تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     01-04-2026

پرل ہاربر سے آبنائے ہرمز تک

یہ بات طے ہے کہ ایران امریکہ جنگ اگر جلد نہ رکی تو بڑی تباہی ہو سکتی ہے۔ اس کا اندازہ مجھے ایک ٹویٹ پڑھ کر ہوا‘ جو اقوام متحدہ کی ایک ذیلی کمیٹی کے ممبر نے کیا ہے۔ انہیں کہا گیا کہ آپ لوگ Worst Scenario پر کام کریں‘ یعنی اگر ایران پر ایٹم بم گرایا جاتا ہے تو کیا ہو گا؟ اس اہلکار نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا کہ آپ نے ایسا سوچا بھی کیونکر۔ ایک دفعہ میرے ایک دوست نے مذاق میں کہا تھا کہ کتابیں کم پڑھا کرو‘ تمہارے لیے مسائل پیدا کرتی ہیں۔ میں حیران ہوا تو انہوں نے بتایا کہ جب اسامہ بن لادن آپریشن کی انکوائری ہو رہی تھی تو ڈی جی آئی جنرل پاشا کے حوالے سے تم نے ایک کالم لکھا تھا۔ وہ کالم ڈائریکٹر سی آئی اے لیون پینٹاکی کتاب میں موجود انکشافات کے متعلق تھا کہ کیسے جنرل پاشا کو سی آئی اے ہیڈکوارٹر میں لیون پینٹا نے کہا تھا کہ واپس جا کر ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ بھیجیں اور یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ بعد میں وہ ذمہ داری پوری کی گئی۔ وہ دوست کہنے لگا کہ جنرل صاحب آپ سے بہت خفا تھے‘ آپ کی قسمت اچھی تھی کہ بات دب گئی۔ یہ بات ہنسی مذاق میں ٹل گئی لیکن وہی بات کہ کتابیں پڑھنے سے باز نہیں آیا۔
کچھ دن پہلے اولڈ بکس شاپ سے ایک کتاب خریدی جو جاپان کے شاہی خاندان کی خفیہ تاریخ کے بارے میں ہے‘ خصوصاً دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان پر امریکی قبضے کے حوالے سے بہت اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ The Yamato Dynasty: The Secret History of Japan's Imperial Family۔ اس کتاب کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جاپان جیسی بڑی پاور کو کیسے ایٹم بم کے بعد امریکہ کے ساتھ ڈیل کرنا پڑی اور جاپانی بادشاہ ہیروٹو کو کس شرمندگی یا بے عزتی کا سامنا کرنا پڑا جب امریکی جنرل ڈگلس کو جاپان کی شکست کے بعد وہاں بھیجا گیا کہ وہ انکوائری کرے کہ یہ فیصلہ کس نے کیا تھا کہ امریکی اڈے پرل ہاربر پر حملہ کیا جائے۔ اس حملے میں تین ہزار امریکی فوجی مارے گئے تھے اور آخرکار اس جنگ کو ختم کرنے کیلئے امریکہ نے جاپان کے شہروں ناگا ساکی اور ہیرو شیما پر ایٹم بم گرائے جس میں لاکھوں جاپانی مارے گئے۔ جاپانی شہنشاہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسے اپنے محل سے نکل کر امریکی سفارتخانے میں جنرل ڈگلس سے نئی ڈیل کیلئے ملاقات کرنا ہو گی۔ اس سے بڑی ذلت اور کیا ہو سکتی تھی کہ امریکی جنرل جاپان کے بادشاہ سے ملاقات کرنے اسکے محل نہیں آئے گا بلکہ شکست خوردہ قوم کا بادشاہ خود چل کر جنرل کے پاس جائے گا۔ کئی دنوں تک بادشاہ اور جنرل کے مابین یہ کشمکش چلتی رہی کہ کون کس سے ملنے جائے گا۔ جنرل نے کہا کہ اسے کوئی جلدی نہیں۔ یعنی اگر بادشاہ نے جنگی جرائم کے ٹرائل سے بچنا ہے تو پھر اسے امریکی جنرل کے پاس خود چل کر جانا ہوگا اور وہی ہوا۔ بادشاہ‘ جس نے پرل ہاربر پر حملے کی منظوری دی تھی جو ایٹم بم کی شکل میں بھیانک نتائج لے کر آیا‘ اب خود جنرل کو ملنے گیا اور شرائط طے کی گئیں۔
جب 27 ستمبر 1945ء کو صبح دس بجے سرخ رنگ کی رولز رائس بادشاہ کے محل سے نکل کر بغیر کسی سکارٹ یا ٹریفک روٹ کے امریکی جنرل کی رہائشگاہ کی طرف جا رہی تھی تو عام جاپانیوں کو علم تھا کہ اس گاڑی میں ان کا بادشاہ امریکی جنرل سے امن کی بھیک مانگنے جا رہا ہے اور جہاں جہاں سے بادشاہ کی سواری گزرتی عام جاپانی گاڑی کو دیکھ کر احتراماً سر جھکا دیتا۔ پورے جاپان میں سرخ رنگ کی گاڑی صرف بادشاہ استعمال کر سکتا تھا۔ بادشاہ کے ساتھ ایڈوائزر کے علاوہ مترجم بھی تھا۔ ایک ڈاکٹر ہر وقت ساتھ رہتا تھا اور اس دن بادشاہ کو ڈاکٹر کی زیادہ ضرورت تھی کیونکہ نوجوان بادشاہ شدید ڈپریشن کا شکار تھا اور اسے یرقان بھی تھا۔ ایک ماہ قبل‘ اگست میں جاپان کے سرنڈر کے بعد سے بادشاہ ٹھیک طرح سو نہیں سکا تھا اور اس دن اس کے ہاتھ معمول سے زیادہ کانپ رہے تھے۔ جنگ کی وجہ سے 15 لاکھ سے زائد جاپانی مارے گئے تھے۔ 80 لاکھ زخمی ہوئے اور 25 لاکھ گھر تباہ ہو چکے تھے۔ ان امریکی حملوں میں B29 سے 1700 بم ٹوکیو شہر پر گرائے گئے جن میں ایک لاکھ جاپانی ایک دن میں مارے گئے اور سوا لاکھ گھر اس بمباری میں تباہ ہوئے۔ اب جنگ ختم ہو چکی تھی لیکن ایک اندازے کے مطابق مزید ایک کروڑ جاپانی خوراک نہ ہونے کی وجہ سے مارے جانے کا خدشہ تھا۔ ٹوکیو کی آبادی جو جنگ سے پہلے 67 لاکھ تھی‘ اب 30 لاکھ پہ آگئی تھی۔ اوساکا اور دیگر شہر معذور فوجیوں سے بھرے ہوئے تھے جبکہ بچے گھر اور والدین کھو چکے تھے۔ ٹرک انسانی لاشوں کو گھسیٹ کر شمشان گھاٹ کی طرف لے جاتے تاکہ آگ کی بھٹی میں جلایا جا سکے۔ رات کو سونے کیلئے انسانوں کا ہجوم سب ویز میں جمع ہوتا جبکہ باہر پارک میں سونیوالے سردی میں جم کر مر رہے تھے۔ بہت سے مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے تھے اور ٹی بی کا مرض وبا کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ اس صورتحال میں بادشاہ امریکی جنرل کو ملنے جا رہا تھا۔ راستے میں ٹریفک روکنے کیلئے کوئی انتظام نہ تھا۔ بادشاہ عام جاپانی کی طرح سفر کر رہا تھا۔ یہ سب امریکی جنرل نے جان بوجھ کر کیا تھا تاکہ بادشاہ اس تک پہنچتے پہنچتے مزید ٹوٹ چکا ہو اور اسے علم ہو جائے کہ اب جاپان کا مالک امریکہ ہے۔ وہ جنرل اب نیا 'جاپانی شوگن‘ تھا۔ یہ بات جنرل سے پوچھی بھی گئی کہ بادشاہ کو سکارٹ کیساتھ لانا ہے تو جواب ملا: نہیں! کوئی سکارٹ نہیں ہو گا۔ جب ایک چوک پر ٹریفک سگنل سرخ ہوا تو بادشاہ کی گاڑی کو اشارے پر رکنا پڑا۔ اس گاڑی یا اس کے پیچھے تین گاڑیوں میں موجود عہدیداروں نے کبھی یہ منظر پہلے نہیں دیکھا تھا کہ بادشاہ کی گاڑی کسی سرخ اشارے پر رکی ہو۔
امریکی جنرل کو جاپان آئے ابھی ایک ماہ ہوا تھا‘ جاپان کے سرنڈر کے دو ہفتے بعد اسے فلپائن کے ہوائی اڈے سے اگست کے آخر میں جاپان بھیجا گیا تھا۔ اس وقت صرف چھ ہزار امریکی فوجی جاپان کا کنٹرول لینے کیلئے بھیجے گئے جبکہ جاپان میں اس وقت بھی دو لاکھ مسلح فوجی موجود تھے۔ جاپان کے بادشاہ کی ریڈیو پر کی گئی سرنڈر اپیل کا اثر ہوا اور سب نے ہتھیار ڈال دیے۔ لیکن اب بھی خطرہ تھا کہ جنگ دوبارہ نہ شروع ہو جائے۔ اس ایک ماہ میں جنرل ڈگلس کو بار بار کہا گیا کہ وہ بادشاہ سے ایک پرائیوٹ ملاقات کر لے کیونکہ ابھی بہت سے معاملات طے کرنا باقی تھے لیکن جنرل نے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ بادشاہ کے آنے کی خبر سن کر جنرل ڈگلس باہر نکلا اور اس نے ''یور میجسٹی‘‘ کہہ کر بادشاہ کو مخاطب کیا جو عام لباس میں ملبوس تھا جبکہ جنرل نے وردی زیب تن کر رکھی تھی۔ جونہی دونوں نے ہاتھ ملایا تو سرکاری فوٹو گرافر نے اس تاریخی موقع پر تین تصویریں کھینچیں۔ اندر ماحول تنائو کا شکار تھا۔ جہاں 65 سالہ جنرل بیٹھنا چاہ رہا تھا وہاں بادشاہ جا کر بیٹھ گیا۔ ماحول کو پُرسکون بنانے کیلئے جنرل ڈگلس نے بادشاہ کو بتایا کہ وہ 1906ء میں اس کے والد سے بھی مل چکا ہے۔ بادشاہ خاموش رہا۔ جنرل نے جیب سے امریکی سگریٹ نکالا اور بادشاہ کو پیش کیا۔ بادشاہ سگریٹ نہیں پیتا تھا لیکن اس نے ماحول کو خوشگوار رکھنے کیلئے سگریٹ لے لیا۔ جب جنرل نے ماچس جلائی تاکہ بادشاہ سگریٹ سلگا سکے تو اس نے محسوس کیا کہ بادشاہ کے ہاتھ اب زیادہ کانپ رہے ہیں۔ جاپانی بادشاہ اور امریکی جنرل کے مابین اب وہ گفتگو ہونے والی تھی جس پر جاپانیوں اور واشنگٹن کی نگاہیں لگی ہوئی تھیں۔ کمرے میں خاموشی کا راج تھا۔ بادشاہ سگریٹ کے کش لے کر دھواں باہر پھینکتا رہا۔ جاپان کے روایتی قہوے کے بجائے ملازم بادشاہ کیلئے کافی لے آیا لیکن بادشاہ نے کافی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ بادشاہ کو خوف لاحق تھا کہ کہیں کافی میں زہر نہ ملایا گیا ہو۔ بادشاہ کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے۔ آخرکار جنرل نے گفتگو شروع کی۔ (جاری)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved