پطرس بخاری رات گئے ایک تھیٹر سے واپس آ رہے تھے اتنے میں ایک موڑ سے جو مڑے تو سامنے ایک بکری بندھی تھی۔ جسے انہوں نے چشم تصور سے کتا سمجھا۔ آگے اُن کا بقلم خود لکھا احوال ملاحظہ فرمائیے۔
''آنکھوں نے اسے بھی کتا دیکھا۔ ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا۔ گویا بہت ہی کتا۔ بس ہاتھ پاؤں پھول گئے‘‘۔ میں چشمِ تصور سے سوچتا ہوں کہ اگر اِن دنوں پطرس بخاری بقیدِ حیات ہوتے تو وہ کہاں جاتے‘ جہاں جاتے وہاں کتے ان کے استقبال کو موجود ہوتے۔ کراچی میں ہوتے تو وہ آج کے گرانڈیل کتوں کو دیکھ کر بکری کی جسامت کے کتوں کو بھول جاتے۔ کراچی سے بھاگ کر پطرس لاہور آتے تو یہاں بھی لحیم شحیم اور خود سر کتے ان کا کراچی سے کہیں بڑھ کر سواگت کرتے۔
مزاج کی دنیا میں پطرس بخاری کی بے مثال کتاب ''پطرس کے مضامین‘‘ ہے۔ اس کتاب میں ان کا مضمون ''کتے‘‘ پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ پطرس کے زمانے کے مقابلے میں آج کے کتے انتہائی بے مروت‘ بدلحاظ اور جارحا نہ مزاج ہیں۔ آج کے کتے جتھوں کی صورت میں اکا دکّا معصوم انسانوں پر حملہ آور ہو جاتے اور انہیں گور کنارے لگا آتے ہیں۔ پطرس کے زمانے میں تو کتے بھونکتے زیادہ اور کاٹتے کم تھے۔
اتوار کے اخبارات میں ایک خبر کراچی اور ایک لاہور کے بارے میں ہے۔ دونوں دل دہلا دینے والی خبریں ہیں۔ کراچی میں ہفتے کے روز کتے کے کاٹنے سے ایک اور موت واقع ہو گئی ہے۔ اس طرح یہ اس سال کی کراچی میں کتے کے کاٹے سے رپورٹ شدہ ساتویں موت ہے۔ کتوں کے کاٹنے سے واقع ہونے والی کثرتِ اموات پر کراچی کے طبی ماہرین نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شہر میں کتوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔ ان گرانڈیل آوارہ کتوں کے غول جب میں ٹی وی سکرین یا سوشل میڈیا پر دیکھتا ہوں تو مارے خوف کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ کراچی میں ہفتے کے روز دم توڑنے والا 42 سالہ رکشہ ڈرائیور گارڈن کے علاقے کا رہائشی تھا۔ یہ شخص اپنی بیوی اور تین بچوں کا واحد کفیل تھا۔ تقریباً ایک ماہ قبل اس شخص کو کتوں نے کاٹا تھا۔ پھر یہ ایک ہسپتال سے دوسرے اور تیسرے میں منتقل ہوتا رہا۔ بعد کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ اسے پہلے مرحلے پر جو ٹیکے لگائے گئے وہ اصلی نہ تھے‘ جی ہاں وطن عزیز میں ایسا بھی ممکن ہے اور آر آئی جی کی ویکسین کی مطلوبہ مقدار میں نہیں دیے گئے تھے۔ ہفتے کے ہی روز پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں چوک یتیم خانہ کے قریب ایک 75 سالہ معمر خاتون کھڑی تھی کہ اچانک گرانڈیل کتوں کے ایک غول نے بوڑھی عورت پر حملہ کر دیا۔ اس کے جسم کے کئی حصے زخمی ہو گئے۔ بیچاری قسمت کی ماری خاتون کو تشویشناک حالت میں ہسپتال لے جایا گیا۔ اللہ کرے اس کی جان بچ جائے۔ گزشتہ ہفتے بھی لاہور کے ٹاؤن شپ کے علاقے میں کتوں نے ایک آٹھ سالہ بچی کو بھنبھوڑ ڈالا تھا۔ بعد ازاں بچی کی موت واقع ہو گئی۔ ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 2025ء میں صرف کراچی میں کتوں کے کاٹنے سے 29 ہزار کیسز ہسپتالوں میں رپورٹ ہوئے‘ ان میں درجنوں اموات بھی واقع ہوئیں۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کے لانڈھی‘ کورنگی‘ ملیر‘ محمود آباد اور اورنگی ٹاؤن جیسی بستیوں میں روزانہ کی بنیاد پر کتوں کے کاٹنے کے کم از کم 25 سے 30واقعات سامنے آتے ہیں۔
اب پنجاب کا بھی حال سن لیجئے۔ 2025ء میں پنجاب میں کتوں کے کاٹنے کے پونے تین لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان افسوسناک واقعات میں بہت سی اموات بھی واقع ہوئیں۔ کتوں کے کاٹنے کے زیادہ تر واقعات لاہور میں سامنے آتے ہیں۔ گزشتہ 14 ماہ کے دوران صرف میو ہسپتال لاہور میں تقریباً 1800بڑے اور بچے لائے گئے جنہیں کتوں نے کاٹا تھا۔ یہ تو لاہور کے صرف ایک ہسپتال کے اعداد و شمار ہیں جبکہ دیگر ہسپتالوں میں لائے جانے والے مریضوں کے اعداد و شمار معلوم نہیں ہو سکے۔ کسی مہذب ملک میں ایسی صورتحال ہوتی تو وہاں قومی ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی۔ اور یہی بریکنگ نیوز ہوتی مگر ہمارے ہاں اسے ایک روٹین کے معاملے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ 1885ء میں فرانسیسی ڈاکٹر لوئس پاسچر نے کتے کے کاٹے کا علاج دریافت کیا اور دنیا کو اس جان لیوا مصیبت کی ویکسین تیار کر کے دی تھی۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ اکثر لاہور کو پیرس اور صوبے کو یورپ بنانے کے دعوے کرتی ہیں مگر جب انسانوں کی زندگیاں قدم قدم پر آوارہ کتوں کے رحم و کرم پر ہوں تو کیسا پیرس اور کیسا یورپ! دو اڑھائی کروڑ کے شہر کراچی ہی میں نہیں سارے صوبہ سندھ میں روزانہ کی بنیاد پر کتوں کے کاٹنے اور ان سے ہونے والی اموات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔
آوارہ کتوں کے غول کے غول کراچی‘ لاہور اور دیگر شہروں میں اس کثرت سے آزادانہ گھومتے پھرتے کیوں نظر آتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری صوبائی حکومتیں انسانوں کی کثرتِ آبادی کے بارے میں تو فکر مندی کا اظہار کرتی رہتی ہیں مگر انہیں کتوں کی کثرتِ آبادی کے بارے میں کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہمارے حکمران عوامی بستیوں سے دور بڑے بڑے محلات میں سکونت اختیار کرتے ہیں۔ وہ ان محلات میں آنے جانے کیلئے ہیلی کاپٹر یا بڑی بڑی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ انہیں بندۂ مزدور‘ بندۂ مجبور اور سفید پوش آبادیوں کے ساکنان کے احوال کا براہِ راست کوئی علم نہیں ہوتا کیونکہ ادھر سے ان کا کبھی گزر ہی نہیں ہوتا۔ کراچی کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جگہ جگہ پھیلے ہوئے کچرے اور کتوں پر کنٹرول نہ ہونے کی بنا پر اس جان لیوا خطرے کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔کراچی میں تو انسانی زندگی ہر لحظہ کسی نہ کسی خطرے اور ناگہانی موت کی زد میں رہتی ہے۔ واٹر ٹینکر کے لاپروا ڈرائیوروں‘ طالبات کی ویگنوں اور نہتے موٹر سائیکل سواروں کو گن پوائنٹ پر لوٹنے والے سفاک ڈاکوؤں اور اژدھوں کی مانند منہ کھلے ہوئے گٹروں سے اگر کراچی کے خوش قسمت شہری بچ نکلیں تو ہر گلی محلے میں گرانڈیل کتے ان کیلئے پیغامِ اجل ثابت ہوتے ہیں۔ حکمران سندھ کے ہوں یا پنجاب کے وہ ہر ایسے ہولناک سانحے پر ایک رٹا رٹایا بیان جاری کر کے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔
کسی زمانے میں کتوں کو بندوق کی گولی یا زہر کی پڑیا سے حوالۂ موت کیا جاتا تھا اور ان کی تعداد کو بڑھنے نہ دیا جاتا تھا۔ اب گزشتہ کئی برس سے جانوروں کے حقوق کی این جی اوز نے انسانوں کی زندگیوں کی حرمت کو پس پشت ڈال کر آوارہ کتوں کی آزادی کو سر کا تاج بنا لیا ہے۔ طریقہ کوئی اختیار کیا جائے‘ شہری آبادیوں اور گلی کوچوں کو حملہ آور کتوں سے پاک ہونا چاہیے۔ اگر انہیں مارنا نہیں تو پھر باقاعدگی سے انہیں جالوں کے ذریعے پکڑا جائے‘ انہیں ٹیکے لگائے جائیں اور انہیں انسانی آبادیوں سے دور مخصوص مقامات پر پہنچایا جائے اور وہاں انہیں خوراک مہیا کی جائے۔
سندھ اور پنجاب اور دیگر صوبوں کے حکمران سن لیں کہ جب تک منتخب بااختیار مقامی حکومتیں تحصیل کی سطح تک قائم نہیں کی جاتیں اس وقت تک عوام الناس ایک سے بڑھ کر ایک خطرے کی زد میں رہیں گے۔ دنیا میں جہاں جہاں منتخب چھوٹی چھوٹی بااختیار حکومتیں قائم ہیں وہاں وہاں لوگ امن و سکون سے جیتے ہیں اور کتوں کے خطرات کا تو نام و نشان بھی نہیں ہوتا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved