گزشتہ چند برسوں سے وطنِ عزیز میں رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں تقریباً تمام ٹیلی ویژن چینلز نے مختلف انواع و اقسام کے پروگرام ترتیب دینا شروع کیے جن میں روزے کی فضیلت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ ملک کے نامور علماء کرام اور مفتیانِ عظام کو شریکِ گفتگو کرکے سٹوڈیو میں موجود حاضرین کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف علاقوں سے لائیو کالز کے ذریعے شرعی نوعیت کے سوالات کو شامل کیا جاتا اور علماء کرام قرآن و سنت کی روشنی میں ان تمام سوالات کے تسلی بخش اور مستند جوابات دیتے نظر آتے۔ اس کے بعد ان پروگرامز کے فارمیٹ میں نمایاں تبدیلیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں انعامات پر مبنی کمرشل نوعیت کے نیلام گھر سجا دیے گئے۔ پروگرام کی میزبانی کسی جید عالم دین کے بجائے شوبز انڈسٹری سے وابستہ شخصیت کو سونپ دی گئی اور اس طرح ان پروگراموں میں شرکت کیلئے مدعو کیے جانے والی مہمان شخصیات بھی شوبز دنیا سے منتخب ہونے لگیں۔ اس مرتبہ رمضان المبارک کی مناسبت سے نشر ہونے والے پروگراموں سے متعلق کئی وڈیو کلپس سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر ہوئے تو ہمیں بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ ان میں کی گئی گفتگو کے کئی حصوں کو سننے کے بعد خاکسار کو اپنے روزے کی صحت اور سلامتی پر شک گزرنے لگا۔ سب سے پہلے تو خاتون اینکر پرسن کا لباس ہی رمضان کے تقدس کے منافی تھا‘ پھر رہی سہی کسر مہمان شخصیات کے ساتھ ہونے والی گفتگو نے نکال دی۔ تقریباً تمام چینلز پر عمر رسیدہ خواتین جس طرح بچپن کے پہلے عشق کی داستان‘ پہلی ڈیٹ کے رومان‘ عقدِ اولیٰ اور عقدِ ثانی سے متعلق انتہائی نجی نوعیت کی معلومات اور دیگر حساس جزئیات کھول کھول کر بیان کر رہی تھیں‘ وہ سب کچھ روزے کے ساتھ برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ انہی پروگراموں میں سے ایک پروگرام میں پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ دو معروف نام مدعو کیے گئے تھے جو کسی دور میں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے مگر کم و بیش تین دہائیاں قبل طلاق کے بعد اپنے راستے جدا کر چکے تھے۔ آفرین ہے اس خاتون اینکر پرسن پر جس نے ان دونوں کی محبت بھری داستان کے تمام نرم گرم گوشوں کو کریدنے کیلئے زمین آسمان ایک کر دیا۔ یہاں داد و تحسین کی مستحق ہے وہ خاتون مہمان شخصیت جس نے میزبان کے ہر جائز و ناجائز سوال کے جواب کو اپنے اوپر فرض کر لیا۔ اس گفتگو کے دوران کئی بار یہ محسوس ہوا کہ جیسے وہ دونوں کچی عمر کے معاشقے کیلئے کسی حسین وادی میں موجود ہیں جہاں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں اور وہ دونوں ایک دوسرے کے وجود میں گھائل ہو کر زمان و مکاں کی تمام پابندیوں سے آزاد ہو چکے ہیں۔ پھر بھی مرد مہمان شخصیت نے کافی حد تک ڈھکے چھپے انداز میں نپے تلے الفاظ کا انتخاب کیا جس کے باعث صورتحال کو قابو میں رکھنا ممکن ہو سکا۔ مگر سب سے حیران کن پہلو پروگرام کے ڈائریکٹر کا صرفِ نظر ہے جس کے نتیجے میں یہ تمام انتہائی نجی نوعیت کی گفتگو رمضان المبارک کے روح پرور ماحول اور تقدس کو پامال کرنے کے باوجود نشریات کا حصہ بن گئی۔ دوسرے لفظوں میں یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ رمضان المبارک کی مناسبت سے نشر ہونے والے پروگراموں کی واضح اکثریت میں روزے اور اس اہم عبادت سے متعلق تمام ضروری امور کے علاوہ باقی سب کچھ شامل کیا جاتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ اخلاقی تنزلی کا یہ سفر بہت پہلے شروع ہو گیا تھا۔
یہ درست ہے کہ کوئی بھی حادثہ اچانک نہیں ہوتا بلکہ زمانہ کئی برسوں تک اس کی پرورش کرتا ہے۔ ہماری نسل نے 1980ء اور 90ء کی دہائی میں اپنے زمانۂ طالب علمی کے دوران پاکستان ٹیلی ویژن چینل کی تمام نشریات میں مشرقی روایات اور اسلامی اقدار کی پاسداری کا مکمل مظاہرہ دیکھا۔ سب پروگراموں اور ڈراموں میں شائستہ لباس‘ پاکستانی ثقافت اور اسلامی تعلیمات کا دھیان رکھا جاتا۔ خواتین نیوز کاسٹرز سر پر دوپٹہ اوڑھے خبرنامہ کیلئے سکرین پر نمودار ہوتیں۔ ان کے خوبصورت لب و لہجے کے باعث خبریں دیکھنے کے بجائے سننے سے مزہ دوبالا ہو جاتا تھا۔ پھر اکیسویں صدی کے اوائل میں نجی ٹیلی ویژن چینلز کا آغاز ہوا تو شروع میں تقریباً تمام معتبر میڈیا اداروں نے لائسنس حاصل کرنے کے بعد پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا میں بھی قدم رکھ دیا اور اپنے نامور اور تجربہ کار ایڈیٹرز اور رپورٹرز کو کیمرے کے سامنے بٹھا کر پاکستان میں میڈیا کے ایک نئے دور کا آغاز کر دیا۔ بعد ازاں بہت سے افراد نے میڈیا پاور کے حصول میں اپنا دھن وارنا شروع کر دیا تو نجی ٹیلی ویژن چینلز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا۔ نت نئے شروع ہونے والے چینلز نے جدید ترین ٹیکنالوجی اور گرافکس کے نئے معیارات متعارف کرائے تو ناظرین کی اکثریت پاکستان ٹیلی ویژن چینل کی یکسانیت اور روایت پسندی کو چھوڑ کر ان نئے پروگراموں میں دلچسپی لینے لگے گئی جہاں جدت کے نام پر لباس میں اختصار اور گفتگو میں ذومعنی جملوں کا استعمال بڑھنے لگا۔ اس مقابلے کی فضا میں ناظرین میں مقبولیت کیلئے ریٹنگ کا نظام متعارف کرایا گیا۔ ابھی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ جاری تھی تو دوسری طرف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تیزی سے ترقی کرنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہر خاص و عام میں اتنے مقبول ہوئے کہ گزشتہ ایک دہائی سے اخبارات کی سرکولیشن سکڑنے لگی‘ صفحات کم ہونے لگے اور یوں پرنٹ میڈیا انڈسٹری کا زوال شروع ہو گیا۔ حتیٰ کہ نوبت اخبارات کے کئی ذیلی دفاتر کی بندش تک جا پہنچی۔ اس کے بعد سوشل میڈیا نے اگلا وار الیکٹرانک میڈیا پر کیا اور سماٹ فون کی دستیابی کے باعث سوشل میڈیا صارفین نے ٹیلی ویژن چینلز سے منہ موڑنا شروع کیا تو چینلز کی بقا خطرے میں پڑ گئی۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے دباؤ سے اب نجی چینلز بھی کانٹینٹ کے معیار کو پس پشت ڈال کر صارفین میں مقبولیت کی دوڑ میں سرپٹ دوڑ رہے ہیں جس کے باعث اب ہماری مشرقی روایات اور اسلامی تعلیمات ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس وقت سوشل میڈیا اور نام نہاد چینلز کے درمیان فیصلہ کن لڑائی اشتہارات کے میدان میں لڑی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی تعداد کروڑوں میں ہے جس کی بدولت اکثر برانڈز اور تجارتی مراکز اپنی مصنوعات کی تشہیر کیلئے سوشل میڈیا کو ترجیح دیتے ہیں جہاں انہیں انتہائی کم قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ سوشل میڈیا پر کانٹینٹ کے معیار کے بجائے وائرل ہونا زیادہ اہمیت کا حامل ہے لہٰذا صارفین عجیب و غریب حرکات و سکنات پر مشتمل کانٹینٹ شیئر کرتے ہیں۔ ہر دوسرا شخص اپنے چینل کو مونیٹائز کروا کر ڈالرز کمانے کی دوڑ میں شامل ہے۔ دوسری طرف اب تمام چینلز بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں لگے ہیں جس کیلئے انہیں سوشل میڈیا کا بزنس ماڈل اختیار کرنا پڑ رہا ہے جس میں ایڈیٹوریل پالیسی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی لت میں بہت سے افراد اور گھرانے ایک طرف فیملی وِی لاگنگ کے نام پر عجیب و غریب حرکات میں مصروف ہیں تو دوسری طرف برائیڈل فوٹو شوٹ کی آڑ میں پردے اور چادر کی پامالی کی جارہی ہے جس نے ہمارے خاندانی نظام‘ اخلاقی اقدار اور سماجی روایات کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ اخلاقی پستی کی اس یلغار میں اکثر چینلز سوشل میڈیا کا مقابلہ کرنے پر تل گئے ہیں مگر وہ یہ جنگ کبھی جیت نہیں پائیں گے کیونکہ ادارتی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے باعث سوشل میڈیا کی پستی کی کوئی حد نہیں ہے ۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved