وفاقی حکومت نے عوام الناس کے لیے پٹرول کا پروانۂ موت جاری کرنے کے بعد کمال مہربانی سے اسے عمر قید میں بدل دیا ہے‘ لیکن کم از کم 70 فیصد آبادی بھاری قیمتوں کے پہاڑ تلے دب کر بدستور کراہ رہی ہے۔ ایک نہیں‘ کئی ماہرینِ اقتصادیات و مالیات سے گفتگو ہوئی ہے۔ ان سب کی رائے یہ تھی کہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کے عالمی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وسیع تر آبادی پر وہ بوجھ لاد دیا ہے جسے برداشت کرنے کی اس کے اندر ہرگز کوئی سکت نہ تھی۔ ہمیں تو یہ نوید سنائی گئی تھی کہ پاکستان کے جھنڈے والے بیس آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دیا گیا۔ حکومت نے خود اعتراف کیا کہ ہمارے پاس وافر پٹرول اور ڈیزل موجود ہے‘ اس لیے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یکایک یہ کیسے ہو گیا کہ سابقہ قیمتوں پر خریدے گئے پٹرول کی قیمت میں 137 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے کا اضافہ کر دیا گیا؟ اس طرح پٹرول 458 روپے اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر ہو گیا۔ احساس سے عاری اور ناسمجھ وزیروں اور مشیروں نے یہ مشورہ دیا کہ یہ اچھا موقع ہے کہ تیل کے بحران کو عذر بنا کر اپنے اگلے پچھلے سارے خسارے دم توڑتے عوام سے وصول کر لیے جائیں؟ جنوبی ایشیا کے دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں کیا گیا اضافہ کئی گنا زیادہ تھا۔
بعد ازاں‘ جمعۃ المبارک اور ہفتے کی درمیانی شب حکومت نے پٹرول پر لیوی میں 80 روپے فی لٹر کمی کر دی جبکہ ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ اس دوران ٹرانسپورٹروں نے کرایوں میں 30 فیصد اور بعض روٹس پر 50 فیصد تک اضافہ کر لیا ہے۔ عام آدمی کو یہ معلوم نہیں کہ لیوی کیا ہے؟ لیوی بھی ایک طرح کا ٹیکس ہے جو حفظِ ماتقدم کے طور پر پٹرول اور ڈیزل پر اس لیے عائد کیا جاتا ہے تاکہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی صورت میں محفوظ کردہ وسائل استعمال کرکے قیمتوں کو ایک حد سے نہ بڑھنے دیا جائے۔ 80 روپے فی لٹر کمی کے باوجود یہ اضافہ بالکل ناروا اور غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں ہی نہیں بلکہ چھوٹے شہروں اور دیہات تک میں اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔ اس دوران حکومت نے موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹے بڑے لوڈرز اور ٹرکوں کو کچھ ریلیف دینے کا وعدہ کیا ہے۔
دیکھیے بندۂ مزدور و مجبور کو اگلے چند دنوں میں کوئی ریلیف ملتا ہے یا ان پر کوئی نئی افتاد آن پڑتی ہے۔ یہ تو ایک وقتی صورتحال ہے‘ مگر گزشتہ تین چار دہائیوں سے ہم نے جو روش اختیار کر رکھی ہے‘ اس سے ہماری معیشت کبھی ترقی کے راستے پر نہیں آ سکتی۔ ہماری معیشت کا اصل مسئلہ کیا ہے؟ ہماری معیشت قرض در قرض اور سود در سود کے دائرے میں گھوم رہی ہے۔ ہمارے ماہرینِ اقتصادیات بنیادی نوعیت کے فیصلے کر کے اس منحوس دائرے سے باہر نکلنے کی کوئی تدبیر اختیار کرنے کی نہ صلاحیت رکھتے ہیں نہ ارادہ۔ ہم قرض کی مے پیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ رنگ لائے گی ہماری 'شہ خرچی‘ ایک دن۔ اگر ایک جملے میں اپنے جملہ اقتصادی عوارض کو بیان کیا جائے تو یہ کہا جائے گا کہ ہماری آمدنی کم اور ہمارا خرچ بہت زیادہ ہے‘ بلکہ ہمارے حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات اور ان کے ٹھاٹ باٹ کو آئی ایم ایف والے یا دیگر غیرملکی دیکھتے ہیں تو وہ ہکا بکا رہ جاتے ہیں کہ یہ کیسے حکمران ہیں جو قرض کی دولت سے شاہانہ طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ہمارے بجٹ کا سارا خسارہ ٹیکسوں یا آمدنی بڑھا کر پورا کرنے کے بجائے مزید قرضے لے کر پورا کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہماری برآمدات بہت کم ہیں۔ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہم ایکسپورٹ کرتے ہیں۔ اگر آپ فیصل آباد میں بند ہو جانے یا بہت کم پیداوار پر آ جانے والی ٹیکسٹائل ملوں کے اعداد و شمار اکٹھے کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ ملیں بھی بوجوہ اپنی استعداد سے بہت کم کپڑا بنا رہی ہیں اور ہماری برآمدات بہت کم ہو گئی ہیں۔ ہم قرض کم کرنے کے بجائے مزید قرض لیتے ہیں اور اس قرض کی رقم نئے نئے معاشی منصوبے شروع کرنے اور نئے کارخانے لگانے کے بجائے پہلے سے لیے گئے قرضوں کا سود ادا کرنے اور اللوں تللوں میں اڑا دی جاتی ہے۔
جون 2023ء میں ہمارے ذمے 71 کھرب روپے کا قرضہ واجب الادا تھا۔ دسمبر 2025ء میں یہ بڑھ کر تقریباً 79 کھرب ہو گیا۔ 2023ء میں ہمارے ذمے تقریباً 131ارب ڈالر بیرونی قرضہ تھا جو کم ہونے کے بجائے دسمبر 2025ء میں 138 ارب ڈالر ہو گیا۔ موجودہ حکومت بیرونی قرضوں کے ساتھ ساتھ ملکی بینکوں سے بھاری شرح سود پر بڑے بڑے قرضے لے کر ڈنگ ٹپا رہی ہے۔ عالمی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 45 فیصد پاکستانی خطِ غربت سے نیچے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کی یومیہ آمدنی تین ڈالر سے بھی کم ہے۔ شدید مہنگائی میں آبادی کے اتنے بڑے حصے کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ ان کے بچے بدترین غذائی قلت کی بنا پر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئے ہیں۔ موجودہ حکومت جب سے آئی ہے بڑی بڑی بیرونی سرمایہ کاری کے سبز باغ تو دکھا رہی ہے مگر سرمایہ کاری کے بجائے قرضوں میں بے تحاشا اضافہ کرتی جا رہی ہے۔
عید کے دنوں میں ایک دو ایسی مجالس میں شرکت کا موقع ملا کہ جہاں ہمارے معاشی احوال سے براہِ راست متعلق چند شخصیات موجود تھیں۔ ایک صاحب کا کہنا تھا کہ ہمارے نام نہاد اقتصادی ماہرین بیرونی سرمایہ داروں کے سامنے پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمومی فائدوں کا ایک عام آدمی کی طرح ذکر تو کرتے ہیں مگر فنی لحاظ سے سرمایہ کاری کے منصوبوں کی فزیبلٹی بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے‘ لہٰذا ایم او یوز سے آگے بات نہیں بڑھتی۔ متحدہ عرب امارات نے ہمیں بھاری شرح سود پر صرف دو ارب ڈالر کا قرضہ سٹیٹ بینک میں سیف ڈپازٹ کے طور پر دے رکھا تھا‘ وہ بھی انہوں نے واپس مانگ لیا ہے۔ قرض دینے والا جب چاہے اپنی رقم واپس طلب کر سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی عرب دنیا میں آنیاں جانیاں محض سیر سپاٹے تک محدود رہی ہیں اور وہ کوئی بڑی سرمایہ کاری لانے میں ناکام رہے ہیں۔
اب تو امریکہ نے دنیا کو ایران سے تیل خریدنے کی خود اجازت دے دی ہے۔ یہ اجازت ملتے ہی بھارت نے ایران سے تیل منگوانا شروع کر دیا۔ اب ہمیں ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے زیرِ التوا منصوبے کو بلا تاخیر مکمل کر لینا چاہیے۔ نیز ایران سے سستا تیل بھی منگوانا شروع کر دینا چاہیے۔ ہماری معاشی حالت تب سدھرے گی جب ہماری حکمران اشرافیہ سدھرے گی۔ ہم اپنے حکمرانوں سے سیکنڈے نیوین ممالک کے سائیکل سوار حکمران بننے کی توقع تو نہیں رکھتے مگر کم از کم انہیں جنوبی ایشیا کے حکمرانوں جیسی سادگی تو اپنا لینی چاہیے۔ ہمارے حکمرانوں اور ان کے اقتصادی مشیروں کو یہ تو معلوم ہونا چاہیے کہ قرضوں کی دلدل میں دھنس کر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved