تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     29-03-2026

غرور کا ایک دور ختم ہو رہا ہے

ویتنام کی جنگ کئی سال جاری رہی اور گو اس میں امریکہ کی بہت سبکی ہوئی لیکن اس پسپائی کا اثر محدود تھا۔ امریکہ ہار گیا لیکن باقی چیزیں چلتی رہیں۔ ایران جنگ میں امریکہ کو جو سبکی اٹھانی پڑ رہی ہے‘ اس کے اثرات وسیع تر ہوں گے کیونکہ سارے تیل بردار خطے میں امریکہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ تحفظ کے سارے مفروضے برباد ہوئے۔ جی سی سی ممالک جو اَب تک امریکہ پر انحصار کرتے تھے انہوں نے ایرانی میزائلوں کے سامنے امریکی تحفظ کی حقیقت دیکھ لی۔
سوائے جن کی آنکھیں بند ہیں باقی دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس جنگ میں امریکہ کو شکست ہو رہی ہے۔ امریکہ اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ نہ امریکہ بیان کر سکا ہے کہ آنکھیں بند کر کے جو اس جنگ میں کودا‘ کیا مقاصد حاصل کرنا مقصود تھے؟ امریکہ میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ کچھ عذر تو پیش کیا جائے۔ پہلے روز امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ جنگ کا مقصد رجیم چینج ہے۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کا مقصد بھی بیان کیا گیا‘ وہی پروگرام جس کے بارے میں پچھلے سال جون میں کہا تھا کہ بی ٹو بمبار جہازوں نے ایران کی جوہری صلاحیت تباہ کر دی ہے۔ اب جو ایران نے آبنائے ہرمز کو بیشتر جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے تو امریکہ ان ترلوں پر آ گیا ہے کہ کسی طریقے سے آبنائے ہرمز کھل جائے تاکہ جو نقصان گلوبل معیشت کو اٹھانا پڑ رہا ہے وہ ختم ہو۔ یعنی حملوں کے وقت مقاصد کیا بیان کیے جا رہے تھے اور ایک ماہ کی جنگ کے بعد بات کہاں تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی صدر کی باتیں سُن کر تو لگتا ہے کہ واویلیاں مار رہے ہیں۔ دو تین روز پہلے کی کابینہ میٹنگ کا حال ملاحظہ ہو جہاں میڈیا کو بھی بلایا گیا تھا۔ امریکی صدر بولے جا رہے تھے لیکن باتوں میں کوئی ربط نہیں تھا۔ کبھی ایک چیز چھیڑ رہے ہیں اور اسی لمحے کہیں اور پہنچ رہے ہیں۔ اور بیشتر وزیروں اور مشیروں کا حال وہ تھا جو بھانڈوں کی محفل میں عموماً دیکھا جاتا ہے۔ سنجیدہ ماحول لگتا ہی نہیں تھا۔ یہ ہے عالمی سپر پاور کا حال جس نے بغیر سوچے سمجھے اس جنگ میں چھلانگ لگا دی اور وہ بھی اپنی منشا پر نہیں بلکہ یہ اسرائیل کا وزیراعظم تھا جس نے کہانیاں سنا سنا کر امریکی صدر کو اس جنگ میں دھکیل دیا اور جہاں اسرائیل کا مقصد پورا ہو رہا ہے کہ مسلم دنیا میں تباہی پھیلی ہوئی ہے‘ امریکی سرکار میں احساس پیدا ہو چکا ہے کہ ہم غلطی کیا غلطان کر بیٹھے۔ لیکن امریکہ کے سامنے مشکل اب یہ ہے کہ نکلنے کا راستہ اسے کوئی نہیں مل رہا۔
پندرہ نکات جو امریکہ نے پاکستان کو پکڑائے ہیں اور جو ہم نے ایران کو پہنچا دیے ایسے لایعنی قسم کے ہیں کہ امریکی عقل پر حیرانی ہوتی ہے۔ یہ جو ایک ماہ کی بمباری ہوئی دنیا کی تاریخ میں سخت ترین بمباری ہے۔ ماسوائے اس کے کہ جوہری ہتھیار استعمال ہوں اس سے زیادہ شدید بمباری ہو نہیں سکتی۔ ایران نے سب کچھ برداشت کرکے جوابی حملے ایسے کیے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ دونوں کے ہوش ٹھکانے آ گئے ہیں۔ خطے کے عرب ممالک میں امریکہ کے 13ملٹری اڈے ہیں اور ان پر ایرانی نشانے ایسے لگے کہ 13کے 13ناکارہ ہو گئے ہیں اور وہاں مقیم امریکی فوجیوں کے قیام کا بندوبست ہوٹلوں میں ہو رہا ہے۔ ان ہوٹلوں پر بھی ایرانی ڈرون اور میزائلوں کے حملے ہوئے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے تو یہ سمجھا تھا کہ پہلے حملے میں ایرانی قیادت پر کاری وار ہوا اور مزید دو تین دن کی بمباری کے نتیجے میں اسلامی ری پبلک کا سارا انتظام نیست و نابود ہو جائے گا۔ ایسا کیا ہونا تھا اسرائیل اور امریکہ کو لینے کے دینے پڑ رہے ہیں‘ لیکن پھر بھی جو پندرہ نکات امریکہ نے دیے ہیں انہیں پڑھ کر تو یہ لگتا ہے کہ فاتح امریکہ ہے اور ایران مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔ حالانکہ بات بالکل الٹ ہے‘ امریکہ نکلنے کی صورت ڈھونڈ رہا ہے جو اسے آسانی سے مل نہیں رہی۔
یہ وہ امریکہ ہے جو سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد دنیا کی واحد سپر پاور رہ گیا تھا اور جو سمجھتا تھا کہ دنیا میں حقیقت وہ ہو گی جو ہم چاہیں گے۔ صدر جارج بش کے مشیر کارل روو (Karl Rove) کے مشہور الفاظ ہیں کہ دنیا میں ہم جو بھی کریں گے وہی سب سے بڑی حقیقت ہو گی۔ اور اب تک امریکہ اپنی مرضی کرتا آیا ہے۔ جھوٹ پر مبنی عراق پر حملہ کرکے اس ملک کو تباہ کیا۔ لیبیا میں کرنل قذافی کے ساتھ کیا ہوا۔ شام کی تباہی ہوئی‘ ان سب واقعات سے پہلے افغانستان پر کیا گیا حملہ۔ غزہ میں قتلِ عام اور حال ہی میں جو دنیا نے وینزویلا میں دیکھا کہ امریکی افواج کا حملہ اور وہاں کے صدر کو اغوا کرکے امریکہ لے جانا۔ وینزویلا کا ایڈونچر ہو رہا تھا تو صدر ٹرمپ کیوبا کے بارے میں بول پڑے کہ اس کے ساتھ جو چاہوں گا وہی ہوگا۔ یہ بخار سر چڑھا ہوا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قسمت ہاری اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی باتوں میں آ کر ایران پر حملے کی تان لی۔
متوقع حملے سے پہلے ایرانیوں نے لاکھ کوشش کی کہ حملے کا خطرہ ٹل جائے۔ وہ اس بات پر بھی راضی ہو گئے کہ جس یورینیم کی افزودگی وہ کر چکے ہیں اس کی طاقت وہ ختم کر دیں گے یعنی افزودگی صفر فیصد پر پہنچ جائے گی۔ صرف ایک بات پر اڑے رہے کہ افزودگی کا جو جائز حق ہے اس سے وہ دستبردار نہیں ہوں گے۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی جو امریکہ اور ایران کے بلاواسطہ مذاکرات کے سہولت کار تھے‘ نے یہ سب باتیں بیان کر دی ہیں کہ ایرانی اس حد تک تیار ہو گئے تھے۔ ہفت روزہ اکانومسٹ میں البوسعیدی نے اس موضوع پر مضمون بھی لکھا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ لگتا یوں ہے کہ امریکی اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔ جس کا مطلب صاف الفاظ میں یہ ہے کہ امریکی فارن پالیسی پر کنٹرول کسی اورکا لگتا ہے۔ اشارہ صاف ظاہرہے اسرائیل کی طرف ہے۔
دیگر سارے بلنڈر امریکہ کر چکا ہے بس ایک رہ گیا ہے کہ خلیج کی طرف اپنے فوجی دستے بھیجے جو زمینی کارروائیاں شروع کریں۔ جاپان میں تعینات امریکی دستے خلیج کی طرف آ رہے ہیں۔ 82ایئربورن ڈویژن کا ایک بریگیڈ امریکہ سے خلیج کی طرف آ رہا ہے۔ جزیرہ خارگ‘ جس پر بڑی ایرانی تیل تنصیبات موجود ہیں‘ کی باتیں ہو رہی ہیں کہ وہاں کے قبضے کا سوچا جا رہا ہے۔ خلیج میں کچھ اور جزیرے ہیں ان کا ذکر بھی سنا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز پر زمینی حملے کی باتیں۔ امریکی سبکی جو اَب تک ہوئی ہے بس اس میں یہی کسر باقی رہ گئی ہے‘ اور اگر امریکہ واقعی زمینی حملے کی طرف جاتا ہے تو سمجھ لیا جائے کہ تاریخ کے اس مرحلے میں امریکی عقل سے بالکل فارغ ہو گئے ہیں۔
جہاں زمینی حملے کی باتیں ہو رہی ہیں امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو نے دو روز پہلے پیرس میں کہا کہ زمین پر امریکی فوج کی ضرورت نہ پڑے گی کیونکہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران پر حملے کے خلاف سمجھے جاتے تھے۔ اب جو امریکہ مذاکرات کے لیے بے صبر ہوتا جا رہا ہے اشارے یہی آ رہے ہیں کہ امریکی سائیڈ سے مذاکرات کی قیادت وینس کریں گے۔ بلنڈر تو ہو چکے‘ دیکھنا اب یہ ہے کہ عقل کی بات رہ گئی ہے تو کہاں سے آتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved