بادشاہ کے آنے سے پہلے جنرل ڈگلس کمرے میں فرنیچر کو آگے پیچھے کرتا رہا کہ وہ کہاں بیٹھے گا اور شاہی مہمان کو کہاں بٹھائے گا۔ اس نے وہاں فائر پلیس کے سامنے ایک کرسی بھی رکھوا دی کہ اگر بادشاہ کو مترجم کی ضرورت پڑے تو وہ وہاں بیٹھ جائے گا۔ جنرل کا خیال تھا کہ بادشاہ اپنے ساتھ مترجم لائے گا تاکہ وہ جتنی دیر میں اس کی گفتگو کا ترجمہ کرے گا‘ بادشاہ کو جواب سوچنے کیلئے چند لمحے مل جائیں‘ لہٰذا مترجم کا وہاں موجود ہونا اس کیلئے فائدہ مند تھا۔ جنرل کا یہ بھی خیال تھا کہ بادشاہ کو اچھی انگریزی آتی ہے کیونکہ وہ امریکہ سے پڑھا ہوا تھا‘ تاہم اسے برسوں بعد پتا چلا کہ جس دشمن سے وہ چار سال سے جنگ لڑ رہا تھا‘ اس کے بارے میں اس کے پاس مکمل معلومات بھی نہیں تھیں۔ دراصل بادشاہ کا چھوٹا بھائی برطانیہ میں پڑھتا تھا اور وہ فر فر انگریزی بولتا تھا۔ جنرل ڈگلس کو غلط فہمی ہوئی تھی۔
جنرل کو اپنی تصویروں سے بہت لگاؤ تھا لہٰذا اس نے جنگ کے دوران بھی ایک کیمرہ مین ساتھ رکھا ہوا تھا جو ہر جگہ اس کی تصویریں لیتا پھرتا تھا۔ جنرل ایک حد تک تھیٹر نما شخصیت کا مالک تھا جسے پسند تھا کہ ہر موقع پر اس کی تصویریں لی جائیں اور وہ شاندار نظر آئے۔ چنانچہ اس موقع پر جب جاپان کا بادشاہ اس سے ملنے آ رہا تھا تو اس نے اپنا کیمرہ مین پہلے ہی تیار رکھا۔ جونہی بادشاہ اندر آیا تو جنرل ڈگلس نے اس سے ہاتھ ملایا اور کیمرہ مین نے فوراً تین تصویریں کھینچ لیں۔ جنرل ڈگلس اکیلے بیٹھنا چاہ رہا تھا تاکہ بادشاہ اپنے مترجم کے ساتھ بیٹھے لیکن بادشاہ اُس اکیلی کرسی پر جا بیٹھا جو جنرل نے اپنے لیے مخصوص کر رکھی تھی‘ جس پر جنرل کا موڈ خراب ہوا۔
دونوں کے درمیان 45منٹ تک گفتگو ہوتی رہی۔ اس دوران جاپانی مترجم نے بہت کم نوٹس لیے۔ مترجم کا بنیادی کام یہ تھا کہ بادشاہ جو کچھ کہہ رہا تھا اسے درست اور شائستہ انگریزی میں ترجمہ کر کے پیش کرے اور اس انداز میں کرے کہ کہیں سے یہ تاثر نہ ملے کہ کوئی نامناسب بات کہی گئی ہے۔ وہی بات انگریزی میں جنرل کو بتائی جائے جو یہاں آنے سے پہلے محل میں ہونے والی ایک میٹنگ میں طے کی گئی تھی کہ جنرل سے کیا گفتگو کرنی ہے۔ مترجم کو اس سے ہٹ کر کچھ کہنے کی اجازت نہیں تھی‘ چاہے بادشاہ موقع پر کوئی ایسی بات کہہ دیتا جس کا تاثر اچھا نہ نکلتا۔ بعد میں اس کی ایک کاپی فارن منسٹری کو بھیجی گئی اور ایک بادشاہ کی ذاتی فائل میں محفوظ کر دی گئی۔ اگرچہ بادشاہ اور جنرل ڈگلس کے مابین یہ طے ہوا تھا کہ ان کی گفتگو مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی لیکن برسوں بعد جنرل ڈگلس نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ بادشاہ نے کہا کہ جو کچھ ہوا‘ وہ اس کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں کیونکہ وہ جاپان کے بادشاہ ہیں اور یہ سب ان کے فیصلے تھے۔ جاپان کے سیاسی حکمرانوں کے تمام فیصلوں کی ذمہ داری بھی بادشاہ نے خود قبول کی۔ بادشاہ نے ایک اور اہم بات یہ کہی کہ جہاں تک میری زندگی کا تعلق ہے‘ آپ میرے بارے میں جو بھی فیصلہ کریں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں ان تمام فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں جو میں نے یا دیگر ذمہ دار افراد نے جاپان کے نام پر جنگ میں کیے۔ جنرل ڈگلس جاپان کے نوجوان بادشاہ کی یہ گفتگو سن کر بہت متاثر ہوا۔ موت سامنے کھڑی ہو اور انسان سب کچھ اپنی ذمے لے لے‘ یہ ایک غیرمعمولی بات تھی۔ بادشاہ جھوٹ بول کر جان بچانا نہیں چاہتا بلکہ ایک بڑے حکمران کی طرح عزت اور وقار کے ساتھ اپنے فیصلوں بلکہ امریکی نقطہ نظر سے ''جنگی جرائم‘‘ کا اعتراف کر رہا تھا۔
برسوں بعد جنرل ڈگلس نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ جس طرح نوجوان بادشاہ نے سب ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی تھی کہ جو کچھ بھی جنگ میں غلط ہوا (خاص طور پر پرل ہاربر حملہ جس میں تین ہزار امریکی فوجی اور سویلین مارے گئے تھے) اس کا ذمہ دار کسی اور کو نہیں بلکہ براہِ راست بادشاہ کو سمجھا جائے‘ یہ ایک غیر معمولی اعتراف تھا۔ جنرل ڈگلس کے مطابق اسے لگا کہ وہ نوجوان بادشاہ جاپان کا پہلا جنٹلمین تھا‘ تاہم اس ملاقات کے تقریباً تیس سال بعد جاپان کے ایک میگزین نے بادشاہ کے مترجم کے نوٹس شائع کیے جن میں اس اعتراف کا کوئی ذکر نہیں تھا کہ بادشاہ نے مکمل ذمہ داری قبول کی تھی۔ یہ پڑھ کر جاپانی عوام مایوس ہوئے کہ بادشاہ نے امریکی جنرل کے سامنے اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ جاپانیوں کا خیال تھا کہ مترجم اتنی اہم بات کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا کہ اسے نوٹس میں درج ہی نہ کرے۔ اس کا مطلب یہ لیا گیا کہ جنرل ڈگلس نے اپنی یادداشتوں میں جو کچھ لکھا‘ وہ شاید خود ہی بادشاہ کی طرف منسوب کر دیا تھا۔ یہی تضاد اس پوری کہانی کو مشکوک بناتا ہے۔ اس ملاقات کے بعد جنرل ڈگلس اور بادشاہ خوشگوار موڈ میں کمرے سے باہر نکلے۔ بادشاہ نے جنرل کے ساتھ اپنے ساتھیوں اور مشیروں کا تعارف کرایا اور پھر سرخ رنگ کی شاہی گاڑی میں بیٹھ کر واپس محل روانہ ہو گیا۔
واپسی کے سفر میں سکون کا سانس لیتے ہوئے بادشاہ کو 1941ء میں پرل ہاربر حملے سے تین ماہ پہلے کی ایک میٹنگ یاد آئی جس میں امریکی اڈے پر حملے کے بارے میں جاپانی فوجی قیادت نے تفصیلی بریفنگ دی تھی۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ کس طرح اچانک حملہ کر کے امریکہ کی طاقت کو کمزور کیا جائے گا اور جنوب مشرقی ایشیا پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ بادشاہ نے اپنے آرمی چیف سے پوچھا تھا کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ جنرل نے جواب دیا تھا کہ تین ماہ میں جنوب مشرقی ایشیا فتح ہو جائے گا۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا‘ تین ماہ اور ایک ہفتے میں جاپان نے اس خطے پر قبضہ کر لیا۔ لیکن جنرل نے یہ نہیں بتایا تھا کہ امریکہ کو مکمل شکست دینے میں کتنا وقت لگے گا۔ اس پر بادشاہ نے اسے یاد دلایا تھا کہ 1937ء میں چین کے ساتھ جنگ کے وقت بھی جنرل نے کہا تھا کہ ایک ماہ میں جنگ ختم ہو جائے گی مگر چار سال گزرنے کے باوجود 1941ء میں بھی وہ جاری تھی۔ اس پر آرمی جنرل نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک بہت بڑا ملک ہے‘ جس پر بادشاہ کو غصہ آ گیا۔ اس نے کہا: اگر تم چین کے دور دراز دیہاتی علاقوں کو وسیع سمجھتے ہو تو پھر بحرالکاہل اس سے بھی کہیں زیادہ بڑا ہے۔ جنرل شرمندہ ہو گیا۔ بادشاہ کو تسلی دی گئی کہ جیسے ہی جاپان کو امریکہ پر برتری حاصل ہو گی‘ پہلی ترجیح سفارتی رابطے کے ذریعے معاملات طے کرنا ہو گی۔ لیکن اب بادشاہ کو احساس ہو رہا تھا کہ اس کے وزیروں نے اس سے سچ نہیں بولا تھا۔
یہ سب کچھ یاد کرتے ہوئے جنرل ڈگلس سے ملاقات کے بعد واپسی پر بادشاہ کا موڈ خوشگوار تھا۔ ملاقات سے پہلے جو دباؤ اور ذہنی تناؤ تھا‘ وہ ختم ہو چکا تھا اور غیر معمولی طور پر وہ گاڑی میں زیادہ گفتگو کرنے لگا۔ اس رات بھی وہ معمول سے ہٹ کر سکون سے سویا۔ اب بادشاہ کو اس ملاقات سے یہ اطمینان ہو گیا تھا کہ کم از کم نہ اسے گرفتار کیا جائے گا اور نہ ہی اس پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلے گا۔ لیکن بادشاہ کو یہ علم نہیں تھا کہ جب وہ جنرل ڈگلس کے ساتھ کمرے میں مترجم کے ذریعے گفتگو کر رہا تھا تو پردے کے پیچھے دو افراد چھپ کر ان کی باتیں سن رہے تھے۔ ایک جنرل ڈگلس کی بیوی تھی اور دوسرا ایک اور اہم شخص۔ ان دونوں کو خود جنرل ڈگلس نے اجازت دی تھی کہ وہ چھپ کر یہ گفتگو سن سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر جنرل ڈگلس نے اپنی بیوی کو پردے کے پیچھے چھپ کر یہ گفتگو سننے کی اجازت کیوں دی؟ بیوی کی موجودگی تو کسی حد تک قابلِ فہم ہے لیکن وہ دوسرا شخص کون تھا جو پردے کے پیچھے چھپ کر سب کچھ سن رہا تھا؟ بادشاہ کو 45منٹ تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کمرے میں تین نہیں بلکہ پانچ افراد موجود تھے۔ چوتھی تو جنرل ڈگلس کی بیوی تھی‘ مگر وہ پانچواں شخص کون تھا؟ (جاری)
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved