پاکستان کی سیاست میں تحمل‘ برداشت‘ بردباری اور سنجیدگی بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے‘ بلکہ سچ پوچھیں تو ختم ہو چکی ہے۔ یہ سلسلہ آج سے نہیں عشروں پہلے شروع ہوا تھا۔ مخالفین کے نام چوہے‘ آلو اور ڈبل بیرل خان وغیرہ رکھنے کی ابتدا ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی۔ یہ سلسلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا گیا۔ ایک مخالف خاتون سیاسی رہنما کی تحریف شدہ نیم برہنہ تصاویر جہازوں سے پھنکوائی گئیں اور اسمبلی میں ذومعنی‘ قابلِ اعتراض اور گھٹیا نعرے لگوائے گئے۔ اس بازاری پن‘ سوقیانہ رویے اور عدم برداشت کو تحریک انصاف کے نوجوانوں نے مزید تقویت بخشی اور اس کو بامِ عروج پر پہنچا دیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ ہمارا سیاسی نظام تاریخ سے سبق حاصل کرنے اور اس طوفانِ بدتمیزی کو لپیٹنے کے بجائے اسے بڑھاوا دینے پر آیا ہوا ہے۔ ہم لوگ تاریخ سے سیکھنے کے بجائے اسے دہرانے پر یقین رکھتے ہیں۔ اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کیلئے ماضی کی غلطیوں سے عبرت حاصل کرنے کے بجائے انہیں اپنی غلطی کیلئے جواز بناتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم اپنی غلطیاں درست کرنے کے بجائے دہرا رہے ہیں اور ان پر شرمندہ ہونے کے بجائے فخر کرتے ہیں۔ میں نے اب تک کسی سیاسی پارٹی کا کوئی ایک جانثار ایسا نہیں دیکھا جسے اپنے لیڈر میں خرابی اور مخالف سیاسی لیڈر میں کوئی خوبی دکھائی دیتی ہو۔ دوسرے لفظوں میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہر سیاسی ورکر کو اپنے پسندیدہ لیڈر میں روئے ارض پر موجود ہر خوبی اور اپنے ناپسندیدہ لیڈر میں کرۂ ارض کی ہر خرابی دکھائی دیتی ہے۔ اس میں کسی سیاسی پارٹی کی تخصیص نہیں۔ سب کا یہی حال ہے۔ اگر فرق ہے تو صرف عقیدت کے درجے میں ہے۔ کسی کا لیڈر مہاتما ہے تو کسی کا مرشد۔ ہمارے سب کے سب لیڈر اونچے درجے پر فائز معصوم عن الخطا لوگ ہیں۔ باقی رہ گئے گنہگار تو اس بارے میں کسی کی جانب انگلی وہ اٹھائے جو اس کمزوری سے پاک ہو۔ ہمیں اپنے گنہگار ہونے کا اعتراف ہے اور اس کمی کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے معافی اور راہِ راست کی توفیق کے خواستگار ہیں۔
ہر آنیوالا دن اس ملک میں عدم برداشت‘ تحمل سے عاری اور سیاسی و مذہبی حوالوں سے شدت پسندی کی طرف اگلے قدم کی جانب گامزن ہے۔ مکالمہ اور علمی گفتگو عنقا ہو چکی ہے۔ ہم جب کسی سے سیاسی یا مذہبی گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے پیشِ نظر نئی بات سیکھنے‘ اپنے نظریات کو درست کرنے‘ نئے نقطۂ نظر کو سمجھنے یا علم میں اضافہ کرنے کے بجائے فریق ثانی کو شکست دینے‘ رگڑا لگانے اور اسے غلط ثابت کیلئے خم ٹھونک کر میدان میں آنیوالا معاملہ ہوتا ہے۔ ہم گفتگو یا مکالمہ شروع کرنے سے پہلے ہی خود کو سو فیصد درست اور فریقِ ثانی کو سرتاپا گمراہ اور غلط سمجھ کر ابتدا کرتے ہیں‘ اور گفتگو سیکھنے یا سمجھنے کا باعث نہیں بلکہ فتح اور شکست کے پیرائے میں پروان چڑھتی ہے۔
ممکن ہے میں اس سلسلے میں خصوصی طور پر بدقسمت ٹھہرا ہوں تاہم میں نے آج تک دلیل‘ گفتگو‘ بحث اور علم کی بنیاد پر کسی مکالمے کے آخر میں کسی شخص کو اپنے مذہبی یا سیاسی نظریات کو تبدیل کرتے‘ ان میں ترمیم کرتے یا بہتری لاتے نہیں دیکھا۔ تبدیلی ایک حقیقت ہے لیکن یہ پڑھنے یا غور و فکر کرنے کے نتیجے میں تو ہوتے دیکھی ہے لیکن کسی بحث یا مکالمے کا انجام تبدیلی کے بجائے ہمیشہ بدمزگی اور تلخی پر منتج ہوتے ضرور دیکھا ہے۔ ہمارے ہاں ہر نیا دن اس تلخی اور بدمزگی کو بڑھاوا دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ رویہ صرف ہمارے ہاں ہی بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔ وہ ممالک جن میں رہنے والے عوام قوم کے درجے پر فائز ہیں‘ ہماری جیسی سوچ اور گروہ بندی سے کہیں اوپر جا چکے ہیں۔
دور کیا جانا‘ آپ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کو ہی دیکھ لیں۔ اس موقع پر خود وہ ایرانی جو ایران پر حملے سے قبل سڑکوں پر موجودہ حکمرانوں کے خلاف جم کر کھڑے تھے اور سینکڑوں نہیں شاید ہزاروں جانیں قربان کر چکے تھے۔ تب ملک خالد اپنے پرانے اور گھسے پٹے تھیسز کو بڑی شدومد کے ساتھ دوبارہ بیان کر رہا تھا کہ اس سارے خطے میں عرصہ دراز سے برسرِ اقتدار حکمرانوں کے خلاف چلنے والی ساری حالیہ تحاریک امریکی اشیرباد اور سرمائے سے چلی ہیں۔ جس کی تازہ ترین مثال بنگلہ دیشی طلبہ کی تحریک ہے جو بالآخر حسینہ واجد کی آمریت بھری حکومت کے خاتمے پر منتج ہوئی اور اب ایران میں اپنے پورے زور و شور سے چل رہی ہے اور یہ بھی مذہبی شدت پسند حکومت کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ ملک خالد اس بات پر پوری طرح یکسو تھا کہ تیسری دنیا میں چلنے والی اس قسم کے تمام تحریکیں پروپیگنڈا اور سرمائے کے زور پر چلتی ہیں اور یہ کام اس وقت صرف امریکہ ہی کر سکتا ہے۔ ملک خالد کے تجزیے اور سوچ سے اتفاق یا اختلاف سے ہٹ کر بات کریں تو یہ حقیقت ہے کہ جنگ سے پہلے ایران میں اٹھنے والی بے چینی کی لہر جو مظاہروں سے ہوتی ہوئی سینکڑوں ہزاروں ہلاکتوں تک پہنچ گئی تھی‘ اس کے پیچھے محض ہلہ شیری اور اخلاقی مدد سے کہیں زیادہ بڑھ کر باقاعدہ امریکی اور اسرائیلی سرمایہ کاری‘ پروپیگنڈا اور برسوں کی محنت کارفرما تھی۔ ایسی تحریکوں میں شامل ہونے والوں کی اکثریت کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے کون ہے اور اس کے اصل مقاصد کیا ہیں۔ اکثریت ان مخلص لوگوں کی ہوتی ہے جو اسے قومی یا مذہبی فریضہ سمجھ کر نہایت اخلاص اور صمیم قلب سے درست جانتے ہوئے اس کا صرف حصہ ہی نہیں بنتے بلکہ ہراول دستے کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
ایران میں بھی یہی کچھ چل رہا تھا مگر اسرائیل اور امریکہ نے اس پر مشترکہ حملہ کر دیا۔ ایرانیوں نے ہماری طرح موقع غنیمت جان کر اپنے بغض اور نفرت کو موقع ملنے پر استعمال کرنے کے بجائے اس موقع پر حکومت سے اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سڑکوں سے گھر کی راہ لی۔ صدر ٹرمپ کو یقین کامل تھا کہ ادھر وہ اوپر سے میزائل حملہ کرے گا اور ادھر نیچے عوام کی بارودی سرنگ سب کچھ اڑا کر رکھ دے گی۔ امریکہ منصوبہ سازوں کو یقین تھا کہ ان کے حملے کے ساتھ ہی ایرانیوں کا جم غفیر سڑکوں پر آ جائے گا۔ بقول شخصے ایرانی جم غفیر امریکی صدر کی توقع کے عین مطابق سڑکوں پر تو نکلا لیکن ملائیت کے بجائے ''مرگ بر امریکہ‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے نکلا۔
ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ میری بیرونِ ملک اپنے پاکستانی دوستوں سے اس ایک بات پر درجنوں بار بحث ہو چکی ہے کہ ہم پاکستان سے باہر صرف پاکستانی بن کر کیوں نہیں سوچتے؟ ہم پاکستانی بننے کے بجائے اپنی پہچان اپنی سیاسی پارٹی کے حوالے سے بنانے پر کیوں مُصرہیں۔ آپ لوگوں نے رہنا یہاں ہے اور سیاست پاکستان کی کر رہے ہیں۔ بھارتی بھی تو اسی ملک میں رہتے ہیں۔ وہ بھی کسی نہ کسی سیاسی پارٹی سے‘ کسی لیڈر سے یا کسی نظریے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن بھارت سے باہر وہ اپنے اپنے سیاسی نظریے یا پارٹی پسندیدگی سے قطع نظر اس ملک میں صرف اور صرف بھارتی بن کر رہتے ہیں اور اپنی ملکی لیڈر شپ کے دورے کے دوران اس سے لاکھ سیاسی اختلافات کے باوجود اس کے جلسے میں جاتے ہیں‘ اس کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ اسے کسی بھارتی سیاسی پارٹی کا نمائندہ سمجھنے کے بجائے اپنے ملک کا سربراہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ بھارتی تارکین وطن کے پاس دہری شہریت کی سہولت بھی نہیں لیکن وہ اس کے باوجود اپنے ملک کے سربراہان کی عزت و آبرو کو اپنی ذاتی پسند و ناپسند کو ترجیح دیتے ہیں۔ آخر ہم یہ کیوں نہیں کر سکتے؟ سیاسی اختلافات وہاں ختم ہو جانے چاہئیں جہاں ملکی وقار کا معاملہ آ جائے۔ اللہ جانے ہم یہ بات کب سمجھیں گے کہ دنیا میں بہت سی چیزیں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوتی ہیں اور ملکی عزت و وقار کے بارے میں اپنی ذات سے اوپر جا کر سوچنا ہی وطن سے حقیقی محبت ہے۔ سیاسی لڑائی کیلئے بہت وقت پڑا ہے۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved