تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     09-04-2026

نوبیل انعام کا اصل حقدار۔ پاکستان

امن کا نوبیل انعام میرٹ پر ملا کرتا تو پاکستان اس کا حقدار ہوتا۔ پاکستان نے وہ جنگ کم از کم 15دن کیلئے روک دی جس نے پوری دنیا کی سانس روکی ہوئی تھی۔ آبنائے ہرمز دنیا کا نرخرہ نکلا جس سے سانسیں چلتی ہیں۔ ایران‘ امریکہ اور اسرائیل تو اس جنگ کے محض تین نام ہیں۔ عمان‘ متحدہ عرب امارات‘ کویت‘ بحرین‘ قطر اور سعودی عرب بھی اسی جنگ کا حصہ ہیں۔ دیکھا جائے تو دنیا کے وہ سب ممالک جن کی معیشت اس جنگ کی وجہ سے دائو پر لگی‘ اس کی لپیٹ میں ہیں۔ یہ مشکل ‘ پیچیدہ اور نہایت حساس معاملہ ہے جس میں اتنی نزاکتیں شامل ہیں کہ شاید کوئی دوسرا جھگڑا اس کا مقابلہ نہ کر سکے۔ ایسے پیچیدہ معاملے کو سفارتکاری کے ذریعے کم از کم جنگ بندی پر لے آنا بچوں کا کھیل نہیں۔ اس تاریخی کامیابی پر پاکستان کو فخر ہے اور پوری قوم کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔ یہ پاکستان کا اعزاز ہے اور رہے گا۔
معاملہ اتنا ہی نہیں تھا کہ دونوں بلکہ تینوں ملکوں کے ایک دوسرے پر اور عرب ممالک پر حملے فوری طور پر رکوانے تھے۔ اصل مسئلہ تینوں فریقوں کی اَنا اور ناک کا بن چکا ہے۔ انہیں فیس سیونگ چاہیے تھی‘ اس طرح کہ وہ اپنے عوام کو بتا سکیں کہ ہم نے فتح حاصل کی ہے اور مخالف کو عبرتناک شکست ہوئی ہے۔ آپ دیکھیں کہ ٹرمپ کی ٹویٹ بھی اپنے عوام کو بتانے کیلئے ہے کہ میں جیت گیا ہوں۔ ایرانی سپریم قیادت نے بھی فتح کا اعلان کیا ہے اور اسرائیل نے بھی ناک اونچی رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا اگر ثالث یعنی پاکستان اس معاملے میں امریکہ اور ایران دونوں کی انا اور سیاسی مجبوریوں کا خیال نہ رکھتا۔ یہ گنجائش دونوں طرف دی گئی اور جب فریقین کو محسوس ہوا کہ وہ جیتے ہوئے دکھائی دے سکتے ہیں تو یہ جنگ بندی منظور کی گئی۔ اس کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارکو جتنی بھی مبارک دی جائے‘ کم ہے۔ انہوں نے نہ صرف سنگینی کا مکمل ادراک کیا بلکہ خوفناک صورتحال کو حل کرنے اور فوری جنگ بندی تک اپنے اوپر نیند اور آرام کو حرام کر لیا۔ یہ کامیابی بتاتی ہے کہ قوم کے فیصلہ ساز اگر متحد ہو کر کسی معاملے کو حل کرنے نکل پڑیں تو کامیابی قدم چومتی ہے۔ ایسی ہی کامیابی اللہ نے مئی 2025ء میں بھارت کے مقابلے میں نصیب کی تھی جب سب لوگ یکجان اور ہم آواز تھے۔
ایک آتش فشاں‘ جس کے پھٹنے میں چند گھنٹے باقی رہ گئے ہوں‘ ابتدائی ساری علامات مکمل ہوچکی ہوں‘ زہریلے سیاہ بادل اور سرخ لاوا ڈھلانوں پر بہنا شروع ہوگیا ہو اور لپیٹ میں آنے والی بستیوں کے مکین اسے دہشت سے پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں‘ اچانک معلوم ہو کہ کسی تدبیر سے اس کا پھٹنا کم از کم 15 دن کیلئے روک دیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ ایسی صورت نکال لی جائے کہ یہ بالکل سرد ہوجائے‘ تو یہ خبر کسی ناقابلِ یقین کرشمے کی طرح محسوس ہوگی۔ اور یہ کام کر دکھانے والے کو دنیا کے محسن کا خطاب ہی ملے گا۔ اس وقت پاکستان پوری دنیا کا ایسا ہی محسن ہے۔ پرانے زمانے میں خوشخبر ی لانے والے یا قوم کے محسن کا منہ موتیوں سے بھردیا جاتا تھا‘ اسے سونے میں تول دیا جاتا تھا۔ دنیا کو چاہیے کہ اس وقت اس روایت پر عمل کرے اور اس کا بھرپور اعتراف کرے۔
اعلانات کے مطابق آبنائے ہرمز ہر قسم کی بحری ٹریفک کیلئے دو ہفتوں تک کھولی جا رہی ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ جہازوں کو تکنیکی معاملات کا خیال رکھنا ہوگا۔ یہ تکنیکی معاملات کیا ہیں‘ تفصیل معلوم نہیں لیکن بظاہر یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں یہ ظاہر کیا کہ میں نے اس شرط پر جنگ بندی قبول کی ہے کہ ہرمز فوری‘ مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دی جائے گی۔ گویا دونوں ملک اپنی اپنی شرط کے مطابق جنگ بندی قبول کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ 10اپریل کو ایران اور امریکہ کے وفود اسلام آباد آنے کی تجویز ہے اور یہ تاریخ بڑھ بھی سکتی ہے۔
اس جنگ بندی کے چند گھنٹوں کے اندر زندگی چلنے لگی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 90 ڈالر کے قریب آ گئیں ۔ آمد ورفت شروع ہو گئی تو انشورنس بھی کم ہو جائے گی‘ رکی ہوئی کھادیں کھیتوں تک پہنچیں گی تو دنیا سے قحط کا خطرہ بھی ٹلے گا۔ ہر ملک میں تیل کی قیمتیں بھی نیچے آئیں گی اور اس کی بنیاد پر ایک ماہ میں ہونے والی مہنگائی بھی۔ ایئر پورٹس محفوظ ہوئے تو پروازیں بھی شروع ہوں گی اور ایئر لائنز کی جان میں جان آئے گی۔ اسرائیل‘ ایران اور متاثرہ خلیجی ملکوں کو ملبہ اٹھانے کا وقت مل جائے گا۔ سعودی عرب کے صبر اور تحمل کی داد دینی چاہیے کہ اس نے زخم سہہ کر بھی خود کو جنگ میں کودنے سے باز رکھا۔ اس کا کریڈٹ پاکستان کو ملنا چاہیے کہ وہ درست مشورے دے کر اور مکمل حمایت کا یقین دلا کر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا۔ ایک بار پھر یہی ثابت ہوا کہ پاکستان سعودی عرب کا مخلص ترین دوست ہے اور سعودی عرب کو پاکستان کا یہ اخلاص ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔
پاکستان نے اس جنگ بندی کے ذریعے بہت سی جہات میں سرخروئی حاصل کی ہے۔ اس لیے یہ ایک نہیں‘ متعدد کامیابیاں سمجھنی چاہئیں۔ اس نے اسرائیل کا وہ منصوبہ ناکام بنا دیا جس کے تحت عرب ملکوں کو اس جنگ میں ایران کے خلاف کود پڑنا تھا۔ اسرائیل کی سر توڑ کوشش یہی تھی۔ دوسرا‘ اسرائیل جو ہر امن منصوبے اور جنگ بندی کو سبوتاژ کرتا آیا ہے‘ اسے پاکستان نے امریکہ کے ذریعے مجبور کر دیا کہ وہ یہ جنگ بندی قبول کرے۔ اگرچہ اسرائیل نے کہا ہے کہ لبنان کا معاملہ اس جنگ بندی کا حصہ نہیں لیکن وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ میں لبنان کا ذکر موجود ہے۔ جنگ بندی اور سفارتی کوششوں نے دنیا کی نظرمیں پاکستان کا کردار بہت اونچا کر دیا ہے اور پوری دنیا میں اس کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا میں پاکستان کا نام جلی سرخیوں میں ہے اور اللہ نے پاکستان کو ایک بار پھر معزز اور معتبر مقام بخشا ہے۔ بھارت جو اس ساری صورتحال میں نظر انداز ہوا کھڑا تھا اور جس کے وزیر خارجہ نے بے بسی اور غصے میں گھٹیا زبان استعمال کی تھی‘ اپنی سفارتی تنہائی اور شکست کا نظارہ کر رہا ہے۔ پچھلے سال جون کی لڑائی سے موجودہ جنگ تک ایران نے بھارت کا دو رُخا چہرہ اچھی طرح دیکھا ہے۔ اسے جان لینا چاہیے کہ بھارت ہمیشہ سے اسرائیل کے ساتھ تھا‘ اور رہے گا۔ اس نے مشکل وقت میں جس طرح ایران کو تنہا چھوڑا‘ وہ بھارت سے متعلق ایرانی نظریات بدلنے کیلئے کافی ہونا چاہیے۔ نیز دنیا کو پاکستان کی شکل میں ایک قابلِ اعتبار‘ طاقتور اور معاملہ فہم ثالث ملا ہے جس پر دنیا کی بڑی طاقتیں اعتماد کر سکتی ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ نہایت مشکل اور پیچیدہ کام پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کے بس کا نہیں تھا۔ اس کا سہرا فوجی قیادت کے بعد سیاسی قیادت کے سر ہے۔ اگرچہ اب بھی اس جنگ بندی کے سبوتاژ کیے جانے کا امکان موجود ہے‘ خاص طور پر اسرائیل کی طرف سے لیکن بظاہر امریکہ ایسا نہیں چاہے گا۔ اسے فیس سیونگ مل گئی ہے اور اب مذاکرات کی میز پر وہ لچک دکھا سکتا ہے۔ یہ بات حیرت انگیز اور معنی خیز ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے پیش کردہ دس نکاتی فارمولے کو قابلِ عمل کہا ہے۔ حالانکہ اس میں وہ شرائط شامل ہیں جن سے امریکہ انکار کرتا آیا ہے‘ مثلاً آبنائے ہرمز پر ایرانی کنٹرول۔ یہ دس نکات قابلِ عمل قرار دینا خود اس بات کی دلیل ہے کہ ٹرمپ اس جنگ سے نکلنے کیلئے ایسا فوری راستہ چاہتے تھے جس سے وہ اپنے عوام کو فتح یابی کا یقین دلا کر مطمئن کر سکیں۔ اپنے پائلٹ کو بچا لینے کا اعلان بھی اسی بیانیے کا حصہ تھا کہ امریکہ جیت گیا ہے۔
جنگ سے لہولہان ملکوں میں جیت کس کی ہوئی؟ میرے خیال میں کسی کی بھی نہیں! لیکن اگر کسی ایک ملک کا نام لیا جا سکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved