ڈاکٹر سید عبداللہ‘ جو اورینٹل کالج لاہور میں پڑھاتے پڑھاتے پرنسپل بنے اور تادیر اس عہدہ پر فائز رہے‘ میرا اُن سے واسطہ اس طرح پڑا کہ میں غیر نصابی سرگرمیوں میں بہت زیادہ حصہ لینے کی وجہ سے بی اے میں ایک سال ضائع کرنے کے بعد ایم اے میں بھی ایک سال ضائع کرنے میں مصروف تھا۔ بدقسمتی یہ کہ یہ عرصہ ایک سال سے دو سالوں میں تبدیل ہو گیا۔ میں اپنے تعلیمی نصاب سے اس قدر ناواقف تھا کہ مئی 1958ء میں فائنل امتحان دینے کی ہمت نہ پڑی۔ مئی 1959ء میں بھی یہی حالت تھی۔ آخر کار مئی 1960ء میں امتحان دے کر اچھے نمبروں میں پاس ہوا تو سجدۂ شکر بجا لایا۔ ایم اے میں داخلے سے ایک سال پہلے (اکتوبر 1957ء) میں پنجاب یونیورسٹی یونین کا صدارتی انتخاب (60 ووٹوں کے فرق سے) ہار چکا تھا‘ جس کا سخت صدمہ ہوا۔ فیصلہ کیا کہ اگلے برس ایم اے کے داخلہ میں توسیع کرائوں گا اور پھر دوبارہ صدارتی انتخاب میں حصہ لوں گا۔ جوں جوں مجھے اپنی کامیابی کے امکانات روشن ہوتے نظر آتے‘ مضطرب دل کو قرار آتا جاتا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ غالباً وہ مجھے اپنے بنیادی فرض (حصولِ تعلیم) سے کوتاہی کی سزا دینا چاہتی تھی‘ جس کا میں بجا طور پر مستحق تھا۔ اکتوبر 1958ء میں ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ ہوا تو میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ مارشل لاء کا مطلب تھا آمریت اور آمریت کا مطلب تھا آزادیٔ تحریر وتقریر پر سخت پابندی۔ انسانی حقوق کی پامالی۔ تمام جمہوری اقدارکی پامالی۔ مزدوروں‘ کسانوں اور طلبہ کی انجمنوں پر قدغن۔ سرکار کی حکمتِ عملی (چاہے وہ کتنی غلط اور عوام دشمن کیوں نہ ہو) سے اختلاف پر سزا (تشدد سے لے کر قید تک)۔ سوچا کہ اگر طلبہ یونین کا صدر بن گیا تو ایک سال ایسی بھیگی بلی بن کر گزاروں گا جو میائوں تک نہیں کر سکے گی‘ لہٰذا ایک اچھا فیصلہ کیا کہ میں الیکشن میں حصہ نہ لوں اور نہ ہی اپنے آپ کو اَن دیکھے مگر سنگین مسائل کی آگ میں جھونکوں۔ اس دوران لاہور میں قیام کا مسئلہ اورینٹل کالج کی ملکیت ایک ہاسٹل میں کمرہ مل جانے سے (بصد مشکل) حل ہو چکا تھا۔ میں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر (غالباً میاں افضل حسین یا پروفیسر یو کرامت‘ دونوں صاحبان نہایت عمدہ اور شائستہ انسان تھے) کو خط لکھ کر اپنا نام واپس لے لیا۔ وائس چانسلر نے بکمال مہربانی مجھے بلا کر سمجھانے کی کوشش کی کہ میں ایسا نہ کروں تاکہ سٹوڈنٹ یونین کو ایک بہتر صدر مل سکے مگر میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنا فیصلہ نہیں بدلا۔ نجانے اورینٹل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید عبداللہ تک اس کی خبر کس طرح جا پہنچی اور وہ سخت ناراض ہوئے۔ مجھے جواب طلبی کے لیے بلایا گیا۔ میں حاضرِ خدمت ہوا۔ جرم کا اعتراف کیا اور درخواست کی کہ میری معذرت قبول کی جائے۔ میں نے ان سے مارشل لاء کے خلاف ایک لفظ نہ کہنے کا وعدہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے بکمال مہربانی درگزر فرمایا اور مجھے ہاسٹل سے نہ نکالا (جو بالکل یقینی لگتا تھا)۔
تادِم تحریر مجھے سیّد صاحب کی پیدائش اور وفات کی تاریخوں کا پتا نہیں چل سکا۔ البتہ انہوں نے اردو اور فارسی ادب پر درجنوں کتب تحریر کیں‘ جن میں اردو ادب کی ایک صدی‘ مباحث (تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ)‘ اشاراتِ تنقید (اردو تنقید کے اصولوں پر مبنی تصنیف) کلچر کا مسئلہ اور شعرائے اردو کے تذکرے قابلِ ذکر ہیں۔ سیّد صاحب کو اُردو ادب میں سب سے زیادہ دلچسپی جس شاعر سے تھی وہ تھے میر تقی میر۔ شاید اُنہوں نے غالب کا یہ مصرع حرزِ جاں بنا لیا تھا:
آپ بے بہرہ ہے جو معتقدِ میرؔ نہیں
سیّد صاحب بتاتے تھے کہ میٹرک کا امتحان دینے کے لیے شرط تھی کہ عمر پندرہ برس ہو‘ اُن کی عمر تین ماہ کم تھی اس لیے وہ یہ امتحان نہ دے سکے۔ بددل ہو کر وہ اورینٹل کالج میں داخل ہوئے جہاں اُنہوں نے اُردو اور فارسی پڑھی اور اس طرح پڑھی کہ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں علمی اور ادبی حلقوں میں اُن کی علمیت کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ بلند پایہ ادیب گواہی دیتے تھے کہ وہ نہ صرف بہت اچھے استاد ہیں بلکہ اتنے اچھے نقاد بھی۔ مجھے ان کی ماہرانہ رائے سے اختلاف ہو تو کیونکر؟ جانتا ہوں کہ ''ولی را ولی شناسد‘‘۔ میں کس کھیت کی مولی ہوں کہ ان کے علمی کام پر اپنی (سراسر ناقص) رائے دوں۔ سیّد صاحب کا اعزا ز یہ بھی ہے کہ وہ اس تعلیمی ادارے کے سربراہ تھے جس میں سیّد وقار عظیم‘ ڈاکٹر عبادت بریلوی اور وزیر حسن عابدی جیسے نابغے پڑھاتے تھے‘ جہاں ہر ماہ منعقد ہونے والی ادبی محفل میں فیض صاحب اپنا کلام سناتے اور داد سمیٹتے تھے۔ (مجھے اس وقت فیض صاحب کا ذہانت سے چمکتا ہوا چہرہ ہی یاد آتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ چوٹی کے تقریباً تمام ادیب اور شاعر سیّد صاحب کی دعوت پر اورینٹل کالج کے طلبہ وطالبات کو اپنی نگارشات اور کلام سناتے اور اُن کے سوالوں کے جوابات بھی دیتے تھے)۔ مجھے نہ صرف ڈاکٹر صاحب نے اورینٹل کالج میں سر چھپانے کی جگہ دی بلکہ سر کے اندر دماغ کو بھی علمی سطح پر بلند کرنے کے مواقع بہم پہنچائے۔ اجازت دیجئے کہ میں انتظار حسین کی کتاب (ملاقاتیں) سے ایک کمال کے مضمون کا پہلا اور آخری پیراگراف نقل کروں۔
''لمبا قد‘ گورا رنگ‘ کمر قدرے جھکی ہوئی‘ سوٹ اُن کا لبادہ ہے۔ اردو ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ لہجہ دھیما‘ فقرہ لمبا۔ غزل کے اعجازِ اختصار پر جان چھڑکتے ہیں مگر لطیفہ طویل سناتے ہیں۔ یہ ہوئے ڈاکٹر سیّد عبداللہ۔ میں ان کا نیاز مند ہوں۔ وہ مجھ پر شفقت کرتے ہیں اور ناراض رہتے ہیں۔ وہ کسی تقریب میں مقالہ پڑھیں اور تقریر کریں اور میں وہاں نہ جائوں یہ ناممکن ہے۔ بس قدم خود بخود اُس طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ اس کے بعد میں کالم لکھتا ہوں اور دوسرے دن ان کا ناراصی بھرا رقعہ موصول ہوتا ہے۔ میں نادم ہوتا ہوں۔ توبہ کرتا ہوں کہ اب کوئی ایسی ویسی بات نہ لکھوں گا۔ ان کی خفگی رفتہ رفتہ زائل ہو جاتی ہے اور پھر وہی شفقت اور مہربانی مگر میں پھر ان کی کوئی تقریر سن لیتا ہوں اور پھر میرے پھوہڑ قلم سے کوئی ایسا ویسا فقرہ نکل جاتا ہے اور پھر اُن کا ناراضی نامہ موصول ہوتا ہے۔ یہ سلسلہ مدت سے جاری ہے۔ نہ میں ان سے بھاگ سکتا ہوں اور نہ اُن کی شفقت مجھے چھوڑ سکتی ہے‘‘۔
انسانی تاریخ میں بڑے لوگوں کی اکثریت نے زندگی میں ناکامی کا سامنا کیا مگر لطیفہ یہ ہے کہ سیّد صاحب اور اس مضمون نگار میں ایک قدر مشترک دریافت ہوئی۔ مضمون نگار نے اپنی زندگی کے تین (بہترین) سال غیر نصابی سرگرمیوں میں اپنے آپ کو غرق کرکے برباد کئے۔ سیّد صاحب جب اورینٹل کالج پڑھنے گئے تو لاہور میں جمعیت علمائے ہند کا اجلاس ہو رہا تھا۔ سیّد صاحب وہاں جا پہنچے اور اتنے متاثر ہوئے کہ تحریکِ خلافت کے سرگرم رکن بن گئے اور جیل کی ہوا بھی کھائی۔ دس روپے مانگ کر علی گڑھ پہنچے اور وہاں سے دہلی میں جامعہ ملیہ! تعلیم سے فراغت پا کر واپس آئے اور ایبٹ آباد جا پہنچے۔
ایوب خان کے زمانہ میں جب جلسے جلوس ممنوع تھے‘ سیّد صاحب نے ''اردو جلوس‘‘ ایجاد کیا۔ اس جلوس کے ساتھ تحریک شروع کی گئی کہ مال روڈ کے سائن بورڈ انگریزی سے اردو میں منتقل کئے جائیں۔ میاں بشیر احمد (انگریز سرکار میں پہلے مسلم چیف جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں کے بیٹے) اور پروفیسر حمید احمد خان (جو مولانا ظفر علی خان کے سوتیلے بھائی تھے اور بعد میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے) کے ساتھ دکان دکان گئے۔ دکانداروں کو اردو زبان میں سائن بورڈ لگانے پر قائل کیا۔ یہ تحریک زور وشعور سے چلی مگر سائن بورڈ زیادہ تر انگریزی میں رہے اور شاہراہِ قائداعظم ہنوز مال روڈ ہے۔ سیّد صاحب کی پہلی تحریک (خلافت کی بحالی) اور دوسری تحریک (اُردو سائن بورڈ) دونوں ناکام ہوئیں مگر ان ناکامیوں سے ان کی بڑائی رتی بھر متاثر نہیں ہوتی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved