تحریر : بابر اعوان تاریخ اشاعت     03-04-2026

مڈل ایسٹ پاور گیم کا نیا باب

مغربی ایشیا میں پاور گیم بدل نہیں رہی بلکہ بدل چکی ہے۔ صرف ایک سال کے مختصر عرصے میں ایران پر اسرائیل امریکن حملہ سیزن ٹُو نے مشرقِ وسطیٰ پاور گیم میں قیامت سے پہلے قیامت برپا کر دی۔
آئیے ذرا سا پیچھے چلتے ہیں۔ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے صدارتی ٹرم میں GCC ممالک کے پہلے دورے پر آئے۔ قطر‘ یو اے ای اور سعودی عرب نے ایک سے بڑھ کر ایک پُرتپاک استقبال کیا۔ ایسے ایسے استقبالی تحفے امریکی صدر کو پیش کیے گئے جن کی کوئی مثال امریکی تاریخ سے نہیں ملتی۔ یہ اتنے زیادہ قیمتی تحفے تھے کہ جن کے بارے میں صدر ٹرمپ سے پہلے کا کوئی امریکی صدر سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مثال کے طور پہ قطر کی طرف سے سونے سے بنا ہوا ہوائی جہاز۔ سعودی عرب کی جانب سے جدہ میں بحیرۂ احمر کے کنارے کئی کلومیٹر فرنٹ کے ساتھ ٹرمپ ٹاور‘ ٹرمپ ہوٹل اور ٹرمپ ہائٹس کیلئے سونے سے بڑھ کرمہنگی زمین۔ جس پہ اب ٹرمپ ٹاور کی تعمیر تیزی سے چل رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی عرب ملک نے چار سو بلین یو ایس ڈالر کا بزنس امریکہ کو دیا‘ تو کسی نے آٹھ سو بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ لکھ دیا۔ صدر ٹرمپ کے اس دورے میں یوں لگتا تھا کہ امریکہ مغربی ایشیا میں اسرائیل سے نکل کر پورے GCC کا تاحیات پارٹنر ہو گیا ہے۔ مگر پھر 28 فروری 2026ء کا دن آ گیا۔ ڈیڑھ درجن کے قریب امریکی اڈے‘ جن کے بارے میں مشرقِ وسطیٰ کے عرب ملکوں میں تصور یہ تھا کہ اُن کے ایرو ڈوم کسی چڑیا کو بھی ان کے قریب پھٹکنے نہیں دیں گے‘ وہ سارے اڈے ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں سے لرز لرز اُٹھے۔ عرب ملکوں کو پتا چلا کہ اربوں ڈالر کی امریکی ٹیکنالوجی ان کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ظاہر ہے وہ ٹیکنالوجی جو امریکی ہوائی جہازوں‘ بحری بیڑے اور فوجیوں کا تحفظ نہیں کر سکی‘ اس سے تحفظ کی توقع کیسے کر سکتا ہے۔
چنانچہ اب مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نوعیت کی پہلی عجیب وغریب جنگ کے دوسرے مہینے کا پہلا ہفتہ مکمل ہو رہا ہے۔ اس سارے عرصے میں ہر روز اسرائیل کے علاوہ GCCممالک پر نہ صرف ایران کی جانب سے مسلسل راکٹ باری ہوئی بلکہ اس کارِ خیر میں لبنان سے حزب اللہ اور یمن سے حوثی فائٹرز بھی شریک ہو چکے ہیں۔ پینٹاگون اور ٹرمپ انتظامیہ کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود نہ یہ خوفناک جنگ رُک پائی ہے‘ نہ ہی ایران کی جانب سے آتشیں حملوں میں ٹھہرائو آیا ہے۔ بلکہ ایران نے ریاض سے سو کلومیٹر دُور سعودی عرب کے تاریخی شہر الخَرج میں واقع امریکی ایئر بیس پر کھڑے ایک ارب ڈالر کے ایک جاسوس طیارے کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔
اسی تسلسل میں گزرے ہفتہ کا دن یعنی 28مارچ 2026ء عالمی میڈیا سکرین پر ایک حیران کُن بریکنگ نیوز لے کر آیا۔ تب‘ جب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی امریکی صدر ٹرمپ کی جگہ ریڈ کارپٹ پر چلتے ہوئے GCC ممالک میں داخل ہوئے‘ جس کے بعد محض چند گھنٹوں میں قطر اور سعودی عرب نے حرب و ضرب کی ٹیکنالوجی اور دفاعی تکنیکی صلاحیت حاصل کرنے کیلئے یوکرین سے ڈیفنس معاہدے کر لیے۔ اس طرح وہ امریکہ جو بین الاقوامی اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے بلا شرکت غیرے مشرقِ وسطیٰ کا نمبردار تھا‘ اُس کی نمبرداری لائن کٹ گئی۔ ناقابلِ تسخیر امریکہ سے طرفہ تماشا یہ بھی ہوا کہ یو ایس اے کی جگہ روس کے ہاتھوں کریمیا سے کیف تک مسلسل پِٹنے والے یوکرین نے لے لی ہے۔ چنانچہ اب یہ واقعہ سیاسیاتِ عالم کے ماہرین کیلئے کئی اعتبار سے حیران کر دینے والا ہے۔
سیاسیاتِ ایشیا اس وقت رو لر کوسٹر سے لٹک چکی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے عالمی اقتصادیات کی دنیا۔ اگلے روز ورلڈ بینک نے انٹرنیشنل کمیونٹی کو خبردار کیا کہ ایران پر اسرائیل امریکہ حملے کے کانفلِکٹ نے دنیا بھر کی معیشت کو ناقابلِ یقین حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ اس نقصان کے جھٹکے نے تمام براعظموں کی انرجی مارکیٹ اور معیشت کی ایسی تیسی پھیر دی ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے وہی کہا ہے جس کی نشان دہی ہم نے اسی صفحے پر وکالت نامہ میں یوں کی ''اس نئی تاریخ نے عالمی استعمار کی تاریخ بدل چھوڑی ہے‘‘۔ روس کے وزیرِ خارجہ نے کہا: اس وقت ایک نیا ورلڈ آرڈر جنم لے رہا ہے۔ امریکی سپر پاور کا نظریہ زوال پذیر ہے۔ مغرب کے نیوکلیئر ٹیکنالوجی ماہرین کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہو سکتے ہیں۔ نئے ورلڈ آرڈر میں ایشیا کے اندر ایران پانچ ہفتے کی استقامت اور جنگی مہارت سے بڑا پلیئر بن چکا۔ ایرانی قوم یکسو ہے اور ملکِ ایران کی سالمیت کے سوال پر سیاست پیچھے رہ گئی ہے۔ ایرانی حکومت نے ناراض لوگوں کے زخموں پر مر ہم رکھے اور بہت سارے لوگوں کو ریلیف دیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں خلیجی ممالک کی پراکسی سیاست کرنے والے قومی منظر نامے پر ضیاالحق کا دور واپس دیکھنا چاہتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے تمام منت سماجت اور خدمت کے باوجود GCC ہمیں مزید ڈالر دینے سے انکاری ہے۔ آپس کی بات ہے کہ حکمرانوں کے شاہانہ لباس‘ کروفر‘ بڑے ہوٹلوں کی عیاشیاں‘ بڑے پروٹوکول کی لائنیں دنیا میں سب کو نظر آ رہی ہیں‘ ڈونر ممالک اندھے نہیں ۔ ان کے پیسے ٹیکس پیئر کی جیب سے آتے ہیں۔ ان ملکوں میں ہمارے ایلیٹ مافیا کی ناجائز کمائی سے بنائے گئے ٹاورز اور وِلاز بھی وہ جانتے ہیں۔ ہماری پہلی‘ دوسری اور فوری ترجیح اندرونی اور سیاسی استحکام ہے جو ہائبرڈ رجیم نہ لا سکی ہے نہ کبھی لا سکتی ہے۔
پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی ڈھل مل یقین ہے‘ جس نے باقی سارے رُوٹ بندکر کے ٹرمپ رُوٹ پر انحصار کر رکھا ہے۔ امریکہ کی تین سو سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صدر ٹرمپ کے خلاف اکتیس سو مقامات پر پچاس امریکی ریاستوں میں 73لاکھ سے زیادہ احتجاجی عوام سڑکوں پر آئے ۔ ان شدید مظاہروں کے تسلسل کا نام ''نو کِنگ موومنٹ‘‘ ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کی فرمائش پر جنگ تو مسلط کر دی لیکن جس بے جگری کے ساتھ ایران لڑ رہا ہے‘ اس کا نقصان پورا کرنے کیلئے امریکہ کو سال نہیں عشرے چاہئیں۔ ہماری معیشت کا انحصار امریکی سپانسرڈ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک سے ملنے والے مہنگے ترین قرضوں پہ ہے۔ پچھلے تین سال میں زراعت مر گئی‘ معیشت کا جنازہ نکل گیا۔ عوام پر ٹیکسوں کے اہرام کھڑے ہو گئے۔ بے روزگاری اور مہنگائی وہاں ہے جہاں پہلے کبھی نہیں تھی۔ غربت کے جزیرے بڑھ گئے۔ کرپشن آسمان پر چڑھ گئی۔ مہذب تبدیلی کے سارے راستے بند ہیں۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ فرانس جیسا انقلاب اب نہیں آ سکتا ‘ جی ہاں! اُس جیسا نہیں کیونکہ حالات اُس دور کے فرانس سے بھی بدترین ہیں۔
کاہ کی رگ میں‘ جو دوڑاتا ہے‘ خونِ کہکشاں
کھولتا ہے خار کے دِل میں‘ جو بابِ گلستاں
شہ رگوں میں گونجتی رہتی ہے جس کی داستاں
نعرہ بنتا ہے‘ اُسی کا نام زیرِ آسماں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved