ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ کب اور کس طرح ختم ہو گی‘اور دنیا کو کیا اور کس طرح تبدیل کر دے گی۔ ہر جنگ کے نتیجے میں تبدیلی آتی ہے‘اس جنگ کے نتیجے میں بھی آئے گی‘دنیا کی(بزعم خود) سب سے بڑی طاقت نے اس کا آغاز کیا تھا‘ اس لیے تبدیلی کا نشانہ اُس کو بھی بننا پڑے گا۔اس میں کیا کچھ بدلے گا‘اس بارے میں مختلف مبصرین اور تجزیہ کاروں کے اپنے اپنے تبصرے اور جائزے ہیں لیکن یہ سوچ وسیع تر ہے کہ رعب یا بھرم اس طرح کھلے گا کہ آئینہ دیکھنا دشوار ہو جائے گا ؎
بھرم کھل جائے ظالم تیری قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پُر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
یہ پیچ و خم یوں نکل رہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ جو سمجھتے تھے کہ وہ ایران کا وینزویلا بنا دیں گے‘ چند ہی روز میں اس کے وسیع ذخائر بھی ان کے قبضۂ قدرت میں ہوں گے‘وینزویلا اور ایران کے تیل کے ذریعے امریکہ کی دولت اور حشمت میں اضافہ کر گزریں گے‘ وہ اب جنگ سے نجات حاصل کرنے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ہر روز اعلان کرتے ہیں کہ ایران ہم سے ڈیل کرنا چاہتا ہے لیکن ہم اپنی شرائط ہی پر معاملہ کریں گے‘ہر روز انہیں جواب ملتا ہے کہ ایران جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہے۔ جب تک مستقل امن کی ضمانت نہیں ملے گی‘وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ صدر ٹرمپ اپنے حریفوں تو کیا حلیفوں کو بھی اس جنگ کے جواز پر قائل نہیں کر پائے۔کبھی کہتے ہیں ایران مشرقِ وسطیٰ پر قبضہ کرنا چاہتا تھا‘ کبھی ارشاد ہوتا ہے وہ ایٹم بم بنا لیتا تو اسرائیل کو تباہ کر دیتا۔ اُنہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ کل انہوں نے کیا کہا تھا اور صبح کیا ارشاد فرمایا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود کلامی کا شکار ہیں۔ اپنے آپ ہی سے اپنی بات منوانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اپنے آپ کو یقین نہیں دلا پا رہے کہ وہ دروغ گوئی سے کام نہیں لے رہے۔ مقبولیت ہے کہ زمین بوس ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی رائے عامہ دلبرداشتہ ہے۔ اسرائیل کے اندر پھوٹ پڑ چکی ہے‘ وزیراعظم نیتن یاہو اپنے انٹیلی جنس چیف سے اُلجھ رہے ہیں کہ تمہاری غلط اندازی نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔انٹیلی جنس چیف اُنہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ امریکہ میں نیتن یاہو کو کوسا جا رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اپنے صدر کی منہ زوری کا رونا رو چکی ہے۔ ایران جنگ کا پہلا مرحلہ جیت گیا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے باوجود اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور حملہ آوروں کے دانت کھٹے کیے ہیں۔صدر ٹرمپ‘ نیتن یاہو اور ان کے حواری ایرانی قوم کو ''آزادی‘‘ کی جو نوید سنا رہے تھے اور توقع لگائے بیٹھے تھے کہ ایرانی عوام لاکھوں کی تعداد میں گھروں سے باہر نکلیں گے اور اقتدار کے ایوانوں پر ٹوٹ پڑیں گے، ''رجیم چینج‘‘ کا خواب پورا ہو گا اور دنیا بھر میں امریکی اور اسرائیلی دھاک بیٹھ جائے گی۔ وہ یکسر مختلف مناظر دیکھ کر سر پکڑے بیٹھے ہیں۔ ایرانی قوم‘ قیادت اور فوج سب ایک ہیں۔ دس لاکھ افراد فوجی بھرتی کیلئے اپنے آپ کو پیش کر چکے ہیں۔ ایران کے ڈرون اور میزائل دور دور تک مار کر رہے ہیں۔ اسرائیل کی نیندیں اُڑ رہی ہیں اور امریکہ میں ہوائیاں اُڑ رہی ہیں۔ امریکہ کے حلیف خلیجی ممالک لرزہ براندام ہیں۔ وہ نہ تیل برآمد کر پا رہے ہیں نہ گیس۔ کاروبارِ زندگی مفلوج ہے۔ ہوٹل اور ہوائی اڈے ویران ہیں‘ سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی حفاظت کیلئے اربوں ڈالر لگا کر جو امریکی اڈے قائم کرائے تھے وہ سوہانِ روح بن چکے ہیں۔ ایران کے ڈرون اور میزائل ان کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز پر پاسدارانِ انقلاب قابض ہیں۔ ان کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز وہاں سے گزر نہیں سکتا۔ عالمی تجارت کو شدید دھچکا پہنچ چکا ہے۔ ایران نے صدیوں میں بھی یہ خواب نہیں دیکھا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو اپنے نام کر لے گا۔ امریکہ بہادر نے سہولت کاری کرتے ہوئے یہ گزر گاہ اُس کی نذر کر دی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی پامالی کرنے والے ایران کی اس جسارت پر برافروختہ تو ہیں لیکن کچھ کر نہیں پا رہے۔ ایران مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ یہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ''ٹول‘‘ لگائے گا۔ ایسا ہو گیا تو اربوں ڈالر کما کر وہ اپنے نقصانات پورے کر سکے گا۔ ابھی تک جنگ کا واضح نتیجہ یہی سامنے آیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی جھولی میں آن گری ہے۔
جنگ لمبی ہو گی تو کیا ہو گا‘ کس کو کتنا نقصان پہنچے گا‘ خلیجی ممالک کی کیا درگت بنے گی‘ایران کا چہرہ کیسے بدلے گا‘ امریکہ بہادر اور اسرائیل پر کیا گزرے گی‘ اس بارے میں مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں۔ جوتشی اور ستارہ شناس اپنی اپنی ہانک رہے ہیں۔ کسی کا کچھ بھی نقصان ہو سکتا ہے‘ صدر ٹرمپ تلملا کر کچھ بھی کر سکتے ہیں‘ان کی بدمست اَنا کوئی بھی بھینٹ مانگ سکتی ہے۔ اس لیے جنگ کو رکنا چاہیے۔ پاکستان برادر ممالک ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ فریقین کی طرف سے ان کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور حوصلہ افزائی بھی۔ ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف کا ٹویٹ ری ٹویٹ کر رہے ہیں تو ایران بھی اُمید بھری نگاہوں سے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ امریکہ نے پندرہ نکات تہران بھجوائے ہیں تو تہران نے اپنے پانچ نکتے جواباً ارسال کر دیے ہیں۔ سعودی عرب‘ مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مرجع خلائق ہیں۔ انہیں تحسین اور تائید کی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی قوم اپنی مشکلات اور مصائب بھول کر جنگ بندی کی تمنا میں سرشار ہے۔ پاکستانی معیشت سخت دبائو میں ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ ابھی تک حکومتی خزانے پر ڈالا جا رہا ہے۔ اربوں ڈالر عوام سے وصول نہیں کیے جا رہے۔ جنگ طول پکڑے گی تو یہ بوجھ ناقابلِ برداشت ہو جائے گا۔ ابھی تک سعودی عرب اور ایران کے درمیان تلخی بے قابو نہیں ہو پائی۔ دونوں ملک ایک دوسرے سے اُلجھنے کے نقصانات سے آگاہ ہیں۔ پاکستان پُل صراط پر چلتے ہوئے امن کا متلاشی ہے‘پاکستانی رہنما اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں۔ پاکستانی قوم یہ توقع رکھتی ہے کہ سرحدوں سے باہر امن کی تلاش کرنے والے سرحدوں کے اندر بھی امن کی اہمیت کا ادراک کریں۔ جنگ بندی کا دائرہ وسیع کریں۔ ایران‘امریکہ‘سعودی عرب اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ اہلِ پاکستان کا بھی حق ہے کہ انہیں سکون میسر آئے۔ وہ ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کار قائم ہوں۔ مشکلات و مصائب کا سامنا کرنے کے لیے سب یک سو اور یک جان ہوں۔ ذاتی‘ جماعتی‘ سیاسی یا گروہی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر‘ ایسے سہولت کار یا ثالث تلاش کیے جائیں جو اپنے روٹھے ہوئوں کو منا سکیں۔ ایک دوسرے سے اُلجھنے کا جو مرض لاحق ہو چکا ہے‘ اس کا علاج کریں۔ آج کے مسند نشین گزرے کل قید و بند کی صعوبتیں اُٹھا چکے‘آج جو پس ِ دیوارِ زنداں ہیں‘ کل وہ اقتدار پر فائز ہو سکتے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کو سبق سکھانے کے بجائے تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ جنگ بندی ہر محاذ پر لازم ہے۔ سرحدوں سے باہر بھی‘ سرحدوں کے اندر بھی۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved