ایران کی جنگ کے متوقع اور غیر متوقع‘ دونوں طرح کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ متوقع نتائج یہ ہیں کہ اس جنگ نے یوکرین کی جنگ سے کئی گنا زیادہ دنیا کو متاثر کیا ہے۔ تمام متمول معیشتیں بشمول یورپ اور دیگر مغربی ممالک کی معیشتیں‘ ہل کر رہ گئی ہیں۔ توانائی کے ذرائع نایاب تو نہیں ہوئے لیکن کمیاب ضرور ہو چکے ہیں اور اس کا اثر یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے اور ان مظاہر نے مہنگائی کے سیلاب نہیں‘ سونامی برپا کر دیے ہیں۔ باقی ممالک اس صورتحال سے متاثر ہیں لیکن پاکستان سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شمار ہونے لگا ہے جہاں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آج سے چند ہفتے پہلے کی نسبت دوگنا ہو چکی ہیں۔ دو روز قبل حکومت نے پٹرول کی قیمت میں ڈیڑھ سو روپے فی لٹر کے لگ بھگ اضافہ کر دیا تھا جس کے بعد یہ قیمتیں ملکی تاریخ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں‘ لیکن کل کی خبر یہ ہے کہ پٹرولیم لیوی میں 80روپے کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 378.41روپے ہو چکی ہے۔
آج کے اخبارات دیکھتے ہوئے اپنے واٹس ایپ پر بھی نظر ڈالتا جا رہا تھا۔ ایک پوسٹ سامنے آئی جس میں پرانے زمانے کا ایک قصہ تصویری شکل میں پیش کیا گیا تھا۔ اُس زمانے میں نان بائیوں کو خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے روٹی کی قیمت میں اضافے کی حاجت پیش آئی تو وہ شاہِ وقت کے پاس پہنچے اور اس سے روٹی کی قیمت ایک اشرفی سے بڑھا کر دو اشرفیاں فی روٹی کرنے کی اجازت طلب کی۔ بادشاہ نے کچھ دیر سوچا اور پھر یہ حکم جاری کیا کہ جو روٹی اس وقت ایک اشرفی کی مل رہی ہے‘ اسے دس اشرفی کی کر دیا جائے۔ اس پر نان بائیوں نے کہا کہ جناب اس طرح تو عوام بھڑک جائیں گے‘ جب مہنگی ہونے کی وجہ سے انہیں کھانے کو روٹی نہیں ملے گی تو وہ آپ کے اور آپ کی حکومت کے خلاف ہو جائیں گے۔ نان بائیوں کو حکم جاری کیا گیا کہ جو کہا ہے وہ کرو‘ نتیجہ کیا نکلتا ہے اس کا نہ سوچو‘ یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ حکم کی تعمیل ہوئی جس پر عوام کا بھڑکنا قدرتی تھا۔ جب احتجاج بڑھنے لگا تو بادشاہ کی جانب سے حکم جاری ہوا کہ اب روٹی پانچ اشرفی کی کر دی جائے؛ چنانچہ روٹی پانچ کی کر دی گئی۔ عوام بھی مطمئن‘ نان بائی بھی مطمئن اور بادشاہ بھی مطمئن۔ اس فرضی یا حقیقی حکایت‘ کہانی یا قصے کا موجودہ حالات کے ساتھ کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں یہ میں نہیں جانتا لیکن کچھ حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کے تناظر میں اپنی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں آئی ایم ایف کی ڈیمانڈیں پوری کر رہی ہے اور اس وقت بھی حالات یہ ہیں کہ وزارتِ توانائی کی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک لٹر پٹرول پر 131روپے جبکہ ڈیزل پر 59روپے سے زائد ٹیکس وصولی کی جا رہی ہے۔ شاید حکومت اپنے ٹیکس کم کر کے عوام کو ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں یا اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ریلیف دے سکے۔ دونوں میں سے صورتحال جو بھی ہو پِس عوام رہے ہیں۔ تازہ ترین خبر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو آئندہ مالی سال میں توانائی کے شعبے میں دی جانے والی سبسڈی مزید کم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ دیکھیں آگے کیا حالات پیدا ہونے والے ہیں؟
یہ بات جاننے کے لیے بندے کا سائنسدان ہونا ضروری نہیں‘ نہ ہی یہ سمجھنے کے لیے معاشیات کے عمیق علم کی ضرورت پڑتی ہے کہ جب توانائی کے ذرائع مہنگے ہوتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جن کی تیاری یا ان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے عمل کے دوران کسی بھی مرحلے میں توانائی کے تمام ذرائع میں سے کسی ایک کا بھی استعمال ہوتا ہو۔ اب آپ خود دیکھ لیں کہ ہمارے استعمال میں آنے والی کتنی چیزیں ایسی ہیں جو توانائی کے ذرائع کے بغیر تیار ہوتی اور ہم تک پہنچتی ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ لامحالہ مہنگائی مزید بڑھنے والی ہے اور ہو سکتا ہے یہ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ جائے۔ اس لیے سب کو ذہنی طور پر اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ عالمی ادارے بلومبرگ نے بھی یہی پیش گوئی کی ہے۔ اپنی ایک رپورٹ میں بلومبرگ نے بتایا کہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے معاشی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے‘ پاکستان میں برآمدات 11ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں اور حکومت نے ایندھن بچانے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
جنگ کی معاشی تباہ کاریوں کے شکار ہم اکیلے نہیں ہیں‘ باقی دنیا بھی ایسی ہی کشمکش میں مبتلا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ ممالک کی معیشتیں مستحکم ہیں اور ان کے لیے اپنے عوام کو ریلیف دینا آسان ہے جبکہ پاکستان جیسے کمزور معیشت والے ممالک کے لیے ریلیف کے اقدامات آسان نہیں۔ پھر ہماری معیشت کے پیر آئی ایم ایف کی زنجیر سے بھی بندھے ہیں۔ ہمیں ہر کام اور ہر اقدام سے پہلے عالمی اقتصادی ادارے کے اشارۂ ابرو کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ عالمی حالات یہ ہیں کہ ایران کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 85سے زائد ممالک میں پٹرول مہنگا ہو چکا‘ سب سے زیادہ غالباً پاکستان میں۔ بھارت نے عالمی بحران کے باوجود قیمتیں مستحکم رکھی ہیں لیکن یورپی ممالک بشمول سپین‘ جرمنی اور فرانس میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ برطانیہ میں بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ ایران کی جنگ کے باعث یورپ میں مارچ کے مہینے میں افراطِ زر کی شرح بڑھ کر 2.5 فیصد ہو گئی ہے۔ فروری میں افراطِ زر کی یہی شرح 1.9 فیصد تھی‘ مگر خلیج فارس سے تیل و گیس کی فراہمی متاثر ہونے کے بعد قیمتوں میں نمایاں اضافہ مشاہدے میں آیا ہے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے دفتر یورو اسٹیٹ کے مطابق مارچ میں توانائی کی قیمتیں 4.9 فیصد بڑھی ہیں جبکہ فروری میں ان میں 3.1 فیصد کمی آئی تھی۔ مہنگائی کے یہ اثرات پورے یورپ کی منڈیوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق روم کی مارکیٹ میں دکانداروں نے سبزیوں اور پھلوں کی بڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار ایندھن کے اضافی اخراجات کو قرار دیا ہے۔
ایران پر بلا جواز حملہ کرنے کی قیمت خود امریکی بھی ادا کر رہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (OECD) نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں جاری جنگ اس سال امریکہ میں افراطِ زر میں اضافہ کر دے گی کیونکہ آبنائے ہرمز کی گزرگاہ کی بندش تیل‘ گیس اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھا رہی ہے۔ ادارے کے مطابق امسال امریکہ میں افراطِ زر کی اوسط 4.2 فیصد رہے گی جو گزشتہ برس کے اندازوں سے ایک فیصد زیادہ ہے۔ اس طرح ہم جیسے مجبور ہی نہیں وہ خود بھی اسی آگ میں جل رہے ہیں جنہوں نے پتا نہیں کیا سوچ کر جنگ کا یہ الاؤ بھڑکایا تھا۔
جنگ کے متوقع نتائج و اثرات کا احاطہ کرتے ہوئے کالم کی جگہ پوری ہو گئی‘ اس لیے جنگ کے غیر متوقع نتائج پر اگلے کالم میں بات کریں گے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved