ایران تقریباً گزشتہ پانچ ہفتوں سے تاریخی مزاحمت اور عزیمت کی روشن مثال قائم کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ کی مذموم سازشوں کو ناکام بنا رہا اور اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا ہے۔ ایسا 1948ء کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران کی مزاحمت کے نتیجے میں امریکہ نے مارچ کے آخر میں یکطرفہ طور پر پانچ دن کیلئے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کی مختلف وجوہات میں سب سے بڑی وجہ اسرائیل میں داخلی کشمکش تھی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو عوام میں جانے کے قابل نہیں رہے۔ وہاں جنگ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان شدید احتجاج ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی یہودی جنگ کے مخالف ہیں۔ اگر انہیں مزید ایرانی میزائلوں کا سامنا ہوتا ہے تو اسرائیل کے اندر جاری احتجاج حد سے تجاوز کر جائے گا‘ جسکے نتیجے میں نیتن یاہو کا وہی حشر ہو سکتا ہے جو افغانستان میں صدر ڈاکٹر نجیب اللہ کا ہوا تھا۔ اگر اسرائیل میں خانہ جنگی کی نوبت آتی ہے تو نیتن یاہو کو امریکی سفارت خانے میں ہی پناہ لینا پڑے گی۔
ایران جنگ کے چار فریق ہیں: امریکہ‘ اسرائیل‘ ایران اور عرب ممالک۔ اسرائیل ایک طویل جنگ چاہتا ہے تاکہ خطے پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکے۔ بعض عرب ملک بھی طویل جنگ کا خواہاں ہے تاکہ ایران کو مستقل دباؤ میں رکھا جا سکے۔ امریکہ تاہم طویل جنگ کے حق میں نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کو پینٹاگان نے بتا دیا ہے کہ ہر صورت چند ہفتوں کے بعد یہ جنگ ختم کی جائے‘ ورنہ نومبر 2026ء میں ہونے والے مڈٹرم الیکشن میں دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کا غلبہ ہو جائے گا اور صدر ٹرمپ مواخذے کی زد میں آ جائیں گے۔ امریکہ کے برعکس ایران بھی طویل جنگ کا خواہاں ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ امریکی صدر پر اصل دباؤ نیتن یاہو کے بجائے اندرونی طور پر آتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھنے سے امریکی عوام کی معاشی قوت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ معیشت پہلے ہی بلند شرحِ سود کی وجہ سے جمود کا شکار ہے۔ امریکی اخباروں میں مسلسل شائع ہونے والے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ امریکہ میں ایک طرف معیشت سکڑ رہی ہے تو دوسری طرف بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر ٹرمپ آئینی لحاظ سے بھی بند گلی میں داخل ہو چکے ہیں۔ امریکی آئین کے مطابق کسی بھی ملک کے خلاف باقاعدہ جنگ شروع کرنے کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوتی ہے‘ جبکہ اب تک کانگریس میں دونوں جماعتوں کے اراکین اس جنگ کی منظوری کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے۔ امریکیوں کی ایک بڑی تعداد یہ بھی سمجھتی ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ سارا کھیل ایپسٹین فائلز سے توجہ ہٹانے کے لیے شروع کیا ہے۔ صدر ٹرمپ پر موجود شدید داخلی دباؤ کا ایران کو اچھی طرح ادراک ہے۔ یہ جنگ امریکہ کو روزانہ تقریباً ایک ارب ڈالر میں پڑ رہی ہے‘ اس حساب سے امریکہ اب تک اس جنگ میں تقریباً 33ارب ڈالر جھونک چکا ہے جبکہ امریکہ میں ابھی تک کوئی ایک شخص بھی یہ نہیں جانتا کہ اس جنگ کے مقاصد کیا تھے؟ یہ بھاری معاشی قیمت ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ اب صدر ٹرمپ یہ جنگ فوری ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ ایران کو کوئی جلدی نہیں ہے۔ ویتنام‘ عراق‘ افغانستان‘ وینزویلا اور یمن میں عسکری ناکامیاں پہلے ہی امریکی تاریخ کیلئے بدنما داغ بن چکی ہیں۔ اب اگر ایران کے معاملے میں بھی ہزیمت اٹھانا پڑ گئی تو یہ امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہو گا۔
دوسری جانب امریکی اور اسرائیلی جارحیت ایران کو راس آ گئی ہے۔ وہ اس طرح کہ اس جارحیت سے قبل ایران روزانہ تقریباً 11 لاکھ بیرل تیل پیدا کر رہا تھا جسے وہ 65 ڈالر فی بیرل میں فروخت کر رہا تھا۔ آج ایران 15 لاکھ بیرل یومیہ تیل پیدا کر رہا ہے اور 100 ڈالر فی بیرل میں فروخت کر رہا ہے۔ جنگ کے دوران ایران کو پابندیوں سے ریلیف مل چکا ہے اور اب امریکہ جنگ بندی کی استدعا کر رہا ہے۔ اگر ایک قوم اور اس کی قیادت جارحیت کے سامنے ڈٹ جائے اور اپنی آزادی کے دفاع کے لیے لڑنے کا تہیہ کر لے تو اسے کبھی زیر نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں ایران دنیا میں سٹیل کا دسواں بڑا پروڈیوسر ہے‘ جو سالانہ تقریباً 31 ملین ٹن سے زیادہ سٹیل پیدا کرتا ہے۔ یہ پیداوار جرمنی سے صرف چھ ملین ٹن کم ہے‘ جو دنیا کا صنعتی پاور ہاؤس سمجھا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ سٹیل ایک بنیادی نوعیت کی صنعت ہے جس پر دیگر صنعتوں کا انحصار ہوتا ہے۔ پاکستان اس شعبے میں ٹاپ 30 میں بھی نہیں ہے اور اس کی پیداوار ایران کی پیداوار کا بمشکل دسواں حصہ ہے۔
ایران کے بنکرز جہاں اس کا اسلحہ چھپا کر رکھا جاتا ہے‘ اس وقت مغربی میڈیا میں توجہ کا مرکز ہیں۔ یہ مضبوط بنکرز بنانے کیلئے سارا تعمیراتی سامان ایران خود تیار کرتا ہے۔ ایران ان گنے چنے ملکوں میں سے ہے جو تجارتی خسارے میں نہیں بلکہ منافع میں ہیں۔ تیل اور گیس کو نکال دیا جائے تب بھی ایران کی برآمدات پاکستان کی برآمدات سے دوگنا زیادہ ہیں۔ ایران کے جی ڈی پی کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ صنعت سے آتا ہے جبکہ پاکستان میں یہ تناسب چھٹے حصے کے برابر ہے۔ ایران کی آبادی نو کروڑ اور پاکستان کی 25کروڑ ہے۔ باوجودیکہ ایران پر پابندیاں ہیں اور پاکستان کو مسلسل امداد اور قرضے ملتے ہیں‘ لیکن ایران کی صنعتی پیداوار 150 ارب ڈالر اور پاکستان کی 70 ارب ڈالر ہے۔ مغربی ایشیا میں صرف ترکیہ ہی ایران سے بڑا صنعتی ملک ہے۔ دیگر تمام ممالک بہت پیچھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں حقیقی صنعتی طاقت صرف یہی دو ممالک ہیں‘ باقی سب برائے نام ہیں۔ خلیجی ممالک انتہائی مالدار ہیں لیکن ترقی یافتہ ہرگز نہیں۔ ترقی مال کا نام نہیں بلکہ انسان اور اس کی صلاحیتوں کی ترقی کا نام ہے۔ ترقی مجموعی خود کفالت کا نام ہے۔ ایران کی پابندیوں نے جہاں اسے نقصان پہنچایا‘ وہیں خود کفیل بھی بنایا ہے۔ ایران اگر آج اسرائیلی اور امریکی جارحانہ یلغار کے باوجود کھڑا ہے تو اسکی بنیادی وجہ اسکا صنعتی اور زرعی پیداواری شعبہ ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں صرف صدر ایوب خان نے ملک کو خود کفیل بنانے کی کوشش کی تھی۔
اُدھر عالمی منظرنامے پر آج کل ایک اہم بیان گردش میں ہے جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر کے نام سے منسوب اس بیان میں پاکستان کے حوالے سے غیر معمولی مؤقف سامنے آیا ہے۔ بیان کے مطابق ایران کے روحانی رہبر اعظم سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر میں حکم دوں تو دنیا بھر میں تیل کی سپلائی روک سکتا ہوں‘ مگر پاکستان کو اس سے الگ رکھا جائے گا۔ انہوں نے پاکستان کو ایران کا سب سے قابلِ اعتماد ملک قرار دیا ہے۔ دوسری جانب عالمی میڈیا کے مطابق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان انتہائی اہم اور حساس نوعیت کے مذاکرات کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان‘ ترکیہ اور مصر کی کوششوں کے بعد دونوں حریف ممالک کو ایک میز پر لانے کیلئے اسلام آباد کو منتخب کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر امریکی ٹیم کی نمائندگی کیلئے صدر ٹرمپ کے قریبی کیبنٹ ممبر سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا نام آیا تھا تاہم ایران کی جانب سے اعتراضات کے بعد امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کا نام سامنے آ رہا ہے۔ ایران کیطرف سے ممکنہ طور پر پارلیمنٹ کے اسپیکر محمود باقر قالیباف اس مشن کی قیادت کر سکتے ہیں جو ایران کے اہم ترین فیصلہ ساز سمجھے جاتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو اس مشکل مرحلے کی کامیابی کے بعد مسلم دنیا کی قیادت کیلئے منتخب کیا ہے۔ اس ممکنہ امن معاہدے کے بعد پورے خطے کی سیاست بدلنے والی ہے۔ یعنی پاکستان مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سنبھالنے والا ہے۔ تاہم ملک کا پارلیمانی نظام‘ جو مسلسل ناکام ثابت ہو رہا ہے‘ اسے بدلنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ لہٰذا نئے عمرانی معاہدے کے تحت ریاستی ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved