7اپریل بروز بدھ ایران اور امریکہ 39 روز سے جاری جنگ کو 15روز کے لیے عارضی طو رپر بند کرنے پر اُس وقت راضی ہو گئے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کو دیے گئے الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ رہ گیا تھا۔ امریکی صدر نے اپنے الٹی میٹم میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تھی ۔ٹرمپ کی دواپریل کی تقریر کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیاسمیت دنیا بھر میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں تیزی آنے سے ارد گرد کے خطے بھی اس کے تباہ کن نتائج سے متاثر ہوں گے۔ اس خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں حکومتی سربراہان سرجوڑ کر بیٹھے تھے‘ تاہم پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز پر ایران اور امریکہ میں15روز کے لیے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھولنے پر راضی ہونے سے خطہ ایک بڑی تباہی سے بچ گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایران اور امریکہ کے وفود اسلام آباد میں عارضی جنگ بندی کو ایک دیرپا امن معاہدے میں ڈھالنے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں شروع ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات اس سلسلے کا تیسرا دور ہیں۔ اس سے قبل جون 2025ء اور فروری 2026ء میں ان ملکوں کے مابین مذاکرات کے دو ادوار ہو چکے ہیں مگر ان دونوں مواقع پر عین مذاکرات کے دوران اسرائیل اور امریکہ نے یکطرفہ طور پر ایران پر حملہ کر دیا۔ حملوں کا یہ سلسلہ موجودہ جنگ بندی تک جاری رہا۔ اب بھی اس جنگ بندی اور ایران امریکہ مذاکرات کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بادی النظر میں امریکہ اس پیش رفت کو ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے عوض ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کو روکنے تک محدود کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے بیان کے مطابق جنگ بندی کا اطلاق لبنان میں جاری جنگ پر بھی ہوتا ہے‘ لیکن اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اس دعوے کی امریکہ نے تائید کی ہے۔ امریکہ میں اس جنگ کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کی وجہ سے نہ صرف ٹرمپ کی عوامی حمایت ایک تہائی گر چکی ہے ۔ اُن کے بار بار یوٹرن اور سیاسی مخالفوں کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے پر کانگرس کے حلقوں میں بھی اُن کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ سال جون میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے ایران کشیدگی میں کمی اور صورتحال کو نارمل کرنے کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا تھا‘ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس سال کے مذاکرات میں یورینیم افزودگی کے مسئلے پر اتنی لچک کا مظاہرہ کیا کہ صورتحال سے آگاہ حلقوں کے مطابق وہ اپنے پرانے مؤقف سے تقریباً دستبردار ہو گئے تھے۔ اس دفعہ بھی ایرانیوں نے 10 نکات پر مشتمل جو تجاویز پیش کی ہیں‘ اور جنہیں صدر ٹرمپ نے بنیاد بنا کر مذاکرات سے اتفاق کیا ہے‘ میں یورینیم افزودگی پر مبہم مؤقف اختیار کیا گیا ہے‘ جو اس بات کا اشارہ ہے کہ فریقین کے مابین اس پر سمجھوتا ہو سکتا ہے۔ مگر 10 نکاتی مسودے میں ایرانیوں نے دو مطالبات ایسے پیش کیے ہیں جنہیں امریکہ اور اس کے اتحادی قبول کر لیں‘ یہ مشکل نظر آتا ہے۔ ان میں سے ایک خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں سے امریکی افواج اور جنگی سازو سامان کی واپسی کا ہے ۔ خلیج فارس‘ مشرق وسطیٰ اور اس کے اردگرد پانیوں مثلاً بحیرہ احمر‘ بحیرہ روم اور بحر ہند میں امریکہ کے تقریباً دو درجن بحری‘ فضائی اور فوجی اڈے ہیں جن پر ایک اندازے کے مطابق امریکہ کے 40 ہزارکے قریب فوجی اور دیگر عملہ مقیم ہے۔ قطر میں امریکی سینٹرل کمانڈر (Centcom) کافضائی اڈہ اور بحرین میں بحری اڈہ جہاں مشرق وسطیٰ کے دفاع پر مامور امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا ہیڈ کوارٹر ہے‘ خاص طور پر اہم ہیں۔ باقی اڈے کویت‘ متحدہ عرب امارات‘ سعودی عرب اور عراق میں ہیں۔ بحیرہ روم میں سائپرس اور بحر ہند میں ڈیاگوگارشیا کے اڈوں کو بھی مشرق وسطیٰ میں کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت کے وقت جنوبی اٹلانٹک اور جنوب مشرقی ایشیا میں مقیم ساتویں بحری بیڑے کو بھی اپنے طیارہ بردار جہازوں‘ ڈیسٹرایئرز اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس آبدوزوں کے ساتھ خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ کے کسی بھی حصے میں کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ اہم سٹرٹیجک مقامات پر فوجی اڈوں کے ذریعے بحر ہند کے دفاع کو مضبوط بنانے کی یہ حکمت عملی پرتگیزی قوم کی ایجاد ہے جس نے یورپی اقوام میں سے سب سے پہلے پندرہویں صدی کے تقریباً اختتام پر ہندوستان کے ساحل پر قدم رکھا تھا۔ انگریزوں نے جب اٹھارہویں صدی میں ہندوستان کی بتدریج فتح کا آغاز کیا تو انہوں نے بھی یہی حکمت عملی اپنائی بلکہ مغرب میں سوئز اور مشرق میں آبنائے ملاکا تک عدن ‘سری لنکا اور سنگاپور میں بحری اڈوں کی ایک زنجیر قائم کر کے اسے مزید توسیع دی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد اس پورے خطے کے دفاع کی ذمہ داری امریکہ نے سنبھال لی اور خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ میں بعض پرانے اور کچھ نئے فوجی اڈوں کا جو سلسلہ قائم کر رکھا ہے اس کی بنیاد بھی اسی حکمت عملی پر ہے جن کی بنیاد پر تقریباً 500 برس قبل رکھی گئی تھی۔ اس عرصہ کے دوران میں بحر ہند اور مشرق وسطیٰ کی یہ دفاعی حکمت عملی اتنی کامیاب رہی ہے کہ امریکہ نے اسے اور بھی مضبوط کر رکھا ہے۔ اس لیے ایک ایران کے مطالبے سے امریکہ ان اڈوں سے دستبردار نہیں ہوگا۔ دوسرا یہ اڈے متعلقہ ملکوں کے ساتھ امریکہ کے دوطرفہ معاہدات کی بنیاد پر قائم کئے گئے ہیں۔ لیکن برطانوی اڈوں کی طرح امریکی اڈے بھی اس خطے میں ہمیشہ کیلئے قائم نہیں رہ سکتے۔ انگریز سامراج کی طرح ایک نہ ایک دن امریکیوں کو بھی اس خطے سے بوریا بستر لپیٹ کر جانا پڑے گا۔ایران کے ساتھ 40 دن کی جنگ نے اس دن کے جلد آنے کی راہ ہموار کر دی ہے کیونکہ خلیجی ممالک پر واضح ہو گیا ہے کہ اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود یہ اڈے انہیں تحفظ فراہم نہیں کر سکتے۔
فوجی اڈوں کے بعد دوسرا اہم مسئلہ جس پر امریکہ اور ایران کے درمیان اختلاف پیدا ہو سکتا ہے وہ آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل کنٹرول کے مطالبہ کا ہے۔ آبنائے ہرمز کی جس تنگ راہداری سے دنیا کی ضروریات کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے‘ اس کا ایک حصہ ایران اور دوسرا سلطنت مسقط اور عمان کے علاقائی سمندر پر مشتمل ہے۔ جنگ سے پہلے اس میں سے گزرنے والے ٹینکرز کو کسی قسم کی پابندی یا ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا مگر حالیہ جنگ نے اس کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ اس لیے ایران اور عمان دونوں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے آبنائے باسفورس یا نہر سوئز کی طرح ایک بین الاقوامی پروٹوکول کا مطالبہ کر سکتے ہیں‘ تاہم نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے یورپی اتحادی ممالک کی طرف سے اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved