تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     08-04-2026

سارا مسئلہ سارا فساد اسرائیل کا ہے

یہ نکتہ نہ سمجھیں تو اس جنگ کو سمجھنا محال ہو جاتا ہے۔ اسرائیل نے تو حملہ کیا لیکن امریکہ کو اس حملے میں شامل کرنا یہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کمال ہے۔ ایک لحاظ سے یہ حملہ اس نے بیچا کہ حملہ ہوا اور قیادت کا صفایا ہو گیا تو اسلامی ریاست ختم ہو جائے گی۔ اب ٹرمپ کیا امریکہ اس جنگ میں پھنسا ہوا ہے اور نکلنے کا کوئی آسان راستہ نہیں۔ ٹرمپ جنگ بندی چاہتا ہے لیکن اپنی شرائط پر اور وہ شرائط ایسی ہیں کہ ایران مانے تو اس کا بیڑہ غرق ہو جاتا ہے۔ سمجھوتا تو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر ہوتا ہے اور امریکہ جو ایران سے مانگ رہا ہے وہ گھٹنے ٹیکنا‘ ناک رگڑنا اور رسوا ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کھول دو‘ تیل بردار جہازوں کو گزرنے دو اور 45دن بعد دیکھیں گے کہ اگلا مرحلہ کیا ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز کھل جائے تو ایران کے ہاتھ رہ کیا جاتا ہے۔ اور جہاں تک اگلے مرحلے کی بات ہے امریکہ اور اسرائیل نے دنیا کو ثا بت کر دیا ہے کہ ان کی طرف سے کی گئی کوئی بھی بات قابلِ یقین اور قابلِ اعتبار نہیں۔ لیکن امریکہ مُصر ہے کہ انہی شرائط پر جنگ بندی کرو نہیں تو تمہارا حشر کر دیا جائے گا۔
اس فارمولے کے پیچھے ساری سوچ اسرائیل اور امریکہ میں موجود صہیونی لابی کی ہے۔ اسرائیل جنگ بندی نہیں چاہتا‘ وہ ایران کی مکمل تباہی چاہتا ہے۔ اس کی تیل کے تنصیبات‘ اس کا انڈسٹریل بیس‘ اس کی یونیورسٹیاں اور ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ اس کے ہسپتال تمام کے تمام تباہ ہو جائیں تاکہ ایران 70‘ 80 سال پیچھے چلا جائے اور ایک ناکام ریاست بن جائے۔ اور جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں ایک طرف جنگ بندی کی بھونڈی باتیں اور دوسری طرف ایرانی انفراسٹرکچر پر اسرائیلی بمباری۔ ایسے میں ایران جنگ بندی کی تجویز کیسے مان سکتا ہے‘ کیونکہ اس جنگ بندی کا مقصد صرف ایک ہے کہ آبنائے ہرمز کھل جائے اور ایران کے ہاتھ میں جو سب سے بڑا لیور ہے اس سے وہ محروم ہو جائے۔
ایک دفعہ ایسا ہوتا ہے تو اسرائیل نے پھر ایران کے ساتھ وہی کرنا ہے جو غزہ اور لبنان میں کر رہا ہے۔ اسرائیل کے سامنے معاہدوں اور یقین دہانیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ ہم دیکھ چکے ہیں‘ غزہ میں جنگ بندی ہوتی ہے اور منٹوں بعد جارحیت اور بمباری شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سب کچھ سہہ کے تمام حملے برداشت کرکے ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہو جائے گا؟ سفارتی کوششیں اپنی جگہ لیکن ایران ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ اس کیلئے ایسا کرنا ناممکن ہے کیونکہ ایرانی قیادت سے بہتر کون جانتا ہے کہ صہیونی اور امریکی وعدوں پر کتنا بھروسہ کیا جائے۔ اس عمل کو جنگ بندی کا نام دینا ہی غلط ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے مسئلے پر ایران کے ہاتھ بندھ جائیں تو یہ جنگ بندی نہیں یکطرفہ سرنڈر کے مترادف ہو گا۔ کیا پھر یہ عقل کا کوئی تقاضا بنتا ہے کہ اس صورتحال میں ایران ایک سطحی قسم کی جنگ بندی پر آمادہ ہو جائے؟
نہیں‘ جنگ بندی ہو نہیں سکتی کیونکہ جو شرائط اسرائیل کے ایما پر امریکہ پیش کر رہا ہے وہ ایران کو نہتا اور بے بس کر دیں گی۔ ایرانی جانتے ہیں۔ جو مار اور تباہی وہ برداشت کر رہے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ اب امریکہ کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیں اور اسرائیل کو موقع دیں کہ اس جنگ کی اگلی قسط کی تیاری شرو ع کر دے۔ لہٰذا ٹرمپ جتنے بھی اپنے دانت پیستے رہیں ان کی دی گئی ڈیڈلائن گزر جائے گی اور آبنائے ہرمز غیر دوست ممالک کیلئے نہیں کھلے گا۔ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایسی صورت میں ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ ایران کی تنصیبات اور انفراسٹرکچر پر تو پہلے ہی اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں۔ ان میں تیزی آ جائے گی‘ مزید تباہی پھیلے گی اور ایسا ہوا تو کوئی اس بھول میں نہ پڑے کہ ایران کی طرف سے ردِعمل نہیں آئے گا۔ ضرور آئے گا اور اس ردِعمل کی زد میں خلیج فارس کے دوسری طرف برادر ملکوں کی تنصیبات اور انفراسٹرکچر نشانہ بنیں گے۔ اب تک تو آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بند ہے‘ پروڈکشن کی تمام تنصیبات تو قائم ہیں۔ ان تنصیبات پر تباہی کے آثار آنے لگیں تو تیل کی قیمت کہاں پہنچ جائے گی اور اس کا اثر گلوبل معیشت پر کیا ہو گا۔ امریکہ کو ضرب لگے گی‘ اس کی معیشت پر گہرے اثرات پڑیں گے اور صدر ٹرمپ کو سیاسی نقصانات اٹھانے پڑیں گے لیکن اسرائیل کو ان سارے ممکنہ نتائج کی کوئی فکر نہیں۔ اسرائیل ایک تو چاہتا ہے کہ ایران تباہ ہو اور ساتھ ہی اسے کوئی غم نہ ہو گا‘ اگر جی سی سی ممالک میں تباہی پھیل جائے۔ صہیونی خواب ہے کیا؟ کہ اس سارے خطے میں سبقت اسرائیل کی ہو اور اسی کی بات چلے۔ عرب ممالک نے اسرائیل کا مقابلہ کرنا کب سے ترک کر دیا تھا۔ کچھ عرب ممالک تباہ ہو گئے باقی ماندہ نے حالات سے سمجھوتا کر لیا۔ ایک ایران اور اس کی حمایتی تنظیمیں جیسا کہ حزب اللہ‘ حماس اور حوثی ہی تھے جو اسرائیل کے خلاف کھڑے تھے‘ جن میں مزاحمت کی خُو باقی تھی۔ اسی لیے ایران کو تباہ کرنا پرانا صہیونی خواب تھا۔ نیتن یاہو نے کتنے امریکی صدور کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ایران پر حملہ ہو۔ مختلف طریقوں سے امریکہ نے ایران کا ناطقہ بند کرنے کی تدبیریں جاری رکھیں لیکن باقاعدہ حملہ جس طرح کہ اب ہو رہا ہے‘ یہ ٹرمپ ہی نے کیا۔
کچھ یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ وائٹ ہاؤس کا ذہنی ماحول کیا ہے۔ ان لوگوں پر صہیونی اثر بہت ہے۔ یہ دو اشخاص جو ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے چنے گئے جیرڈ کُشنر اور سٹیو وِٹکاف‘ دونوں نہ صرف یہودی ہیں بلکہ اسرائیل کے اثاثے لگتے ہیں۔ کُشنر کے تو بھاری کاروباری تعلقات اسرائیل سے ہیں اور سٹیو وِٹکاف بھی کچھ کم نہیں۔ ٹرمپ خود اور سیکرٹری جنگ پیٹ ہیگستھ بڑی عجیب اور کٹر قسم کی عیسائیت کے پیروکار ہیں۔ یہاں ہوتے تو طالبان کہلاتے‘ ہندوستان میں ہوتے تو ہندوتوا کے پیروکار سمجھے جاتے۔ جیسے ہم مسلمانوں میں بنیاد پرستی ہے یہ وہاں کے بنیاد پرست ہیں اور ان کی باتیں ویسے ہی جاہلانہ ہیں۔
امریکہ کی ایک مشہور خاتون پادری پولا وائٹ ہے۔ یوٹیوب پر اس کے کرتب دیکھیں۔ پچھلے ہفتے ایسٹر (Easter) کی تقریبات کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس گئی ہوئی تھیں۔ وہاں ایک اور مشہور پادری فرینکلن گریہم نے ٹرمپ کیلئے دعا کی اور پھر میڈم پولا وائٹ مائیک پر آئیں اور انہوں نے صدر ٹرمپ کی ذات میں حضرت عیسیٰ جیسی خصوصیات ڈھونڈنا شروع کر ڈالیں۔ یوٹیوب پر ضرور جائیں اور یہ منظر دیکھیں‘ تب سمجھ آئے گی کہ وہ کون سا ذہن (Mindset) ہے جس کے تابع ایران پر یہ حملہ ہوا ہے۔ یہ عجیب سے جنونی قسم کے لوگ ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کے زیرکمان دنیا کی طاقتور ترین ملٹری ہے اور ان کے ہاتھوں میں دنیا کے مہلک ترین ہتھیار ہیں۔ دنیا ان کے غضب سے نہیں ان کے جنونی پن سے ڈرے۔
دنیا اب تیار رہے اس جنگ کے خطرناک ترین لمحے کے لیے۔ ایران نے گھٹنے ٹیکنے نہیں اور فرسٹریشن میں امریکہ جنگ کی شدت میں اضافہ کرتا جائے گا۔ لیکن گو امریکہ بڑھتی ہوئی فرسٹریشن کا شکار ہے‘ پیچھے سے اسرائیل چونگیں مارتا رہے گا کہ ایران کو ختم کرنا حکم الٰہی کے مطابق ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جس دعا کا ذکر کیا ہے اس میں ایک پرانی کتاب سے ایسی ہی باتیں سنائی گئیں۔ یہ ہیں صہیونی عزائم اور مسلمان دنیا پتا نہیں کن بھول بھلیوں میں ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved