تحریر : رشید صافی تاریخ اشاعت     12-04-2026

دیرپا معاہدے سے ایک قدم دوری

تاریخ ہمیشہ فاتحین سے نہیں بلکہ ان قوتوں سے عبارت ہوتی ہے جو تصادم کے طوفان میں مکالمے کی شمع روشن کرتی ہیں۔ اسلام آباد اس وقت عالمی سیاست کی دو حریف طاقتوں کے درمیان اُس ناگزیر سفارتی کوریڈور میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں سے گزرے بغیر عالمی امن کا سفر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ جنگ کے دو متحارب گروہوں کو قائل کر کے مذاکرات کی میز پر بٹھانا کوئی معمولی کام نہیں‘ اس کے لیے صرف سیاسی ارادے کی نہیں بلکہ اس خلوصِ نیت اور کمال سفارتکاری کی ضرورت ہوتی ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دے۔ پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ وہ محض جغرافیائی طور پر ہی اہم نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک ایسا ناگزیر ستون ہے جس کے بغیر خطے اور دنیا میں استحکام کا خواب ادھورا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے صحراؤں سے اٹھنے والی جنگ کی چنگاریاں جب یورپ اور ایشیا کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگیں تو دنیا امن کی تلاش میں تھی۔ اس بحران کے دوران پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے جس دور اندیشی کا ثبوت دیا وہ آنے والے وقتوں میں سٹریٹجک سٹڈیز کا حصہ بنے گا۔ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پس پردہ جو رابطے کیے گئے ان میں سے کچھ تو ریکارڈ کا حصہ ہیں لیکن جب کبھی مؤرخ اس کی تفصیلات سے پردہ ہٹائے گا تو دنیا دنگ رہ جائے گی کہ پاکستان نے کس مہارت سے ان شعلوں پر پانی ڈالا جو عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے تھے۔
آج اسلام آباد دنیا کی نظروں کا مرکز ہے۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ برسوں کی محنت کا ثمر ہے کہ امریکہ جیسی سپر پاور کی اعلیٰ ترین شخصیات آج پاکستان میں موجود ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معتمد خاص سٹیو وِٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کا اسلام آباد پہنچنا اس بات کی گواہی ہے کہ واشنگٹن اب پاکستان کے تزویراتی کردار کو نئی نظر سے دیکھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ انہوں نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے اپنی بہترین ٹیم بھیجی ہے‘ پاکستان کی سفارتی ساکھ پر عالمی مہرِ تصدیق ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا سفر بذاتِ خود ایک سفارتی داستان ہے۔ میری لینڈ سے روانگی کے بعد پیرس میں قیام اور پھر جارجیا‘ آذربائیجان‘ ترکمانستان اور تاجکستان سے گزرتے ہوئے چترال کے مقام سے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونا‘ ایک خاص تزویراتی پیغام تھا۔ مشرق وسطیٰ اور افغانستان کی فضائی حدود کو نظر انداز کر کے پاکستان کا انتخاب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت خطے میں سب سے محفوظ اور معتبر راستہ صرف پاکستان ہی فراہم کر سکتا ہے۔ جب صبح ساڑھے 10بجے نور خان ایئر بیس پر امریکی نائب صدر کے طیارے نے لینڈ کیا تو یہ محض ایک لینڈنگ نہیں تھی بلکہ پاکستان کے عالمی قیادت کے درجے پر فائز ہونے کا اعلان تھا۔
دوسری جانب تہران سے بھی ایک انتہائی بااختیار وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وزیر خارجہ عباس عراقچی‘ دفاعی کونسل کے سیکرٹری اور مرکزی بینک کے گورنر کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران اس مذاکراتی عمل کو کس قدر اہمیت دے رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دونوں وفود کا پُرتپاک استقبال کیا‘ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ یہ منظر نامہ پاکستان کی اس متوازن خارجہ پالیسی کا عکاس ہے جس کی بنیاد غیرجانبداری اور عالمی مفاہمت پر رکھی گئی ہے۔ ایک طرف امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی بحالی اور دوسری طرف برادر ملک ایران کے ساتھ اعتماد کا رشتہ برقرار رکھنا‘ ایک ایسی سفارتی رسی پر چلنے کے مترادف تھا جس پر توازن برقرار رکھنا صرف پاکستان ہی کا خاصہ ہے۔
اس وقت جب یہ تحریر لکھی جا رہی ہے‘ اسلام آباد کے بند کمروں میں مستقبل کی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا لیکن ذرائع بتاتے ہیں کہ برف پگھلنا شروع ہو چکی ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تصفیہ طلب معاملات کے حل کی آخری ذمہ داری فریقین پر ہی عائد ہوتی ہے لیکن ان فریقین کو ایک کمرے میں بٹھا کر مکالمے کی فضا پیدا کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ پاکستان اس مشن میں تنہا نہیں ہے۔ سفارت کاری کے اس فرنٹ لائن محاذ پر ہمیں سعودی عرب‘ مصر اور ترکیہ جیسے برادر ممالک کی بھرپور معاونت حاصل رہی۔ ان ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان نے ایک ایسا امن بلاک تشکیل دیا ہے جو جنگ کے بجائے مذاکرات اور گولی کے بجائے دلیل پر یقین رکھتا ہے۔ عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ اور یورپی یونین پاکستان کی ان کوششوں کو سراہ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کی کامیابی کے لیے پُرامید ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے امریکہ اورایران کے مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کی قیادت کو مختلف ممالک کے سربراہان کی جانب سے موصول ہونے والے ستائشی پیغامات کی فہرست طویل ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا اب پاکستان کو کسی مسئلے کا حصہ نہیں بلکہ ہر بڑے مسئلے کا حل سمجھتی ہے۔
برسوں بعد پاکستان میں عالمی طاقتوں کا اس سطح پر اکٹھا ہونا اس بات کی نوید ہے کہ پاکستان کی تزویراتی اہمیت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ مذاکرات دیرپا اور حتمی معاہدے سے ایک قدم دوری پر ہیں۔ اگر یہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو اس کا سب سے بڑا فائدہ عالم اسلام اور ایشیا کو ہو گا۔ مشرق وسطیٰ میں امن کا مطلب ہے عالمی معیشت کا استحکام‘ سستی توانائی کی فراہمی اور انسانی المیوں کا خاتمہ۔ اور اس عظیم مقصد کے پیچھے اگر کسی ملک کا عکس سب سے نمایاں ہے تو وہ پاکستان ہے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو مذاکرات کی میز پر بیٹھے وفود کے سامنے کوئی ایجنڈا نہیں بلکہ لاکھوں انسانی جانوں کا مستقبل ہے۔ پاکستان نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے‘ ہم نے شعلوں پر پانی ڈالا ہے‘ ہم نے راستے ہموار کیے ہیں اور ہم نے دنیا کو ایک بار پھر امن کا سفیر بن کر دکھایا ہے۔ اب فریقین پر منحصر ہے کہ وہ پاکستان کی اس بے لوث کوشش کو کس طرح ایک مستقل امن میں تبدیل کرتے ہیں۔ البتہ پاکستان کے لیے یہ لمحہ فخر کا ہے کہ دنیا کا ہر بڑا ملک اسلام آباد کی طرف دیکھ رہا ہے۔ ہم نے ثابت کر دیا کہ پاکستان امن کے ساتھ کھڑا ہے اور امن ہی پاکستان کی پہچان ہے۔ مؤرخ جب اس دور کی تاریخ لکھے گا تو وہ سنہری حروف میں درج کرے گا کہ جب دنیا جنگ کی آگ میں جل رہی تھی تو پاکستان وہ سرزمین تھی جہاں سے امن کی ٹھنڈی ہوائیں چلی تھیں اور جس نے عالمی سیاست کے بپھرے ہوئے سمندر کو سکون بخشا تھا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved