مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے ختم ہونے کے آثار نظر آنا شروع ہو رہے ہیں اور یہ بھی واضح ہو چکا ہے کہ ایران نے کمزوری نہیں دکھائی بلکہ اس کے بھرپور جوابی واروں کی وجہ سے حملہ آور جھنجلاہٹ کا شکار نظر آتے ہیں کہ ایران اتنا سخت جان کیسے ہو گیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے متحدہ اور مشترکہ حملوں کو نہ صرف جھیل رہا ہے بلکہ تسلسل کے ساتھ جوابی حملے بھی کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے جس تیزی اور جس شدت کے ساتھ جنگ شروع کی تھی‘ اب اس سے زیادہ شدت اور تیزی سے اس سے نکلنے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔ وجہ تو آپ جانتے ہی ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے جو بیانات تسلسل کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں اگر ان کو ڈی کوڈ کیا جائے تو یہی پیغام نکلتا ہے کہ جنگ کے نتائج امریکی صدر کی توقع کے مطابق نہیں نکلے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اب جلد از جلد جنگ سے باہر آنا چاہتے ہیں۔ امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے بتایا ہے کہ امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ جنگ آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور انہوں نے یعنی صدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ طویل نہیں کرنا چاہتے۔ اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے امسال 14 اور 15 مئی کو دورۂ چین کی اطلاع اس مفروضے کی بنیاد پر جاری کی ہے کہ جنگ اس سے پہلے ختم ہو جائے گی۔ یہ ایک اچھا مفروضہ ہے لیکن جنگ کے حوالے سے جو نئے نئے تناظر سامنے آ رہے ہیں‘ ان کو پیشِ نظر رکھ کر زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صدر ٹرمپ کی یہ خواہش پوری ہو سکے گی اور جنگ اگلے چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ ٹرمپ تو کمبل کو چھوڑنا چاہیں لیکن اب کمبل انہیں چھوڑنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اس اندیشے یا امکان کا اظہار میں اپنے ایک سابق کالم میں کر چکا ہوں۔ ہاں جنگ کی اس سرنگ کے آخری سرے پر اگر کوئی روشنی نظر آتی ہے تو وہ مذاکرات کی ہی ہے۔
اسرائیل کا ایران نے پہلے ہی وہ حال کر دیا ہے کہ اب شاید مزید سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا۔ اسرائیل میں مایوسی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ کے نیتن یاہو حکومت پر لگائے گئے اس الزام سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فورسز کی کمی کی وجہ سے اسرائیل سلامتی کے بحران کی طرف جا رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل ایال زمیر نے سکیورٹی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت 10بڑے خطرات یعنی ریڈ فلیگز کا سامنا کر رہی ہے۔ تیسری جانب شمالی اسرائیل کے شہر مارگالیوت کے میئر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا کہ حزب اللہ کے حملوں سے ان کے شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ انہوں نے تقریباً روتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہمیں حزب اللہ کے نشانے پر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں آگے کیا ہو سکتا ہے میرے خیال اس کا اب کچھ کچھ اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ ہر جنگ کا انجام یا اختتام ڈائیلاگ پر ہوتا ہے‘ یہ جنگ بھی اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے اور متحارب ممالک میں مذاکرات کا آغاز ہوتا محسوس ہونے لگا ہے جس میں پاکستان اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکہ اور ایران‘ دونوں نے مذاکرات کے لیے اپنی اپنی شرائط پیش کر دی ہیں اور پوری دنیا کی نظریں اس وقت انہی دو ممالک کی انتظامیہ پر ہیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی مذاکرات کاروں کا رویہ غیر معمولی اور عجیب ہے‘ ایران نے جلد سنجیدگی نہ دکھائی تو واپسی ممکن نہیں ہو گی۔ کوئی دنیا کی واحد سپر پاور کے سربراہ سے یہ پوچھے کہ بھئی جب جنگ شروع کی تھی تو اس وقت امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات ہی ہو رہے تھے۔ بات چیت کے اس سلسلے کو سبوتاژ کر کے جنگ کا راستہ کس نے اختیار کیا تھا؟
ایک اور سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اب ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا 8 مئی 2018ء کو انہوں نے خود ایران کے ساتھ طے پا چکے جوہری معاہدے(The Joint Comprehensive Plan of Action ) سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونے کا اعلان نہیں کیا تھا‘ جسے اوباما معاہدہ بھی کہا جاتا ہے‘ کیونکہ یہ صدر اوباما کے دور میں طے پایا تھا؟ صدر ٹرمپ نے یہ معاہدہ ختم کرنے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ یہ خوفناک اور یک طرفہ ہے اور یہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں ناکام رہا ہے اور اس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے کردار کا احاطہ نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ نے معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران پر اقتصادی پابندیاں دوبارہ بحال کر دیں‘ جس کا مقصد ایران پر زیادہ دباؤ ڈالنا تھا۔ ایران نے اس اقدام کو بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا تھا کہ وہ دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر معاہدے کو بچانے کی کوشش کرے گا‘ لیکن بعد میں ایران نے بھی معاہدے کی حدود کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور یہی وہ معاملہ ہے جس پر ٹرمپ سیخ پا نظر آتے ہیں اور پھر انہوں نے ایران پر حملہ کر دیا۔ یعنی انہوں نے ایک قابو میں آ چکے شیر کو خود ہی معاہدے کے بندھنوں سے آزاد کیا اور پھر جب وہ آزادی سے گھومنے پھرنے لگا تو یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ یہ آزاد کیوں ہے۔ واہ کیا منطق ہے۔ امریکہ کے اندر سے کوئی تو ٹرمپ صاحب سے یہ پوچھے کہ جناب آپ کی اس دو عملی کو کیا نام دیا جائے؟
اب بھی حالت یہ ہے کہ ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات کی باتیں کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران کے اس علاقے میں اپنی فوجیں زمین پر اتارنے کی تیاریاں بھی کر رہے ہیں جہاں ایران کا سب سے زیادہ تیل پیدا ہوتا ہے یا ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ ایران اس صورتحال سے بے خبر نہیں۔ اگر امریکہ نے ایرانی سرزمین پر اپنی فوجیں اتارنے کی کوشش کی تو اسے حیران کن ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ اپنے تیل کے ذخائر کو بچانے کے لیے ایران آخری حد تک جانے کی کوشش کرے گا۔ سننے میں آ رہا ہے کہ اس سلسلے میں ایرانی قیادت نے تیاریاں شروع کر دی ہیں اور اپنی دس لاکھ افواج کو ایسی پوزیشنوں پر تعینات کیا ہے کہ امریکی فوجیوں کے ایرانی سرزمین پر اترتے ہی ممکن ہے ان کا تورا بورا بنا دیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو ظاہر ہے کہ مذاکرات کی طرف بڑھتے ہوئے قدم ایک بار پھر رک جائیں گے اور جنگ کی شدت مزید بڑھ جائے گی۔
میرے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔Sanity should prevail اور اس کا تقاضا یہی ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھانا ہے اور کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے تو پھر ایک دوسرے پر حملوں اور حملوں کی دھمکیوں سے اجتناب کرنا ہو گا۔ جنگ جاری رہے اور مذاکرات کامیاب ہوں‘ ایسا کبھی ممکن نہیں ہوتا‘ نہ ہی اب ہو گا۔ آنے والے دنوں میں حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں‘ اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ عالمی لیڈر کس قدر Sanity کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved