1958ء میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء نافذ کرنے کے بعد ایک قانون نافذ کیا جس کا نام تھا ایبڈو یعنی Elected Bodies Disqualification Order ۔ اس قانون کے تحت کرپشن کے الزامات کے تحت تمام سیاستدانوں کو اگلے پانچ برس کے لیے ہر قسم کے سیاسی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ اس فہرست میں چودھری ظہور الٰہی کا نام بھی شامل تھا۔ ایبڈو کی زد میں آنے والوں کو یہ موقع دیا گیا کہ اگر وہ اس پابندی کو قبول کرنے پر تیار نہیں تو اس کے خلاف ٹریبونل میں اپیل کر سکتے ہیں۔ حسین شہید سہروردی کے علاوہ چودھری ظہور الٰہی وہ دوسرے سیاستدان تھے جنہوں نے اس نادر شاہی حکم کے خلاف ٹریبونل کا سامنا کیا۔ چودھری صاحب نے اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو غلط ثابت کیا اور بری ہو گئے مگر یہ بریت بھی ان کے کام نہ آ سکی کیونکہ مارشل لاء حکام نے کسی اور الزام کے تحت اُنہیں چھ ماہ قید کی سزا سنا دی‘ تاہم چودھری صاحب اس صدمہ سے جلد نکل آنے میں کامیاب رہے۔
1962ء کے انتخابات میں وہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پھر حکمران سیاسی جماعت (کنونشن لیگ) کے سیکرٹری جنرل بنے۔ اس وقت کے صدارتی نظام میں یہ عہدہ وزیراعظم کے برابر کا تھا۔ 1970ء میں بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی کا سیلاب سب مخالفین کو خس وخاشاک کی طرح بہا کر لے گیا مگر چودھری ظہور الٰہی نیم مردہ مسلم لیگ کے اُن چند رہنمائوں میں شامل تھے جو ان حالات میں بھی الیکشن جیت کر قومی اسمبلی کے رکن بنے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے برسرِ اقتدار آکر جن صنعتوں کو قومی ملکیت میں لے لیا اُن میں چودھری ظہور الٰہی کی فلور ملیں بھی شامل تھیں۔ قومی اسمبلی میں چودھری ظہور الٰہی اُن نو اراکین میں شامل تھے جنہیں قومی اسمبلی کے اجلاس سے (بظاہر سپیکر کے حکم پر مگر اصلاً بھٹو کے ایما پر) سکیورٹی سٹاف نے جسمانی طور پر اُٹھا کر ایوان سے نکال باہر کیا۔
بھٹو صاحب اچھے دوست تھے یا نہیں‘ یہ تو ایک متنازع مسئلہ ہے مگر ایک بات پکی ہے کہ وہ دشمنی میں اتنے برے تھے کہ ہر اخلاقی حد کو عبورکر جاتے تھے۔ چودھری ظہور الٰہی بھٹو کے سیاسی دشمنوں میں صفِ اول میں شامل تھے۔ ان پر طرح طرح بلکہ ہر طرح کے مقدمات بنائے گئے۔ ان پر قائم ایک مشہور مقدمہ بھینس چوری کا تھا‘ جس میں انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ عراق سے پاکستان اسلحہ سمگل کرنے کے الزام کے تحت بھی مقدمہ قائم کیا گیا۔ یہ چودھری صاحب کا آہنی عزم تھا کہ وہ اپنے اوپر بنائے گئے جھوٹے اور سنگین نوعیت کے مقدمات کا بڑی بہادری اور ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے رہے۔ انہوں نے نہ تو شکست مانی اور نہ ہی بھٹو صاحب سے معافی مانگ کر ان کے منتقم رویے کو شانت کرنے کی کوشش کی۔
آج اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے مگر یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ایک تلخ حقیقت ہے کہ چودھری ظہور الٰہی کو کراچی کے ایک ہوٹل میں بھٹو صاحب کے خلاف تقریر کرنے کی پاداش میں ایک خصوصی ٹریبونل نے پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ حیرت بلکہ افسوس اور بے شرمی کا مقام یہ ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں اس سراسر ظالمانہ اور بے جواز مقدمے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہ کی جا سکی۔ یہ تھی بھٹو دورِ حکومت میں قانون کی حکمرانی! ستم ظریفی یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو اقتدار میں ہو کر ہر طرح کے ظلم روا رکھتا ہے‘ جب اقتدار سے محروم ہو جاتا ہے یا کر دیا جاتا ہے‘ تو وہ خود بھی ظلم کا شکار ہو جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر جو ظلم وستم کی فصل بوتا ہے‘ بعد میں خود بھی وہی فصل کاٹتا ہے۔ بھٹو صاحب کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ میری طرح کے وہ ہزاروں‘ لاکھوں لوگ جو پہلے کئی سال اُن کی حکومت کے مظالم پر روتے تھے‘ آگے چل کر بھٹو کے عدالتی قتل اور بے حد دردناک حالات میں ان کو سزائے موت دیے جانے پر اشکبار ہوئے۔ ستم بالائے ستم کہ بقول غالب‘ اپنے ساتھ ہمہ وقتی نوحہ گر رکھنے کا مقدور بھی نہ تھا۔
بھٹو صاحب نے نواب اکبر بگتی سے‘ جن کے ماتحت کوئٹہ کی جیل میں چودھری ظہور الٰہی قید تھے‘ سے جو فرمائش کی وہ بگتی صاحب نے چودھری صاحب کے بیٹے (چودھری شجاعت حسین) کو بتا دی تھی اور اُنہوں نے وہ فرمائش اپنی کتاب (سچ تو یہ ہے) میں من وعن شائع کی ہے۔ فرمائش بڑے سادہ الفاظ میں تھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ مہربانی کر کے اس قیدی کو ختم کر دیجئے۔ بگتی صاحب نے وہی جواب دیا جو ایک غیرت مند سردار کو دینا چاہیے تھا۔ بگتی نے کہا: میں ایک بلوچ قبائلی سردار ہوں‘ کرائے کا قاتل نہیں۔ آخرکار چودھری ظہور الٰہی کو کوئٹہ جیل سے رہائی مل گئی۔
پھر 1977ء آ گیا اور بھٹو حکومت کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی زبردست سیاسی تحریک چلی۔ چودھری ظہور الٰہی بھی ان رہنمائوں میں شامل تھے جو اس مہم میں ایک بار پھر گرفتار ہوئے۔ اس تحریک کے نتیجے میں بھٹو حکومت کا خاتمہ ہوا‘ جنرل ضیا الحق کا مارشل لاء لگا‘ بھٹو صاحب گرفتار ہوئے اور ملک میں جمہوریت کا بستر گول کر دیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء نافذ ہوا تو بھٹو مخالف سیاسی رہنمائوں کو رہائی نصیب ہوئی۔ ضیا حکومت نے نیشنلائزیشن کی پالیسی بھی ختم کر دی۔ چودھری ظہور الٰہی کو اپنی قومیائی گئی فلور ملیں واپس مل گئیں۔ ظاہر ہے کہ بھٹو دشمنی نے چودھری ظہور الٰہی کو جنرل ضیاء الحق کی طرف دھکیل دیا اور وہ مارشل لاء حکومت کے بڑے سیاسی حلیف بن گئے۔
بھٹو کے بعد ان کے سیاسی جانشین میر مرتضیٰ بھٹو نے ایک عسکری تنظیم الذوالفقار کی بنیاد رکھی جس کا مقصد بھٹو مخالفین سے بدلہ لینا تھا۔ یہ تنظیم جنرل ضیا الحق کا تو کچھ نہ بگار سکی مگر اس نے اپنا ساراغصہ چودھری ظہور الٰہی پر اُتارا۔ لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین‘ جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنائی تھی‘ کے ساتھ چودھری ظہور الٰہی کار میں سفرکر رہے تھے جب ان پر الذوالفقار کے کارکنوں نے گولیوں کی بارش کر دی۔ دن تھا 25 ستمبر 1981ء کا۔ چودھری ظہور الٰہی اپنی کار میں لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس کو ان کے گھر چھوڑنے جا رہے تھے۔ ان کے ہمراہ سینئر ماہر قانون ایم اے رحمن ایڈووکیٹ بھی تھے‘ جنہوں نے بھٹو کے مقدمۂ قتل میں پبلک پراسیکیوٹر کے فرائض انجام دیے تھے۔ چودھری ظہور الٰہی اور ان کا ڈرائیور اس حملے میں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ جسٹس (ر) مشتاق حسین کو معمولی زخم آئے جبکہ ایم اے رحمن محفوظ رہے۔ میر مرتضیٰ بھٹو نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ چند ماہ بعد نومبر 1981ء میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی میں ایک دہشت گرد کو ہلاک کیا جس پر الزام تھا کہ وہ چودھری ظہور الٰہی کے قاتلوں میں شامل تھا۔ ایک اور شخص بعد میں گرفتار کیا گیا جس پر اس حملے کا الزام تھا۔ اُس پر مقدمہ چلا اور مئی 1983ء میں اسے موت کی سزا دی گئی۔ چودھری ظہور الٰہی کے بعد ان کے بیٹے چودھری شجاعت حسین کو 1985ء میں مجلس شوریٰ کا رکن بنایا گیا‘ جو مشرف دور میں ڈیڑھ ماہ کے لیے وزیراعظم بھی بنے۔ ان کے چچا زاد بھائی (چودھری پرویز الٰہی) نائب وزیراعظم اور دو بار پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved