عالمی منظرنامہ بھلے کتنا ہی الارمنگ ہو جائے ہمارے رنگ ڈھنگ بھی کسی الارم سے کم نہیں۔ ایک طرف امریکہ اپنے اتحادیوں کے بدلنے پر نالاں اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے تو دوسری طرف ہمارے ہاں بدلے کی آگ جوں کی توں بھڑک رہی ہے۔ پوائنٹ سکورنگ کے علاوہ لفظی جنگ اور بیانات کی گولہ باری سیاسی درجہ حرارت کا جنگی رنگ برابر بڑھائے جا رہی ہے۔ نہ حالات کی سنگینی کا احساس ہے اور نہ ہی درپیش چیلنجز کا۔ سیاسی مخالفین کو 'وِلن‘ ثابت کرنے کے سبھی مواقع بروئے کار لانے کیلئے سرکاری وسائل کے ساتھ بیانیہ بریگیڈ مصروفِ عمل ہے۔ خطے میں جاری جنگ کے معاشی اثرات کا مقابلہ توانائی مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کر کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر متوقع خطرات سے نمٹنے کیلئے کفایت شعاری مہم کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف شوقِ حکمرانی رواں دواں رکھنے کیلئے سبھی لوازمات اور تام جھام بھی برابر جاری ہے۔ ان جنگی حالات میں بھی سیاسی سورج سوا نیزے پر رکھنے کا کریڈٹ حصہ بقدرِ جثہ ان سبھی کو جاتا ہے جن کے دفاعی بیانیے حکومت کو آئے روز نئی سبکی اور جگ ہنسائی سے دوچار کیے رکھتے ہیں۔ سادہ سوالوں کے بے تُکے اور لایعنی جواب مزید کڑے سوالات کا باعث بنتے چلے جا رہے ہیں۔
پنجاب حکومت نے سفری سہولت کیلئے جہاز کیا خریدا گویا طوفان آ گیا۔ اسی طرح چیئرمین سینیٹ کی نئی لگژری گاڑی کی خبر آتے ہی چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ حکومتی ترجمانوں کی وضاحتوں اور عذر پر مزید قلم آرائی سے احتیاط اور اختصار بہتر ہے۔ مملکتِ خداداد کو درپیش چیلنجز اور جنگی اثرات کے نقطے ملائیں تو آنے والے دنوں میں نہ صرف آپشنز مزید گھٹتے نظر آ رہے ہیں بلکہ ڈپلومیسی کے گُر بھی شاید کارگر نہ رہیں۔ جس طرح امریکہ کے اتحادی ممالک کو بالآخر دوٹوک مؤقف اپنا کر جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کرنا پڑا‘ اسی طرح پاکستان کو بھی اپنا وزن کسی ایک پلڑے میں ڈالنا پڑے گا۔ دونوں پلڑوں میں وزن بانٹ کر آخر کب تک وقت گزارا جا سکتا ہے؟ جرمنی نے تو امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ جو کام خود نہیں کر سکتے ہم سے اس کی توقع کیوں؟ اسی طرح دیگر اتحادیوں کی طرف سے بھی کورا جواب ہے۔ یہ تمام صورتحال امریکہ بہادر کیلئے نا گہانی صدمہ اور بڑا سرپرائز ہے۔ دوسری طرف ایران اس ابہام سے نکلنے کیلئے مسلم ممالک سے برملا پوچھ رہا ہے کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ آنے والے دنوں میں یہ بھید بھاؤ مزید کھلتے چلے جائیں گے کہ کون‘ کتنا کس کے ساتھ ہے۔ جہاں امریکہ نے اتحادیوںکو مشکل سے دوچار کر ڈالا ہے وہاں اپنے لیے بھی وہ مشکل راستہ چنا ہے جہاں مزید آگے جانا تو درکنار‘ واپسی بھی انتہائی کٹھن اور دشوار دکھائی دے رہی ہے‘ تاہم خطے کی یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ نمائشی اقدامات اور زبانی جمع خرچ سے نکل کر ملکی سلامتی سے جڑے سبھی امور کا نہ صرف جائزہ لیا جائے بلکہ ایک ایسا ایکشن پلان بھی تشکیل دیا جائے جو جنگی اثرات سے نمٹنے اور نکلنے میں معاون اور مددگار ہو۔
ایک طرف انرجی بحران کے پیشِ نظر کفایت شعاری کا اعلامیہ جاری ہوا ہے تو دوسری طرف چیئرمین سینیٹ کیلئے نو کروڑ روپے کی گاڑی خریدنے کے علاوہ عدلیہ کیلئے بھی 10 مزید گاڑیاں خریدنے کی منظوری دے دی گئی ہے جبکہ پنجاب میں وزرا اور سرکاری بابوؤں کیلئے 108 نئی لگژری گاڑیوں کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالنے کی تیاریاں بھی مکمل کی جا چکی ہیں‘ جن کی مالیت تقریباً ایک ارب 14کروڑ روپے ہے۔چار کروڑ روپے کی دو بلٹ پروف گاڑیاں دو مخصوص وزرا کیلئے ہوں گی۔ اسی طرح جہاز کی خریداری اور تصرف پر ترجمانوں کے متضاد دفاعی بیانیے نیت اور ارادوں کے پول کھولتے چلے جا رہے ہیں۔ جہاز اور چمچماتی گاڑیاں کیا‘ سرکاری وسائل اور ادارے بھی آپ سبھی کیلئے ہی تو ہیں۔ اس ملک کے طول وعرض میں اقتدار اور وسائل کا بٹوارہ بھی تو آپ ہی کے دم قدم سے ہے۔ کبھی باریاں لگا کر تو کبھی یاریاں لگا کر‘ کئی دہائیوں سے ملک وقوم پر حکمرانی کا اعزاز آپ سبھی ہی کو حاصل رہا ہے اور حکمرانی کے تسلسل کیلئے اس نظام کی بقا آپ سبھی کی ضرورت ہے۔ عوام کو پیٹ پر پتھر باندھنے کے بھاشن ضرور دیجیے لیکن اپنی بھوک پر بھی نظرِ ثانی کیجیے کیونکہ غبارے میں زیادہ ہوا بھرنے سے صرف حجم ہی نہیں بڑھتا بلکہ پھٹنے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
بدلے کی بدعت نے مملکتِ خداداد کو انگار وادی بنا ڈالا ہے۔ انتقام کی آگ کے شعلے کئی دہائیوں سے کبھی بھڑکتے تو کبھی سلگتے چلے آ رہے ہیں۔ آج کے حلیف اور اتحادی کئی دہائیوں تک ایک دوسرے کی ضد اور بدترین مخالف بنے رہے ہیں۔ سیاسی مخالفین کو زیر عتاب رکھنے کیلئے قیدوبند کے علاوہ جھوٹے سچے مقدمات اورکردار کشی سمیت ہر طرح کے اقدامات ملک کی سیاسی روایت کا حصہ رہے ہیں۔ 2018ء میں تیسری سیاسی قوت برسرِ اقتدار آئی تو اس نے ماضی کی ان تمام بدعتوں کو مزید دوام بخشا اور سبھی مخالفین کو جبر اور عتاب کا نشانہ بنائے رکھا۔ اس دور میں زیرِ عتاب رہنے والے جب اتحادی بن کر برسرِ اقتدار آئے تو تیسری سیاسی قوت نشانے پر آگئی۔ یہ بدلے کی آگ کچھ بھی بدلنے نہیں دے رہی۔ احترامِ آدمی سے لے کر وضعداری‘ لحاظ اور مروت جیسے سبھی رویے اس آگ میں بھسم ہو چکے ہیں۔ اپنی اپنی اناؤں کے پہاڑ پر چڑھے یہ سبھی سماج سیوک نیتا ایک دوسرے کو فتح کرنے کیلئے ملکی وسائل کا استعمال بے دریغ کرتے چلے آئے ہیں۔ ان سبھی پر قائم مقدمات کا کمال یہ ہے کہ جب تک یہ زیر عتاب رہتے ہیں ان پر چلنے والے کیسز انتہائی سنگین اور قومی جرائم تصور کیے جاتے ہیں مگر جونہی یہ زندان سے ایوان میں آتے ہیں سارے مقدمات ایک ایک کر کے جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بڑے کیسوں میں دھرے جانے والے سبھی بریت کے پروانے لے کر بے قصور اور معزز قرار پاتے ہیں۔ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی بنانے کا بڑا کریڈٹ بھی اسی تیسری قوت کو جاتا ہے جو آج زیرِ عتاب ہے۔ گالم گلوچ‘ کردار کشی اور ہرزہ سرائی کے علاوہ اشتعال انگیزی سمیت منافرت کی سیاست متعارف کرانے کا سہرا انہی کے سر ہے۔ جن عتابوں سے مخالفین کو دوچار رکھا آج کئی گنا اضافوں کے ساتھ خود بھگت رہے ہیں۔ اس طرزِ سیاست نے سرکاری وسائل اور انتظامی مشینری کو بھی انتقام کی بھٹی کا ایندھن بنا ڈالا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے زیر کرم رہنے والے افسران تقرریوں کے علاوہ ترقیوں پر بھی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس ہائی پاور پرموشن بورڈ میں ٹاپر افسران کے بجائے جونیئر افسران کو ترقیاں دے کر الٹی گنگا بہا ڈالی گئی۔پولیس سروس کے عامر ذوالفقار ‘ انفارمیشن سروس کے سہیل علی خان اور ایف بی آر سروسز سے تعلق رکھنے والے متاثرہ افسران نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔ چند روز قبل جسٹس انعام منہاس نے اپنے فیصلے میں ہائی پاور بورڈ کی پروموشن پالیسی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ افسران کو گریڈ 22 کا اہل قرار دیا جبکہ بورڈ کے طریقہ کار پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ علاوہ ازیں من پسند ترقیوں اور نچلے گریڈ والوں کو اوپر والے منصب پر تعینات کرنے کا دروازہ بھی بند کر دیا۔ ناپسند افسران سے بدلہ چکانے کی یہ بدعت خاصی پرانی اور سبھی حکومتوں کی روایت رہی ہے۔ خدارا! اس اُدھم کا کوئی تو انت ہونا چاہیے۔ مملکتِ خداداد کو ''بدلہ پور‘‘ نہ بنائیں۔ شوقِ حکمرانی کیلئے یہ ملک آپ کی بھی ضرورت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved