جب قومی سطح پر بڑوں کو چھوٹا اور چھوٹوں کر بڑا کر دیا جائے تو معاشرے زوال کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔
سیاست کو دیکھ لیجیے۔ ایک منظم مہم کے ساتھ‘ فطری سیاستدانوں پر سیاست کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ سیاست کی نرسری بنائی اور وہاں اپنی پسند کے پودے اگائے جاتے ہیں۔ پھر انہیں چمنِ سیاست میں لگا دیا جاتا ہے۔ ان کے رنگ وبو کے چرچے کیے جاتے ہیں۔ تشہیری مہم سے عوام کو ان کی جانب متوجہ کیا جاتا ہے۔ پہلے سے کھڑے تناور درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے یا ان کی نشوونما کے امکانات ختم کر دیے جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ سیاست پر نرسری میں تیار پودوں کا غلبہ ہو جاتا ہے۔ یوں سیاست پست فکر و کوتاہ بین طبقے کے حوالے ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں بارہا یہی ہوا۔ جمہوریت کو برا بھلا کہہ کر انتخاب کا حق عوام سے خواص کو منتقل کر دیا گیا۔ خواص نے چھوٹوں کو بڑا کیا اور بڑوں کو چھوٹا کر دیا۔
میڈیا کو دیکھیے! ٹاک شوز میں ایسے لوگ بکثرت بلائے جاتے ہیں‘ جن کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہوتی۔ کوئی حلقۂ انتخاب نہ کوئی نظریہ۔ کوئی مہارت نہ کوئی شناخت۔ بھٹو یا شریف خاندان نے کبھی خوش ہو کر وزیر بنا دیا یا گورنر۔ کسی پر کبھی خان صاحب کی نظرِ کرم پڑ گئی۔ اس اثاثے کے ساتھ وہ گھنٹوں قوم کی بصارت اور سماعت کو کچوکے لگاتے ہیں۔ ان کا فن نغمہ سرائی ہے یا ہجو گوئی۔ یا پھر وہ مسخرے ہیں اور عوام کے اعصاب پر انہیں سوار کرنے کے ذمہ دار وہ میزبان یا صحافتی ادارے ہیں جو سکرین کی قیمت پر ذاتی وتجارتی تعلقات نبھاتے اور ان اداروں کوتعلقاتِ عامہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سبب جو بھی ہے‘ نتیجہ ایک ہی ہے۔ قوم میں پست فکری پیدا ہوتی ہے اور وہ افکارِ عالیہ سے محروم رہتی ہے۔ میڈیا نے ہر شعبے کے تیسرے یا چوتھے درجے کے لوگوں کو نمایاں کیا ہے۔ کبھی کبھار دوسرے درجے کے لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے درجے کے تو شاذو نادر۔ ایسے لوگ شہرت کے لیے زیادہ کوشش نہیں کرتے۔ میڈیا کا کام ایسے لوگوں کو تلاش کرنا ہے تاکہ عوام کا ذوق بہتر ہو۔ میں جب ایک ٹی وی چینل پر پروگرام 'الف‘ کا میزبان تھا تو کئی ایسی شخصیات کو عوام سے متعارف کرایا جو اس سے پہلے میڈیا کے لیے اجنبی تھیں۔ ایسے علما کو سامنے لایا میڈیا نے جنہیں نظر انداز کیے رکھا۔ میڈیا کا ایک کام عوام کے ذوق کی تعمیر ہے اور وہ اس کام سے بے نیاز ہے۔ اس کی غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ ایک ذہنی ا ور اخلاقی طور پر پسماندہ آدمی کو موسیقی کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لاحول ولا قوۃ۔
مجھ جیسے کالم نگاروں اور تقریظ نگاروں کو دیکھیے! ان کے لیے ہر کتاب تاریخ ساز اور ہر شاعرمیر وغالب کا ہم پلہ ہے۔ اب تو کتابیں بھی خودرو پودوں کی طرح اُگ رہی ہیں اور خود ان کی اشاعت پودوں کے لیے پیغامِ مرگ ہے۔ جس کاغذ پر وہ شائع ہوتی ہیں‘ معلوم نہیں کتنے درختوں کا خون کر کے حاصل کیا جاتا ہے۔ افتخار عارف صاحب ایک بسیار نویس شاعر کے بارے میں کہتے ہیں کہ ملک میں آلودگی پھیلانے میں اس کا حصہ وافر ہے۔ وہ سچ ہی کہتے ہیں۔ میری گزارش بس اتنی ہے کہ اس فہرست میں صرف ایک نام نہیں‘ اس میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے اور اب بھی یہ ناتمام ہے۔
تقریظ نگار دراصل کتاب کے بارے میں گواہی دیتے ہیں۔ اب جھوٹی گواہی کتنا بڑا گناہ ہے‘ اس کا لحاظ نہیں کرتے۔ اس سے تقریظ نگار کا اپنا اعتبار جاتا رہتا ہے۔ اگر بات کتاب کے تعارف تک محدود رہے تو شاید گوارا ہو لیکن اس پر ایسے تبصرے کیے جاتے ہیں جیسے حرفِ آخر لکھ دیا گیا ہے۔ اگر ان کو سچ مان لیا جائے تو یہاں چھپنے والی افسانہ وشعر کی ہر کتاب مستحق ہے کہ اسے ادب کا نوبیل انعام ملے یا ہر مذہبی کتاب اپنی تحقیق پر شاہ فیصل ایوارڈ کے لیے نامزد ہونی چاہیے۔ معلوم ہوتا ہے یہاں آئے دن منٹو اور فیض پیدا ہو رہے ہیں جن پر کسی کی نظر نہیں۔ میرا خیال ہے کہ مشفق خواجہ صاحب کے بعد شاید ہی کسی نے کتاب کے ساتھ انصاف کیا ہو۔ یا پھر ماہر القادری مرحوم تبصرہ لکھتے تھے۔ اب یہ روایت باقی نہیں۔ اس کا نتیجہ بھی یہی ہے کہ عوام کا ذوق پست ہو رہا ہے۔ لوگ یہ نہیں جان پاتے کہ غالب و اقبال کی عظمت کیا ہے؟ میر و انیس کیوں اپنے عہد سے بلند ہوئے؟ شبلی و مودودی کیوں منفرد ہیں؟ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی کچھ انفرادیت نہیں۔ علم و ادب کی دنیا میں نابغوں کی پیدائش معمول کا واقعہ ہے۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ علم و ادب کی دنیا بانجھ ہو گئی ہے۔ بلاشبہ عمدہ اور معیاری کتابیں بھی شائع ہو رہی ہیں۔ ایسی کتابیں تخلیق کرنے والے بالعموم کسی انجمن ستائشِ باہمی کا حصہ نہیں ہوتے۔ وہ تقریضات پر بھی زیادہ انحصار نہیں کرتے۔ ان کی کتابوں کی رونمائی بھی کم ہی ہوتی ہے۔ ان کا علمی کام ہمارے کالموں کا موضوع بنتا ہے نہ ہماری ستائش کا مستحق ٹھیرتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہمارا ان سے ذاتی تعلق نہیں ہوتا۔ ہم دوست نواز ہیں‘ ادب نواز نہیں۔ الّا ماشاء اللہ۔ انجمن ستائش باہمی کے لیے اب وٹس ایپ گروپ بن گئے ہیں۔ سارا دن لوگ ایک دوسرے کو یقین دلاتے ہیں کہ کیسے نابغہ ہائے روزگار یہاں جمع ہو گئے ہیں۔
اب ایک نظر ان لوگوں کے چہروں پر ڈالیے جنہیں ریاستی تقریبات میں مذہب کا نمائندہ بنا کر مدعو کیا جاتا ہے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن کے بارے میں کوئی ابہام نہیں کہ ان کا اسلام کے علم سے کوئی تعلق ہے نہ تزکیے کی روایت سے۔ معلوم ہے کہ وہ عوام کی دنیا پر ڈاکا ڈالتے ہیں اور آخرت پر بھی۔ پرلے درجے کے شعبدہ باز ہیں جنہیں میڈیا بارہا بے نقاب کر چکا۔ ریاست کے خفیہ اداروں پر ان کی حقیقت پوری طرح بے نقاب ہوتی ہے۔ جب ریاست ایسے لوگوں کو اہم مجالس میں بلاتی ہے تو عوام کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اس کی نظر میں یہی عزت کے مستحق ہیں۔ یہی حقیقی مذہب کو پیش کر رہے ہیں۔ اس کے بعد کم از کم ریاست کا یہ حق باقی نہیں رہتا ہے کہ اس کے نمائندے اہلِ مذہب کے کردار کا گلہ کریں۔
علم اور فن کی جب ناقدری ہوتی ہے تو سماج علما اور فنکاروں سے خالی ہونے لگتا ہے۔ اسی کو برین ڈرین کہتے ہیں۔ جو بارش قدرت نے ہماری نصیب میں لکھی ہے‘ وہ دوسروں کے چھت پہ برسنے لگتی ہے۔ ہمارے لوگ دوسروں ممالک میں جا کر‘ علمی کمالات دکھاتے اور انہیں مالا مال کر دیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو ان کمالات کا یہاں بھی ظہور ہو سکتا ہے۔ ہم مگر ایسا کیوں چاہیں گے۔ آج ایک طرف دہشت گردی نے اس معاشرے کو اہلِ علم سے خالی کیا اور دوسری طرف ہمارے اس رویے نے ہمیں زوال کے راستے پر ڈال دیا۔
ریاست‘ میڈیا‘ سوشل میڈیا‘ اہلِ دانش مل کر سماج کو علمی اعتبار سے اپاہج اور اخلاقی لحاظ سے پست بناتے ہیں۔ ایک گھنٹے کے پروگرام کی خاطر‘ نسلوں کی عمر برباد کر دیتے ہیں۔ سرکاری وسماجی اداروں کا کام سماج کی علمی و اخلاقی سطح کو بلندکرنا اور اس کے جمالیاتی ذوق کی تعمیر ہے تاکہ عوام اعلیٰ درجے کی چیزوں کو سراہنے کے قابل ہوں۔ آج ہم جس فکری انحطاط اور اخلاقی ابتری کا رونا روتے ہیں‘ یہ کہیں سے نازل نہیں ہوئی۔ یہ کوئی بیرونی سازش بھی نہیں ہے۔ یہ ہمارے طرزِ عمل کا ناگزیر نتیجہ ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved