لیڈر ریاست سے بڑا ہو جائے تو دونوں میں سے کوئی ایک ہی باقی رہ سکتا ہے۔
جب کو ئی فرد یہ گمان کرے کہ اُس کا وجود ریاست سے زیادہ اہم ہے یا کوئی گروہ یہ خیال کرے کہ اسے منزل نہیں راہنما چاہیے تو جان لیجیے کہ لیڈر ریاست سے بڑا ہو رہا ہے۔ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے تو ایسا گروہ اُس وفا داری کا رخ لیڈر کی طرف موڑ دیتا ہے جس کی حقیقی مستحق ریاست ہوتی ہے۔ پھر اسے لیڈر کے بغیر ریاست کی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ریاست کی کامیابیاں پھر اس کے دل ودماغ کا بوجھ بنتی چلی جاتی ہیں۔ وہ لیڈر کے بغیر ریاست کے وجود کو بے معنی سمجھنے لگتا ہے۔ اس گروہ کو ریاست اور لیڈر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو تو اس کا انتخاب لیڈر ہو تا ہے۔
شیخ مجیب الرحمن کو اس زاویۂ نظر سے دیکھیے۔ شیخ صاحب ریاست سے بڑے ہو گئے تھے۔ ان کو اور ان کے عشاق کو پاکستان اور لیڈر میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ لیڈر کے انتخاب کا مطلب یہ تھاکہ ملک کا دولخت ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ریاست کی تقسیم کو قبول کر لیا‘ لیڈر کو نہیں چھوڑا۔ اس باب میں دیگر زاویہ ہائے نظر کو میں نظر انداز نہیں کر رہا۔ اگر عوامی لیگ انتخاب جیت گئی تھی تو ریاست کی باگ ڈور اسے سونپ دی جانی چاہیے تھی۔ ریاست نے لیکن اگر کسی مرحلے پر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تو کیا لیڈر کو ریاست سے بڑا ہو جانا چاہیے تھا؟ اس کا جواب اثبات میں نہیں دیا جا سکتا۔
آج 4 اپریل ہے۔ ہم آج بھٹو صاحب کو یاد کرتے ہیں کہ اسی دن انہیں پھانسی پر لٹکایا گیا تھا۔ اس وقت بھی مقدمہ وہی تھا: ریاست بمقابلہ لیڈر۔ پیپلز پارٹی بالخصوص سندھ کے عوام ریاست کو بھٹو صاحب کا قاتل سمجھتے تھے۔ جذبات تھمنے کو نہیں آ رہے تھے۔ عوامی لیگ کی طرح بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کو کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ لیڈر یا ریاست؟ مرتضیٰ بھٹو نے لیڈر کا انتخاب کیا اور بینظیر بھٹو نے ریاست کا۔ ریاست کے دستور اور قانون کو مان کر اس کی حدود میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد کا فیصلہ کیا۔ سپہ سالار کو تمغۂ جمہوریت سے نوازا۔ پاکستان کے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا۔ لیڈر اور باپ پر ریاست کو ترجیح دی۔ بے نظیر بھٹو کو بھی جب راولپنڈی میں قتل کیا گیا تو پرانے زخم ہرے ہو گئے۔ اس موقع پر آصف زرداری صاحب نے ریاست کا انتخاب کیا اور 'پاکستان کھپے‘ کا نعرہ لگایا۔ دوسری طرف مرتضیٰ بھٹو سیاسی لاوارث قرار پائے۔
لیڈروں پر یہ وقت آتا ہے کہ انہیں اپنی ذات کے حصار سے نکلنا پڑتا ہے۔ نواز شریف صاحب کو بھی ریاست نے جہاز اغوا کا مجرم ٹھیراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ 'مجھے کیوں نکالا‘ کا شکوہ ساری قوم نے سنا۔ لیڈر نے مشکلات کے باوجود خو کو ریاست سے بڑا نہیں سمجھا۔ ولی خان نے پختون قومیت کی سیاست کی۔ راولپنڈی کے لیاقت باغ سے اپنی کارکنوں کی لاشیں اٹھائیں۔ یہ موقع تھا کہ وہ قومیت کے پرچم کو ریاست سے اونچا کر دیتے لیکن انہوں نے خود کو ریاست سے بڑا نہیں ہو نے دیا۔ یہ مرحلہ کم وبیش ہر لیڈر کی سیاسی زندگی میں کم ازکم ایک بار ضرور آتا ہے۔ یہی لیڈر کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
سیاستدان غلطیاں کرتے ہیں اور ریاست بھی۔ ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اگر اصلاح کی غرض سے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ایک کی غلطی کو مگر دوسری غلطی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ ریاست کا مفاد بہرصورت مقدم رہتا ہے۔ یہ کلٹ میں ہوتا ہے کہ لیڈر مذہب اور ریاست سے بڑا ہو جاتا ہے۔ ان کے سامنے قرآن پیش کیا جاتا ہے مگر مقلدِ محض اپنے راہنما کی بات کو حرفِ آخر سمجھتا ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا اور پڑھا ہے۔ یہی سیاست میں بھی ہوتا ہے۔ ریاست لوگوں کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے اگر ان کا قائد اقتدار میں نہ ہو۔
مجھے لگتا ہے کہ آج پھر پاکستان میں کئی ایسے گروہ پیدا ہو گئے ہیں جو اپنے لیڈر کو پاکستان پر ترجیح دیتے ہیں۔ یہی ہیں جو کبھی ہتھیار اٹھاتے ہیں اور کبھی سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ آج پاکستان عالمی سیاست میں ایک قابلِ ذکر کردار کا حامل ہے۔ یہ کردار کتنا نمایاں ہے‘ اس کا اندازہ یوں کیا جا سکتا ہے کہ بھارت میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔ بھارت کا یہ ردعمل خود ایک پیمانہ ہے کہ یہ پاکستان کی ریاست کا پروپیگنڈا نہیں‘ امرِ واقعہ ہے۔ پاکستان آج دنیا کا واحد ملک ہے جس کا احترام ایران کو ہے اور امریکہ کو بھی۔ یہ توازن قائم رکھنا آسان نہیں۔ ایک گروہ مگر ایسا ہے کہ جسے یہ کامیابی کھٹک رہی ہے۔ اس کا بس نہیں چلتا کہ وہ بازی الٹ دے۔ وہ البتہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کر سکتا ہے کہ اس فن میں طاق ہے۔ ایسا ہی ایک گروہ وہ بھی ہے‘ پاکستان کے مقابلے میں جو طالبان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا مسلک ان کی نظر میں ریاست سے بڑا ہے۔
ایک گروہ کا لیڈر رہا نہیں ہو رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جس پاکستان میں ان کا لیڈر اقتدار کے ایوانوں میں متمکن ہونے کے بجائے جیل کی چار دیواری میں قید ہو‘ وہ پاکستان ان کے کسی کام کا نہیں۔ یہ مقدمہ اگر درست ہو کہ لیڈر جرم بے گناہی میں قید ہے تو بھی اس کا یہ ردعمل قابلِ قبول نہیں ہو سکتا کہ پاکستان کی کامیابی اس کی نظر میں کھٹکنے لگے اور وہ اس کو ناکامی میں بدلنے کی خواہش کرے۔ وہ ریاست پاکستان کا مذاق اڑائیں اور پاکستان مخالف بیانیے کو ترجیح دینے لگیں۔ یہ رویہ دراصل بتا رہا ہے کہ ان کی نظر میں لیڈر ریاست سے بڑا ہے۔ اس میں ان سے حماقتیں سرزد ہوتی ہیں‘ وہ ایک الگ داستان ہے۔
اس گروہ سے میری درخواست ہے کہ و ہ تنہائی میں اور اپنی مجالس میں اس طرزِ عمل کا جائزہ لے اور خود سے یہ سوال کرے کہ کیا اس رویے کو درست کہا جا سکتا ہے؟ اگر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ بھی یہ کرتیں تو کیا یہ پاکستان کے حق میں ہوتا۔ عوامی لیگ اور ایم کیو ایم نے اس کے برعکس رویہ اپنایا۔ اس سے کیا ہوا؟ ایک طرف ان کے لیڈر باعثِ عبرت قرار پائے اور دوسری طرف ان کی جماعتیں بھی۔ ایک کو تاریخ نے پاکستان توڑنے کا مجرم قرار دیا اور دوسرے کا انجام ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔اس گروہ کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ ریاست اور لیڈر سے بیک وقت تعلق قائم رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے لیڈر کی محبت کو ریاست کی محبت کے تابع کر دیا جائے۔ عام زندگی میں دونوں محبتیں برقرار رہ سکتی ہیں۔ لیکن جب ریاست سے شکایتیں بڑھنے لگیں اور یہ دکھائی دے کہ کسی ایک انتخاب کرنا ہے تو پھر ریاست ہی کو ترجیح دینا چاہیے۔ اچھا لیڈر بھی وہی ہوتا ہے جو اپنے عشاق کو انتخاب کے مشکل میں نہیں ڈالتا‘ بینظیر بھٹو‘ نواز شریف اور ولی خان کی طرح۔ اس گروہ کا المیہ یہ ہے کہ اس کی باگ سوشل میڈیا کے رائے سازوں کے ہاتھ میں ہے جو ان میں مسلسل ریاست کے خلاف زہر بھرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اس گروہ کو اذیت پسند بنا دیا ہے۔ یہ دوسرے پر تنقید نہیں کرتے‘ اسے ایذا پہنچاتے ہیں۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ انہیں اب پاکستان کی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ یہ رویہ متقاضی ہے کہ اس کا جائزہ لیا جائے۔ اس گروہ کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب لیڈر کو ریاست کے بالمقابل لا کھڑا کیا جائے تو پھر دونوں میں سے ایک ہی باقی رہتا ہے۔ زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ ریاست باقی رہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved