تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     02-04-2026

نسیم شاہ اور حکومت

نسیم شاہ کا تو کچھ بگڑنا سنورنا نہیں تھا۔ اگر کچھ بگڑنا تھا تو حکومت کا اور اگر سنورنا تھا تو حکومت کا۔ حکومت نے بگاڑ کا انتخاب کیا۔
آدابِ حکمرانی پر بہت کتابیں لکھی گئیں۔ چانکیہ کی 'ارتھ شاستر‘ اور میکیاولی کی 'پرنس‘ کا ذکر بہت ہوتا ہے۔ مسلم روایت میں بھی بہت اہم کتب لکھی گئیں‘ جیسے امام ابویوسف کی 'کتاب الخراج‘۔ نظام الملک طوسی کی 'سیاست نامہ‘۔ ابن خلدون نے تاریخ کے مقدمے میں بھی اس کو موضوع بنایا۔ ایک طویل فہرست ہے‘ جس کا احاطہ اس وقت مقصود نہیں۔ ان کتابوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اُن اخلاقی تعلیمات کی روشنی میں لکھی گئی ہیں اسلام اربابِ اختیار سے جن کی پابندی کا مطالبہ کرتا ہے۔ امام ابو یوسف اور نظام الملک طوسی نے تو اپنے وقت کے حکمرانوں کی خواہش‘ ضرورت اور فرمائش پر کتابیں لکھیں اور واقعہ یہ ہے کہ اِنذار اور خیر خواہی کا حق ادا کیا۔ یہ کتب مسلم حکمرانوں اور اہلِ علم دونوں کی عظمت پر دلیل ہیں۔ چانکیہ‘ چندر گپت موریا کے وزیر تھے جو موریا سلطنت کے بانی تھے۔ نظام الملک بھی وزیر تھے۔ دونوں کے زاویۂ نظر میں وہی فرق ہے جو اسلام کے اخلاقیات اور غیر مذہبی اخلاقیات میں ہے۔
تاریخ اور ان کتب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب حکمرانی کا پہلا لازمہ اچھے مشیروں کا انتخاب ہے۔ اچھے مشیروں میں دو خوبیاں ناگزیر ہیں: علم اور اخلاق۔ ہارون الرشید نے اگرچہ نظامِ مالیات اور امورِ سلطنت کے عملی پہلوئوں سے متعلق راہنمائی کی درخواست کی تھی مگر امام ابویوسف صاحب نے ضروری سمجھا کہ اپنی بات کا آغاز انذار سے کریں۔ حاکمِ وقت کو یہ توجہ دلائیں کہ اسے اپنے پروردگار کے حضور میں حاضر ہونا اور اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہونا ہے۔ یہی کام نظام الملک نے بھی کیا۔ حکمرانوں کی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اس نصیحت کا خیر مقدم کیا۔ ان کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ انہوں نے مشورے اور نصیحت کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس کارِ خیرکے لیے ان افراد کا انتخاب کیا جو اس کے اہل تھے۔
ان اہلِ علم و بصیرت نے اپنے حکمرانوں کو جو نصیحت کی اس میں سب سے اہم یہ تھی کہ کامیاب حکمرانی کے لیے درگزر کرنا لازم ہے۔ اچھے حکمران چھوٹی چھوٹی باتوں سے صرفِ نظر کرتے اور اپنی نظر اعلیٰ مقاصد پر رکھتے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو بے قابو نہیں ہونے دیتے۔ وہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبو ط رکھتے ہیں لیکن یہ جانتے ہیں کہ کہاں ریاست کی قوت استعمال کرنی ہے اور کہاں معافی و درگزر سے کام لینا ہے۔ اشتعال میں آ جانے اور اس کے زیرِ اثر فیصلے کرنے والے حکمرانوں کا مقدر صرف ناکامی ہے۔ قاضی ابویوسف نے سیدنا عمرؓ جیسے کامیاب حکمرانوں کے آثار نقل کیے ہیں کہ انہوں نے ٹیکس وصول کرنے والے عُمال کو بھی لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنے کی تلقین کی۔
حکمرانی ایک طرف ریاست کی رٹ قائم کرنے کا نام ہے اور دوسری طرف عوام کو یہ پیغام دینا بھی ضروری ہوتا ہے کہ حکمران لوگوں کے ہمدرد اور ان سے محبت کرنے والے ہیں‘ ان پر سختی کرنے والے نہیں۔ ان دونوں میں توازن قائم کرنے ہی سے اچھی حکومت وجود میں آتی ہے۔ حضرت معاویہؓ کا شمار انسانی تاریخ کے کامیاب ترین حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اس کا راز اس طرح کھولا کہ حکمران اور عوام ایک دھاگے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ 'عوام کھینچتے ہیں تو میں اسے ڈھیلا چھوڑ دیتا ہوں۔ وہ ڈھیلا چھوڑتے ہیں تو میں کھینچ لیتا ہوں‘۔ ان ہی کا ایک واقعہ نظام الملک طوسی نے بیان کیا ہے جو تاریخ کی دیگر کتب میں بھی درج ہے۔ ایک شخص نے بھرے دربار میں ان سے کہا کہ وہ ان کی بیوہ ماں سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ اس بے ادبی کے ساتھ کچھ نازیبا الفاظ بھی کہے جو نظام الملک نے لکھا کہ میں نقل نہیں کر سکتا۔ سیدنامعاویہؓ نے اپنے جذبات پر قابو رکھا اور ایک مناسب جواب کے ساتھ بات کو ختم کر دیا۔
ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ حکمران اچھے مشوروں کے لیے اچھے مشیروں اور وزیروں کا انتخاب کرتے تھے۔ دورِ حاضر میں تھنک ٹینک بنائے جاتے ہیں یا پھرٹاسک فورس۔ میرا خیال ہے کہ یہ ادارے روایتی مشیروں کا متبادل نہیں ہیں۔ یہ ادارے فنی نوعیت کی سفارشات پیش کرتے ہیں جن کا تعلق پالیسی سے ہوتا ہے‘ حکمرانی کی روح اور اخلاقیات سے نہیں۔ حکمرانوں کو ایسے لوگوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے جو انہیں نصیحت کریں اور یہ مشورہ دیں کہ کس موقع پر کیا ردِعمل دینا ہے‘ کس موقع پر خاموشی بہتر ہے‘ کہاں ریاست کی طاقت استعمال ہونی چاہیے اور کہاں درگزر میں خیر ہے۔
اگر آج ایسا کوئی ناصح یا ادارہ موجود ہوتا تو نسیم شاہ کے معاملے میں حکومتی ردِعمل وہ نہ ہوتا جو ہوا۔ اچھا مشیر درگزر کا مشورہ دیتا۔ نسیم شاہ کی حرکت کے غیر مناسب ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کھلاڑیوں کو معاہدات اور آداب کی پابندی کرنی چاہیے۔ میرے نزدیک اگر معاملہ قانون کی عمومی خلاف ورزی اور اخلاقیات سے متعلق ہے تو اس پر سخت اقدام کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر رشوت میں ملوث ہونے پر بعض کھلاڑیوں کے خلاف سخت فیصلے کیے گئے۔ ایسے معاملات میں یہی کیا جا نا چاہیے تھا۔ لیکن اگر معاملہ کسی ریاستی منصب دار کی ہتک کا ہے تو اس پر تنبیہ کر کے چھوڑ دینا بہتر ہوتا۔ اگر مریم نواز صاحبہ کی طرف سے کرکٹ بورڈ سے یہ کہا جاتا کہ وہ اس معاملے میں نرمی سے کام لے تو اس سے ان کی عزت میں اضافہ ہوتا۔ پھر اخلاقی دباؤ نسیم شاہ پر ہوتا۔ ایک سخت فیصلے نے یہ دباؤ حکومت کی طرف منتقل کر دیا ہے۔
طاقت رکھتے ہوئے‘ جب ہم اس کے استعمال سے گریز کرتے ہیں تو اس سے طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ حکمرانوں کی اصل طاقت اخلاقی ہوتی ہے۔ یہی عوام کے دلوں میں محبت پیدا کرتی ہے۔ عوامی لیڈر اس طاقت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جمہوریت کی روح بھی یہی ہے۔ یہ آمر ہیں جو طاقت سے عوام کو خوفزدہ کرتے اور اپنا اقتدار قائم رکھتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں لوگوں میں جونفرت پیدا ہوتی ہے‘ وہ ایک دن ان کے زوال کا باعث بن جاتی ہے۔ حالیہ تاریخ میں بنگلہ دیش کی حسینہ واجد اس کی ایک مثال ہیں۔ کہاں مطلق العنانیت اور کہاں یہ حال کہ اپنے ملک کی زمین پر قدم نہیں رکھ سکتیں۔
میرا احساس ہے کہ آج کے حکمرانوں کو بھی امام ابویوسف اور نظام الملک طوسی جیسے خیر خواہوں کی اشد ضرورت ہے۔ اخلاق اور علم کو نظر انداز کر کے اگر مصاحبین کا انتخاب کیا جائے گا تو اس کا نقصان ہو گا۔ ہمارے دین میں بھی حکمرانوں سے تعلق کی اساس خیر خواہی ہے۔ خیر خواہی یہ ہے کہ انہیں غلط اور صحیح کے بارے میں بتایا جائے۔ انہیں خدا کے ہاں جوابدہی کا احساس دلایا جائے اور یہ سمجھایا جائے کہ اچھی حکمرانی کے آداب کیا ہیں۔ پنجاب حکومت کو پرویز رشید صاحب جیسے مزید خیر خواہوں کو مجلسِ مشاورت میں شامل کرنا چاہیے جو دنیاوی سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر صحیح مشورہ دے سکتے ہیں۔
مریم نوازصاحبہ نے بطور وزیراعلیٰ جس حسنِ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس کا اعتراف مخالفین کو بھی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کارکردگی کے باب میں ان کا کسی وزیراعلیٰ سے کوئی موازنہ نہیں۔ اس امتیاز کو مہنگے جہاز کی خریداری اور نسیم شاہ جیسے واقعات گہنا دیتے ہیں۔ جو ناصح انہیں اس جانب متوجہ کر ے گا‘ وہی ان کا حقیقی خیر خواہ ہو گا۔ مریم نواز صاحبہ کو ایسے لوگ تلاش کرنے چاہئیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved