امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران پر تباہ کن حملوں کیلئے جو ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی وہ واشنگٹن کے وقت کے مطابق منگل کی شب آٹھ بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح پانچ بجے تھی۔ ڈیڈ لائن سے ٹھیک 88 منٹ قبل پاکستانی زعما کی شب بیداریوں اور دعائے نیم شب کا افلاک سے مثبت جواب آیا اور سارے جہان میں دھڑکتے دلوں کو قرار آ گیا۔ اس سمے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت نے پندرہ روزہ سیز فائر قبول کر لی۔ جنگ کی تباہ کاریوں کو رکوانے میں وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کامیاب کوششوں کو دنیا بھر سے خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو دھمکیاں دے رہے تھے کہ سیز فائر قبول کرو وگرنہ میں تمہاری چھ ہزار سالہ تہذیب کو صرف ایک شب میں مٹا دوں گا۔ ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا‘ اسے کھنڈر بنا دوں گا‘ آئل کی تنصیبات کو جلا کر راکھ کر دوں گا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جس شخص کے پاس دنیا کا مہلک ترین سامانِ حرب وضرب ہو‘ جو شخص بحروبر اور ہوا وفضا میں تباہی لانے والے ہتھیاروں کا مالک ہو وہ اتنا نروس اور گھبرایا ہوا کیوں تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ گھبرائے ہوئے اس لیے تھے کہ اُن کی توقعات کے مطابق ایران دو چار روز میں پسپا نہیں ہوا بلکہ وہ مسلسل 39 روز تک ڈٹ کر دنیا کی سپر پاور اور اسرائیل کے مقابلے میں کھڑا رہا۔ اسرائیل نے امریکہ کو یہ چکما دیا تھا کہ وہاں دو چار روز میں رجیم چینج ہو جائے گا‘ مگر اس کے برعکس وہاں جدت پسند اور قدامت پسند یکجان سو قالب ہو چکے تھے۔ ساری ایرانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی تھی۔ یہ دیکھ کر ڈونلڈ ٹرمپ ہیجانی کیفیت میں تھے۔ تبھی تو ٹرمپ نے آخر میں آ کر یہ تک کہہ دیا کہ میں ساری ایرانی قوم کو تباہ کر دوں گا۔ امریکہ اوراسرائیل نے سکولوں‘ یونیورسٹیوں اور تنصیبات وپلوں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ایران میں تین ہزار کے قریب افراد شہید ہوئے‘ 20 ہزار زخمی ہوئے‘ 70 سے 100 ارب ڈالر تک کا مالی نقصان ایران کو اٹھانا پڑا اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے۔
منگل کے روز ٹرمپ کے متعین کردہ بڑے بڑے اہداف چاہے وہ پل تھے‘ شاہراہیں تھیں‘ آئل تنصیبات تھیں یا بجلی گھر‘ وہاں ایرانی مرد و زن اور بچے بوڑھے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کھڑے ہو گئے تھے۔ اسرائیل و امریکہ کے اندازوں کے مطابق سقوطِ تہران چند روز کی بات تھی مگر اسکے برعکس ان 39دنوں میں ایران نے ساری دنیا پر ثابت کر دیا کہ وہ ایک جراتمند‘ دانشمند‘ بہترین منصوبہ ساز‘ شاندار دفاعی حکمت عملی وضع کرنے والی اور ہر محاذ پر ڈٹ کر کھڑی ہو جانیوالی قوم ہے۔ اب ایران نے جنگ بندی کیلئے دس نکات پیش کیے ہیں۔ ان نکات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ''ورک ایبل دستاویز‘‘ قرار دیا ہے۔ ہم صرف پانچ اہم ترین نکات کا یہاں ذکر کرینگے۔ ایران نے مستقبل کیلئے اپنے خلاف عدم جارحیت کی ضمانت طلب کی ہے۔ دوسرا آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو تسلیم کیا جائے۔ تیسرا نکتہ یورینیم کی افزودگی کا حق ہے۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ ایران پر عائد ساری امریکی وعالمی پابندیاں ختم کی جائیں اور ایران کے منجمد کردہ اثاثے واپس کیے جائیں۔
اس 39روزہ جنگ میں اسرائیل کو بھی منہ کی کھانا پڑی۔ اسرائیل کا پروگرام یہ تھا کہ ایران جب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملے کرے گا تو مسلم ملکوں کے درمیان ٹھن جائے گی۔ پاکستان نے بھی جنگ کے آغاز ہی سے ایران سے درخواست کی کہ سعودی عرب پر حملے نہ کیے جائیں۔ ایک تو حرمین شریفین کی بنا پر مسلمانوں کی ہمدردیاں سعودی عرب کیساتھ ہیں‘ نیز پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ موجود ہے‘ جس کی رو سے پاکستان کسی بھی بیرونی جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے۔ ایران کا مؤقف یہ تھا کہ ہم سعودی عرب سمیت کسی بھی عرب پڑوسی پر حملہ نہیں کرنا چاہتے مگرجب وہاں سے اُڑ کر امریکی ہم پر حملے کرتے ہیں تو ہمیں مجبوراً جواب دینا پڑتا ہے۔ بہرحال سعودی عرب نے جنگ کے دنوں میں انتہائی صبر وتحمل سے کام لیا اور ایران کو اپنی طرف سے جواب نہ دیا۔ جمعرات کے روز سعودی عرب اور ایران میں براہ راست رابطہ ہوا ہے‘ جو بہت اچھی پیشرفت ہے۔
عارضی جنگ بندی کے معاہدے پر طرفین کے الگ الگ مؤقف سامنے آئے ہیں۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو جاری ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف کے ٹویٹ کے مطابق سیز فائر میں ایران ہی نہیں‘ لبنان بھی شامل ہے مگر جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے کر کے چند منٹوں میں 254 لبنانی شہریوں کو شہید اور 1165کو شدید زخمی کر دیا۔ اس وعدہ خلافی پر ایران نے سخت ردِعمل دیا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے میں شامل نہیں۔ امریکہ کی طرف سے یہی کہا جا رہا ہے کہ ہم مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں۔ ساری دنیا ایران ہی نہیں‘ لبنان میں بھی کشت وخون کا خاتمہ چاہتی ہے۔ فرانسیسی صدر میکرون بار بار کہہ رہے ہیں کہ لبنان میں بھی جنگ بندی اور پائیدار امن ہونا چاہیے۔
ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر محمد باقر قالیباف مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں۔ عباس عراقچی برطانیہ کی یونیورسٹی آف کینٹ سے سیاسیات میں پی ایچ ڈی ہیں جبکہ باقر قالیباف تہران یونیورسٹی سے سیاسی جغرافیہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔ مذاکرات کیلئے امریکہ کی جو ٹیم اسلام آباد آئی ہے اس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس‘ مشرق وسطیٰ کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ کشنر بزنس مین اور صدر ٹرمپ کے داماد ہیں۔ سنجیدہ امریکی ٹیم بظاہر بات بنانے والی ہے بگاڑنے والی نہیں۔ اس وقت ساری دنیا کی ہمدردیاں ایران اور خطے بلکہ عالمی امن کیساتھ ہیں۔ یورپی یونین کے امورِ خارجہ کی سربراہ کایاکلاس (Kaja Kallas) نے مستقل امن کیلئے ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔ سپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز تو بڑے عالمی ایوارڈ کے مستحق ہیں‘ انہوں نے روزِ اول سے امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر مسلط کردہ جنگ کی پُرزور مذمت کی ہے اور امریکہ کو کسی قسم کی کوئی مدد فراہم نہیں کی۔ اٹلی کی وزیراعظم نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کی مخالفت کی ہے۔ فرانس کے صدر میکرون نے وزیراعظم شہباز شریف کو فون کر کے امن کیلئے اُنکی خدمات کو سراہا ہے۔ اس وقت سارے عرب ممالک‘ یورپی یونین اور دنیا بھر کے امن پسند لبنان میں بھی کشت وخون کا فی الفور خاتمہ چاہتے ہیں۔ اگر لبنان میں ہزاروں لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہو تو خطے میں امن کیسے قائم ہو گا؟ صدر ٹرمپ ابھی تک ایران کو دھمکیوں کی رننگ کمنٹری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جس طرح مصر کو نہر سوئز سے گزرنیوالے بحری جہازوں پر ٹول وصول کرنے کا استحقاق ہے‘ اسی طرح آبنائے ہرمز سے ایران کو بھی ٹول وصول کرنے کا حق ہے۔ البتہ اس معاملے پر ایران کیساتھ مذاکرات میں مفاہمتی فارمولا طے ہو سکتا ہے۔ جس طرح آبگینوں کو سلامت رکھنے کیلئے احتیاط کی جاتی ہے‘ اسی طرح مذاکرات کے کھیل کو بگڑنے سے بچانے کیلئے بھی ''ہینڈل وِد کیئر‘‘ کا فارمولا اپنایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ حسبِ عادت یہاں تک کہہ گئے ہیں کہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو ہم ایران پر خوفناک حملوں کیلئے تیار ہیں۔ عباس عراقچی نے جواباً درست کہا ہے کہ امریکہ جنگ یا جنگ بندی میں سے کسی ایک کو چن لے۔ ہمیں امید واثق ہے کہ ایرانی اور امریکی مذاکراتی ٹیمیں مذاکرات کو کامیابی سے ہمکنار کرانے کی مکمل کوشش کریں گی۔ امن کے پُل پر سفید جھنڈا لہراتے ہوئے پاکستان کی بھی یہی خواہش ہوگی کہ معزز مہمانوں کو مستقل اور پائیدار امن کا تحفہ دے کر وطن عزیز سے رخصت کیا جائے۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved