جنرل ڈگلس کی بیوی کی خواہش تھی کہ وہ بھی جاپانی بادشاہ کی باتیں سنے‘ جس کا ایک ہی حل تھا کہ وہ خاموشی سے پردے کے پیچھے کھڑی ہو جائے‘ اور اس کے ساتھ ڈاکٹر ایجبرگ بھی موجود ہو گا۔ جب برسوں بعد یہ بات سامنے آئی تو کہا گیا کہ ایسا دانستہ طور پر نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ دونوں وہاں اتفاقاً موجود تھے اور انہوں نے سب باتیں سن لی تھیں۔
جاپانی بادشاہ اور جنرل ڈگلس کی اس میٹنگ کی ایک ذاتی وجہ بھی تھی۔ جنرل ڈگلس چاہتا تھا کہ امریکی عوام میں اس کی مقبولیت بڑھے اور وہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اُس نے جاپان پر فتح کا امریکی جھنڈا گاڑا تھا۔ اس عوامی مقبولیت کے سہارے وہ 1948ء کے الیکشن میں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے امریکی صدارت کا امیدوار ہو سکتا تھا۔ جنرل ڈگلس کے دل و دماغ میں امریکی صدر بننے کا جنون 1930ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ہی پلنے لگا تھا۔ اس نے آنے والے برسوں میں اپنی کارکردگی اور فیصلوں کو اسی سمت میں کر دیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ امریکی عوام میں مقبول ہو اور یہ مقبولیت اسے ایک دن صدر کا الیکشن جتوا دے۔ یہ بات ہمیشہ جنرل ڈگلس کے ذہن میں رہتی تھی لہٰذا اس کے بہت سے رویے اسی سمت کو سامنے رکھ کر پروان چڑھ رہے تھے جبکہ جنگ کے بعد واشنگٹن میں بیٹھے پالیسی میکرز خصوصاً ڈیموکریٹس جاپان کے پاور سٹرکچر کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ وہ بادشاہت کے بجائے ایک جمہوری نظام کے حامی تھے جبکہ جنرل ڈگلس‘ جس کے ذمے جنگ کے بعد جاپان کے نئے معاملات لگائے گئے تھے‘ وہ ان باتوں سے اتفاق نہیں کرتا تھا۔ وہ ذہنی طور پر رجعت پسند تھا اور کسی لحاظ سے لبرل نہیں تھا۔ اس کے باوجود اس نے واشنگٹن سے آنے والی ہدایات پر عمل کرنا تھا تاکہ کہیں سے یہ نہ لگے کہ وہ ان احکامات پر عملدرآمد سے گریز کر رہا ہے۔ عمل نہ بھی کرے تو بھی اسے تاثر یہ دینا تھا کہ وہ سب احکامات اور پالیسیوں پر عمل کر رہا ہے۔
جنرل ڈگلس کا جو قریبی حلقہ تھا ان سب کی کئی دفعہ ان معاملات پر بات ہوئی اور وہ سب اس بات پر متفق تھے کہ مقبوضہ جاپان میں اس کی کامیابی کا انحصار ایک ہی بات پر تھا کہ وہ کس طرح جاپانی بادشاہ ہیرو ہیٹو کو استعمال کر سکتا تھا۔ تاہم یہ کام کرنے کیلئے اسے اپنی سب باتیں‘ حرکتیں یا کام خفیہ رکھنا ہوں گے کیونکہ یہ بہت حساس معاملہ تھا۔ اس کھیل میں ایک جاپانی بادشاہ اور ٹاپ امریکی جنرل شامل تھے اور بادشاہ کو علم ہی نہ تھا کہ امریکی جنرل اس کے حوالے سے کیا سوچے بیٹھا تھا۔ جنرل ڈگلس صدر بننا چاہتا تھا تو بادشاہ فائرنگ سکواڈ سے بچنا چاہ رہا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے کام آ سکتے تھے۔جنرل ڈگلس اگر بادشاہ سے اپنے صدارتی مستقبل کیلئے کچھ لینا چاہ رہا تھا تو یقینا ان بدلتے حالات میں اسے بھی بادشاہ کو جواباً کچھ دینا تھا۔ ڈگلس کے ذہن میں یہ تھا کہ اسے بادشاہ کو دھمکی دے کر ڈرانا ہوگا کہ اس پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے‘ پھر سزا دلوا کر اس کے گلے میں پھانسی کا پھندا یا پھر فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے گولی بھی مروائی جا سکتی تھی۔ جب بادشاہ پوری طرح ڈر جائے تو پھر وہ منصوبہ سامنے لانا تھا جس کیلئے جنرل ڈگلس نے پوری تیاری کر رکھی تھی کہ جب بادشاہ کی آنکھوں میں خوف ابھرے گا تو جنرل ڈگلس پھر اسے بچانے کی پیشکش کرے گا لیکن اس کے بدلے اسے خفیہ ملی بھگت کرنی ہوگی۔ جنرل ڈگلس ایک طرف گاجر کی پیشکش کر رہا تھا تو دوسری طرف وہ ڈنڈا بھی ہاتھ میں رکھے بیٹھا تھا۔ جہاں وہ بادشاہ کو پھانسی اور فائرنگ سکواڈ سے بچائے گا‘ وہیں بادشاہ کو بھی جاپان کے پاور سٹرکچر اور اہم رازوں سے آگاہ کرنا ہوگا۔ جاپان کے سب راز و نیاز سے لے کر اہم سیاستدانوں کے بارے میں بتانا ہوگا تاکہ جاپان کے ان اہم لوگوں کو بھی دباؤ میں لایا جائے اور ان کے ساتھ ڈیل کی جا سکے کہ اگر انہوں نے امریکی مفادات کا ساتھ نہ دیا تو پھر ان کے بارے میں موجود معلومات منظرِ عام پر آ سکتی ہیں۔ یوں نئے حالات میں ان سب کو ہاتھ میں لے کر جنرل ڈگلس امریکہ میں بیٹھے کنزرویٹو سیاسی اور مالی حمایتوں کو سپورٹ کرے گا‘ نہ کہ امریکی لبرل کو۔
جاپان پر ایٹم بم گرائے جانے اور سرنڈر کے پہلے چند ہفتوں میں بہت کوشش کی جا رہی تھی کہ جاپان کے بادشاہ کو پرل ہاربر پر حملے کی ذمہ داری سے دور رکھا جائے‘ جس میں تین ہزار امریکی فوجی اور شہری مارے گئے تھے۔ اب پرل ہاربر کا سارا ملبہ جاپان کے جنرل ٹوجو پر ڈالا جا رہا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جنگ ختم ہونے سے پہلے ہی سوئٹزرلینڈ میں امریکن کنزرویٹو اور جاپانی سفارت کاروں کے درمیان خفیہ طور پر یہ طے کر لیا گیا تھا کہ سارا الزام جنرل ٹوجو پر ہی ڈالنا ہے۔ اسی حکمت عملی کو سامنے رکھ کر جنرل ڈگلس اور بادشاہ کی امریکی سفارت خانے میں ملاقات سے دو دن پہلے نیویارک ٹائمز کے نمائندے کے تحریری سوالات کے جواب میں ہیروہیٹو نے لکھ بھیجا تھا کہ اس جنگ یا پرل ہاربر پر حملے کا ذمہ دار جنرل ٹوجو تھا‘ جس نے امریکی حکومت کو جاپانی حکومت کا وہ اعلان نہیں پہنچایا تھا کہ جاپان اب امریکہ کے ساتھ جنگ کرے گا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے بغیر جنگ کا اعلان کیے پرل ہاربر پر حملہ کیا تھا۔
جنگ عظیم دوم کے بعد بادشاہ ہیروہیٹو 44سال زندہ رہا لیکن اس نے ایک دفعہ بھی امریکہ کے خلاف جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری قبول نہ کی۔ اس نے نہ جنگ شروع کرنے کی ذمہ داری لی جس سے امریکی ناراض ہوئے اور نہ ہی جنگ ختم کرنے کی ذمہ داری لی جس سے جاپانی ناراض ہوئے۔ یہی وجہ تھی کہ بادشاہ کا قریبی ساتھی اور مشیر مارکیز کڈو ہیروہیٹو کے انکار کی وجہ سے اتنا ڈسٹرب ہوا کہ ایک دن اس نے بادشاہ سے کہا کہ بہتر ہے وہ بادشاہی ترک کر دے تاکہ اس کے آباؤ اجداد تو شرمندہ نہ ہوں۔ یقینا ہیروہیٹو اس بات پر بہت غمزدہ تھا جو جاپان کے ساتھ ہوا تھا لیکن وہ اپنے فوجی کمانڈروں کی جنگ میں ناکامی کا ذمہ لینے کو ہرگز تیار نہ تھا‘ جنہوں نے بار بار اسے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ کسی صورت امریکہ سے جنگ نہیں ہاریں گے‘ لیکن آخرکار ان فوجی جرنیلوں نے جاپان کو ذلیل کرا دیا تھا۔ اگرچہ جنگ کو مزید دو سال تک جاری رکھنے کا فیصلہ بادشاہ کا ہی تھا لیکن اس کے نزدیک یہ فوجی شکست تھی‘ اس کی شکست نہیں تھی۔
جنرل ڈگلس نے بادشاہ کو بچانے کیلئے طویل مدتی منصوبہ بنایا تھا۔ اگر بادشاہ کی جان جلدی چھوڑ دی جاتی تو پھر وہ اس کی پہنچ سے نکل جاتا‘ اس لیے جب بھی بادشاہ تعاون کرنے میں ڈھیلا پڑتا تو ڈگلس اسے یہ کہہ کر ڈرا دیتا کہ امریکی کانگریس میں ابھی یہ مطالبہ ہو رہا ہے کہ اس کا پرل ہاربر پر ٹرائل کیا جائے‘ اسے گولی ماری جائے یا سب سے خوفناک بات یہ کہ کریملن (روس) یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ بادشاہ کو کیوں آرام سے بٹھایا ہوا ہے۔ تاہم خیال رکھا جاتا کہ یہ سب کام احتیاط اور احترام سے کیا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ جب وہ سفارت خانے سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھے تو بادشاہ نے اپنے قریبی مشیر کڈو کو جو پہلے الفاظ کہے وہ یہی تھے کہ جنرل کا کہنا ہے کہ ''بادشاہ سلامت آپ اس ملک کے سب اہم لوگوں کو جانتے ہیں جو جاپانی سیاست کا اہم جزو ہیں‘ اب ہمیں آپ سے ان تمام اہم سیاسی ایشوز پر آپ کی رائے درکار ہو گی اور آپ سے ہی مشورہ کیا کروں گا‘‘۔ کڈو کو اب سمجھ آئی کہ جب جنرل سے ملاقات کے بعد بادشاہ باہر آیا تو نہ صرف اس کے ہاتھ کانپنا بند تھے بلکہ چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ لیکن جو بات کڈو نہ سمجھ سکا تھا وہ یہ تھی کہ بہت جلد اسے بھی جنرل ڈگلس کے سامنے بادشاہ اور اپنی جان بچانے کیلئے بہت سے جھوٹے بیانات دینا ہوں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved