تحریر : خالد مسعود خان تاریخ اشاعت     11-04-2026

تیل کی قیمتیں اور الّو کی خریدوفروخت

ایک زمانہ تھا برادرم طارق حسن کو کپڑوں کی خریداری کا بہت شوق تھا اور صرف کپڑوں پر ہی کیا موقوف برادرم کو دیوانگی کی حد تک خریداری کا شوق تھا۔ بس خریداری کا کوئی بہانہ بناتے اور چل پڑتے۔ جیب میں جب بھی تھوڑے سے پیسے فالتو ہوتے اُن کا دل خریداری کیلئے مچل پڑتا ‘تاہم اس خریداری میں کپڑوں کی خریداری کو دیگر تمام اشیاپر فوقیت حاصل تھی‘ اور اگر سیل لگی ہو پھر تو کیا ہی کہنے ۔ بس سیل کا نام ہی اُن کو خریداری کیلئے اکسانے کیلئے کافی سے زیادہ تھا۔ تب راولپنڈی صدر کے ایک پلازہ میں کپڑوں کی سیل بہت مشہور ہوا کرتی تھی۔ ممکن ہے اب بھی وہی حال ہو لیکن اب نہ تو برادرم طارق حسن میں خریداری کا وہ ذوق و شوق اور جذبہ باقی ہے اور نہ ہمیں اس بارے میں کچھ زیادہ معلومات رہی ہیں۔ راولپنڈی صدر کے اس پلازہ میں سیل کی حقیقت تو میں بعد میں بیان کروں گا تاہم برادرم اس سیل کا اعلان ہوتے ہی اپنی کمر کس لیتے اور پنڈی صدر اس پلازہ میں پہنچ جاتے۔ دھڑا دھڑ کپڑے خریدتے اور ہر خریداری پر خرچ ہونے والی رقم کے بجائے بچائی جانے والی رقم کا حساب کرتے اور خوش ہوتے‘ تاہم بعد میں تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ یہ ساری سیل تقریباً تقریباً فراڈ پر مبنی ہوتی تھی۔ وہی کوٹ جو سیل سے قبل 10 ہزار روپے میں بآسانی دستیاب تھا اس نام نہاد سیل میں اس کی پہلے تو قیمت بڑھا کر 15 ہزار روپے کر دی جاتی پھر اس 15 ہزار والے ٹیگ کے اوپر سرخ مارکر سے لکیر یا کراس لگایا جاتا اور اس کے نیچے 10 ہزار یا اسی کے لگ بھگ رقم لکھ کر اسے 35 فیصد یا 40 فیصد سیل یا اس طرح کی دل لبھانے والی ترکیب سے عوام کو بیوقوف بنایا جاتا۔ وہی کورٹ جو عام دنوں میں عوام کو 10 ہزار میں ملتا تھا سیل میں بھی تقریباً اسی قیمت میں ملتا‘ تاہم لوگ بہت خوش ہوتے کہ انہوں نے اس خریداری میں پانچ ہزار روپے بچا لیے ہیں۔ برادرم طارق حسن بھی اسی قسم کی خوشیاں حاصل کیا کرتے تھے۔ مجھے دراصل یہ سب کچھ اس لیے یاد آیا کہ ہمارے ہاں حکومت بھی اپنے زیر کنٹرول چیزوں کی قیمتوں میں تقریباً اسی قسم کی سیل لگاتی ہے لیکن حالیہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ در اضافہ اور پھر کی جانے والی کمی کی حکومتی سیل نے راولپنڈی صدر کے اُس پلازہ کی سیل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ہی لیں‘ گزشتہ ماہ یہ قیمت علی الترتیب 266 اور 280 روپے فی لٹر تھی‘ اس کے بعد ایران امریکہ جنگ شروع ہوئی اور آبنائے ہرمز بند ہو گئی۔ تاہم بند آبنائے ہرمز سے پاکستانی جھنڈا لگے ہوئے جہاز گزرتے رہے لیکن ایران کی جانب سے دی جانے والی رعایت کا فائدہ عوام تک نہ پہنچ سکا۔ لیکن اس ساری چکر بازی پر لعنت بھیجیں‘ فی الحال یہ دیکھیں کہ اس بندش کو بہانہ بناتے ہوئے حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر کا اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت 321 روپے اور ڈیزل کی قیمت 335 روپے فی لٹر کر دی۔ اس ریکارڈ توڑ اضافے پر عوام کی چیخیں ابھی مدہم نہیں پڑی تھیں کہ سرکار نے پٹرول کی قیمت میں 137 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 185 روپے فی لٹر کا ایک اور تباہ کن اضافہ کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت 458روپے اور ڈیزل کی قیمت 520روپے فی لٹر کر دی۔ اس اضافے پر عوام کے کڑاکے نکل گئے مگر ماضی میں پٹرول کی قیمت 150 روپے ہونے پر کہرام مچانے والوں کو ڈیزل 520 روپے فی لٹر ہونے پر سوائے زبانی کلامی افسوس کے عوام کی حالت کا رتی برابر افسوس نہ ہوا۔ تاوقتیکہ عوام کی چیخیں فلک تک پہنچ گئیں۔
اس اضافے کے بعد حکومت عوام پر احسان فرماتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کر کے اسے 378 روپے فی لیٹر کی سطح پر لے آئی ہے۔ تاہم ڈیزل کی قیمت آج بھی اسی پرانی شرح سے وصول کی جا رہی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں کل اضافہ تو 192 روپے فی لیٹر ہوا جبکہ اس میں کمی 80 روپے کی گئی۔ حکومت نے ایک طرف قیمت بڑھا کر پہلے عوام کو پریشان کیا پھر اس قیمت میں تھوڑی سی کمی کر کے ان کو خوشی سے نوازا تاہم قیمت میں اضافے اور کمی کے باوجود حکومت نے درمیان میں سے پٹرول کی قیمت میں 112 روپے کا اضافہ اپنی جیب میں ڈال لیا۔ اس ساری ڈیل میں نفع اور نقصان کا تناسب دیکھ کر مرحوم کرنل شفیق الرحمن کی کتاب کا ایک بھولا بسرا اقتباس یاد آگیا۔ یہ جو میں نے کرنل شفیق الرحمن لکھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری یاد میں ان کا یہی نام محفوظ ہے۔
شفیق الرحمن اُردو مزاحیہ نثر میں بہت اونچے مقام پر فائز تھے۔ ہمارے نزدیک تب وہ اُردو مزاح کا سب سے بڑا نام تھے۔ مرشدی مشتاق یوسفی سے ہم کہیں بعد میں متعارف ہوئے۔ تاہم جس عمر میں ہم نے شفیق الرحمن کو پڑھنا شروع کیا اُس عمر اور ذہنی استعداد کے حوالے سے شفیق الرحمن درست طور پر اس مرتبے پر براجمان ہوئے۔ بعد ازاں مشتاق یوسفی نے مزاحیہ ادب کی کرسیٔ صدارت سنبھال لی‘ تاہم اس سے شفیق الرحمن کا درجہ کسی طور کم نہ ہوا۔ شفیق الرحمن بنیادی طور پر میڈیکل ڈاکٹر تھے اور انہوں نے پاکستان آرمی کی میڈیکل کور کو جوائن کیا۔ جب ان کی کتابیں چھپ کر اول اول ہم تک پہنچیں تو وہ کرنل شفیق الرحمن کہلاتے تھے‘ سو ہمارے ذہن میں اُن کے نام کے ساتھ ان کا وہی عہدہ آج بھی ثبت ہے۔ وہ بعد میں جنرل کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ تب ہمارے مرحوم دوست خلیل الرحمن شاہد‘ جن کی زمانۂ طالب علمی میں ہی شادی ہو گئی تھی‘ کا پہلا بیٹا پیدا ہوا اور انہوں نے اس کا نام شفیق الرحمن رکھا تو ہم سب دوست اپنے لکھاری ہیرو کرنل شفیق الرحمن کے تناظر میں خلیل الرحمن کے بیٹے کو بھی اعزازی طور پر کرنل کے نام سے پکارتے تھے۔ بات کہیں سے کہیں چلی گئی! شفیق الرحمن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا (اب مجھے اس کتاب کا نام اور مضمون کا عنوان تو یاد نہیں لیکن اقتباس کی روح یاد ہے۔ یہ بھی یاد نہیں کہ اس اقتباس میں قیمتیں اور ان کے اعداد کیا تھے لیکن اس تمام تحریر کا جو نچوڑ ہے وہ پیش کر رہا ہوں) کہ ریاضی کی کلاس میں ایک استاد نے شاگردوں کو جمع‘ نفی اور نفع نقصان سمجھاتے ہوئے سوال کیا کہ اگر ایک الو 14 روپے چار پیسے میں خریدا ہو اور وہ 10 روپے 80 پیسے میں بیچا جائے تو کتنا نفع یا نقصان ہوگا۔پہلے تو ایک فطین طالبعلم نے کھڑے ہو کر کہا کہ اس نے کبھی اتنا مہنگا الّو فروخت ہوتے نہیں دیکھا۔ حساب کتاب میں ماہر ایک اور شاگرد نے بتایا کہ اس خرید و فروخت میں روپوں میں نقصان جبکہ پیسوں میں بہت فائدہ ہوا ہے۔ یہ اس لیے یاد آیا کہ اب ہمارے ہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جو اضافہ اور جو کمی کی گئی ہے اس میں عوام کو نقصان روپوں میں جبکہ فائدہ محض پیسوں کے حساب سے ہوا ہے۔
اس خطے میں جنگ کے شعلے فی الحال عارضی طور پر ہی سہی مگر ٹھنڈے پڑے ہیں‘ اس پر یقینا حکومت پاکستان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ اس عارضی جنگ بندی کے نتیجے میں خطے میں ہونے والے امن پر خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں جو بجا ہیں۔ لیکن اس خوشی میں ہماری حکومت کہیں یہ نہ بھول جائے کہ اس عارضی جنگ بندی سے عالمی تیل کی منڈی میں جو کمی واقع ہوئی ہے اس کے اثرات کو عوام تک پہنچانا بھی اسی کی ذمہ داری ہے۔ ابھی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافے کا اعلان ہوا ہی تھا کہ ہمارے ہاں پڑا پڑا تیل مہنگا ہو گیا ‘اب جبکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے ہمارے ہاں اس کمی کے اثرات فی الحال تو کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔ چاہیے تو یہ کہ حکومت نے جس پھرتی سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا اتنی پھرتی سے نہ سہی اس سے تھوڑا سستی سے ہی سہی‘ لیکن تیل کی قیمتوں میں کمی کی جاتی۔ ابھی تک ہمیں صرف خوشخبریوں پہ ٹرخایا جا رہا ہے ۔خدا نہ کرے کہ یہ کمی بھی عوام کیلئے روپوں میں نقصان اور پیسوں میں فائدے والی صورتحال کی عکاس ہو۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved