تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     12-04-2026

پاکستان کا لمحۂ عروج

دنیا بھر کی نگاہیں اسلام آباد پر لگی ہیں۔ ایرانی اور امریکی وفود یہاں پہنچ چکے ہیں‘ امید کی جا رہی ہے کہ دونوں کے درمیان جلد مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابل ایک ہی میز پر بیٹھے نظر آئیں گے یا الگ الگ کمروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچائیں گے۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ دونوں وفود کے درمیان مصافحوں اور مسکراہٹ کا تبادلہ ہو سکے گا یا نہیں۔ جیسے بھی ہو‘ جس طرح بھی ہو‘ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اسلام آباد پہنچ گئے ہیں تو یہ اس بات کا اعلان ہے کہ شکوک و شبہات کے باوجود انہیں امید کی کوئی کرن دکھائی دے رہی ہے یا یہ کہ وہ کوئی ایسی کرن تلاش کر سکتے ہیں۔ امریکہ‘ اسرائیل اور ایران کے درمیان کم و بیش چالیس روز تک جاری رہنے والی جنگ اب عارضی طور پر ہی سہی‘ بند ہو چکی ہے۔ اسرائیل اگرچہ لبنان پر حملوں کی شدت میں اضافہ کر کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر چکا ہے لیکن امریکہ کو اسے ڈانٹنا پڑا ہے۔ ایران کے دو ٹوک مؤقف اور پاکستان کی بروقت مداخلت نے صدر ٹرمپ کو مجبور کیا کہ وہ اسرائیل کا ہاتھ روکیں۔ اب لبنان سے اس کا براہِ راست رابطہ ہو چکا ہے‘ دونوں کے درمیان مذاکرات کی میز الگ سے سجائی جا رہی ہے لیکن ایران کو اس اقدام سے کس قدر مطمئن کیا جا سکے گا یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ پاکستان کی سفارت کاری کا لمحۂ عروج یہ ہے کہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور ایک دوسرے کو برباد کرنے کا تہیہ کرنے والے امن کے لیے بات چیت پر آمادہ ہیں۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو پاکستان نے اپنے ترکیہ اور چین جیسے دوستوں کے تعاون سے کر دکھایا ہے۔ پاکستان نے اس جنگ کے دوران جس توازن اور تدبر کے ساتھ اپنے آپ کو سنبھالا اور متحارب ممالک کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی‘ اسے سفارت کاری کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ دنیا بھر سے اس پر خراجِ تحسین موصول ہوا ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے سوا ہر ملک خیر سگالی کے پیغامات بھیج رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو فون کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی رابطوں کو مضبوط بنا گزرے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فراست اور ذہانت بھی اپنا لوہا منوا رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے یک جان ہو کر پاکستان کو ان بلندیوں تک پہنچا دیا ہے جن کا کچھ عرصہ پہلے تک تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔
برطانیہ میں مقیم ممتاز پاکستانی نژاد دانشور عارف انیس کے بقول: ''آج دنیا نے پاکستان کو وہ دیکھا ہے جو پاکستان واقعی ہے۔ ایک ایسا ملک جو کہ عین وسط میں کھڑا ہو کر دونوں فریقوں سے بات کر سکتا ہے۔ جس پر دشمن بھی اعتماد کر سکتا ہے اور دوست بھی۔ آج نیو یارک ٹائمز‘ واشنگٹن پوسٹ‘ ٹیلی گراف‘ بلوم برگ‘ سی این این‘ الجزیرہ‘ رائٹرز‘ فاکس نیوز‘ این بی سی‘ سی بی ایس‘ اے بی سی‘ پی بی ایس‘ سی این بی سی‘ ٹائمز‘ نیوز ویک‘ ان سب میں ایک لفظ چمک رہا ہے ''پاکستان‘‘۔ اس لفظ کے آگے ''بم‘‘ نہیں ''پیس‘‘(PEACE) لکھا ہے‘ یہ لمحہ اربوں ڈالر کا ہے۔ یہ لمحہ ایٹمی دھماکے جتنا بڑا ہے۔ یہ لمحہ فوجی دفاع میں اہم ہے۔ ایٹم بم دشمن سے بچاتا ہے مگر برانڈ دوست بناتا ہے۔ آج پاکستان کو دوستوں کی ضرورت بم سے زیادہ ہے‘‘۔ عارف انیس مزید لکھتے ہیں: ایک پرانی کہاوت ہے کہ قوموں کی عزت میدانِ جنگ میں بنتی ہے۔ آج ایک نئی کہاوت لکھی جا رہی ہے کہ قوموں کی عزت اس وقت بنتی ہے جب وہ میدانِ جنگ میں لڑنے کے بجائے جنگ کو روک دیں۔ یاد رکھیں کہ آج کا دن وہ دن ہے جب برانڈ پاکستان نے کروٹ بدلی ہے۔ اللہ کرے ہم اور بھی ایسے دن دیکھیں۔ ''پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘‘۔
پاکستان نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ فریقین کو ایک دوسرے کی طاقت اور کمزوریوں کا احساس ہو چکا ہے۔ دنیا جان چکی ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ امریکہ نے اس جنگ میں ملوث ہو کر اپنا بڑا نقصان کر لیا ہے۔ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ورغلا لیا یا ٹرمپ کی بے تابیوں نے انہیں اپنے ہی جال میں پھنسا دیا‘ اس سے قطع نظر یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی ملک امریکہ کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ اس کے یورپی اتحادیوں نے بھی اس کا ساتھ دینے سے انکار کیا اور نیٹو کا وجود تک خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے باوجود ایران میں ''رجیم چینج‘‘ نہیں ہو سکی۔ ایرانی عوام نے اپنی حکومت کے خلاف بغاوت نہیں کی‘ وہ اس کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ ایران نے اپنی جنگی صلاحیتوں کا جو مظاہرہ کیا اس نے بھی دنیا کو ششدر کر دیا۔ اس کے ڈرون اور میزائل ختم ہونے میں نہیں آئے‘ اس کی زیر زمین دفاعی تنصیبات تک امریکی اور اسرائیلی بم نہیں پہنچ پائے۔ آبنائے ہرمز کو قابو کر کے اس نے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی بحری بیڑے اس کی گرفت کمزور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ گویا جنگ ایران کی طاقت کے نئے مظاہرے کا سبب بن گئی۔ ہلاکتیں ہوئی ہیں‘ بم باری نے سکولوں‘ یونیورسٹیوں‘ شہری آبادیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے لیکن آبنائے ہرمز پر ایرانی قبضہ برقرار ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز وہاں سے گزر نہیں سکتا۔ صدر ٹرمپ کی مقبولیت داؤ پر لگی ہے۔ امریکی رائے عامہ ان کے خلاف ہو رہی ہے۔ انہیں لینے کے دینے پڑ رہے ہیں‘ اس کے باوجود وہ اندھی طاقت کے مالک ہیں‘ اور ایران کو ''پتھر کے زمانے‘‘ میں دھکیلنے کے دعوے کر سکتے ہیں۔
ایران نے خلیجی ممالک کا منظر بھی بدل کر رکھ دیا ہے‘ وہاں موجود امریکی اڈے اب ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے پا رہے‘ خطرے کی علامت بن گئے ہیں۔ عارضی جنگ بندی کو مستقل بنانے کے لیے امریکہ اور ایران کی اپنی اپنی شرائط ہیں اور اپنے اپنے اہداف۔ دونوں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایران نقصانات کا ازالہ چاہتا ہے‘ آبنائے ہرمز پر بالادستی برقرار رکھنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ آئندہ جنگ نہ چھڑنے کی ضمانت چاہتا ہے جبکہ امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی بیخ کنی اور آبنائے ہرمز میں کھلی آمدو رفت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ فریقین اپنے اپنے حق میں جو بھی دلائل دیں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ امن سب کے مفاد میں ہے۔ امریکہ کا چہرہ جتنا بھی گدلا ہو اور ساکھ کو جتنا بھی نقصان پہنچے‘ یہ جنگ اس کی سرزمین پر نہیں لڑی جا رہی۔ اس نے ایران کو نشانہ بنا رکھا ہے‘ ایرانی قیادت کو اپنے جغرافیے کا تحفظ پیشِ نظر رکھنا ہے۔ ممکن ہے ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات طے پا چکے ہوں‘ پاکستان کی خاموش سفارتکاری رنگ دکھا چکی ہو صرف اعلان ہونا باقی ہو‘ ممکن ہے اسلام آباد مذاکرات میں ہر چیز طے نہ ہو سکے‘ کوئی دوسرا دور کسی دوسرے ملک میں اور تیسرا دور کسی تیسرے ملک میں چلے۔ لیکن بات چیت کی کامیابی یہی ہے کہ یہ ٹوٹنے نہ پائے۔ اسے جاری رہنا چاہیے‘ اور پائیدار امن کو ممکن بنانا چاہیے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved