تحریر : رسول بخش رئیس تاریخ اشاعت     27-03-2026

شکایتیں

بُری عادتیں تو اور بھی ہیں مگر حالات کا شکوہ ہر جگہ اور ہر نوع کی محفلوں میں سننے کو ملتا ہے۔ ذاتی طور پر کسی بھی قسم کی شکایت سے دل مضطرب اور سینے میں گھٹن کی سی کیفیت پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ کسی کو کچھ نہیں کہہ تو سکتے دل ہی دل میں دعا کرتے ہیں کہ سب اپنے حال پر راضی رہیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو بے شک آپ کے پاس دولت کے انبار ہوں‘ یا طاقت اور شہرت اور معاشرے میں اعلیٰ مقام‘ آپ خوش نہیں رہ سکیں گے۔ وعظ و نصیحت سے ہم دور رہتے ہیں‘ اس لیے نہ کسی کو ٹوکتے ہیں اور نہ ہی شکایتوں کے رد میں کوئی دلیل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کیلئے اطمینان اور سکون کی دعا کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کئی دہائیاں گزر چکی ہیں‘ ایک دوست نے کہا کہ آپ کو عشائیے پر ایسے شخص کے گھر لے جاتے ہیں جو نچلی سطح سے اوپر آئے ہیں اور اب صنعتکار بن چکے ہیں۔ جو لوگ اپنی محنت اور استقامت سے بغیر سہاروں کے اپنا مقدر بدلتے ہیں‘ انہیں مل کر خوشی بھی ہوتی ہے۔ ان کے گھر میں کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ پہلی مرتبہ ان کے دیوان خانے میں لمبی چوڑی سکرین کا ٹی وی سیٹ دیکھا ۔ باتوں ہی باتوں میں ان کے کاروبار کے بارے میں غیررسمی بات شروع کی تو انہوں نے ''ہم مر گئے‘‘ والی گھسی پٹی گردان شروع کر دی۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کی نفسیات ہی ایسی بن چکی ہو مگر مالی لحاظ سے کامیاب لوگوں کے منہ سے کوئی شکایت سنیں تو ان کی الجھی ہوئی شخصیت ایک واضح تصویر کا روپ دھار کر ہمیں حیران کر دیتی ہے۔ صرف ایک واقعے کے بعد کبھی نہ ان کے بارے میں اپنے دیرینہ دوست سے پوچھا‘ نہ ان کانام یاد رکھا۔ آسودگی میں شکایت میرے ذہن پر ایک منفی نقش چھوڑ جاتی ہے جو اپنے لیے کم از کم باعثِ عبرت خیال کرتا ہوں۔
دکھ کی بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں شکایتیں سماجی نفسیات بن چکی ہیں۔ ایسا کیوں ہے کا جواب تو ہے مگر پھر آپ کہیں گے کہ بات کیسے گھسیٹ کر سیاست کی طرف لے گیا ہوں۔ چلیں ہم معاشرتی بے چینی کی صرف اس علامت کا ذکر کرتے ہیں۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ صبح سویرے گھر کے قریب پارک میں تازہ ہوا‘ خوشگوار موسم‘ سبزہ اور خوبصورت درختوں کے جھنڈ میں چلتے چلتے سارا وقت کوئی قدم ملا کر چلنے والا ساتھی شکایتوں کو سانپوں کی پٹاری سے ایک ایک کر کے نکالنا شروع کر دیتا ہے۔ بات وہ ادھر ادھر پھینکے گئے کوڑا کرکٹ سے شروع کرتے ہیں اور پھر حال‘ ماضی اور مستقبل کا کوئی بھی مسئلہ نہیں رہتا جس کے بارے میں تفصیل سے وہ چلتے پھرتے منفی انداز میں تبصرہ نہ کریں۔ کوئی دوستوں کی محفل ہو‘ پارک ہو یا سماجی اکٹھ‘ شکایتوں کا آغاز ہوتے ہی یہ درویش کان بند کر لیتا ہے۔ ردِعمل میں کسی اور دنیا میں کھو جانا اور پھر ارد گرد کی خوبصورتی‘ مناظر اور موسم کی طرف دھیان کا رخ آٹو پائلٹ کی طرح کوئی بٹن دبائے بغیر ہو جاتا ہے۔ مشاہدہ یہ بھی ہے کہ شکایتوں کی پوری کتاب پڑھنے کے بعد بھی پوچھتے ہیں کہ ''آپ کا کیا خیال ہے‘‘۔ میرا جواب صرف ایک فقرہ ہوتا ہے: سب ٹھیک ہو جائے گا۔ موقع ملتے ہی گفتگو کسی خوشگوار موضوع کی طرف موڑنے کی کوشش کرتا ہوں۔ دکھ تو یہ ہے کہ جن لوگوں کے منہ پر شکایت دیکھی‘ انہیں زندگی میں اور اس ملک میں‘ جہاں ہم سب رہتے ہیں‘ سب کچھ حاصل کرتے دیکھا ہے۔ انہیں کسی چیز کی کمی نہیں‘ گھر ہے‘ گاڑیاں ہیں اور مالی خوشحالی ہے مگر اپنے آپ اور اپنے ملک سے راضی نہیں ہو سکے۔
میرے دوستوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کے پاس مال و متاع کچھ زیادہ نہیں تھا مگر پوری زندگی وہ مطمئن رہے‘ خوش و خرم‘ سفید پوش مگر قانع۔ بامعنی زندگی گزارنے کا ہنر جسے نصیب ہو جائے وہ پھر مادیت کے عام پیمانوں کی ناپ تول سے آگے نکل جاتا ہے۔ یہ تو نہیں کہنا چاہتا کہ بنیادی ضروریات‘ خاندانی ذمہ داریوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی مگر خوش رہنا‘ اپنے جائز وسائل اور محدود ذرائع میں گزر اوقات کرنا ایک نعمت ہے۔ چولستان کے تپتے ریگستان میں اپنے ایک عالم فاضل دوست کا ذکر کبھی ایک مضمون میں کیا تھا۔ کچی مٹی کے ایک چھوٹے سے کمرے میں‘ جس کی چھت سرکنڈوں کی ہے‘ آج کل زندگی کے آخری برس گزار رہے ہیں۔ جب بھی بات ہوتی ہے ''شکر ہے شکر ہے‘‘ ان کے منہ سے ادا ہوتا ہے۔ 90ء کی دہائی میں ہیں لیکن انہیں کوئی بیماری لاحق نہیں۔ کوئی دوائی نہیں استعمال کرتے اور جو کچھ ان کے عزیز ان کے سامنے رکھتے ہیں خوشی سے کھا لیتے ہیں۔ ایسے اور بھی دوست ہیں جن کی وجہ سے میں خود اپنے آپ کو خوش نصیب خیال کرتا ہوں۔ ملک کے اندر بھی ہیں اور باہر کی دنیا میں بھی‘ جن کے منہ سے کبھی کوئی شکایت نہیں سنی۔ ایک امریکی دوست یاد آرہا ہے جو پی ایچ ڈی پروگرام میں میرے ساتھ تھا۔ سات سال تک پڑھتے رہے اور وہاں پڑھایا بھی۔ سب تحریری اور زبانی امتحانات انہوں نے پاس کر لیے۔ آخر میں ایک مقالہ لکھنا ہوتا ہے جو ایک سے دو سال تک لکھا جاتا ہے۔ اس کا ہر باب اپنے سپروائزر کو دکھایا اور انہوں نے سب جزئیات منظور کر لیں۔ جب پورا مقالہ مکمل کر کے پیش کیا تو وہ رد کر دیا گیا۔ ان کی نو سال کی محنت رائیگاں گئی۔ علم تو حاصل کر لیا مگر سند نہ مل سکی۔ میں خود بھی ادھر پہنچا اور اپنے ''گرو‘‘ سے بات کی کہ وہ اس مقالے کو دیکھیں اور مناسب خیال کریں تو منظور کر لیں۔ انہوں نے بھی انکار کر دیا۔ اس حالت میں بھی میرے دوست نے کبھی شکایت نہ کی۔ انہیں کیلیفورنیا ریاست کی حکومت میں نوکری ملی اور تقریباً پندرہ سال پہلے وہاں سے ریٹائر ہوئے۔ کئی مرتبہ اُن کے گھر گیا‘ وہ یہاں میرے پاس بھی آئے۔ ایک مرتبہ بھی انہوں نے اس سند کے نہ ملنے کی شکایت نہیں کی۔ 80 سال کے قریب ہوں گے۔ ہفتے میں تین بار بیس میل سائیکل چلاتے ہیں‘ ٹینس کھیلتے ہیں اور صحت مند اور خوشگوار زندگی گزارتے ہیں۔
اس کے برعکس اگر شکایتوں کا نفسیاتی روگ کسی کو لگ جائے تو فطری شخصیت کو مسخ کر کے رکھ دیتا ہے‘ سب کچھ ہونے کے باوجود خوشیوں کا سورج ان کے آنگن میں کبھی طلوع نہیں ہوتا۔ وہ غمزدہ اور افسردہ رہتے ہیں اور اپنی زندگی کے مشن کو نامکمل خیال کرتے ہیں۔ اصل وجہ ہمارے جیسے معاشرے میں دوسروں سے موازنہ کرنے کی اور دوسروں کے پاس زیادہ دیکھ کر کڑھنے کی بیماری ہے۔ حرص و ہوس کی آندھی قناعت کی شمع کو گُل کردیتی ہے۔ اس کا گھوڑا‘ اس کی گائے‘ اس کی گاڑی‘ اس کا مکان اور اس کا عہدہ ہمیں پریشان رکھتا ہے۔ شکایتوں کی جڑیں اس موازنے اور عدم قناعت میں ہیں۔ یہ سب انسانوں کا مسئلہ ہے‘ بات صرف ہماری نہیں۔ فرق یہ ہے کہ مغرب اور مشرق میں بھی اہلِ دانش نے لوگوں کی جسمانی‘ ذہنی اور جذباتی صحت کو موضوع بنایا ہوا ہے۔ ہماری سوئی صرف مسائل پر اٹکی ہوئی ہے۔ خوش اور مطمئن زندگی گزارنے پر صرف امریکہ میں ہر سال 15 ہزار کتب شائع ہوتی ہیں اور انگریزی زبان میں ساڑھے تین لاکھ آن لائن اور دیگر پروگرام اس کے علاوہ ہیں۔ ہم سب انسان کمزور ہیں۔ جذبات‘ خواہشات اور ہوس ہمیں کھوکھلا کر دیتے ہیں‘ بلکہ زندگی کا رس نچوڑ لیتے ہیں۔ کاش ہم خوشگوار زندگی گزارنے کے فن کو اپنی تعلیم کا حصہ بنائیں۔ ہمارے روایتی معاشروں میں صحت مند زندگی کی تمام روایات اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بے چینی اور اضطراب نے دیہات بلکہ شہروں اور غیر تعلیم یافتہ افراد سے لے کر پڑھی لکھی اور مالی طور پر آسودہ آبادی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ نعمتوں کا شکر ادا کرنا اس ہیجان سے آزادی کی ابتدا ہے۔ اس کا علاج یہ سوچ ہے کہ زندگی سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved