آج تعریف کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ رہے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ایران کے خلاف جنگ بندی کرا کے انہوں نے گویا تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ تو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ اگر آپ ہمارے مضامین گزشتہ کئی برسوں سے پڑھتے رہے ہیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہم ان کے مداحوں کی صف میں کبھی نہیں رہے۔ ان کے اچھے کاموں کے البتہ ہمیشہ معترف رہے ہیں۔ دوسرا کوئی بھی اگر اپنی قومی اور آئینی ذمہ داریاں پوری کرے‘ عام لوگوں کی خدمت خلوص اور جذبے سے کرے تو دل میں اس کے لیے قدر کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں سے ہماری سفارت کاری سیاسی اُفق پر جاذب انداز میں ابھری ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمارے حاسد کبھی خوش تو نہیں رہ سکتے مگر بھارت کے وزیر خارجہ تو اپنی بد زبانی میں سفارتی تو کیا عام آدمی کی تہذیب کی حد سے بھی گزر گئے۔ پاکستان کی تجویز پر جنگ بندی سے ملکی وقار میں نہ صرف اضافہ ہو گا بلکہ اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے ہم اپنی نئی عالمی شناخت کے لیے ایک راہ متعین کر سکتے ہیں۔ کسی بھی لحاظ سے دو ہفتے کی جنگ بندی کو دیکھیں یہ ہر لحاظ سے ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی رات بہت بے چینی میں گزری کہ رات کے اندھیرے میں ایران کی تہذیب کو مٹانے کی دھمکی کو ہلکا نہیں لیا جا سکتا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں عام طور پر جو تصور ان کے اپنے ملک میں ہے وہ کوئی اتنا خوش کن نہیں۔ پوری دنیا میں اضطراب کی کیفیت تھی کہ اگر کہیں امریکی صدر نے ایران کے معاشی اور صنعتی انفراسٹرکچر کو پہلے سے کہیں بڑا نقصان پہنچا دیا تو ایک بہت بڑا انسانی المیہ جنم لے گا۔ پہلے ہی بہت کچھ تباہ کر دیا گیا ہے جسے دوبارہ تعمیر کرنے میں بہت سرمایہ اور وقت درکار ہو گا۔ سب سے بڑا نقصان تو انسانی جانوں کا ہے جو ایران اور لبنان میں ہوا ہے اور جس کی تلافی اب ممکن نہیں۔ جنگ بندی سے امید کی جا رہی ہے کہ نہ صرف اسرائیلی اور امریکی حملے رک جائیں گے بلکہ پائیدار امن اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک جامع معاہدے کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز نے حریفوں کے درمیان کوئی قابلِ قبول راستہ نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے‘ اگرچہ ایران کی کوشش اور خواہش تو رہی ہے کہ جنگ بندی کے بجائے امن منصوبے پر بات چیت ہو جس میں اس کے خلاف دہائیوں سے عائد اقتصادی پابندیوں کو ہٹانا بھی مقصود تھا اور یہ بھی کہ آئندہ اسرائیل اور امریکہ اس کے خلاف جارحانہ قدم نہیں اٹھائیں گے۔ جنگ کے دوران بھی ہماری حکومت کی وساطت سے ایسے معاہدے کے کچھ خدو خال طے ہوئے جن کو امید ہے کہ اس جنگ بندی کے دوران حتمی شکل دی جائے گی۔ جنگ بندی خلیجی ریاستوں اور عالمی معیشت کے لیے بھی نہایت ضروری تھی کہ ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت تیل اور گیس کی ترسیل مشکل اور غیر محفوظ بنا رہی تھی۔ اس تناظر میں امریکہ کی تمام تر عسکری منصوبہ بندی حالیہ ہفتوں میں اس آبی راستے کو عالمی جہاز رانی کے لیے کھلوانے کی رہی ہے۔ اس بار یورپی اور کچھ ایشیائی ممالک بھی زور لگا رہے تھے کہ سمندری راہداریوں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہر ایک کے لیے کھلا رکھا جائے۔ حقیقت تو سب کو معلوم تھی اور اب بھی ہے کہ جب کوئی بڑی طاقت‘ جس نے ان قوانین کے احترام اور عالمی نظام کی فعالیت کی ذمہ داری اٹھائی ہو‘ اگر انہیں از خود ہی ہوا میں اڑا دے تو دوسرے کیوں ان کے پابند ہوں گے۔ بہرحال اس جنگ بندی سے عالمی معیشت خصوصاً ہمارے جیسے ایشیائی ممالک‘ جن کا خلیج فارس کے تیل اور گیس کے وسائل پر انحصار ہے‘ اب سکھ کا سانس لے سکیں گے۔
اس جنگ بندی کی کئی تاویلیں اور ہر نوع کی تشریحات اب اگلے کئی دنوں میں پڑھنے اور سننے کو ملیں گی۔ میڈیا پر اور عوامی حلقوں میں بہت سے تبصرے کیے جاتے رہیں گے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ پر مگر یہ خدشہ بھی ہے کہ جو مقام اور احترام ہمارے ملک کو ملا ہے‘ اس پر فخر اور اپنے سفارت کاروں کی کارکردگی کی تعریف ان میں کہیں فٹ نوٹ بن کر نہ رہ جائے۔ ماضی میں ہماری بہت سی ایسی کاوشوں کو نہ صرف اہمیت نہ دی گئی بلکہ الٹا منفی بیانیوں کی مہم چلائی گئی یہاں تک کہ کارنامے ناکامیوں کے ذیل میں گنے جانے لگے۔ سوویت یونین اور افغان مجاہدین کے درمیان امن معاہدہ اور وہاں سے روسی فوجوں کا انخلا کوئی کم کارنامہ نہ تھا۔ اس نے اس وقت کی دنیا کا تزویراتی پیمانہ بدل دیا۔ اس طرح امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان بھی ہماری سفارت کاری نے اہم کردار ادا کیا۔ یہ موقع دوسروں کے لیے بھی تھا اور شاید اس میں ہم اکیلے نہیں تھے لیکن کلیدی کردار ہمارا ہی تھا۔ ایران کے خلاف جنگ رکوانے کے لیے دوسرے بہت سے ممالک کوشش کرتے رہے ہیں اور سب نے قابلِ تعریف حصہ ڈالا ہے۔ چلو اپنی خوش قسمتی ہی سمجھ لیں کہ جب ایک جنگی دھمکی کی خوفناک سرخ لکیر اپنی آخری حد کو پہنچ چکی تھی اور دنیا یقینی خطرے کے سامنے دم سادھے بیٹھی تھی تو ہماری تجویز مان لی گئی اور بڑا خطرہ ٹل گیا۔ خوش قسمتی کا اظہار صرف خشک مزاج دوستوں کے لیے کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ مقام اَن تھک محنت اور سفارت کاری میں خلوص اور باہم حریفوں کے پاکستان پر اعتماد کا مرہونِ منت ہے۔
یہ زبردست کامیابی سب کے لیے ہے۔ سب سے بڑھ کر ایران کے عوام کے لیے جنہیں بہت بڑی اذیت میں مبتلا ہونا پڑا اور دنیا کے سب ممالک کے لیے جہاں روز مرہ کی زندگی متاثر ہوئی۔ معاشی فکر مندی‘ مہنگائی‘ کساد بازاری میں اضافہ اور پیداوار میں کمی واقع ہو رہی تھی۔ ابھی یہ سطور لکھتے وقت تک اشارے مثبت آرہے ہیں کہ جنگ بندی کا احترام ہو گا اور ایران اور امریکہ کے درمیان بامعنی امن مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع ہو گا‘ اگرچہ کچھ خدشات بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ بہتر تو یہی ہو گا کہ وہ نشستیں میرے اختیاری شہر‘ اسلام آباد میں ہوں اور یہ اعزاز ہمارے ملک کو ملے۔ سفارت کاری کی دوڑ کے دوسرے کھلاڑی بھی میدان میں ہوں گے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو پایا تو عارضی جنگ بندی کرانے کا سفارتی سہرا بھی ہمارے لیے کم نہیں۔ اسی لیے تو یہ درویش اسے ایک غیرمعمولی کارنامہ سمجھتا ہے۔ ایک عرصے سے ہماری عالمی شناخت اور مقام کچھ اپنی نااہلیوں کی وجہ سے اور عمومی علاقائی حالات کے جبر کے تحت دباؤ کا شکار رہے ہیں۔ بحیثیت قوم ہماری خود اعتمادی کا خط بھی اعتدال کے زاویے سے کچھ کم رہا ہے۔ تاہم دو واقعات نے ہمیں مایوسیوں سے نکال کر امیدوں کے سفر کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ گزشتہ سال مئی کی جنگ میں بھارت کو معقول اور متناسب جواب‘ اور اب مشرقِ وسطیٰ میں پھیلی خوفناک جنگ کے شعلوں پر پانی ڈالنے کی امتیازی حیثیت۔ زیادہ پائیدار مقام تو داخلی اصلاحات‘ صنعتی ترقی‘ فعال حکومت اور جاندار معاشرہ پیدا کرنے سے حاصل ہو گا۔ اس طرف قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved