لگ بھگ 40 روز تک جاری رہنے والی ایران اور اسرائیل و امریکہ جنگ میں کئی اتار چڑھاؤ آئے مگر اس کشیدگی میں سب سے زیادہ خوفناک موڑ اس وقت آیا جب صدر ٹرمپ نے ایران پر بدترین جنگی جارحیت کا استعمال کرتے ہوئے پانچ ہزار سال پہ محیط ایرانی تاریخ‘ تہذیب و تمدن کو نیست و نابود کرنے کا اعلان کیا‘ جس کی ڈیڈ لائن منگل اور بدھ کی درمیانی شب تھی‘ جس کے بعد امریکہ کی جانب سے شدید ترین حملے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی تھیں۔ صدر ٹرمپ کے اس دھمکی آمیز اعلان سے عالمی میڈیا پر ایک بھونچال برپا تھا اور پوری دنیا میں لوگ اپنی گھڑیوں پر نظریں جمائے‘ ڈیڈ لائن کے خاتمے کا وقت قریب آتا دیکھ کر ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا تھے۔ کئی سیاسی مبصرین اور دفاعی امور کے ماہرین امریکہ کی طرف سے ایران پر ممکنہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکانات کا جائزہ بھی لے رہے تھے جس کے نتیجے میں دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی تھی۔ مگر اس بیچ پس پردہ مذاکرات کی بازگشت بھی سنائی دیتی رہی اور اس خطرناک ڈیڈ لائن کے خاتمے سے قبل ہی خود امریکی صدر اور ایران کی قیادت کی طرف سے ثالث ممالک کے ذریعے مذاکرات کی تصدیق بھی کی گئی تھی۔ فریقین کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کے نکات پر اتفاق کے امکانات روشن نہیں دکھائی دے رہے تھے جس کے باعث تشویشناک صورتحال بدستور قائم رہی۔ اس شدید اضطراب کی کیفیت میں تمام تر نگاہیں اسلام آباد کی جانب مرکوز تھیں جہاں پاکستان کی سول و عسکری قیادت بیک وقت امریکہ‘ ایران‘ سعودی عرب اور چین کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھی اور جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط اور جزئیات کو حتمی شکل دینے میں مصروف تھی۔ اس ضمن میں جہاں اسلام آباد سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں وہاں بطور ثالث پاکستان کی حیثیت پر کئی سوالات بھی اٹھائے جارہے تھے کہ کیا پاکستان امریکہ جیسی سپر پاور کے قول و فعل کی ضمانت کا بوجھ اٹھانے کی سکت رکھتا ہے۔ ان توقعات‘ امکانات اور خدشات کے درمیان پاکستان نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب حتمی ڈیڈ لائن کے خاتمے سے تھوڑی دیر قبل امریکہ اور ایران کی قیادت سے دو ہفتے کیلئے جنگ بندی کی اپیل کی جسے فریقین نے قبول کر لیا اور جنگ بندی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوا‘ یوں پوری دنیا ہیجانی کیفیت سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی۔
ایک طرف صدر ٹرمپ اور ان کی دفاعی ٹیم فتح کے دعوے کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران میں جشن کا سماں ہے۔ مگر مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کے دوران ایران نے جس فقید المثال شجاعت اور بہادری سے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کیا اور جس طاقت کے ساتھ اس نے اسرائیل کے طول و عرض میں میزائل داغ کر جوابی وار کیے اس نے پوری دنیا کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جنگی جارحیت کے پہاڑ توڑ ڈالے اور تباہ کن بمباری سے ایران کی تقریباً تمام صف اول کی سول و عسکری قیادت کو شہید کر دیا‘ متعدد اہم تنصیبات اور ہزاروں بلند و بالا عمارتوں کو نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔ مگر ایران کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت نے عزم و استقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس طرح ڈٹ کر مقابلہ کیا وہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ایران نے خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں اور اہم مقامات پر ڈرون اور میزائل داغ کر امریکہ کے کئی جنگی جہازوں سمیت دیگر بیش قیمت دفاعی ہتھیاروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے علاوہ گرم پانیوں کی طرف پیش قدمی کرنے والے امریکی بحری بیڑوں ابراہم لنکن اور جیرالڈ فورڈ کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ سب سے زیادہ حیران کن پہلو ایرانی میزائلوں کا اسرائیل کے کثیر جہتی دفاعی حصار کو توڑ کر اس کے اہم ترین مقامات پر کامیابی سے نشانہ بنانا تھا۔ دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد اس پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کر کے تیل و گیس کی سپلائی لائن کاٹ دی جس سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے بین الاقوامی معیشت کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا۔ ادھر امریکہ میں جنگ کے خلاف عوامی مظاہروں نے زور پکڑ لیا۔ جنگ کے آغاز سے ہی تقریباً 80فیصد سے زائد امریکی صدر ٹرمپ کے اس اقدام کے خلاف تھے کیونکہ ان کے نزدیک کسی بھی خود مختار ریاست پر چڑھ دوڑنے کا قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔ امریکہ جو ایران میں ونیز ویلا طرز کے مختصر مگر نتیجہ خیز فوجی آپریشن کے ذریعے رجیم چینج کی نیت سے حملہ آور ہوا اور اسرائیل کی جنگ کو ذاتی جنگ بنا کر اپنی عسکری برتری کے بل بوتے پر ایران پر چڑھ دوڑا تھا‘ اسے نہ صرف اپنے مقاصد میں ناکامی ہوئی بلکہ اسے اس کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی شدید نقصان پہنچا اور عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ نیٹو ممالک سمیت تمام یورپ‘ آسٹریلیا‘ کینیڈا‘ برطانیہ‘ چین اور جاپان نے اس جنگ سے لا تعلقی کا اظہار کیا۔ سپین کے وزیراعظم نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ دوٹوک مؤقف اختیار کیا جس کے بعد اٹلی‘ جرمنی‘ فرانس اور برطانیہ نے بھی اس جنگ سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے جنگی جنون پر تنقید کی۔
پاکستان کی سول و ملٹری قیادت نے جنگ شروع ہوتے ہی اپنے سفارتی روابط تیز کرکے جنگ بندی کی کوششوں کا آغاز کر دیا تھا۔ گزشتہ سال سعودی عرب کے ساتھ طے پائے دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کیلئے یہ جنگ ایک کڑا امتحان تھی۔ حرمین شریفین کی نسبت سے سعودی عرب کو پاکستان میں انتہائی عقیدت و احترام سے دیکھا جاتا ہے اور پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں۔ دوسری طرف ایران بھی پاکستان کے ہمسایہ اسلامی ملک کے طور پر ہمیشہ اپنی منفرد اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایران نے اسرائیل و امریکہ کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں امریکی دفاعی اڈوں پر ڈرونز اور میزائل داغ کر جنگ کی آگ کو پورے خطے میں پھیلا دیا تو پاکستان کیلئے یہ صورتحال نہایت دشوار تھی کیونکہ ان تمام ممالک میں لاکھوں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں کئی دہائیوں سے مقیم ہیں اور سالانہ اربوں ڈالر زرمبادلہ کماکر وطن بھجواتے ہیں، جس کا ہماری معیشت میں کلیدی کردار ہے۔ لہٰذا ان تمام وجوہات کی بنیاد پر پاکستان اپنی سیاسی تاریخ کے سب سے زیادہ نازک اور کٹھن سفارتی امتحان سے گزرا ہے جسے سفارتکاری کا پلِ صراط بھی کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ خطے میں پھیلی کشیدگی اور سخت عالمی حالات میں بھی مضبوط سیاسی و عسکری قیادت‘ بہترین سفارتکاری اور قومی یگانگت سے اپنے ملکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتہائی نامساعد حالات کے باوجود پاکستان کی اَن تھک محنت اور مؤثر سفارتی حکمت عملی سے امریکہ اور ایران میں جنگ بندی ممکن ہوئی‘ جو نہ صرف خطے میں استحکام کا سبب بنے گی بلکہ پوری دنیا کے پائیدار امن کیلئے ایک قابلِ تحسین اقدام ہے۔ یہ امن معاہدہ پاکستان کیلئے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ہماری مثالی سفارتکاری نے دنیا کو تیسری ممکنہ عالمی جنگ سے بچانے میں مرکزی کردار انجام دیا ہے جسے پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سربلند ہوا ہے۔ اگرچہ یہ عارضی جنگ بندی ہے اور اسے ابھی سفارتکاری کے کئی اور پل صراط کامیابی سے عبور کرکے ایک ٹھوس اور پائیدار امن معاہدے میں ڈھلنا ہے مگر اس سارے عمل میں پاکستان کا کلیدی کردار بدستور قائم رہے گا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved