تحریر : بابر اعوان تاریخ اشاعت     10-04-2026

کیا اب بھی سب اچھا ہے ؟…(2)

ایرانی قوم اور ان کی لیڈرشپ ایک پیج پر ہیں اسی لیے دنیا کی دو بے رحم ایٹمی بلائوں سے بین الاقوامی لڑائی لڑی۔ اس خون خشک کر دینے والی جنگ میں نہ تو ایرانیوں کے ہاتھ لرزے نہ سانس پھولی اور نہ ہی پیر ڈگمگائے۔ دنیا کے سامنے ایران اور اس کی لیڈرشپ سُرخرو ہے۔ دوسری جانب اسرائیل اور اس کا سرپرست امریکہ ہر محاذ پر بے آبرو ہوئے۔
وجہ یہ ہے کہ جنگ شروع ہوتے ہی ایران میں روٹی‘ پٹرول اور ڈیزل تقریباً مفت کر دیا گیا۔ بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا کہ مال لے جائو پیسے جنگ کے بعد دے دینا۔ لاک ڈائون اور سمارٹ لاک ڈائون کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔ سوا مہینے تک شب و روز بموں کی برسات ایرانیوں کو ہجرت پر مجبور نہ کر سکی۔ بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی بڑی تعداد میں دفاعِ وطن کے لیے واپس آ رہے ہیں۔ اس قدر مسلسل بمباری‘ آگ و آہن کی برسات‘ شعلوں اور جنگ کے دوران بھی ایرانی وزرا عوام کے درمیان کھلی سڑکوں پر امریکہ مخالف مظاہروں میں تواتر سے شریک رہے۔ کسی تعلیمی ادارے میں کوئی لاک ڈائون نہیں کیا گیا۔ ایران کے 31 صوبوں میں کوئی ٹریول بین نہیں لگا۔ ایرانی صدر بذاتِ خود شاپنگ مالز میں جا کر مختلف اشیا کے ریٹس چیک کرتے رہے ۔ ساتھ ہی ساتھ صدر مسعود پزشکیان شہری سہولتوں کی فراہمی اور بمباری سے متاثر ہونے والے شہریوں کو کمفرٹ دینے کے لیے شخصی طور پر بھی موجود رہے۔
پوٹھوہاری کی ایک قدیم اکھان کچھ یوں ہے ''کھوتا مریا کھاریاں تے سوگ اورنگ آباد‘‘۔ جنگ لگی عربیئن گلف اور پرشیئن گلف میں اور مہنگائی برصغیر میں۔ آپ سٹرک پر کسی بھی پاکستانی کو روک کر پوچھ لیں‘ سب یہی کہتے ہیں کہ جنگ کے نام پر کرپشن مافیا دیہاڑیاں لگا رہا۔
آیئے آپ سے شہرِ اقتدار کے چند حقائق شیئر کرتے ہیں۔ ہم اسے خبر یا نیوز اس لیے نہیں کہیں گے کیونکہ موجودہ نظام نے ایک طرف نیوز کی آزادی کا فیوز اُڑا رکھا ہے جبکہ دوسری جانب فیک نیوز کا میلہ سجا رکھا ہے۔ خدا کی پناہ! اب تو ایسے دانشور مارکیٹ میں لانچ کیے گئے ہیں جنہوں نے پٹرولیم کی قیمتوں میں ناجائز اضافے کو انسانی صحت کے لیے نعمتِ عظمیٰ ہونے کا فتویٰ جاری کر دیا۔ کچھ دوسرے ایسے ہیں جن کی زبانوں پر شکمِ عزیز کے تالے پڑ گئے ۔ بہرحال! فیڈرل حکومت نے پٹرول پر 80 روپے کی لیوی کو واپس لینے کا جو اعلان کیا وہ دراصل چوری چھپانے کے لیے کاسمیٹک سرجری ہے۔ اگر ریلیف عوام کو دینا مقصد ہوتا تو یہ کمی ڈیزل‘ جو ساری ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے اور مٹی کا تیل جس سے غریب کا سٹوو اور چولہا جلتا ہے‘ اِن دونوں آئٹمز میں بھی کی جاتی۔ مذکورہ کمی کو حکومت کی طرف سے پہلے ہی سے عارضی رکھا گیا اور صاف بتا دیا گیا کہ یہ صرف تین سے چار ہفتے تک مؤثر رہے گی۔ اس کے بعد جو ہونا تھا‘ اس حوالے سے کچھ پلاننگ نہ تھی۔ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کے ریٹس میں سکائی راکٹنگ جاری ہے اور معلوم نہیں کہ مزید کتنی ہونا باقی ہے۔ آئیے پٹرول بم گرانے کی وجوہات کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔
پٹرولیم بم گرانے کی پہلی وجہ: دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت تمام محکمہ جات کے سرکاری افسران کُل ملا کر مفت پٹرول کی مَد میں صرف ایک ماہ کے عرصے میں تین کروڑ لٹر پٹرول حاصل کر رہے ہیں۔ یہ پٹرول پرچیوں کے ذریعے لیا جا رہا ہے۔ اتنے بڑے ''پیٹرو بلیک ہول‘‘ کو بند کرنے کے بجائے حکومت نے ایک ہفتے میں معیشت‘ تجارت‘ صنعت‘ مواصلات‘ خور و نوش اور زندگی کے ہر شعبے میں فکسڈ انکم گروپس اور غریبوں کا گلا گھونٹ ڈالا۔ موثق پارلیمانی ذریعے کے مطابق حکومت کی مجبوری انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا دیا گیا ٹارگٹ ہے‘ جس کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد کی شرح سے جی ایس ٹی لگانے کا مطالبہ ہے‘ کاربن لیوی اور ٹیکس خسارے کو بھی پٹرول سے پورا کرنے کا پلان ہے‘ جس کا واحد مقصد فی لٹر قیمت کو چھ‘ سات سو روپے تک پہنچانا نظر آتا ہے۔ اس پالیسی سازی پر شہرِ اقتدار کے بابو دو لطیفے ایک دوسرے کو سناتے پھر رہے ہیں۔ پہلا لطیفہ یہ کہ ہماری قومی ترقی کے لیے جو ریکارڈ بنا ہے اس نے اہلِ زمین تو کیا‘ سورج کو بھی حیران کر دیا ہے۔ سورج بیچارہ سوچ رہا ہے کسی زمانے میں کرّہِ ارض پر میری پرستش کی جاتی تھی‘ اب یہ کون سی قوم آ گئی ہے جس نے سولر انرجی پر بھی اپنے غریبوں سے ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا؟ نہ مجھ سے پوچھا نہ مجھے میرا حصہ بھجوایا۔ دوسرے لطیفے نے پنجاب کے سرکاری ارسطوئوں کے حلقوں میں جنم لیا ہے۔ پچھلے دنوں ملک کے مختلف شہروں میں جو زلزلے آئے‘ ان کے بارے میں تجویز ہوا کہ کافی سارے لوگوں نے پنجاب میں مفت جھولے لیے‘ لہٰذا اب پنجاب کو پیرس میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے زلزلے کے جھولوں کو بھی فوراً ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ شہرِ اقتدار کے ایک دیہاتی علاقے کی ایک شادی میں دو سرکاری عہدیدار مہمانوں نے گھیر لیے۔ ایک کو کہا گیا آپ کو خدا کا خوف نہیں ہے‘ آپ نے غریبوں کا بھرکس نکال دیا ۔ دوسرے نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے جواب دیا: ان حالات میں موجودہ حکومت کا کوئی ''role‘‘ نہیں ہے۔ یہ بھی ایک نیا عالمی ریکارڈ طے ہوا کہ جس حکومت کے پاس مہنگائی میں اضافے کا اختیار ہے وہ کہہ رہی ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہمارے ایجنڈے پر نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے پٹرول بم گرانے کی پہلی وجہ عوام دشمن پالیسی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
پیٹرول بم گرانے کی دوسری وجہ: ایک نظر دبئی پراپرٹی لیکس پر ڈا لیں۔ پاکستان کی مقتدر اشرافیہ‘ طاقتور بابو اور بعض ریٹائر افسران صرف دبئی میں گیارہ ار ب ڈالر کی پراپرٹی چھپا کر بیٹھے ہیں۔ ان میں بھاری اکثریت اُن کی ہے جنہوں نے معمولی کاروبار کیے یا ملازمتیں کیں۔ ان کے باپ دادائوں نے بھی کروڑ روپیہ کبھی اکٹھا نہ دیکھا ہو گا۔ خبر یہ ہے کہ یو اے ای‘ سعودی عرب اور چین اپنے پیسے موڑنے کے لیے متحرک ہیں۔ دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت جو بھی ہو‘ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ہمارے ملک میں جو ڈیزل بنتا ہے وہ 75فیصد ہماری ریفائنریز خود بناتی ہیں‘ جو تقریباً 190 روپے فی لٹر کاسٹ آتا ہے۔ آپ فرنس آئل یا پٹرول کے نقصانات منہا کر دیں تو ریفائنریز تقریباً 125روپے فی لٹر ایڈیشنل منافع کما رہی ہیں۔ اب خبر ہے کہ پٹرولیم کی قیمتیں جنگ بندی کے بعد 21 فیصد گر گئی ہیں۔ ہائبرڈ نظام تمام پٹرولیم مصنوعات پہ 21 فیصد کے حساب سے پبلک کو ریلیف دے۔
بندگانِ شکم کی حالت پہ یہ دو شعر موزوں ہوئے۔
کھل کر کہہ‘ گر سچا ہے
کیا اب بھی سب اچھا ہے؟
تیری شہ رگ‘ اُس کا پائوں
چپ رہ‘ شیر کا بچہ ہے
(ختم)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved