تحریر : ایاز امیر تاریخ اشاعت     12-04-2026

امریکہ کہاں آن پہنچا ہے

امریکی خوشی سے اسلام آباد آکر ایرانیوں سے بات نہیں کر رہے۔ مجبوری سے آئے ہیں کیونکہ اور کوئی راستہ نہ رہا تھا۔ جنگ کے شروع کے دنوں میں صدر ٹرمپ نے کیا کہا تھا کہ ایک ہی ڈیمانڈ ہے کہ ایران غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے (Unconditional surrender)۔ وہ غیر مشروط حالت جو کسی مشتبہ یا ملزم کی تھانیدار کے سامنے بیٹھے تھانے میں ہوتی ہے۔ ہاتھ جوڑے ہوئے اور زمین پر گھٹنے لگائے۔ امریکی یہ چاہتے تھے۔ اور ایران پر حملہ اسی توقع کی بنیاد پر کیا گیا تھاکہ دو تین روز کی بمباری کے بعد اسلامی حکومت ختم ہو جائے گی اور اُس کے خلاف ایران کے عوام اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ دنیا کی تاریخ کے سخت ترین حملے تھے اور ہفتوں جاری رہے۔ ایران کا بھاری نقصان ہوا‘ اس میں کوئی شک نہیں‘ تباہی ہوئی۔ لوگ مارے گئے‘ میناب ایلیمنٹری سکول کی تقریباً 165‘170 بچیاں ماری گئیں۔ لیکن گھٹنے کوئی نہ ٹکے‘ ایران کی طرف سے ترلے کوئی نہ کیے گئے۔ یہ تو امریکہ بہادر تھا جو آخر میں ہاتھ پیر مارنے لگا کہ کوئی نکلنے کا راستہ ملے۔ وہ جو انگریزی کا لفظ آج کل بہت استعمال ہوتا ہے‘ آف ریمپ (off ramp)ملے۔ آخر آف ریمپ پاکستان نے مہیا کیا۔ اور مولا کے رنگ دیکھئے کہ امریکہ کے نائب صدر کو پھر اسلام آباد آنا پڑا۔
ان مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے دیکھنا پڑے گا۔ حتمی معاہدہ تو نہیں نکلے گا لیکن جنگ بندی پکی ہو جائے تو دو دن کے مذاکراتی عمل کا اتنا نتیجہ بھی خوش آئند سمجھا جائے گا۔ لیکن دیرپا معاہدے کے بغیر بھی کئی چیزیں واضح ہو گئی ہیں۔ سب سے بڑی بات تو یہ کہ خلیج فارس اور گلف کوآپریشن کونسل یعنی جی سی سی کے ممالک میں امریکی تھانیداری اور چودھراہٹ کو شدید دھچکا لگا ہے۔ جی سی سی کے بردار ممالک ‘ ہمارے تو سب برادر ہیں‘ سوچتے تو ہوں گے کہ کیسے امریکی اڈوں پر انحصار کر رہے تھے جو ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے اپنے آپ کو نہ بچا سکے‘ ہمارا دفاع انہوں نے خاک کرنا تھا۔ اس جنگ سے پہلے تو ان ملکوں کی یہ سوچ تھی کہ امریکی دفاعی معاہدوں اور اڈوں کے ہوتے ہوئے ان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو گیا ہے اور ان کے میزائل شکن نظام کے ہوتے ہوئے کوئی چڑیا بھی ان کی طرف نہ آ سکے گی۔ لیکن اس جنگ میں ثابت ہو گیا کہ گلف ممالک کا تصورِ تحفظ شیشے کے قلعے کی مانند ہے۔ تیل تنصیبات پر حملوں نے ثابت کر دیا کہ گلف ممالک کا تمام تیل اور گیس انفراسٹرکچر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہے۔ امریکہ بھی ایسا دوست ثابت ہوا کہ حملے سے پہلے عرب اتحادیوں سے کسی قسم کے صلاح مشورے کی ضرورت محسوس نہ کی۔
دوسری بات یہ ثابت ہو گئی کہ ایران جب چاہے آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے۔ کیا کیا یبلیاں صدر ٹرمپ نے نہ ماریں کہ ہمارے بحری جہاز آئل ٹینکروں کی حفاظت کریں گے۔ نیٹو اتحادیوں سے کہا کہ اس پانی کے راستے کو کھولنے میں مدد کریں۔ اور تو اور چین کی طرف اشارے کیے گئے کہ اس کے مفاد میں ہے کہ اس پانی کی گزرگاہ کو کھولا جائے۔ لیکن ایران نے کر دکھایا کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی بحری جہاز یہاں سے گزر نہیں سکتا۔ یعنی امریکہ کی دھمکیاں بڑھکیں ہی رہیں۔اور اب جو مذاکرات ہو رہے ہیں اس وقت بھی اکا دُکا جہاز ہی وہاں سے گزر رہا ہے‘ مکمل طور پر یہ اہم گزرگاہ ابھی تک نہیں کھلی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا چھوڑیے امریکہ میں سوال اٹھ رہے ہیں کہ اس جنگ کی جھَک صدر ٹرمپ نے کیوں ماری۔ مقصد کیا تھا؟ کون سے سٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے تھے؟ نیویارک ٹائمز میں آنکھیں کھول دینے والی ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ فروری کی 11تاریخ کو وائٹ ہاؤس کے سچوایشن روم میں ایک میٹنگ ہوئی جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے پریزینٹیشن دی کہ یہ موقع ہے ایران پر حملے کرنے کا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ کوئی معصوم بچا تھا جسے کھینچ اور دھکیل کے اس جنگ کی طرف لایا گیا۔ 1979ء کے انقلابِ ایران سے لے کر آج تک ایران کو ہر امریکی حکومت اپنا بڑا دشمن ہی سمجھتی رہی ہے۔ لیکن کسی امریکی صدر نے اس قسم کے حملے کا نہیں سوچا۔ یہ ٹرمپ کا کارنامہ ہے کہ ایسے حملے کی طرف ذہنی طور پر مائل تھا اور پھر نیتن یاہو نے یوں سمجھیے صدر ٹرمپ کا ذہن پکا کیا۔مفروضہ البتہ یہی تھا اور بنیادی نکتہ نیتن یاہو نے یہی اُٹھایا کہ جنگ دیرپا نہیں ہوگی‘ دنوں میں فیصلہ ہو جائے گا اور ایرانی رجیم ختم ہو جائے گی۔ ٹرمپ کے ذہن میں یہ نقشہ اُبھرا کہ ایرانی رجیم کو ختم کرنے کی ہر کوئی بات کرتا آیا ہے لیکن صحیح معنوں میں اسے ختم کرنے کا اعزاز اس کے سر ہوگا۔ آرڈر پھر ہو گیا کہ جنگ شروع کی جائے۔ نتیجہ جو نکلا ہمارے سامنے ہے اور آج امریکی حکومت وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثالثی قبول کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ ویتنام کی جنگ میں امریکی سُبکی کو مکمل ہونے میں دس سال لگے۔ افغانستان میں امریکہ سولہ سال پھنسا رہا اور پھر جا کے کابل ایئرپورٹ سے افراتفری میں نکلنے کے مناظر ساری دنیا نے دیکھے۔ لیکن یہاں سُبکی کا جھومر چند ہفتوں میں ہی امریکہ کے ماتھے پر سج گیا ہے۔ سمجھ رہے تھے کہ ونیزویلا کا حشر ایران کاہوگا اور سامانِ عبرت اپنا تیار ہو گیا۔
بہرحال مسلمان ممالک کی حالت تو دیکھی جائے۔ غزہ پر ظلم و بربریت کے پہاڑ گرتے رہے اور اُمہ میں سے ایک ملک بھی نہ تھا جو غزہ کے باسیوں کے دفاع میں انگلی بھی اٹھاتا۔ حزب اللہ نے اپنی تباہی کے امکان مول لیے لیکن جو کچھ کر سکتے تھے غزہ کے باشندوں کے دفاع میں کیا۔ عمل بے سود تھا ‘ غزہ میں قتل عام کا سلسلہ نہ رکا لیکن حزب اللہ نے ہمت تو دکھائی۔ یمن کے حوثیوں نے ہمت دکھائی اور جو کر سکتے تھے غزہ کے دفاع میں کیا۔ امریکی بمباری کا نشانہ بنے۔ امریکی بمباری کرتے ایک ماہ بعد تھک گئے‘ حوثیوں نے ہاتھ نہ جوڑے۔ رونا آتا ہے یہ منظر دیکھ کے کہ اتنے تیل کے ذخائر‘ اتنی دولت اور ساتھ ہی انتہا کی بے بسی۔ دفاعِ غزہ تو دور کی بات رہی کتنے ہی مسلم ممالک تھے جو اسرائیل سے رشتے استوار کر رہے تھے۔ غزہ پر قتل و غارت کے درمیان ہی پچھلے سال جون میں اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا اور بارہ روزہ جنگ کے آخری روز صدر ٹرمپ نے B2 بمبار بھیج کر ایران کی جوہری تنصیبات پر بھاری بم گرائے۔ لیکن ایران نے ہاتھ روکے رکھے اور میزائلوں سے جواب دیا لیکن محتاط انداز سے کیونکہ جنگ کی طرف ایران جانا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن اب ایران پر جنگ مسلط کی گئی اور اُسے مجبوراً اپنے وجود کی خاطر بھرپور جواب دینا پڑا۔ یہ آزمائش ایسے بنی کہ ایران تو ڈٹا رہا اور امریکی طاقت بے نقاب ہو گئی۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکی نائب صدر اسلام آباد میں تشریف فرما ہیں۔ ایران کی طرف سے غیر مشروط ہتھیار ڈلتے تو یہاں کسی نے آنا تھا؟ آرڈر واشنگٹن سے جاری ہوتے اور ونیزویلا کی طرح ایران امریکہ کے سامنے بے بس ہوتا۔
سچ تویہ ہے کہ سنی شیعہ تمیزسے بے نیازایرانی قوم کی استقامت کی وجہ سے مردہ جسموں میں بھی ایک نئی جان آ گئی ہے۔ مرے ہوئے دلوں میں ایک نئی دھڑکن محسوس ہو رہی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved