اس قضیے کو ہم ایک دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں۔
مسلمانوں‘ بالخصوص سُنّیوں کو مکہ ا ور مدینہ سے تعلقِ خاطر ہے۔ یہی ان کی محبت وعقیدت کے مراکز ہیں۔ ان کے ذکر سے ان کے دلوں کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ ان کے دل اور قدم حرمین شریفین کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ اس کا اظہار ا ن کے آنسوئوں‘ شاعری اور نثرمیں ہوتا ہے۔ اس قلبی تعلق کے اظہار کے لیے کیا لازم ہے کہ مسلمان سعودی حکمرانوں یا سعودی سرزمین کے بارے میں ایسے ہی جذبات رکھیں جیسے ان شہروں اور ان کے قدیم مکینوں کے بارے میں رکھتے ہیں‘ جن میں اللہ کے آخری رسول سیدنا محمدﷺ اور صحابہ کرامؓ شامل ہیں؟ جدہ اور ریاض کے لیے بھی ان کی دھڑکن اسی طرح غیر متوازن ہو جائے؟ سعودی علما بھی ان کی عقیدت کا مرکز قرار پائیں؟ وہ پاکستان پر سعودی عرب کو ترجیح دیں؟
اس طرح مسلمانوں بالخصوص شیعوں کا کربلا‘ نجف اور مشہد سے قلبی تعلق ہے۔ یہاں امیرالمومنین سیدنا علیؓ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ سیدنا حسینؓ کا مقتل اسی سرِ زمین عراق میں آباد ہوا۔ اسی خاندان کی ایک بڑی شخصیت امام رضا مشہد میں مدفون ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ موصل وشیراز سے بھی مسلمانوں کو ویسی ہے محبت ہو جیسی مشہد سے ہے؟ وہ ان کی گلیوں اور بازاروں میں ننگے پاؤں چلنے کو سعادت سمجھیں؟ یہاں کے حکمرانوں کو مقدس قرار دیں اور ان کے لیے اپنے گھروں کو آگ لگا دیں؟ پاکستان پر عراق اور ایران کو ترجیح قرار دیں؟
کوئی ذی عقل ان سوالات کے جواب اثبات میں نہیں دے سکتا۔ ہمارے ہاں عقائد و مسالک کی بنیاد پر سعودی عرب اور ایران سے متعلق نظریات میں جو تنوع پایا جاتا ہے وہ معاملہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ مکہ اور مدینہ کو ہماری دینی روایت میں جو مقام حاصل ہے وہ کسی دوسرے شہر کو نہیں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح نجف وکربلا کو جب ہماری روایت کی دو بڑی شخصیات سے نسبت ہو گئی تو ان کا مقام مختلف ہو گیا۔ بعد میں آنے والی شخصیات کو بھی جب ایک مذہبی تقدس مل جاتا ہے تو ان کے شہر بھی اسی طرح معتبر ہو جاتے ہیں۔ جیسے بغداد! اسے بہت سی علمی ومذہبی شخصیات سے نسبت ہے۔ ان میں نمایاں ترین امام ابوحنیفہ اور شیخ عبدالقادر جیلانی ہیں۔
مکہ اور مدینہ کا معاملہ اس اعتبار سے خاص ہے کہ ان کا ذکر قرآن و حدیث میں ہوا ہے۔ باقی شہروں کو انسانی محبت وعقیدت نے معتبربنا دیا۔ عوامی پذیرائی کی دینی حیثیت ہو نہ ہو‘ ایک سماجی حیثیت ضرور ہوتی ہے جو قابلِ فہم ہے۔ ان کے ساتھ رومان وابستہ ہوتا ہے اور ان کا ذکر شاعری میں ہوتا ہے۔ اقبال جیسا آدمی بھی مدینے کے ساتھ نجف کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتا ہے۔ سلطان باہو نے بغداد کو اپنی عقیدت کا مرکز بنایا تو لافانی شاعری نے جنم لیا۔ یہ باتیں قابلِ فہم ہیں۔ جو بات سمجھ میں آنے والی نہیں‘ وہ ان ملکوں کی حکومتوں اور جغرافیے کو اہم سمجھنا ہے جو متغیر عوامل ہیں۔ آج ہم عراق اور ایران کے نام سے جن ممالک سے واقف ہیں‘ اس جغرافیے کے ساتھ یہ اُن شخصیات کے عہد میں موجود نہیں تھے جن سے ہمیں محبت ہے۔
اس سارے عمل کو شعوری سطح پر سمجھا جائے تو ہم اس ابہام سے باہر آ سکتے ہیں‘ جس میں آج مبتلا ہیں۔ آج جو مسلم ممالک موجود ہیں‘ یہ موجودہ حالت میں بیسویں صدی میں وجود میں آئے۔ اسی طرح حکمران طبقات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ان میں اچھے ہو سکتے ہیں اور برے بھی۔ ان کی حکمتِ عملی ہمارے فائدے میں ہو سکتی ہے اور اس کے خلاف بھی۔ ان کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت جذباتی اور مذہبی نہیں‘ مفاداتی اور عملی ہو گی۔ خیر وشر میں امتیاز فطری ہے۔ اسی طرح ظلم سے نفرت بھی فطری ہے اور اس کا لحاظ دنیا کے ہر تعلق میں ہو گا‘ وہ کسی مسلم ملک کے ساتھ ہو یا غیر مسلم ملک کے ساتھ۔ یہی وہ اصول ہے جسے ہم نے شعوری طور پر سمجھنا اور اپنے پیشِ نظر رکھنا ہے۔
ہمارے مذہبی اور سیاسی گروہ اپنے مفادات کے تحت یا پھر قلتِ فہم کے باعث اس فرق کو پیشِ نظر نہیں رکھتے۔ ماضی میں بھی ایک بار یہاں صدام حسین کے حق میں ایک تحریک اٹھا دی گئی تھی۔ یہی مذہبی گروہ تھے جنہوں نے اُس وقت بھی اپنے قومی مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی باگ جذبات کے ہاتھ میں دے دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں کے سُنّی صدام حسین کو امریکہ کے خلاف مسلمانوں کا نمائندہ سمجھتے تھے اور شیعہ مسلمان ان کے بارے میں بالکل دوسری رائے رکھتے تھے۔ ایک وقت میں سنی عرب بھی سنی صدام کے خلاف تھے۔ یہ بھی عجیب اتفاق تھا کہ اُس وقت امریکہ اور ایران‘ صدام حسین کے مقابلے میں ہم آواز وہم قدم تھے۔
یہ کج فہمی آج بھی باقی ہے؛ البتہ اب کردار تبدیل ہو گئے ہیں۔ اب نئی صف بندی ہو گئی ہے۔ گروہ بدل گئے ہیں اور مفادات بھی۔ ایک عام پاکستانی کو اس کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ ایسے گروہی مفادات کا اسیر نہ بنے۔ اسے اپنی ریاست کے ساتھ کھڑا رہنا ہے جس نے درست مؤقف اپنایا ہے۔ یہ اخلاقی اعتبار سے صحیح ہے اور ریاستی مفاد سے بھی ہم آہنگ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کسی موقع پر ہمیں ریاستی اقدام سے اتفاق نہ ہو۔ اس صورت میں ہم اس حکمتِ عملی پر تنقید کر سکتے ہیں مگر اپنے نظمِ اجتماعی سے الگ نہیں ہو سکتے۔
مذہب اور اس کے مقدسات سے ہمارا تعلق مستقل ہے۔ یہ زمان ومکان کی گرفت سے آزاد ہے۔ ہم جس عہد میں ہوں‘ جس شہر میں ہوں‘ ان کے ساتھ تعلق پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جہاں تک ملکوں اور حکومتوں کا معاملہ ہے تو یہ باہمی تعلقات اور مفادات پر منحصر ہوتا ہے۔ رضا شاہ پہلوی کا ایران اور تھا‘ اہلِ مذہب کا ایران اور۔ حامد کرزئی کا افغانستان اور تھا‘ طالبان کا افغانستان اور ہے۔ ایسے تعلقات میں لازم نہیں کہ دوام ہو۔ حالات تبدیل ہو جانے سے تعلقات بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے شیعہ ہوں یا سنی‘ سلفی ہوں یا مقلد‘ انہیں سارے منظر نامے کو اسی زاویے سے دیکھنا ہو گا۔
ہمارے ہاں ایک عمومی رجحان یہ ہے کہ لوگ معاملات کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ایران امریکہ جنگ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ ایران کے ساتھ نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ہیں۔ یا یہ کہ ایران حق پر ہے تو عرب ممالک امریکہ کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ یہ سادہ لوحی ہے۔ ایران‘ سعودی عرب اور دوسرے ممالک کا اپنا اپنا زاویۂ نظر ہے۔ اس کا تعلق تاریخ اور باہمی تعلقات سے ہے۔ ہر کوئی اسے اسی حوالے سے دیکھ رہا ہے۔ میں نے گزشتہ کالم میں بھی اس جانب توجہ دلائی تھی۔ اس بات کو بار بار دہرانے کی اس لیے ضرورت ہے کہ اس سوچ کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ یہ عام آدمی کے جذبات سے کھیلنا ہے جو تہہ دار معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ سماجی راہنما‘ وہ علمی ہوں یا سیاسی‘ ان کی اخلاقی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عام آدمی کی تعلیم کریں تاکہ وہ ان امور کو درست زاویے سے دیکھنے کا اہل بنے۔ یہاں کوئی امریکہ نواز یا اسرائیل نواز نہیں ہے۔ سب ایران کے خیر خواہ ہیں۔ اس خیر خواہی کا اظہار مگر معروضی حالات کے تحت ہو گا اور اس بات کو سمجھنا ضروری ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved