تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     07-04-2026

بیس جہاز اور کالم نگار کی اوقات

اگر پاکستان میں نائن الیون جیسا دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آتا اور کوئی جہاز کسی بلند و بالا عمارت سے ٹکرا دیا جاتا‘ تو پاکستان کی حکومت نے اس سلسلے میں کیا حفاظتی قدم اٹھانا تھا؟ میں نے یہ سوال حسبِ معمول اپنے سیاسی اور سماجی مرشد شاہ جی سے کیا۔ شاہ جی مسکرائے‘ ان کا مسکرانا اب ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ کبھی وہ طنزیہ مسکراتے ہیں‘ کبھی وہ استہزائیہ مسکراہٹ سے ہمیں نوازتے ہیں اورکبھی وہ صرف مسکراہٹ برائے مسکراہٹ کے فارمولے کے تحت ہمیں مسکرا کر دکھاتے ہیں‘ سو ہم شاہ جی کے مسکرانے پر توجہ کیے بغیر شاہ جی کی گفتگو کو سننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک دو لمحے کا توقف کیا‘ پھر کہنے لگے: اگر پاکستان میں نائن الیون جیسا کوئی واقعہ ہوتا اور کوئی ہوائی جہاز کسی بلند و بالا عمارت سے ٹکرا جاتا اور وہ عمارت منہدم ہو جاتی تو حکومتِ پاکستان نے آئندہ کیلئے ایسے واقعات کے سدباب کیلئے فوری طور پر موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی لگا دینی تھی۔ ہمارے ہاں ایسے واقعات اور مستقبل میں ان کے سد باب کیلئے حکومتی اقدامات اسی قسم کے ہوتے ہیں۔
اب ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کا جو بحران پیدا ہوا ہے‘ اس پر بہت سے ممالک نے مختلف قسم کے اقدامات کیے ہیں۔ اس وقت سب سے مسئلہ یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح پٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں اضافہ اور اس کی سپلائی میں مشکل پیش آرہی ہے۔ یہ مسائل مستقبل میں مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے حل کیلئے انہوں نے جو اقدامات کئے ہیں اس میں سب سے اہم چیز‘ جس کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ آرام‘ سہولت اور آسانی دی جائے۔ مثلاً میلبورن (آسٹریلیا) سے میری بیٹی نے بتایا کہ جیسے ہی یہ مسئلہ عوام کی مشکل کا باعث بنتا دکھائی دیا تو وکٹوریا سٹیٹ کی حکومت نے پوری ریاست میں تمام پبلک ٹرانسپورٹ بشمول بس‘ ٹرین اور ٹرام کا سفر عوام کیلئے مفت کر دیا۔ بعد میں ویسے تو پنجاب حکومت اور دیکھا دیکھی سندھ حکومت نے بھی یہ اعلان کیا ہے لیکن پاکستان کی حکومت کا جو فوری ردِ عمل تھا وہ یہ تھا کہ پاکستان میں موٹروے پر گاڑیوں کی رفتار میں کمی کر دی گئی اور چالانوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ میں نے جو یہ کہا ہے کہ موٹروے پر سپیڈ کم کر دی اور چالان بڑھا دیے گئے تو اس سلسلے میں یہ ہوا کہ موٹروے پر LTV یعنی لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل جس میں کار‘ جیپ اور اسی قسم کی دیگر چھوٹی فور ویل گاڑیاں ہیں‘ ان کی حد رفتار 120 کلو میٹر سے کم کرکے 100 کلو میٹر کر دی گئی اور HTV یعنی ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل کی رفتار 110سے کم کرکے 90 کلو میٹر فی گھنٹہ کر دی گئی۔ حکومت کا خیال تھا کہ اس طرح رفتار کم کرنے سے پٹرول کی بچت ہو گی‘ کھپت کم ہو گی اور فی لٹر گاڑی کی مائلیج بڑھ جائے گی‘ چلیں کسی حد تک یہ بات ٹھیک بھی ہے لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو پا رہا۔ میں حالیہ دنوں میں کئی دفعہ موٹروے پر سفر کر چکا ہوں۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ لوگوں کو جہاں بھی شک ہو کہ یہاں سپیڈ چیک کیمرہ ہو گا‘ وہاں وہ رفتار کم کر لیتے ہیں اور جہاں ان کو یقین ہو کہ کیمرہ نہیں ہے تو وہ اپنی ساری تاخیر کی کسر نکال لیتے ہیں یعنی جس جگہ پہ ان کو کیمرہ ہونے کا شک ہو وہاں وہ اپنی رفتار کم کر کے 100کلو میٹر کے لگ بھگ کر لیتے ہیں لیکن اس جگہ سے آگے نکلتے ہی وہ اپنی رفتار 140کر کے ساری کسر اور تاخیر نکال لیتے ہیں۔
موجودہ صورتحال کو ہم حکومت کیلئے Blessing in disguise کہہ سکتے ہیں۔ اس ملک میں عوام پر جب بھی کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اس کو بہانہ بنا کر ٹیکس‘ کرائے میں اضافہ اور اپنی چیزوں کی قیمت بڑھا دیتی ہے۔ اس میں حکومت کو پیسے بچتے ہیں اور عوام کی جیب کٹ جاتی ہے۔ اب حکومت نے موٹر وے پر رفتار کم کرنے کے ساتھ ہی ایک اور بڑا مزیدار بندوبست کیا ہے۔ رفتار چیک کرنے والے سپیڈ کیمرے جو پہلے پورے سفر میں دو یا تین جگہوں پر ملتے تھے‘ اب ان کی تعداد ملتان سے اسلام اباد کے راستے میں کم از کم دس ہو چکی ہے۔ فیصل آباد سے پنڈی بھٹیاں تک برسوں سفر کے دوران مجھے کوئی کیمرے والا نظر نہیں آیا لیکن اب موٹر وے کے اس حصے پر دو تین جگہوں پر دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک کیمرہ بھیرہ انٹرچینج سے ایک کلو میٹر پہلے کیمرہ لگا ہوا تھا اور دوسرا اس سے محض ایک کلو میٹر بعد لگا ہوا تھا۔ عام طور پہ جب لوگ انٹرچینج کے پاس پہنچ جاتے ہیں تو ان کا خیال ہوتا ہے کہ اب چیکنگ نہیں ہو گی اور وہ رفتار زیادہ کر لیتے ہیں۔لیکن انٹرچینج سے نکلتے ہی دوبارہ کیمرہ لگا ہوا ہے۔ پچھلے اور اگلے انٹر چینج کے درمیان میں بھی کیمرے والا بیٹھا ہوا ہے۔ حکومت نے رفتار کم کی تھی تو اس کا بنیادی مقصد پٹرول کی کھپت کم کرنا تھا لیکن ہوا یہ ہے کہ لوگ اوسطاً اسی رفتار پر گاڑیاں چلا رہے ہیں جو رفتار کم کرنے سے پہلے تھی لیکن اب حکومت کو چالان کی مد میں وصول ہونے والی رقم کم از کم تین چار گنا بڑھ چکی ہے۔
اب بندہ کس کس چیز کو روئے کہ اس دوران سرکار نے ٹول ٹیکس میں بھی اضافہ کر دیا۔ ٹول ٹیکس پٹرول سے نہیں چلتا؛ البتہ گاڑیاں ضرور پٹرول سے چلتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ لوگ مہنگا پٹرول اس لیے خرید رہے ہیں کہ حکومت اس پہ لیوی اور کئی قسم کے ٹیکس وصول کر رہی ہے لیکن ٹول ٹیکس کا پٹرول سے کوئی براہِ راست لین دین نہیں ہے۔ گاڑیوں کی رفتار بھلے کم کروائیں کہ اس سے پٹرول کی بچت ہو گی۔ تاہم اگر آپ کاخیال ہے کہ ٹول میں اضافے سے لوگ کم سفر کریں گے تو جنہوں نے مجبوراً سفر کرنا ہے وہ کریں گے۔ پٹرول کی قیمت جتنی ہو چکی ہے اس پر کوئی بندہ فضول اور غیرضروری سفر کی ہمت ہی نہیں کر سکتا۔ اب صرف وہی جائے گا جو از حد مجبور ہے لیکن سرکار ان مجبوروں سے ٹول ٹیکس نچوڑنے کے فکر میں ہے۔ سرکار نے یہ اضافہ فی الحال تو موخر کر دیا گیا ہے مگر کب تک ؟ حالات جیسے ہی نارمل ہوئے یہ اضافہ دوبارہ لاگو کر دیا جائے گا۔ ایک طرف پٹرول کی قیمت تو دوسری طرف چالان بڑھ گئے ہیں۔ اس ہنگامہ ہائے دار و گیر میں پنجاب حکومت نے فی بھینس 30روپے روزانہ کا گوبر ٹیکس لگا دیا ہے۔ کیا بھینس بھی پٹرول پہ چل رہی ہے جس کے استعمال پر ٹیکس لگایا گیا؟ بعد میں بھد اڑی تو تردید فرما دی۔ دنیا میں حکومتیں گوبر سے بائیو گیس بناتی ہیں‘ انرجی پیدا کرتی ہیں‘ ہمارے ہاں گوبر پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ سرکار کو جس چیز میں بھی کسی پاکستانی کو چار پیسے کا فائدہ ہوتا دکھائی دیتا ہے اس نفع کو اپنے کھاتے میں ڈال لیتی ہے۔
شاہ جی سے پوچھا کہ یہ جو آبنائے ہرمز سے تیل سے لدے ہوئے بیس جہاز پاکستانی جھنڈے لگا کر بخیروخوبی پُرامن طریقے سے گزرے ہیں‘ اب اس کے بعد تو پاکستان میں تیل کی ریل پیل ہو جانی چاہیے۔ خلیج فارس سے آنے والا پٹرول نزدیک ترین اور سستا پڑتا ہے تو قیمتیں کیوں آسمان پر پہنچ گئی ہیں؟ شاہ جی کہنے لگے: تمہارا کیا خیال ہے کہ جو پاکستانی جھنڈے لگے جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر رہے ہیں پاکستان آ رہے ہیں تو آپ بھولے بادشاہ ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ پاکستانی جھنڈوں والے جہاز جو تیل لائے ہیں وہ سارے کا سارا تیل ٹرمپ کو بھجوا دیا گیا ہو۔ میں نے کہا کہ شاہ جی! بقول وفاقی وزیر بیرسٹر عقیل پاکستان میں تو صرف دو جہاز آئے ہیں‘ باقی اٹھارہ کہاں چلے گئے ہیں؟ کہنے لگے: ممکن ہے سرکار نے یہ اٹھارہ جہاز آگے بیچ کر نفع کما لیا ہو۔ ان برے حالات میں پیدا گیری کا موقع اگر مل ہی گیا ہے تو تمہیں کیا تکلیف ہے؟ ہماری حکومت جہاز پر اپنا جھنڈا لگا کر جو رسک لے رہی ہے‘ اس کا حق ہے کہ اس پر ٹیکس یا نفع وصول کرے۔ میں نے پوچھا کہ اس کا کوئی حساب کتاب بھی ہے؟ شاہ جی کہنے لگے کہ تم سے تو ملتان کے پرائیویٹ لفٹروں کا حساب نہیں لیا گیا اور چلے ہو تیل کے جہازوں کا حساب لینے۔ بندے کو اپنی اوقات کے مطابق بات کرنی چاہیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved