الحمدللہ! اسلام آباد سے سلامتی کے پیغام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی رحمتوں اور برکتوں سے نوازا کہ سارا جہاں تیسری عالمی جنگ کے خدشات سے سلامتی کے ساتھ باہر نکل آیا۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے چرچے سلامیاں اور سیلوٹ لے رہے ہیں۔ باقی تذکرہ بعد میں‘ پہلے یہ عرض کر دوں کہ آج سے کوئی 30 سال قبل میں ایران گیا تو ایرانی بندرگاہ چابہار بھی گیا اور اس سے ملحقہ صوبے ہرمزگان کی بندرگاہ بندر عباس بھی گیا۔ ایک کشتی کے ذریعے خلیج فارس کے پانیوں میں اترا تو ایک جزیرے درگھان میں جا پہنچا۔ یہاں شافعی مسلک کے مسلمان بستے ہیں۔ چھوٹے سے جزیرے پر ایک ہی مسجد تھی‘ جہاں خطبہ سننے اور جمعہ کی نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ یاد رہے! خلیج فارس کے سمندری پانیوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ دریائے فرات کا پانی اس خلیج میں گرتا ہے۔ یہ دریا ترکیہ کے پہاڑوں سے شروع ہو کر شام سے ہوتا ہوا عراق میں داخل ہوتا ہے اور 2800 کلو میٹر کا سفر جونہی طے کر لیتا ہے‘ خلیج فارس کے پانیوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ اللہ کے آخری رسولﷺ نے اس دریا کو جنت کی نہر قرار دیا ہے (صحیح مسلم)۔ جی ہاں! یہ وہی دریائے فرات ہے کہ جس سے ذرا دور یزیدی فوج نے رحمت دوعالمﷺ کے خوبصورت ترین پھول تک اس دریا کا پانی پہنچنے نہیں دیا اور وہ پھول مسل ڈالا۔ اس پھول یعنی سیدنا امام حسینؓ کے نانا جان رحمتِ دو عالمﷺ پر نازل ہونیوالے قرآن نے ''فرات‘‘ کے لفظ کو میٹھے پانی کے طور پر استعمال کیا ہے۔ خلیج فارس کا ایک کنارہ مکمل طور پر ایران کا حصہ ہے اور دوسرے کنارے پر سعودی عرب‘ بحرین‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات‘ اور عمان واقع ہیں‘ اس لحاظ سے اسے خلیج عربی بھی کہا جاتا ہے۔ میرے ہمسفر زاہدان کے معروف عالم مولانا عبدالغنی شاہوزئیؒ تھے۔ سمندری لہروں اور موجوں پر جب ہماری کشتی فراٹے بھرنے لگی تو فرات اور سمندری پانیوں کو چھوتے ہوئے جو ہوا ہمیں چھو رہی تھی اسے یاد کرکے آج بھی دل کو فرحت ملتی ہے۔
قرآن مجید کی ''سورۃ المرسلات‘‘ کی پہلی آیت کا ترجمہ کیا مزیدار ہے: '' قسم ہے ان ہوائوں کی جو نرم بنا کر چلائی جاتی ہیں‘‘۔ ذرا آگے چل کر اللہ تعالیٰ انسان کو مخاطب کر کے پوچھتے ہیں ''کیا ہم نے زمین کو ایسا نہیں بنایا کہ جو (انسانی ضروریات کو) کامل طور پر پورا کرنے والی ہے۔ زندہ ہوں یا مردہ‘ سب کیلئے (کافی ہو جانے والی ہے)۔ ہم نے اس میں اونچے پہاڑ بنا دیے ہیں جبکہ تم لوگوں کو فُرَاتاً (میٹھا پانی) پلا دیا ہے‘‘ (المرسلات: 25 تا 27)۔ ان آیات میں پہاڑوں کی صفت ''شامِخَات‘‘ آئی ہے جس کا عمومی ترجمہ بلند وبالا کیا جاتا ہے مگر اس لفظ میں اس قدر وسعت ہے کہ اس کے معنوں میں تکبر اور گھمنڈ بھی ہے‘ غلبہ پانا اور مخالف کا ناک رگڑنا بھی مراد ہے۔ قارئین کرام! دریائے فرات کا خلیج کے سمندر میں گرنا اور سورۂ مرسلات کی آیت: 27 میں 'فرات اور شامِخات‘ جیسے الفاظ اشارہ دے رہے ہیں کہ اس علاقے پر کنٹرول کیلٗے جنگیں ہوں گی۔ اسی خلیج میں ''خارگ‘‘ نام کا جزیرہ ہے جو تیل اور گیس سے مالا مال ہے۔ ایران بھی LNG برآمد کرتا ہے اور قطر سے بھی دنیا کو یہ برآمد کی جاتی ہے۔ دونوں اپنی اپنی حدود میں خلیجی پانیوں سے یہ گیس نکالتے ہیں۔ اس گیس کو جاپان‘ کوریا‘ مشرقِ بعید کے بعض دیگر ممالک اور یورپ بھی خریدتا ہے۔ یہ لوگ بجلی کا ایک حصہ اسی گیس سے بناتے ہیں۔ اس سے محرومی کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ ممالک کی فیکٹریاں بند ہو جائیں گی‘ شہر اندھیرے میں ڈوب جائیں گے‘ سردی کے موسم میں زندگی مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ مجھے یوں سمجھ آتی ہے کہ ایران گزشتہ 47 سال سے جو پابندیاں جھیل رہا ہے‘ اب اس نے آٹھ ارب انسانوں کی شہ رگ کو پکڑ لیا کہ مزید ظلم کرکے امریکہ اور اسرائیل ہمیں مٹانا چاہتے ہیں تو پھر سب خاموش تماشائی بھی برباد ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور باقی ساری دنیا نے اس جنگ میں ٹرمپ اور اسرائیل کا ساتھ نہیں دیا۔
پٹرول اور گیس کے ان ذخائر سے ہیلیم گیس بھی نکلتی ہے‘ جو ایم آر آئی مشینوں میں استعمال ہوتی ہے اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کیلئے لازم ہے۔ سمارٹ فون‘ لیپ ٹاپ وغیرہ کیلئے مائیکرو چپ بنانے میں بھی یہی گیس استعمال ہوتی ہے۔ یہ گیس نہیں ملے گی تو چپ‘ جو کاروں‘ جہازوں اور کمپیوٹرائزڈ دنیا میں استعمال ہوتی ہے‘ وہ ساری فیکٹریاں بند ہو جائیں گی۔ ماڈرن ٹیکنالوجی کا جنازہ نکل جائے گا۔ اس ٹیکنالوجی کی گردن ایران نے پکڑ لی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے بموں سے تباہی مچا دی مگر ایران کا نظامِ حکومت ہل بھی نہیں سکا۔ ایران نے بھرپور مقابلہ کیا اور ڈٹ کر کھڑا رہا۔ آخرکار اہلِ اسلام آباد کی بات کو ماننا پڑا کہ جس میں ساری انسانیت کی سلامتی پنہاں ہے۔ یاد رہے! چالیس کے قریب کیمیکلز زمین سے نکلنے والے تیل سے نکلتے ہیں اور ان کی تفصیلات کیلئے کئی کالم درکار ہوں گے۔ مختصراً یہ کہ ان پیٹرو کیمیکلز کے بغیر آج کی دنیا دیوالیہ ہو جائے گی۔ ایران نے مخالفوں کے گریبان کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور پھر خوب جھنجھوڑ ڈالا‘ اس قدر کہ جدید دنیا کی چیخیں نکلنے ہی کو تھیں۔ چین‘ بھارت اور برازیل جیسے بڑے صنعتی ملکوں کی فیکٹریوں کو تالے لگ جاتے تو صنعت کی دنیا قبرستان بن جاتی۔ وہ سڑکیں جن پر ٹرالے اور ٹرک سامان لے کر دوڑتے ہیں ان سڑکوں کا تارکول بھی کچے تیل سے ہی الگ کیا جاتا ہے۔ یہ سڑکیں ویران ہو جاتیں۔ بیروزگاری کا ایک طوفان آ جاتا۔ خانہ جنگیوں سے ملکوں کے ملک ویران اور برباد ہو جاتے۔
زراعت کی دنیا کا رخ کریں تو امونیا گیس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔ قدرتی گیس کے ذریعے اس سے یوریا اور فیکٹریوں میں کھاد بنتی ہے۔ دنیا کی کوئی 25 فیصد قدرتی گیس خلیج سے نکلتی ہے۔ یہ گیس نہ ملی تو چار ارب انسانوں کی خوراک کم ہو جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں چار ارب انسانوں کی خوراک آٹھ ارب انسانوں میں تقسیم کرنا پڑے گی۔ لامحالہ ایسا ناممکن ہے لہٰذا آدھی دنیا میں خوراک کی کمی کی وجہ سے خانہ جنگیاں ہو سکتی ہیں۔ عالمی قحط پڑ سکتا ہے۔ موجودہ جنگ اگر دو ماہ مزید چل جاتی تو دنیا ہر میدان میں تباہی کے گڑھے میں گرنے کو تیار ہوتی بلکہ اگر موجودہ سیزن بھی نکل جاتا تو اگلا سال خوراک کی شدید کمی کا ہو جاتا۔ یاد رہے! اب دنیا میں کاٹن کم ہے‘ پولیسٹر اور فائبر کے کپڑے‘ جو دراصل خام پٹرول سے ہی بنتے ہیں‘ انتہائی مہنگے ہو جاتے۔ رضائیاں اور کمبل‘ گھروں کے پردے‘ رضائیوں میں بھرا جانے والا پولیسٹر‘ صوفے‘ کاروں کی سیٹیں‘ ریکسین اور اس سے بننے والے جوتے! غرض یہ ساری صنعت تباہ ہو جاتی۔ پلاسٹک کا سامان ناپید ہو جاتا۔ اس سب کی گردن کو ایران نے مضبوطی سے پکڑ لیا۔
لوگو! اس بحران سے بچانا کتنی بڑی نیکی ہے‘ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ عین آخری لمحات میں جب دنیا تباہی کے اندھے کنویں میں گرنے کو تھی تو وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل آف پاکستان کی کوششوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازا۔ جنگ بند ہو گئی۔ ایران کا شکریہ اور احسان ہے انسانیت پر۔ سب سے بڑا احسان اور شکریہ ہے سعودی عرب کا کہ جس نے پاکستان کی درخواستوں پر نقصان برداشت کر لیا مگر صبر کے دامن کو نہیں چھوڑا۔ عین آخر پر اسکی ریفائنری پر حملہ ہوا مگر اس نے پاکستان کی درخواست پر امن کو موقع دیا۔ یورپ اور دنیا بھر کا شکریہ اور احسان کہ کسی نے امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ نہ دیا۔ بھارت خواہش کے باوجود اسرائیل کا ساتھ نہ دے سکا۔ ان امریکیوں کا شکریہ جنہوں نے اس جنگ کیخلاف مظاہرے کیے۔ امریکی کانگریس کے ان ممبران کا شکریہ کہ جنہوں نے ٹرمپ کی جنگ کو غیر قانونی قرار دیا۔ ان پانچ امریکی سینیٹرز کا شکریہ کہ جنہوں نے امریکی افواج سے اپیل کی کہ وہ صدر ٹرمپ کے غیر قانونی جنگی احکامات کو ماننے سے انکار کر دیں۔ دنیا بھر کے جس شخص نے بھی میڈیا کے ذریعے امن اور انسانیت کو جنگ سے بچانے کی بات کی‘ نفرت اور فرقہ واریت سے دور رہا‘ اللہ کے ہاں اس کی خیر ہو۔ سب سے بڑی خیر ان کے نام جنہوں نے اسلام آباد میں بیٹھ کر انسانیت کو فرات کا پُرامن اور میٹھا پانی پلا دیا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved