تحریر : افتخار احمد سندھو تاریخ اشاعت     28-03-2026

ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ اور پاکستان

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد اس وقت عالمی سطح پر بالعموم اور اور مشرقِ وسطیٰ میں بالخصوص صورتحال کافی پیچیدہ نظر آرہی ہے۔ گزشتہ 28 روز سے اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے جاری ہیں اور ایران بھی مقدور بھرجوابی حملے کر رہا ہے اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں‘ اسرائیل میں اہم تنصیبات اور مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر یورپ اور برطانیہ سمیت عالمی قوتیں جنگ کے جلد خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ اس جنگ کے حوالے سے امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کی حمایت حاصل ہے تاہم نیٹو ممالک کی جانب سے امریکہ کو تقریباً کوئی تعاون نہیں ملا۔
دوسری طرف ایران کامتحد اور مستحکم رہنانہ صرف اپنے لیے بلکہ پاکستان کی سالمیت کیلئے بھی ازحد ضروری ہے۔ ایران کی شکست کی صورت میں پاکستان کیلئے بہت سے مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کی اس جنگ کو جتنا جلدی ہوسکے بند بلکہ ختم کرانا چاہیے‘اس کیلئے پاکستان کوچین‘ سعودی عرب اورترکیہ کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر یہ جنگ پاکستان کی کوششوں سے جلد بند ہوجاتی ہے تو یہ پاکستان کیلئے ایک بہت اچھا موقع ہوگا‘ پاکستان کو کھیلنے کیلئے بہت اچھے پتے مل جائیں گے بشرطیکہ وہ یہ پتے اچھے طریقے سے کھیل سکے۔ یہ امر انتہائی خوش آئند ہے کہ پاکستان ایران امریکہ جنگ کے فوری خاتمے کیلئے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے‘ اس کاوش میں اگر پاکستان چین اور سعودی عرب کو بھی اپنا ہمنوا بنالے تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اس سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایران پر بھی جنگ کے جلدخاتمے کیلئے دباؤ بڑھے گا۔ لیکن خدانخواستہ اگر یہ جنگ جلد بند نہ ہوئی تو ایران کے بعد اس سے پاکستان کو بھی بہت سے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ:
ہر لحظہ اس کے پاؤں کی آہٹ پہ کان رکھ
دروازے تک جو آیا ہے اندر بھی آئے گا
اس نازک موقع پر حکومتِ پاکستان خاص طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آگے بڑھ کر کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان سے بہت متاثر ہیں اور ان کی بات کو یقینا نظرانداز نہیں کریں گے۔ وائٹ ہاؤس نے امریکہ ایران جنگ بندی کیلئے پاکستان کی کوششوں کے حوالے سے فیلڈ مارشل کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطے کی تصدیق بھی کی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو تقریباً ایک مہینہ ہو چکا ہے۔ اس جنگ کے بظاہر فوری طور پر خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ جنگ اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک وہ اس بات کو یقینی نہ بنا لے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر آئندہ حملہ نہیں کریں گے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ایران کب تک امریکہ کو روکنے میں کامیاب رہتا ہے۔ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جنگ کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن امریکہ کی نیت میں چونکہ فتور تھا اس لیے اس نے ایران پر حملہ کرکے جارحیت کا ثبوت دیا۔ جنگ سے پہلے امن کا راستہ تلاش کیا جاتا ہے اور ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی طریقے سے جنگ سے بچا جائے۔ ایران نے ایسا کرنے کی ہرممکن کوشش کی لیکن امریکہ اس وقت گلوبل ویلیج بلکہ گلوبل جنگل کا بادشاہ بنا ہوا ہے اور جس ملک پر دل کرتا ہے چڑھ دورتا ہے‘ جس ملک کو چاہتا ہے دنیا اور امریکہ کیلئے خطرہ سمجھ کر دہشت گرد قرار دے دیتا ہے‘ اس وقت کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہے۔ شاعر نے اس حوالے سے بالکل ٹھیک کہا ہے:
کیوں قابلِ نفرت ہے وہ دنیا کے لیے
ایک لمحے کیلئے اس نے یہ سوچا نہیں
جو زمانے بھر کو دہشت گرد کہتا ہے
کوئی دہشت گرد اس کی گرد کو پہنچا نہیں
امریکہ کی نظرِ بد اس وقت خلیج فارس پر اپنا تسلط قائم کرنے پر مرکوز ہے اور وہ ایران کے زیر کنٹرول خلیج فارس کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز پر قبضہ جمانا چاہتا ہے۔ جس کیلئے وہ ایران کو مشترکہ کنٹرول کی پیشکش بھی کر چکا ہے لیکن تاحال وہ اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا۔ میرے دانست میں امریکہ دراصل چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا چاہتا ہے‘ اسی لیے وہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خلاف کارروائی کی آڑ میں اس خطے میں اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے اوراس کے اس مذموم مقصد میں اسرائیل بھی مکمل طور پر امریکہ کے ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی قوم اور حکومت اس جنگ میں اپنے دفاع کیلئے ایک ہو چکے ہیں۔ ایرانی نہ صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں بلکہ خلیجی ممالک میں دشمن کے ٹھکانوں اور اڈوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے بھی لگا رہے ہیں اور انہوں نے اپنے حریف کو بتا دیا ہے کہ ایران اور ایرانی قوم کو تر نوالہ ہرگز نہ سمجھا جائے۔
ایران اس وقت خلیج فارس میں اہم تجارتی گزر گاہ ''آبنائے ہرمز‘‘ کو ایک مؤثر معاشی بلکہ جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے‘ جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ سب کیلئے کھلی ہے لیکن جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے ایرانی منظوری لازمی ہے۔ بھارت اور ترکیہ سمیت کئی ممالک نے ایران سے محفوظ راہداری لی ہے‘ بیمہ کمپنیاں اور بینک اس بحری راستے پر بڑھتے خطرات سے پریشان ہیں۔ ایران ترکیہ کے ایک بحری جہاز کو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے چکا ہے۔ فرانس اور اٹلی اپنے جہازوں کو نکالنے کیلئے ایران سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔ دوسری طرف ایک امریکی مال بردار جہاز آبنائے ہرمز میں جلا دیا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس کی وڈیو ایک چینی مال بردار بحری جہاز سے بنائی گئی جو اس وقت آرام سے آبنائے ہرمز کراس کر رہا تھا۔ امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے چین سے بھیک مانگنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر چین‘ جاپان اور دیگر ملکوں سے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے مدد کی اپیل کی ہے‘ لیکن ابھی تک کسی نے ان کی اس اپیل پر کان نہیں دھرے۔ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے چین کو آگے بڑھ کر جنگ ختم کروانے کیلئے قائدانہ کردار اداکرنا چاہیے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کو بھی اس کارِخیر میں بھرپور حصہ ڈالنا چاہیے۔ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ پاکستان تو یہ جنگ ختم کرانے کیلئے بطور ثالث اپنا حصہ بقدر جثہ ڈال رہا ہے‘ اور فریقین کی شرائط و تجاویز ایک دوسرے کے سامنے رکھی ہیں کیونکہ و ہ سمجھتا ہے:
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی
پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکہ جنگ بندی کیلئے مذاکرات میں پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فریقین کے مابین کشیدگی جاری ہے اور امریکی فوج ایران کے اندر ہزاروں عسکری اہداف کو تباہ کرنے کا دعویٰ کر چکی ہے جبکہ ایران کی جانب سے میزائلوں اور ڈرون حملوں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔ امریکی اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ فوجی دباؤ برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے‘ تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ آیا ایران امریکہ کی جنگ بندی کی سخت شرائط کو قبول کرے گا اور کیا واشنگٹن بھی اپنے وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنا سکے گا؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved