تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     31-03-2026

G for Goon

کہتے ہیں غصہ اور قانون طاقتور کے سامنے تابعدار بن جاتا ہے جبکہ کمزور پر چڑھ دوڑتا ہے۔ اس کا مظاہرہ ساری دنیا ٹرمپ کی صورت میں دیکھ رہی ہے۔ امریکی صدر اس وقت طاقت اور بدتمیزی کے عروج پر ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے عرصۂ صدارت میں خود کو ملنے والے ہر اس عالمی رہنما کی حتی المقدور اور من پسند بے عزتی کی ہے جس کی وہ کرنا چاہتے تھے۔ ہاں البتہ جس کی وہ خود بے عزتی یا توہین نہ کرنا چاہیں تو الگ بات ہے۔ بقول ٹرمپ‘ اسے کسی بات سے کوئی نہیں روک سکتا سوائے خود ٹرمپ کے۔ وہ کسی قسم کے سفارتی قواعد‘ اخلاقی اقدار اور برے بھلے کا خیال رکھے بغیر جس کے بارے میں جی چاہے عزت اتار کر رکھ دیتے ہیں۔ خواہ وہ جنوبی افریقہ کا سربراہ ہو‘ یوکرین کا صدر ہو‘ فرانس کا صدر ہو‘ جاپان کی وزیراعظم ہو یا سعودی عرب کا ولی عہد ہو۔ ٹرمپ کی سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔
باقی بے عزت ہونے والے تو جمہوری ممالک کے سربراہان تھے جو عوامی اجتماعات بشمول الیکشن وغیرہ میں پبلک کی جانب سے کسی حد تک سخت سوالات‘ توہین آمیز رویے یا بُری صورتحال کا سامنا کرنے کے عادی ہوتے ہیں لیکن سعودی عرب جیسی مطلق العنان بادشاہت کے بارے میں ایسا سوچنا حیران کن ہے۔ اڑتی خبر تو یہ بھی تھی کہ عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ کے دوران دورۂ امریکہ کے لیے سعودی ولی عہد نے خصوصی طور پر اپنا جہاز دیا۔ عمران خان نے اس جہاز میں نیویارک سے واپس پاکستان آتے ہوئے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے بارے مذاق میں کوئی قابلِ اعتراض جملہ کس دیا۔ اس کی خبر جیسے ہی ایم بی ایس تک پہنچی اس نے اڑتے جہاز کو واپس بلوا کر خان صاحب کو تُرنت جہاز سے اتار دیا۔ جہاز کے اندر ہونے والے عمران خان کے تبصرے پر جہاز واپس منگوانے والے اب صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک سرمایہ کاری ایونٹ کے دوران عوامی سطح پر خوشامد کے مترادف انگریزی کے انتہائی توہین آمیز جملے کے استعمال پر سکتے میں ہیں اور خود ولی عہد صاحب بھی خاموش ہیں۔
تھوڑا عرصہ پہلے صدر ٹرمپ کے دورے کے دوران انہیں خوش کرنے کی غرض سے متحدہ عرب امارات نے امریکہ میں تقریباً 1500 ارب ڈالر سرمایہ کاری‘ قطر نے چار سو ملین ڈالر کا لگژری بوئنگ جہاز کا تحفہ اور کئی سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور سعودی عرب نے امریکہ میں چھ سو ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ پہلے بھی وقتاً فوقتاً اس قسم کے وعدے کیے گئے تاکہ ٹرمپ صاحب کی خوشنودی حاصل کی جا سکے۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا بیشتر حصہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں ہے جس کے بارے میں گمانِ غالب ہے کہ اس کے پیچھے ٹرمپ خاندان ہے مگر عالم یہ ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے تو ان تحائف دینے اور سرمایہ کاری کرنے والے عرب ممالک کا اپنے مخصوص انداز میں مذاق اڑاتے رہے اور اب جبکہ وہ تکبر اور خود پسندی کے کوہ ہمالیہ پر متمکن ہیں‘ اپنے ممدوح ان عرب سربراہوں کے بارے میں باقاعدہ توہین آمیز تبصرے اور اخلاق سے عاری جملے کسنے پر آ گئے ہیں۔
G6 کے ممالک جن میں امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی اور جاپان شامل ہیں‘ نے ایران کی جانب سے ہمسایہ ممالک پر ہونے والے حملوں کو غیر اخلاقی اور عالمی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے ایران سے فوری طور پر یہ حملے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمارے ایک دوست نے اس G6 کو اس کے اصل نام یعنی گروپ آف سکس (چھ کا گروہ) کے بجائے Goon6 یعنی چھ بدمعاش یا چھ غنڈے قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا امریکہ اور اسرائیل کا بلاوجہ ایران پر حملہ اخلاقیات کے مطابق اور عالمی قوانین کے دائرہِ کار کے اندر ہے؟
ایران کا کوئی میزائل امریکہ تک مار نہیں کر سکتا۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی یعنی IAEA نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے پاس ایران کے ایٹمی اسلحہ بنانے کافی الحال کوئی ثبوت نہیں۔ خود غیر اعلانیہ ایٹمی اسلحہ بنانے والا ملک اسرائیل اس امکان پر کہ ایران ایٹمی طاقت بننے کے قریب ہے‘ ایران پر حملہ آور ہے اور ایران کی سول ایٹمی تنصیبات کو اسرائیل کے اکسانے پر تباہ کرنے کے درپے امریکہ ایٹمی اسلحہ کے حامل اسرائیل کی مدد کرنے کیلئے خود جنگ میں کود پڑا ہے۔ اس وقت سارا عالم کفر منافقت پر اور سارا عالم اسلام امریکی خوف میں مبتلا ہے اور اقوام متحدہ وسلامتی کونسل وغیرہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں۔
صدر ٹرمپ کی بے خوفی اور عالمی اداروں کو ان کی منافقت کی داد دینا پڑے گی کہ ایک طرف صدر ٹرمپ اپنے تمام تر دلی ارادوں کا ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں اور دوسری طرف ان کھلے اعلانات پر دنیا کا کوئی ملک تو رہا ایک طرف‘ نام نہاد سلامتی کونسل یا اقوام متحدہ بھی کوئی نوٹس لینے کو تیار نہیں۔ امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اس کے صدارتی محل سے اٹھا لیا کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ امریکہ نے ایک آزاد ملک کے سربراہ کو باقاعدہ اغوا کیا اور اسے اٹھانے کے جواز یہ بتایا کہ صدر مادورو نے صدارتی الیکشن میں دھاندلی کی ہے‘ اس کے قریبی ساتھی کرپشن کرتے ہیں اور منشیات سمگل کرنے میں ملوث ہیں۔ ڈھٹائی کی انتہا یہ ہے کہ امریکہ نے اس اغوا کو قانونی اور عالمی قوانین کے تحت کاررورائی قرار دیتے ہوئے اسے جائز قرار دیا۔ تاہم امریکی صدر نے اسی دوران یہ اعلان کر کے کہ وینزویلا کا تیل ہم رکھیں گے‘ بلی تھیلے سے باہر نکال دی۔ پھر انہوں نے ایک اور بیان دیا کہ وینزویلا کا تین سے چار کروڑ بیرل تیل امریکہ کو دیا جائے گا اور نہ صرف یہ کہ یہ تیل امریکہ لے جا کر فروخت کیا جائے گا بلکہ اس کی آمدنی امریکہ کنٹرول کرے گا۔ اردو میں اس کے لیے ایک محاورہ ہے ''ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ‘‘۔ یعنی جرم الیکشن میں دھاندلی اور کرپشن ہے‘ جو بنیادی طور پر وینزویلا کا اندرونی مسئلہ ہے اور اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ امریکہ دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر کے حامل ملک وینزویلا کے صدر کو اغوا کر لے‘ اس کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کر لے اور اس کے تیل کی آمدنی پر کنٹرول حاصل کر لے۔ منافقت کا یہ عالم ہے کہ کمزور ممالک پر ہمہ وقت چڑھ دوڑنے والے اور بات بے بات پابندیاں لگانے والے سارے عالمی ادارے امریکی صدر کے اس کھلے اعلان کے باوجود خاموش ہیں اور امریکی صدر سے اپنی عزت بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے 21 نومبر 2024ء کو جنگی جرائم کی عالمی عدالت ICC نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں کارروائی کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ایک طرف ہم ہیں کہ عدالت برائے عالمی جنگی جرائم کی ہم پلہ عالمی عدالت انصاف کے حکم سے ڈر کر کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے عدالتی حکم پر عمل نہیں کر رہے جبکہ دوسری طرف امریکہ جنگی جرائم کی عالمی عدالت کے احکامات پر عمل کرنا تو رہا ایک طرف‘ الٹا اس کے ججوں پر پابندیاں لگا دیتا ہے۔ ان پابندیوں کے متاثرہ جج نہ اپنے بینک کارڈ استعمال کر سکتے ہیں اور نہ ہی آن لائن خریداری کر سکتے ہیں۔
اب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ساری منافقت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایرانی جزیرے خارگ پر قبضہ کر کے ایران کا تیل لے سکتا ہے۔ جی سکس‘ جی سیون اور جی ٹونٹی وغیرہ میں G سے مراد گروپ نہیں Goon ہے۔ جنہیں یہ فکر ہرگز نہیں کہ خارگ اور ایرانی تیل پر قبضہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انہیں صرف یہ فکر ہے کہ اس طرح تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور قیمت میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ دنیا غنڈوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved