جنگِ ویتنام کا عذر امریکیوں نے کچھ نہ کچھ اپنے ذہنوں میں گھڑا ہوا تھا کہ ویتنام گیا تو سارا جنوب وسطی ایشیا کمیونسٹ تسلط کے نیچے آ جائے گا۔ عذر غلط تھا لیکن تھا۔ ایران کے معاملے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو اپنے آپ کو پھنسا لیا ہے اس کا جواز نہ تھا‘ نہ امریکی ایڈمنسٹریشن سے کوئی جواز بن رہا ہے۔ آئے روز ایک نئی وجہ ایک نیا عذر بیان کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ایران نے وہ سب کچھ کیا جو ہو سکتا تھا امریکی حملے کو ٹالنے کیلئے۔ اب تو واضح ہو چکا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اسرائیلی خفیہ تنظیم موساد نے قائل کیا کہ ایران پر حملہ ہو گا تو وہاں کا اسلامی نظام دھڑام سے گر پڑے گا اور نیتن یاہو نے یہ کہانی ٹرمپ کو سنائی اور ٹرمپ قائل ہو گیا کہ یہی وقت ہے ایران پر حملہ کرنے کیلئے۔
حملہ کر بیٹھے ہیں لیکن ایران سے ایک بہت بڑی غلطی ہو رہی ہے۔ اس نے گھٹنے نہیں ٹیکے نہ ہاتھ جوڑے ہیں کہ حملے بس کر دو اور جو منوانا ہے ہم سے منوا لو۔ گھٹنے ٹیکنے کے بجائے ایران سے دوسرا بڑا گناہ یہ سرزد ہو رہا ہے کہ اس نے جوابی حملے ایسے کیے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے ہوش ٹھکانے آ گئے ہیں اور جو خطے میں امریکہ کے حمایتی ہیں ان کی بھی ایسی تیسی ہو رہی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی ذہنوں میں جو کچھ بھی تھا یہ تو نہیں تھا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بند ہو جائے گی۔ لیکن دشمن جہازوں کیلئے ایران نے وہ پانی بند کر دیے اور تیل کی عالمی قیمتیں اوپر جا پہنچی ہیں جس سے امریکی حماقت کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کو خود بھی امریکہ میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور اس کی مقبولیت 36 فیصد یعنی خاصی نیچے جا پہنچی ہے۔ ٹرمپ کے اپنے سیاسی بیس جسے میگا موومنٹ کہتے ہیں‘ میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور اس موومنٹ کے بڑے بڑے نام جیسا کہ ٹَکر کارلسن روزانہ کی بنیاد پر ٹرمپ کو تنقید اور تنقید سے زیادہ تمسخر کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم کے حوالے سے بڑا عہدیدار جوکینٹ استعفیٰ دے کر پوڈ کاسٹوں میں بتا رہا ہے کہ امریکہ کیلئے ایران کوئی خطرہ نہ تھا اور یہ جنگ اسرائیل کی خاطر لڑی جا رہی ہے۔ اور ٹرمپ کی حالت یہ ہے کہ لایعنی باتیں کیے جا رہا ہے۔ ہر روز ایک نیا شوشا لیکن جنگ کی بنیادی حقیقت تبدیل نہیں ہو رہی کہ امریکہ پھنسا ہوا ہے اور نکلنے کا راستہ اسے نہیں مل رہا۔
انسان ہو یا کوئی ملک‘ کہیں پھنس جائے تو ہاتھ پیر مارے جاتے ہیں۔ امریکہ بھی اب یہی کر رہا ہے۔ ٹرمپ ایک طرف دھمکیاں دے رہا ہے کہ جزیرہ خارگ تباہ کر دوں گا‘ ایران کا سارا بجلی اور انرجی کا نظام تباہ ہو جائے گا اگر ایران معاہدے کیلئے تیار نہ ہوا۔ دوسری طرف ادھر اُدھر سے امریکی فوجی بلائے جا رہے ہیں‘ کس مقصد کیلئے اب تک واضح نہیں۔ انٹرنیٹ پر جائیں اچھے اچھے تجزیہ کار حیران پریشان ہیں کہ امریکہ کر کیا رہا ہے اور تین چار ہزار فوجیوں سے ایران کے خلاف کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یاد ہو گا کہ افغانستان میں امریکہ کی فوج ڈیڑھ لاکھ تک پہنچ گئی تھی اور پھر بھی کچھ حاصل نہ ہوا۔ ویتنام میں امریکی فوج پانچ لاکھ تک پہنچی تھی اور رسوائی جو امریکہ کو اس جنگ میں اٹھانی پڑی دنیا کے سامنے ہے۔
معاہدہ بھی ایران کیا کرے۔ جو پندرہ نکاتی مطالبے بذریعہ پاکستان ایران کو دیے گئے ہیں وہ کسی مذاق سے کم نہیں۔ میدانِ جنگ میں جو اہداف امریکہ حاصل نہیں کر سکا وہ مذاکرات سے پہلے ایران سے منوانا چاہتا ہے۔ ایران کے اسلامی نظامِ حکومت کو تباہ کرنے چلے تھے اور امریکی آبنائے ہرمز بند کرا بیٹھے ہیں۔ اور اب ترلے کر رہے ہیں کہ کسی صورت آبنائے ہرمز کھل جائے تاکہ دو تین ہزار ٹینکر جو پھنسے ہوئے ہیں وہ وہاں سے گزر سکیں اور تیل کی عالمی قیمتیں نیچے آ سکیں۔ یعنی امریکی تیر مارنے نکلے تھے اور خود تیر کھا بیٹھے ہیں۔ پھر بھی اکڑ کم نہیں ہو رہی۔ مارکو روبیو کا الجزیرہ پر انٹرویو سنیے‘ ایسا لہجہ کہ جیسے ایران کی گردن پر امریکیوں نے پیر رکھا ہو‘ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور امریکہ کی سبکی ہو رہی ہے۔
بہرحال اس جھمیلے سے نکلنے کا کیا راستہ ہے؟ پاکستان‘ ترکیہ اور مصر پیغام رسانی کا کام انجام دے رہے ہیں لیکن امریکی پندرہ نکات سامنے رکھے جائیں تو معاہدے کی بات کہاں نظر آتی ہے۔ ان نکات کا مطلب ہے کہ ایران گھٹنوں پر گِر پڑے اور امریکی رحم کی بھیک مانگے۔ ایران نے ایسا کرنا ہے؟ ایران نے بہت تباہی برداشت کی ہے لیکن جواباً حملے کیے جا رہا ہے۔ امریکیوں کو جنگی سبقت اتنی ہی مل رہی ہوتی تو آبنائے ہرمز اب تک ٹینکروں کی آمدورفت کیلئے کھل نہ جاتا؟ ٹرمپ سے لے کر باقی مشیروں تک یہی منترا پڑھا جا رہا ہے کہ ہم نے ایران کی نیوی‘ ایئر فورس اور میزائلوں کے کارخانے تباہ کر دیے ہیں۔ واقعی تباہ کر لیے ہیں تو جائیں آبنائے ہرمز پر قبضہ جمائیں۔ امریکی نیوی دنیا کی طاقتور ترین نیوی ہے‘ اتنا بھی نہیں کر سکتی کہ آبنائے ہرمز میں سے آمدورفت ممکن بنا سکے؟
کچھ سمجھدار تجزیہ کار ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں کہ جہاں ایران اکیسویں صدی کی جنگ لڑ رہا ہے‘ امریکہ بیسویں صدی کے جنگی تصورات میں پھنسا ہوا ہے۔ کون سا امریکی ٹارگٹ ہے جو اس جنگ میں ایرانی حملوں سے بچا ہے؟ خطے میں جو تیرہ امریکی اڈے ہیں تمام کے تمام بہت حد تک استعمال کے قابل نہیں رہے اور ان اڈوں کے بجائے امریکی فوجی ہوٹلوں میں رہنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ لیکن امریکی بات ایسے کر رہے ہیں جیسے ایران کو لتاڑ کے رکھ دیا ہے۔ امریکی غصہ اس بات پر ہے کہ ایران وینزویلا ثابت نہیں ہوا۔ وینزویلا میں تو امریکیوں کو کچھ زیادہ کرنا ہی نہیں پڑا تھا۔ تھوڑی سی بمباری کے بعد رات کے اندھیرے میں امریکی کمانڈو گئے اور صدارتی ٹھکانے سے وینزویلا کے صدر کو یرغمال بنا کر اٹھا لائے۔ یقینا یہی سمجھ رہے تھے کہ ایران کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو گا۔ اسرائیلیوں نے امریکیوں کو یہی پڑھایا تھا کہ ایرانی قیادت کا صفایا ہو گیا تو نظام تباہ ہو جائے گا۔ اسی مفروضے پر اس سارے آپریشن کی پلاننگ ہوئی۔ پہلا حملہ نہایت ہی سنگین تھا اور کتنے ہی اہم عہدیدار اس کا نشانہ بنے۔ لیکن نظام اور حکومتی سٹرکچر قائم رہا اور فوراً ہی ایران کے جوابی حملے شروع ہو گئے اور جیسے جیسے عرب ممالک اور اسرائیل میں تباہی پھیلی حملہ آور حیران ہونے لگے۔ اب تک حیران ہی ہو رہے ہیں۔ ایسے میں بتائیے جنگ ختم کرنے کیلئے کون سا معاہدہ ہو سکتا ہے؟
اب بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایرانی سوچ رہے ہیں کہ جو ٹینکر ہرمز سے گزریں وہ ٹول ٹیکس ادا کریں۔ ایران کا کنٹرول آبنائے ہرمز پر رہے تو اس نکتے پر غور کرنا ہوگا۔ ایرانی کنٹرول ختم کرنا ہے تو آبنائے ہرمز پر حملہ کرنا ہو گا۔ حملہ کرنے کیلئے زمینی فوج کی ضرورت پڑے گی اور امریکہ نے ایسا کیا تو مزید پھنستا جائے گا۔ اسی لیے ڈر یہی ہے کہ مذاکرات میں سہولت کاری کی باتوں کے باوجود یہ جنگ طول نہ پکڑ جائے۔ ایسی بات ہوتی ہے تو ہر طرف تباہی بڑھتی جائے گی۔ اور بیچ میں ہمارے برادر ملکوں کے حالات مزید بگڑ جائیں گے۔ امریکی ایران کے انرجی انفراسٹرکچر پر حملے کرتے ہیں تو ایران نے جواباً جی سی سی ممالک میں تباہی پھیلا دینی ہے۔ کیا امریکہ نے یہ جنگ اس لیے شروع کی کہ اس کے اپنے عرب اتحادی مشکلات میں پڑ جائیں؟
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved