تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     02-04-2026

ادھر سے گزرا تھا ملکِ سخن کا شہزادہ

میں انانی بیچ‘ کاکس بازار‘ بنگلہ دیش میں رات کے گھپ اندھیرے میں مردوں عورتوں کے ایک ہجوم میں کھڑا آگ سے کھیلنے والوں کا تماشا دیکھتا تھا۔ چھ سات بالائی تن برہنہ نوجوان لمبی لمبی مشعلیں اٹھائے ہوئے تھے۔ کچھ کے ہاتھوں میں لمبے لمبے بانس تھے جن کے دونوں سروں پر آگ جلتی تھی۔ گہرے اندھیرے میں صرف آگ کی روشنی تھی۔ ان میں سے کبھی کوئی منہ میں پٹرول بھر کر آگ پھونکتا تو اس کا زور دار شعلہ دور تک جاتا اور آتشی لپٹوں میں ایک دو لمحوں کیلئے مردوں عورتوں کے متحیر اور خوفزدہ چہرے تاریکی میں دکھائی دے جاتے۔ وہ مشعلیں اور دو آتشہ بانس جسم کے ارد گرد تیزی سے گھماتے‘ دائیں بائیں لہریے بناتے اور اچھال کر دوبارہ پکڑ لیتے۔ میں ساحلِ سمندر پر یہ تماشا دیکھتا تھا اور میرا ذہن ہزاروں میل اور نصف صدی کا فاصلہ طے کرکے سمن آباد موڑ‘ لاہور پر کھڑا بازی گروں کا تماشا دیکھتا تھا۔ یہ تماشا باز مہینے میں ایک دو بار ہمارے محلے میں آتے تھے۔ وہ نہایت تنگ لوہے کے کڑوں سے گزرتے‘ اونچی چھلانگیں لگاتے‘ مشعلیں جسم کے گرد گھماتے اور منہ میں مٹی کا تیل بھر کر آگ کے شعلے پھونکتے تھے۔ یہ خطرناک کھیل تھے لیکن کچھ لوگوں کا رزق آگ سے کھیلنے ہی سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ غلط صحیح کون دیکھے‘ بس لوگوں کی توجہ اور پیسے کمانے ہوتے ہیں۔ تماشا باز شعلہ زبان مقرروں کو دیکھ لیجیے۔
ہوٹل سے کچھ دور ایک جیٹی دور تک سمندر کے اندر چلی گئی تھی‘ جس پر آپ خلیج بنگال کے نیلے سبز پانیوں کے اوپر چل سکتے تھے‘ بیٹھ کر گول گپے کھا سکتے تھے اور یادگار تصویریں بنا سکتے تھے۔ لیکن نرم ریت ہمیں اپنی طرف بلاتی تھی۔ ساحل پر ننگے پاؤں نرم ریت کے لمس سے بہتر لمس کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ کبھی کبھی کوئی چنچل لہر آپ کو بھگونے کیلئے آجائے تو جی چاہتا ہے کہ اس کی شوخی رد نہ کی جائے۔ کپڑوں سمیت خود کو اس کے سپرد کر دیں۔ کاکس بازار کی اس بھیگتی بھگوتی یادگار شام سے ملنے ہی تو میں اتنی دور سے آیا تھا۔ مجھے تو کب سے اسی منظر کا انتظار تھا جب آسمان پر آتشی گول ٹکیہ دھیرے دھیرے افق کی طرف جھکتی چلی جاتی ہے اور اس کا رنگ نارنجی‘ احمریں اور قرمزی رنگوں میں تبدیل ہوتا جاتا ہے۔ اس کے بدلتے زاویوں کے ساتھ خلیج بنگال کا پانی اپنے رنگ بدلتا ہے اور ہر لمحہ ایک نیا منظر آپ کے سامنے آتا ہے۔ جب دل کو یقین ہو کہ یہ منظر قدرت نے زمین کی تاریخ میں پہلی بار تشکیل دیا ہے اور یہ آخری بار بھی ہے‘ اس کے بعد بعینہ یہ منظر نہیں ہو گا بلکہ کوئی نیا منظر سامنے ہو گا تو آپ کوشش کرتے ہیں کہ ان لمحات کو آنکھوں میں زیادہ سے زیادہ قید کر لیں۔ میں نرم گیلی ریت پر کھڑا ڈوبتے سورج کی طرف رخ کیے پانی پر کرنوں کا رقص دیکھتا تھا۔ حدِ نظر تک سمندر میں رنگوں کا باغ کھِلا ہوا تھا۔ لہریں ساحل کی طرف آتیں تو یہ باغ ان میں ہلکورے لیتا تھا۔ غالب کا کیا کمال مصرع ہے جو اس وقت سمندر کے گلال چہرے پر صادق آتا تھا '' چہرہ فروغِ مے سے گلستاں کیے ہوئے‘‘۔ یہ منظر مبہوت کن تھا اور نہ اسے کہیں قید کیا جا سکتا تھا نہ یہ بیان کی گرفت میں آ سکتا تھا۔ کیمرے کی تو خیر بساط ہی کیا ہے‘ آنکھیں بھی اسے پورا محفوظ نہیں کر سکتی تھیں۔
کاکس بازار میں ہم دو دن مختلف ساحلوں پر گھومے‘ داب (کچے ناریل) کا ٹھنڈا پانی پیا۔ فشکا یعنی گول گپے کھائے۔ کچے آم کی مسالے دار انارکلی (ایک قسم کی چاٹ) چکھی۔ اندازہ ہوا کہ بنگالی مرچ مسالوں اور کھٹ مٹھے کے بڑے رسیا ہیں۔ اہلِ بنگال جتنی قسم کی مچھلی جس جس طرح پکاتے ہیں‘ وہ ہمارے لیے بالکل الگ ذائقوں کی دنیا ہے۔ میرے ہمراہی حذیفہ کو داد بھی اور اس کا شکریہ بھی کہ اس نے میری پسند پہچان لی تھی اور اب اسے بتانے کی ضرورت کم کم ہی تھی۔ دو یادگار دنوں کے بعد 12 جنوری کو جب ہم ناشتے کے بعد چٹاگانگ کیلئے نکلے تو لمبے راستے کی ذرا سی فکر تھی۔ ہم انانی بیچ پر تھے اور پہلے ہمیں ڈیڑھ گھنٹے دور کاکس بازار شہر میں اپنی بس کے دفتر پہنچنا تھا۔ اور پھر بس پر پانچ گھنٹے دور چٹاگانگ کا سفر۔ انانی بیچ سے کاکس بازار کا اصل راستہ نہایت خراب تھا لیکن بڑی حیرت کے ساتھ دیکھا کہ ہوٹل کی شٹل بس نے کوئی اور راستہ اختیار کیا جو اگرچہ کافی لمبا تھا لیکن سڑک قدر ے بہتر تھی۔ یہ راستہ بستیوں اور آبادیوں سے گزرتا تھا۔ غریب بستیاں جن میں لُنگی اور بنیان پہنے مرد اور ساڑھیاں پہنے دیہاتی خواتین کام کرتی نظر آتی تھیں۔ چھالیہ‘ آم‘ کیلے اور ناریل کے درختوں کے جھنڈ جگہ جگہ تھے۔ دھان کے کھیتوں میں ٹخنوں تک پانی کھڑا تھا اور ان کے اطراف چھوٹے قد کی بنگال نسل کی گائیں چرتی تھیں۔ ایک چھوٹا سا کچا گھر آنکھوں نے محفوظ کر لیا جو دھان کنارے تھا۔ اس پر کیلے‘ آم‘ ناریل اور چھالیہ کے پیڑ اس طرح سایہ کرتے کہ بے اختیار جی چاہتا تھا کہ کچھ دیر اس گھر کی فضا میں سانس لیں‘ مٹی کے کٹورے میں ٹھنڈا پانی پئیں اور بے فکری سے گزرتی بسوں کو اس طرح دیکھیں جیسے اس وقت اس گھر کے مکین ہمیں دیکھتے تھے۔
دو گھنٹے بعد ہم کاکس بازار کی ایک مصروف سڑک پر اترے۔ یہاں اس بس کا دفتر تھا جو ہمیں چٹاگانگ لے جائے گی۔ ابھی کچھ دیر تھی سو تازہ دم ہونے‘ کافی پینے اور اپنا کالم اخبار کو بھیجنے کا وقت مل گیا۔ چٹاگانگ کے علاوہ یہیں سے ڈھاکہ کے نو گھنٹے لمبے سفر کیلئے رات کو وہ بسیں بھی چلتی تھیں جن میں سونے کا انتظام تھا۔ چٹاگانگ کیلئے ہماری یہ بہت آرام دہ لگژری بس تھی جس میں نیم دراز ہونے کی گنجائش موجود تھی۔ یہ سفر میرے لیے نیا تھا سو وقت ان بستیوں کے نام پڑھتے اور راستے کو آنکھوں میں جذب کرتے گزرا۔ ڈھائی تین گھنٹے بعد بس ایک آرام گاہ پر رکی۔ کھانے پینے کے بیچ معلوم ہوا کہ اس جگہ کا نام لوہا گرہ ہے۔ یہ نام ذرا منفرد سا لگا۔ بتایا گیاکہ یہ جگہ تاریخی ہے۔ حوالے ڈھونڈے تو لگ بھگ چار سو سال پہلے کے منظر روشن ہونے لگے۔ 1660ء کے قریب شاہ جہاں کے چاروں بیٹوں کی جنگ ہوئی تو شہزادہ شجاع اورنگزیب سے شکست کھا کر بنگال کی طرف بھاگا۔ ایران کا راستہ بند تھا اور قندھار غیرمحفوظ‘ اس لیے شجاع کو واحد پناہ گاہ برما کی طرف نظر آئی۔ شجاع خود بھی شاہ جہاں کے دور میں بنگالہ‘ بہار‘ اُڑیسہ کا صوبیدار رہا تھا۔ سو اس نے اراکان صوبے میں جانے کیلئے کاکس بازار کا یہی راستہ اختیار کیا۔ لیکن اورنگزیب کا فوجی سالار اور بنگالہ کا صوبیدار میر جملہ ثانی شجاع کے تعاقب میں تھا اور اسے زیادہ ٹھہرنے کی مہلت نہ دیتا تھا۔ لوہا گرہ کے خوبصورت مقام پر شجاع نے چند دن قیام کیا۔ اسے یہ جگہ اچھی لگی اور اس نے رخصت کے وقت یہاں آہنی تختی یادگار کے طور پر نصب کروائی۔ اسی وقت سے تختی کے نام پر یہ جگہ لوہا گرہ کہلاتی ہے۔ سعود میاں! کلاہِ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی۔ فرار ہوتے شہزادے میں جو بادشاہی مزاج تھا‘ اسے کون نکال سکتا تھا۔
مجھے ہمیشہ شاہ شجاع کے انجام پر دکھ محسوس ہوتا رہا۔ داراشکوہ کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا لیکن جہانگیر کا محبوب پوتا اور نور جہاں کا پروردہ شجاع تاریخ میں گم ہو گیا۔ وہ اگست 1660ء میں اراکان کے بادشاہ کے پاس پہنچا لیکن بادشاہ کی نظر شہزادے کے مال و زر پر بھی تھی اور اس کی بیٹیوں پر بھی۔ اراکانیوں کی غداری اور بے وفائی نے شجاع کی زندگی کا بھی اسی زمین پر خاتمہ کردیا اور اس کے بیٹے بیٹیوں کا بھی۔ اورنگزیب نے انتقام کیلئے اراکان پر چڑھائی کی اور بادشاہ کو قتل کروا دیا لیکن شجاع اور اس کی اولاد تاریخ سے مٹ چکی تھی۔ صرف لوہا گرہ کا نام رہ گیا جہاں اب سیاح کھانے کھاتے‘ کافی پیتے ہیں اور یہ جانے بغیر گزر جاتے ہیں کہ ایک شہزادہ ادھر سے گزرا تھا۔ شکیب جلالی! کیا شعر ہے آپ کا:
ادھر سے گزرا تھا ملکِ سخن کا شہزادہ
کوئی نہ جان سکا ساز و رخت ایسا تھا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved