یہاں اگر عقل کی میزان پر معاملات کو پرکھا جائے توکافروں کی تعداد مسلمانوں کو کم دکھلائے جانے کی حکمت تو سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمانوں کی ہمت بندھی رہے‘ وہ میدان میں ڈٹے رہیں لیکن کافروں کو مسلمان کم تعداد میں دکھلانے کی حکمت بظاہر سمجھ میں نہیں آتی‘ بلکہ عقلی اعتبار سے تو چاہیے تھا کہ مسلمان کفار کو بھاری تعداد میں دکھلائے جاتے تاکہ ان پر مسلمانوں کی ہیبت‘ رعب اور دبدبہ طاری ہو جاتا اور وہ میدان چھوڑ کر بھاگ جاتے۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اُس کی حکمت نے چاہا کہ کافروں کو مسلمان کم تعداد میں دکھائے جائیں تاکہ وہ میدان میں جمے رہیں‘ ان کے میدان چھوڑ کر بھاگنے کی نوبت نہ آئے بلکہ ان کا مسلمانوں سے مقابلہ ہو اور جب افرادی قوت اور مادی وسائل کے اعتبار سے انتہائی قلیل ہونے کے باوجود مسلمان کفار پر فتح پائیں گے تو مسلمانوں کی ہیبت‘ قوت‘ شوکت‘ دبدبہ اور شَجاعت کی دھاک پورے عالمِ عرب پر بیٹھ جائے گی اور ایسا ہی ہوا۔ پس اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا پورا ہوا اور کفار پر مسلمانوں کے فیصلہ کن غلبے کا منظر اہلِ زمین نے بھی دیکھا اور چشمِ فلک نے بھی اس کا نظارہ کیا۔ پس اسی حکمت کی بنا پر قرآنِ کریم نے غزوۂ بدر کو ''یومُ الفرقان‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
تقدیرِ الٰہی کی تکمیل کیلئے ایک سبب یہ بھی بنا کہ شیطان نے کافروں کو جوش دلایا اور یقینی فتح کی نوید سنائی‘ اس کے سبب وہ میدان میں ڈٹے رہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ''اور (یاد کرو) جب شیطان نے کافروں کے اعمال کو ان کیلئے خوشنما بنا دیا اور کہا: آج لوگوں میں سے تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا اور بیشک میں تمہیں پناہ دینے والا ہوں‘ پھر جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہو گئے تو وہ الٹے پائوں بھاگا اور کہنے لگا: میں تم سے بری الذمہ ہوں اور میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ پاتے‘ بیشک میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے‘‘ (الانفال: 48)۔ یعنی شیطان کفار کو شہ دے رہا تھا‘ انہیں ڈٹے رہنے کی ترغیب اور فتح کی بشارت دے رہا تھا‘ لیکن جب اس نے فرشتوں کے لشکر کو دیکھا توکفار کو بے سہارا چھوڑا اور دم دبا کر بھاگ گیا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور اللہ نے معرکۂ بدر میں تمہاری مدد فرمائی حالانکہ تم (اُس وقت) بہت کمزور تھے‘ پس اللہ سے ڈرتے رہا کرو تاکہ تم شکر گزار بن جائو‘ یاد کیجیے! جب آپ مؤمنوں سے کہہ رہے تھے: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب آسمان سے اتارے ہوئے تین ہزار فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد فرمائے‘ ہاں! کیوں نہیں‘ اگر تم ثابت قدم رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو جس لمحے دشمن تم پر چڑھائی کریں گے‘ اُسی لمحے اللہ تین ہزار کے بجائے پانچ ہزار نشان زدہ فرشتوں سے تمہاری مدد فرمائے گا‘‘ (آل عمران: 123 تا 125)۔ ان آیات مبارکہ میں مجاہدین کی نصرت کیلئے فرشتوں کے اتارے جانے کا ذکر ہے‘ لیکن اس کے بعد اللہ نے فرمایا: ''اور اللہ نے یہ امداد محض تم کو خوشخبری دینے کیلئے اور تمہارے دلوں کو اطمینان بخشنے کیلئے نازل فرمائی ہے اور درحقیقت مدد تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے جو بہت غالب بڑی حکمت والا ہے‘‘ (آل عمران: 126)۔ بعض مفسرین کرام نے بعض روایات کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ فرشتوں نے میدانِ بدر میں عملاً مجاہدین کی مدد کی‘ لیکن آیت: 126 سے عیاں ہوتا ہے کہ یہ نصرت مسلمانوں کی طمانیتِ قلب‘ حوصلہ مندی اور ہمت بندھانے کیلئے تھی‘ میدانِ جنگ میں فتح کا سہرا مجاہدین کے سر ہی بندھتا ہے‘ کیونکہ مقتولینِ بدر کی تعداد اور اُن کے قاتلوں کے نام بھی معلوم ہیں۔ پس اگر اس فتح کو ملائکہ کی طرف منسوب کر دیا جائے تو تاریخ میں مجاہدینِ بدر اور شہدائے بدرکو جو مقام ملا ہے‘ وہ اس کے اہل قرار نہ پاتے۔
علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے تفسیر ''تبیان الفرقان‘ ج: 1‘ ص: 753 تا 765‘‘ میں آل عمران: 126 کے تحت اس مسئلے پر تفصیلی بحث کی ہے کہ آیا فرشتوں نے غزوۂ بدر میں عملاً قتال میں حصہ لیا تھا یا نہیں۔ جن مفسرین کرام نے اس کا جواب اثبات میں دیا ہے‘ ان میں امام ا بن جریر طبری نے ''جامع البیان‘‘ میں‘ علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی نے ''اَلنُّکَتْ وَالْعُیُوْن‘‘ میں‘ امام حسین بن منصور بغوی شافعی نے ''مَعَالِمُ التَّنْزِیْل‘‘ میں‘ علامہ عبدالحق بن عطیہ الاندلسی نے ''اَلْمُحَرَّرُ الْوَجِیْز فِی کِتَابِ الْعَزِیْز‘‘ میں‘ امام علی بن جوزی حنبلی نے ''زَادُ الْمَسِیْر فِی عِلْمِ التَّفْسِیْر‘‘ میں‘ امام رازی شافعی نے ''مَفَاتِیْحُ الْغَیْب‘‘ میں‘ شیعہ مفسر شیخ نظام الدین الحسن بن محمد الحسین القمی نے ''غَرَائِبُ الْقُرآن ورَغَائِبُ الْفُرْقَان‘‘ میں‘ علامہ محمد بن یوسف ابوحیان نے ''اَلْبَحْرُ الْمُحِیْط‘‘ میں‘ علامہ حافظ ابن کثیر دمشقی نے ''تفسیر القرآن العظیم‘‘ میں‘ علامہ عمر بن علی دمشقی حنبلی نے ''اَللُّبَاب فِیْ عُلُوْمِ الْکِتَاب‘‘ میں‘ قاضی مجیر الدین محمد بن العلیمی مقدسی حنبلی ''فتح الرحمن فی تفسیر القرآن‘‘ میں‘ قاضی محمد ثناء اللہ عثمانی حنفی مظہری نے ''تفسیر مظہری‘‘ میں‘ شیخ محمد بن علی شوکانی نے ''فتح القدیر‘‘ میں‘ علامہ سید محمود آلوسی حنفی نے ''روح المعانی‘‘ میں‘ علامہ سید محمد نعیم الدین مراد آبادی نے تفسیر ''خزائن العرفان‘‘ میں‘ علامہ شبیر احمد عثمانی نے ''حاشیہ عثمانی‘‘ میں آل عمران: 126 کے تحت فرشتوں کے عملاً جنگ میں حصہ لینے کا ذکر کیا ہے۔
اس کے برعکس اسی آیۂ مبارکہ کے تحت علامہ ابوبکر الاصم معتزلی نے ''تفسیر ابوبکر الاصم‘‘ میں‘ امام ابومنصور ماتریدی حنفی نے ''تاویلات اہل السنہ‘‘ میں‘ امام ابو اللیث سمر قندی نے '' تفسیر السمرقندی‘‘ میں‘ علامہ علی بن محمد بن حبیب الماوردی الشافعی نے اپنے دوسرے قول میں‘ مشہور شیعہ عالم شیخ الطائفہ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی نے ''التبیان فی تفسیر القرآن‘‘ میں‘ علامہ محمود بن عمر الزمخشری نے ''تفسیر الکشاف‘‘ میں‘ علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد الانصاری قرطبی نے ''الجامع لاحکام القرآن‘‘ میں‘ علامہ عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی حنفی نے ''مدارک التنزیل‘‘ میں‘ علامہ علاء الدین علی بن محمد الخازن نے ''تفسیر الخازن‘‘ میں‘ علامہ محمد بن مصلح الدین مصطفی القوجوی الحنفی نے ''حاشیہ شیخ زادہ علی تفسیر القاضی البیضاوی‘‘ میں‘ علامہ قاضی ابو سعود محمد بن محمد بن مصطفی العمادی نے ''تفسیر ابو سعود‘‘ میں‘ علامہ اسماعیل حقی حنفی نے ''روح البیان‘‘ میں‘ مشہور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن خان بھوپالی نے ''فتح البیان فی مقاصد القرآن‘‘ میں‘ سرسید احمد خاں نے ''تفسیر القرآن وھو الھدیٰ والفرقان‘‘ میں‘ علامہ اشرف علی تھانوی نے ''بیان القرآن‘‘ میں‘ علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی نے ''حاشیہ نور العرفان بر کنز الایمان‘‘ میں‘ علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی نے ''سید التفاسیر المعروف بہ تفسیر اشرفی‘‘ میں‘ مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنے آسان ترجمہ قرآن میں لکھا ہے: '' فرشتے محض مسلمانوں کو خوشخبری دینے‘ حوصلہ بڑھانے اور طمانیتِ قلب کیلئے آئے تھے‘ انہوں نے عملاً قتال میں حصہ نہیں لیا‘‘۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے ''البیان‘‘ میں الانفال: 12 کے تحت جو کچھ لکھا ہے‘ اس سے بھی یہی مستفاد ہوتا ہے کہ وہ بھی غزوۂ بدر میں فرشتوں کے عملاً قتال میں شریک ہونے کے قائل نہیں ہیں۔
علامہ غلام رسول سعیدی نے دونوں طرف کے تفصیلی حوالہ جات دے کر اپنا موقف حرفِ آخر کے طور پر ان کلمات میں لکھا ہے: ''الحمدللہ رب العالمین! اسلام کے مختلف مکاتب فکر کے معتد بِہٖ مفسرین کی تصریحات کے مطابق آفتاب سے زیادہ روشن ہو گیا کہ غزوۂ بدر میں فرشتوں نے کفار کے خلاف قتال نہیں کیا تھا اور بعض لوگوں نے الانفال: 12سے یہ شبہ پیش کیا تھا کہ فرشتوں کو کفار کی گردنوں پر ضرب لگانے کا حکم فرمایا تھا‘ اس کا جواب بھی 23 مفسرین کی تصریحات سے واضح ہو گیا کہ یہ حکم فرشتوں کو نہیں دیا گیا تھا‘ بلکہ مومنوں یعنی صحابۂ کرام کو دیا گیا تھا اور ہم جو فخر سے کہتے ہیں کہ 313 صحابہ نے ایک ہزار کفار کو شکست دی‘ یہ تب ہی صحیح ہوگا‘ جب صرف صحابہ نے کفار سے قتال کیا ہو اور اگر ان کے ساتھ فرشتے بھی اس قتال میں شریک ہوں تو پھر صرف 313 صحابہ کا کفار کو شکست دینا کس طرح صحیح ہوگا‘ نیز اگر فرشتے بھی صحابہ کے ساتھ قتال میں شریک تھے تو پھر اس میں صحابہ کی کیا فضیلت رہی؟‘‘۔ (تبیان الفرقان‘ ج: 1‘ ص: 765) (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved