش کررہا ہے جس کا فائدہ دنیا سمیت بھارت کو زیادہ ہو گا جہاں انرجی سپلائی کم ہونے سے اس وقت پٹرول پمپس پر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور دنگے شروع ہو گئے ہیں۔
میری رائے میں تو بھارت سرکار کو پاکستان کے اس کردار کو سراہنا چاہیے تھا جیسے ششی تھرور نے سراہا۔ ششی تھرور سے لاکھ اختلاف لیکن وہ ایک پڑھا لکھا انسان ہے جو کتابیں پڑھتا اور کتابیں لکھتا ہے۔ یہی فرق ہے ایک پڑھے لکھے پارلیمنٹرین اور جے شنکر جیسے کیریئر ڈپلومیٹ میں‘ جو خود کو بھارت کا ہنری کسنجر سمجھتا ہے لیکن بقول ایک بھارتی سوشل میڈیا صارف کے‘ بات اس نے ایک تھڑے پر بیٹھنے والے شخص جیسی کی ہے۔ نفرت بھی محبت کی طرح عجیب انسانی جبلت ہے۔ یہ دونوں جذبات جب حد سے بڑھ جائیں تو بندے کی مت مار دیتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved