تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     07-04-2026

ایک عبرتناک تصویر

کہنے کو یہ محض ایک تصویر ہے! محض ایک فوٹو گراف!! لیکن یہ تصویر ملک کی نامرادی‘ تیرہ بختی اور بدنصیبی کی تفصیل ہے۔ ایسی تفصیل جو کئی صفحوں پر نہیں‘ کئی داستانوں پر نہیں‘ کئی کتابوں پر مشتمل ہے۔ کتابیں بھی ایسی جو کئی جلدوں میں‘ کئی حصوں میں ہوں!
اس شرمناک تصویر میں ایک نوجوان‘ جو ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ ہے‘ ایک معروف‘ عمر رسیدہ‘ سیاستدان سے مصافحہ کر رہا ہے۔ یہاں تک تو سب اچھا ہے۔ مصافحہ کرنے پر کوئی پابندی ہے نہ یہ ایسا فعل ہے جس پر معترض ہوا جائے۔ بلکہ مصافحہ عالمی کلچر کا ایک جزو ہے۔ لاس اینجلس سے لے کر یورپ‘ ایشیا اور افریقہ سے ہوتے ہوئے ٹوکیو تک سب ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں۔ تاہم تصویر صرف مصافحے پر مشتمل نہیں‘ اس میں کچھ اور بھی ہے اور یہ ''کچھ اور‘‘ ہی ہے جو سب کچھ ہے۔
تصویر میں نوجوان سربراہ کے ہمراہ دو معمر سیاستدان ہیں۔ ایک کی عمر 74 برس ہے۔ وہ کھڑا ہے‘ ہاتھ اس طرح باندھ رکھے ہیں جیسے نماز میں قیام کے دوران باندھے جاتے ہیں۔ دوسرا سیاستدان 76 سال کا ہے۔ اس نے ہاتھ تو نہیں باندھے ہوئے‘ مگر چہرے سے مجسمِ ریشہ خطمی لگ رہا ہے۔ نوجوان کی عمر 38سال ہے۔ 38کو دو سے ضرب دیجیے‘ جواب کیا آیا ہے؟ جواب 76 ہے۔ یعنی ایک سیاستدان کی عمر‘ نوجوان کی عمر سے دو گنا ہے۔ دونوں سیاستدانوں نے اپنی جوانی پارٹی کو دی۔ جدوجہد میں عمر گزاری۔ مقدمات کا سامنا کیا۔ جلسے کیے۔ جلوس نکالے۔ ماریں کھائیں۔ پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھائی۔ اپنے گھر والوں کو نظر انداز کیا۔ دن رات‘ ہفتے مہینے سال پارٹی کے امور سلجھائے۔ سفر کیے۔ کبھی کراچی‘ کبھی لاہور‘ کبھی کوئٹہ‘ کبھی اسلا م آباد اور کبھی دبئی!! یہاں تک کہ ان کے بال سفید ہو گئے۔ وہ بوڑھے ہو گئے۔ پھر ایک دن یوں ہوا کہ یہ نوجوان پارٹی کا سربراہ بن گیا۔ یہ سفید سر والے‘ بے حد تجربہ کار‘ گرم و سرد چشیدہ اور سیاست میں کئی گنا زیادہ علم رکھنے والے بوڑھے‘ نوجوان کی اقتدا میں‘ خمیدہ کمر کھڑے ہو گئے! درباری کے درباری ہی رہے!
اس بدقسمتی اور جمہوریت کے ساتھ سنگین مذاق میں صرف ایک پارٹی نہیں‘ پاکستان کی تمام بڑی‘ قابلِ ذکر پارٹیاں ملوث ہیں۔ (ہم ان پارٹیوں کی بات کر رہے ہیں جو ووٹ لیتی ہیں اور جن کے نمائندے پارلیمنٹ میں موجود ہیں) جس معمر سیاستدان سے نوجوان مصافحہ کر رہا ہے وہ بھی اپنی جماعت کا خاندانی سربراہ ہے۔ یہ سربراہی اسے اپنے مرحوم والد کے بعد وراثت میں ملی۔ اب اس کا فرزند یہ وراثت سنبھالنے کی تربیت حاصل کر رہا ہے۔
وراثت‘ پیری مریدی میں ہو یا سیاست میں‘ بادشاہی میں ہو یا مسجد کی امامت میں‘ ہمیشہ میرٹ کُش ہوتی ہے۔ بادشاہوں نے زندگیاں خرچ کر کے‘ زخم کھا کھا کر‘ جنگیں جیت کر‘ سلطنتیں بنائیں۔ مگر ان کے نااہل وارثوں نے ان سلطنتوں کو یوں بکھیرا کہ سلطنتیں قصۂ پارینہ ہو گئیں۔ ایک خدا رسیدہ‘ نیک بزرگ درگاہ میں انتقال کرتا ہے تو اس کا بیٹا گدی پر بیٹھ جاتا ہے جس کا دین سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا۔ مسجد کا امام انتقال کرتا ہے تو اس کا بیٹا مصلّے پر کھڑا ہو جاتا ہے حالانکہ وہ اس نازک ذمہ داری کی قطعاً اہلیت نہیں رکھتا۔ ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں بھی وراثت کی بنیاد پر چل رہی ہیں! ہم نے جن ملکوں سے جمہوریت لی‘ وہاں ایسا نہیں ہوتا۔ نیوزی لینڈ سے لے کر امریکہ تک سیاسی پارٹیوں میں وراثت کا تصور ہی ناپید ہے۔ تحقیق کر کے دیکھ لیجیے۔ پارٹیوں پر خاندانی وراثت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ چند برس بعد پارٹی کا سربراہ تبدیل ہو جاتا ہے اور ایک اور پارٹی ممبر سربراہ ہو جاتا ہے۔ یہ صرف پاکستان میں ہے کہ پارٹیوں پر تیس تیس‘ چالیس چالیس سال سے ایک ہی خاندان قابض ہے۔ پہلا سربراہ دنیا سے گیا تو بیٹی پارٹی کی سربراہ بنی۔ پھر داماد اور اب نواسا!! دوسری پارٹی کوئی بڑا منصب خاندان سے باہر جانے ہی نہیں دیتی۔ کسی پر اعتماد نہیں! کبھی بھائی چیف منسٹر بنتا ہے کبھی بھتیجا اور کبھی بیٹی! ایک بھائی وزارتِ عظمیٰ پر تین بار رہ چکا ہوتا ہے تو اس کے بعد دوسرا بھائی وزیراعظم بن جاتا ہے۔ایک اور پارٹی جو تبدیلی کا جھنڈا لہرا کر میدان میں آئی تھی‘ اس پر بھی بیس پچیس سال تک ایک ہی شخص کی ڈکٹیٹرشپ رہی۔ پارٹی کے اندر الیکشن ہوا تو الیکشن کرانے والوں کی چھٹی ہو گئی۔ اب پارٹی پر بہن کی حکومت ہے۔
ترس آتا ہے اُن کارکنوں پر جن کی عمریں جلسہ گاہوں میں دریاں بچھانے‘ کرسیاں لگانے اور سٹیج بنانے میں کٹ جاتی ہیں۔ چلتی گاڑیوں کے ساتھ دوڑتے ہیں۔ ہوائی اڈوں پر استقبال کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ مخالفین سے لڑائیاں کرتے ہیں۔ گالیاں کھاتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ حالانکہ پارٹی سربراہ اور دیگر اہلِ خاندان کو ان کے نام تک نہیں معلوم! ان کی صورتوں سے آشنا نہیں! رحم آتا ہے ان سیاستدانوں پر جن کی زندگیاں پارٹی کا کام کرتے بیت گئیں۔ زندانوں میں گئے۔ ان پر حملے ہوئے۔ اہلِ خانہ نظر انداز ہوئے مگر ان میں سے کوئی وزیراعلیٰ بن سکتا ہے نہ وزیراعظم کے منصب کیلئے اس کے نام پر غور ہو سکتا ہے۔ سفید بالوں کے ساتھ‘ زندگی بھر کے تجربے کے ساتھ‘ کبھی انہیں دختر نیک اختر کے دربار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے تو کبھی نواسے کے پیچھے چلنا پڑتا ہے۔
کون سی جمہوریت؟ کیسی جمہوریت؟ جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں اپنی پارٹی کے سربراہ کا محاسبہ کیا جاتا ہے۔ اس سے سوال پوچھے جاتے ہیں۔ اس کے سامنے پارٹی کی پالیسیوں پر تنقید کی جاتی ہے۔ پارلیمانی جمہوریت میں اپوزیشن پارٹیاں شیڈو کابینہ بناتی ہیں۔ اپوزیشن پارٹی کے ا یم این اے یا ایم پی اے ہر وزیر کے مقابلے میں ایک ایک قلم دان کے انچارج بنتے ہیں۔ آج اگر مسلم لیگ (ن)اور پی پی پی حکومت میں ہیں تو اپوزیشن یعنی تحریک انصاف شیڈو کابینہ بناتی ۔ حکمران پارٹی کے وزیر خزانہ کے مقابلے میں اپوزیشن ایک ممبر کو شیڈو وزیر خزانہ بناتی۔ یہ شیڈو وزیر خزانہ‘ وزیر خزانہ کی پالیسیوں پر تنقید کرتا اور اپنی طرف سے متبادل پالیسیاں پیش کرتا۔ تصور یہ ہے کہ کل جب اپوزیشن اقتدار میں آئے گی تو یہ شیڈو وزیر خزانہ اصل وزیر خزانہ بنے گا اور اُن پالیسیوں کو عملی جامہ پہنائے گا جو اس نے شیڈو وزیر خزانہ کی حیثیت سے پیش کی تھیں۔ ان سب کاموں کیلئے محنت درکار ہے۔ اپوزیشن کو ٹھوس کام کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح تجارت‘ تعلیم‘ پٹرولیم‘ توانائی اور دیگر امور کیلئے شیڈو وزیر مقرر کیے جاتے ہیں جو رات دن محنت کر کے بتاتے ہیں کہ جب وہ حکومت میں آئے تو کیا کیا پالیسیاں نافذ کریں گے۔ ہماری جمہوریت میں اپوزیشن بھی محنت کرنے کیلئے تیار نہیں! اس کا کام نعرے لگانا‘ پارلیمنٹ میں ہنگامے بپا کرنا‘ کارروائی میں رکاوٹ ڈالنا اور بجٹ کی دستاویزات کو پھاڑ دینا ہے۔ برسر اقتدار وزیروں کو کھلی چھٹی ہے۔ وزیروں کو معلوم ہے کہ کوئی شیڈو وزیر ان کا تعاقب کر رہا ہے نہ کوئی ٹھوس تنقید ہی کر سکتا ہے۔ سب کا ایک ہی کام ہے۔ پارٹی کے سربراہ کو‘ جو مالک کی طرح ہے‘ ہر حال میں خوش رکھنا ہے۔ اس پورے خاندان کو خوش رکھنا ہے جو پارٹی پر تیس چالیس سال سے قابض ہے۔ اکبر آئے یا جہانگیر یا شاہجہان‘ پارٹی خاندان ہی میں رہنی ہے۔ اس لیے بادشاہ کو بھی خوش رکھنا ہے اور شہزادوں شہزادیوں کو بھی!! بادشاہ خاندان ہی سے بنے گا۔ درباری درباری ہی رہیں گے! اشارۂ ابرو کے منتظر رہیں گے۔ کبھی انہیں لندن طلب کیا جائے گا کبھی دبئی! اقبال نے کہا تھا: خرد کو غلامی سے آزاد کر۔ جوانوں کو پیروں کا استاد کر! مگر یہاں حساب الٹا ہے۔ بوڑھے استاد ہیں جو جوانوں کو بادشاہی کے گر بتاتے ہیں۔ یہ وہ بوڑھے استاد ہیں جو خود ہمیشہ درباری رہتے ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved