بحیثیت ثالث بالخیر‘ پاکستان کامیاب رہا۔ اُس نے کم وبیش نصف صدی کا جمود توڑا اور دو جانی دشمنوں کو ایک چھت تلے لا بٹھایا۔ نہ صرف بٹھایا بلکہ انہوں نے گھنٹوں ایک دوسرے سے گفتگو کی۔ ثالث کا کام یہی تھا۔ دونوں فریقوں نے اس کو سراہا۔ جنگ کے دوران میں مذاکرات کی میز بچھانا اور پھر برسرِ پیکار طاقتوں کو بات چیت پر آمادہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان کی قیادت نے یہ کارنامہ کر دکھایا۔ پاکستان کی اس کامیابی پر دو آرا نہیں ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور ایران بھی کامیاب رہے؟
دونوں کا تبصرہ بتا رہا ہے کہ امید باقی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے الفاظ پر غور کیجیے۔ انتہائی نپے تلے اور کوئی ایک لفظ ایسا نہیں ہے جس سے ایران کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ انہوں نے اپنا نقطہ نظر دہرایا‘ مستقبل کے راستے کی نشاندہی کی اور مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا بیان بھی سیاسی بالغ نظری کا مظہر ہے۔ انہوں نے اپنا مؤقف باوقار انداز میں بیان کیا۔ امریکہ کے بارے میں کوئی ایک لفظ ایسا نہیں کہا جو سفارتی آداب کے خلاف ہو۔ انہوں نے کئی نکات پر 'مفاہمت‘ کی خوشخبری سنائی۔ ان کا کہنا تھا: 'اس فضا میں یہ توقع کسی کو نہیں تھی کہ محض ایک نشست میں مذاکرات نتیجہ خیز ہو جائیں گے‘۔ نیویارک ٹائمز نے آج ہی یاد دلایا کہ 2015ء میں ہونے والا ایران امریکہ معاہدہ دو سال کے بعد حقیقت بن سکا۔ بقائی کا یہ جملہ امید کا دروازہ کھولتا ہے کہ 'سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی‘۔
میری تفہیم یہ ہے کہ یہ لب ولہجہ سوچ سمجھ کر اختیار کیا گیا ہے اور گمان ہے کہ اس پر مذاکرات میں اتفاق ہوا ہو گا۔ یہ اسلوبِ کلام بتا رہا ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کر نا چاہتے۔ دونوں جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ اختلاف اس پر ہے کہ اس خاتمے کا اعلان کیسے ہو۔ ہر فریق کی خواہش ہے کہ اس کی فتح کا تاثر غالب رہے۔ ایک عالمی طاقت کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ کوئی جنگ اس کی جیت پر منتج نہ ہو۔ یہ اعصاب اور نفسیات کی جنگ ہے۔ جے ڈی وینس نے بتایا کہ ان مذاکرات کے دوران میں وہ صدر ٹرمپ سے رابطے میں تھے اور بارہا ان سے بات ہوئی ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکی تبصرے میں اگر تلخی نہیں ہے تو اس میں صدر ٹرمپ کی رائے شامل ہے۔
مذاکرات کے اس دور میں‘ میرا تاثر یہ بھی ہے کہ ایران کا پلہ بھاری رہا۔ ایران کی پہلی کامیابی یہ ہے کہ وہ امریکہ کے بالمقابل برابری کی سطح پر آ گیا۔ امریکہ نے زبانِ حال سے ایران کی حیثیت کا اعتراف کیاہے۔ ایران یہ تاثر دینے میں بھی کامیاب رہا کہ امن یا جنگ بندی تنہا اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ان مذاکرات نے امریکی برتری کے تاثر کو زائل کر دیا۔ یہ ایران کی دوسری کامیابی ہے۔ ایران نے ایک لمحے کے لیے یہ تاثر نہیں دیا کہ وہ کمزور جگہ پر کھڑا ہے۔ یہ تیسری کامیابی ہے۔ اسے ایران کی کامیاب سفارت کاری قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایران کو جدید پڑھے لکھے لوگوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ سیاسی اور دنیاوی معاملات کو اصلاح پسندوں کے حوالے کر دے اور مذہبی طبقہ مذہبی امور میں راہنمائی تک محدود رہے۔ عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے اس طبقے کا کردار ہو سکتا ہے مگر سفارت کاری کے لیے نہیں۔
ایرانی قیادت کی بالغ نظری کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ انہوں نے پاکستان میں سنی شیعہ تفریق سے بے نیاز ہو کر سب سے رابطہ رکھا۔ یہ ایک عقل مندانہ قدم (smart move) تھا۔ اس سے انہوں نے پاکستان میں اپنی عوامی حمایت کو مضبوط کیا۔ اس کا فائدہ انہیں ان مذاکرات میں بھی ہوا۔ شیعہ تو ان کے حامی ہیں ہی‘ انہوں نے سنیوں کی ایک نمائندہ جماعت کی قیادت سے مل کر انقلابِ ایران کے ابتدائی نعرے 'لاشرقیہ لاغربیہ‘ کا بالواسطہ احیا کیا اور اس تاثر کو ختم کرنے کی شعوری کوشش کی‘ جو ان کے نادان دوستوں نے ان کے بارے میں قائم کر دیا تھا۔ جب سیاسی قیادت پڑھی لکھی اور عالمی سیاست کا ادراک رکھتی ہو تو اس کا یہی فائدہ ہوتا ہے۔
میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس سارے عمل کے دوران میں پاکستان کا واضح جھکاؤ ایران کی طرف رہا۔ سفارت کاری کے آداب کا پوری طرح خیال رکھتے ہوئے‘ ایران کے ساتھ اپنے تعلق کو چھپایا نہیں جا سکا۔ اسحاق ڈار صاحب نے جو بیان جاری کیا‘ اس میں ایران کا ذکر پہلے ہوا اور امریکہ کا بعد میں۔ یہ غیر ارادی نہیں ہو سکتا۔ یہ شاید فطری بھی تھا۔ پاکستان نے اس سارے عرصے میں یہی پیغام دیا کہ وہ ایران کا خیر خواہ ہے۔ گزشتہ دو دنوں کا پیغام بھی یہی تھا۔ ایرانی وفد اور میڈیا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس پیغام کا پوری طرح ابلاغ ہوا ہے۔ اس سے باہمی تعلقات مزید خوشگوار ہوں گے۔
اہم سوال یہ ہے کہ اب کیا ہو گا؟ کیاجنگ بندی برقرار رہے گی؟ کیا مذاکرات کا کوئی نیا دور جلد شروع ہو سکے گا؟ کیا پاکستان کا مزید کردار باقی ہے؟ پہلے سوال کا جواب فریقین کے رویے پر منحصر ہے۔ اگروہ جذبہ برقرار رہتا ہے جس کا اظہار مذاکرات کے بعد ہوا ہے تو امید یہ ہے کہ بات امن کی طرف بڑھے گی۔ اسی طرح یہ امید بھی غالب ہے کہ اس مذاکراتی عمل کی توسیع ہو اور عنقریب ان کا کوئی دوسرا دور ہو۔ دونوں فریقوں نے جس طرح پاکستان کی تعریف کی ہے‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا کردار باقی ہے اور وہ اب بھی پوری صلاحیت رکھتا ہے کہ دونوں کو کسی حل تک پہنچنے میں مدد گار ہو۔
اس مرحلے پر ان قوتوں کا کردار اہم ہو جاتا ہے جو ابھی تک بظاہر کوئی عملی کردار ادا نہیں کر رہیں؛ اگرچہ کر سکتی ہیں۔ ان میں یورپ اور چین اہم ہیں۔ قیاس یہی ہے کہ پاکستان کے اس کردارکو چین کی بھرپور تائید حاصل رہی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس کا امکان ہے کہ چین کھل کرکوئی کردار ادا کرے۔ اسی طرح یورپ کو بھی موقع مل گیا ہے کہ وہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے میں عملاً معاونت کرے۔ عربوں کا انتخاب بھی امن ہو گا۔ اگر وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا ایک عمل شروع کر سکیں تو اس کے مفید نتائج نکل سکتے ہیں۔
پاکستان اب کیا کرے؟ ایک تو یہ کہ وہ اس مذاکراتی عمل کے تسلسل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ دوسرا یہ کہ اسی طرح عربوں اور ایران کو بھی ایک میز پر بٹھائے۔ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے یہ ناگزیر ہے۔ پاکستان اس کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر پاکستان یہ کر گزرتا ہے تو اس کی عزت میں مزید اضافہ ہو گا۔ اصل کردار مگر امریکہ اور ایران کا ہے۔ اس وقت ایران کے معاملات جن ہاتھوں میں ہیں‘ وہ حالات کا بہتر ادراک رکھتے ہیں۔ یہ 'اصلاح پسند‘ہیں اور اس قیادت کا جھکاؤ جنگ سے زیادہ امن کی طرف دکھائی دیتا ہے۔ یہی ایران کی ضرورت ہے۔ امریکہ کا معاملہ البتہ مشکوک ہے۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں کوئی پیش گوئی آسان نہیں۔ انہیں اگرچہ اندازہ ہے کہ جنگ کی طوالت امریکہ کے حق میں نہیں۔ نرگسی شخصیت کے لیے مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس دلدل سے فتح کا پھریرا لہراتے ہوئے کیسے باہر نکلے؟ پاکستان نے ان کی دست گیری کے لیے کوشش کی ہے۔ اگر ایران بھی کچھ مدد کرے تو مذاکرات کا اگلا دور حتمی ہو سکتا ہے۔
مذاکرات کا پہلا دور نتیجہ خیز نہیں رہا مگر یہ ختم نہیں ہوا۔ امید کا چراغ ابھی روشن ہے۔ اسے پاکستان نے روشن کیا اور اس کا یہ اعزاز تاریخ کا حصہ بن چکا۔
Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved