تحریر : سعود عثمانی تاریخ اشاعت     13-04-2026

بے معاہدہ لیکن بامعنی مذاکرات

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اتوار 12 اپریل کو صبح چھ بجے کے قریب مختصر سی پریس کانفرنس کے بعد اسلام آباد سے واپس امریکہ روانہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا ''وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کا شکریہ! ان کی طرف سے کوئی کمی نہیں تھی‘ وہ ہماری مدد کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے 21 گھنٹے مذاکرات کیے لیکن مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے‘ یہ امریکہ سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران واضح اور ٹھوس یقین دہانی کرائے کہ وہ کبھی بھی جوہری بم نہیں بنائے گا۔ ایک دو سال کی نہیں ‘ لمبی مدت کی یقین دہانی! ہم نے اپنی سیدھی سی حتمی بات ایرانیوں کو بتا دی ہے‘ اب ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں‘‘۔ گویا دروازہ بند نہیں ہوا۔
بظاہر جے ڈی وینس اپنے پورے وفد کے ساتھ واپس چلے گئے ہیں‘ یعنی اب کوئی تکنیکی ٹیم ایسی نہیں ہے جو ایرانی وفد سے معاملات طے کر رہی ہو لیکن یہ ابھی پوری طرح واضح نہیں ہے۔ اس سے چند گھنٹے پیشتر ایرانی وزارتِ خارجہ کا بیان آیا تھا کہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے لیکن آج بھی بات چیت جاری رہے گی۔ ممکن ہے یہ ایرانیوں کا فیصلہ ہو لیکن امریکیوں نے واپسی اختیار کر لی۔ یہ صورت ان لوگوں کیلئے مایوس کن ضرور ہے جو چاہتے تھے کہ فریقین کسی معاہدے تک پہنچ جائیں اور دنیا مزید کسی خون خرابے سے بچ جائے لیکن فیصلہ تو ان لڑنے والوں نے کرنا تھا جن کے ذہنوں اور دلوں میں اس سے کئی گنا زیادہ فاصلہ ہے جتنا ایران اور امریکہ کا زمینی فاصلہ۔ 47 سال کے بعد یہ مرحلہ آیا تھا کہ وہ ایسی بڑی سربراہی سطح پر ایک چھت تلے جمع ہوئے ہوں‘ نصف صدی میں 11 اپریل کے علاوہ یہ موقع کبھی نہیں آیا۔
خواہشات اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملکوں کے بیچ معاہدے راتوں رات نہیں ہو سکتے۔ ایک دو دن میں نصف صدی کی بداعتمادی ختم نہیں ہو سکتی۔ مذاکرات نہ سو میٹر کی دوڑ ہوتی ہے نہ کوئی عام تقریب‘ جو کچھ دیر میں ختم ہو جائے۔ جن لشکروں نے چند دن پہلے ہی ایک دوسرے پر کاری ضربیں لگائی ہوں‘ وہ اتنی جلد اپنی اَنا نہیں چھوڑ سکتے۔ وہ بہت سے معاملات سے بلند ہو کر ٹھیک سے فیصلے کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتے۔ لیکن معاہدہ نہ ہونے کے باوجود میں ان مذاکرات کو بامعنی سمجھتا ہوں۔ جن فوجوں کے جرنیل ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کے روادار نہ ہوں‘ ایک میز پر بیٹھ کر گھنٹوں بات چیت کریں‘ ساتھ کھانا کھائیں تو یہ کم پیشرفت نہیں۔ یہ مذاکرات بہت حوالوں سے کامیاب رہے خواہ حتمی معاہدہ ابھی دور ہو۔ دو سوال اہم ہیں: پہلا یہ کہ مذکرات کے حتمی معاہدے تک پہنچنے میں کیا چیزیں رکاوٹ رہی ہوں گی؟ دوسرا اہم سوال یہ کہ وہ کون سی سرخ لکیریں ہیں جن کا ذکر جے ڈی وینس نے بھی کیا اور جن پر طریفین کے بے لچک مؤقف نے بات چیت ختم کر دی۔
میں سمجھتا ہوں کہ فریقین کی ایک دوسرے پر حد درجہ بے اعتمادی وہ پہلی رکاوٹ ہے جو بات آگے بڑھنے میں رکاوٹ بنی۔ ایران سمجھتا ہے کہ امریکہ پر کسی بھی طرح اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور وہ پہلے بھی مذاکرات کے بیچ دھوکا دے کر ایران پر حملے کرتا رہا ہے۔ گزشتہ دونوں مذاکرات اس کی مثال ہیں۔ وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ امریکہ جو بھی وعدہ کر لے‘ اسرائیل کو من مانی کی کھلی چھوٹ دیتا رہے گا۔ چنانچہ ان مذاکرات میں اعتماد کا بے حد فقدان تھا۔ دوسری وجہ ایران کی وہ شرائط تھیں جو اس نے سیز فائر کے بعد مذاکرات سے عین پہلے رکھی تھیں۔ اول‘ لبنان میں بھی سیز فائر کرایا جائے۔ دوم‘ ایران کے اربوں ڈالر کے منجمد فنڈز ریلیز کیے جائیں۔ یہ دونوں شرطیں پوری نہیں ہوئیں۔ ایران اس کے باوجود میز پر بیٹھ تو گیا لیکن مسئلہ یہ آن پڑا کہ اپنے عوام کو کیا بتایا جائے کہ جب لبنان پر مسلسل حملے جاری ہیں تو مذاکرات کیوں کیے؟ مذاکرات میں تیسری بڑی رکاوٹ ایران کا بے لچک رویہ رہا ہو گا۔ دنیا کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ ایران اس جنگ میں فاتح رہا ہے‘ امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے اور انہوں نے ایران کو سخت نقصانات پہنچانے کے باوجود خود بھی بہت سے زخم کھائے ہیں اور ان پر سخت دبائو بھی ہے۔ چوتھی بڑی رکاوٹ امریکہ کی سیاسی مجبوریاں ہیں۔ ٹرمپ اور جے ڈی وینس کی شدید خواہش ہے کہ وہ اس جنگ سے نکل جائیں لیکن وہ اپنی سیاسی موت قبول نہیں کر سکتے۔ ایسا کوئی بھی معاہدہ جو انہیں ہارا ہوا ظاہر کرے‘ ان کی سیاسی موت ہو گی۔ وہ خود کو کمزور ظاہر نہیں کر سکتے۔
مذاکرات میں اصل اختلافی معاملات کیا ہیں؟ جے ڈی وینس نے جوہری بم بنیادی نکتہ بتایا ہے لیکن میرے خیال میں اصل مسئلہ دنیا کا نرخرہ ہے جو ایران نے پکڑا ہوا ہے‘ جس سے دنیا کی سانس گھٹ گھٹ کر چل رہی ہے اور جس کا نام آبنائے ہرمز ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال پر بحال ہو جس میں ایران کا کوئی کنٹرول بھی نہ ہو اور کوئی ایرانی ٹیکس بھی نہ ہو۔ ایران آبنائے ہرمز کو اپنا بہت بڑا ہتھیار سمجھتا ہے‘ اب آمدنی کا ذریعہ بھی بنانا چاہتا ہے اور اس سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں۔ لیکن کسی بھی درجے کا ایرانی کنٹرول اور ایرانی ٹیکس امریکی شکست سمجھی جائے گی اور ساری دنیا سوال کرے گی کہ یہ مسئلہ تو فروری سے پہلے تھا ہی نہیں‘ یہ تو امریکی جنگ نے بنایا ہے تو اس جنگ کا فائدہ کیا ہوا؟ امریکہ یہ بھی ظاہر نہیں کرنا چاہتا کہ وہ آبنائے ہرمز طاقت کے ذریعے کھلوانے سے قاصر ہے لہٰذا جے ڈی وینس نے بنیادی اختلاف آبنائے ہرمز کو نہیں‘ جوہری بم کو قرار دیا۔ افزودہ یورینیم محفوظ ہاتھوں میں دینے کی بات امریکہ ضرور کرتا ہے لیکن افزودہ یورینیم کی نہ دنیا کو فوری فکر ہے نہ امریکہ پر پر دنیا کا دبائو ہے۔ دبائو آبنائے ہرمز کا ہے۔ میرے خیال میں ایرانی فنڈز کی بحالی اور دیگر شرائط بنیادی اختلافی وجہ نہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایران کو باقی شرائط منوا کر آبنائے ہرمز پر لچک دکھانی چاہیے تھی۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت اس پر ایرانی کنٹرول نہیں ہو سکتا۔ یہ بہت ممکن ہے کہ اس بے لچک مؤقف کی وجہ سے یورپی ملک مجبور ہو جائیں کہ بزور آبنائے ہرمز کھلوائی جائے اور اس کے آثار شروع ہو چکے ہیں۔ بہت مدت تک ایران کیلئے یہ ممکن نہیں ہو گا کہ وہ ٹیکس لے کر جہاز گزارتا رہے۔ خلیجی ممالک پہلے ہی آبنائے ہرمز کھلوانا چاہتے ہیں۔ اس لیے یہ ایک بڑا سوال ہے کہ ایران کب تک معاملات ایسے ہی چلاتا رہے گا۔ ہماری ہمدردیاں ایران کے ساتھ سہی لیکن اس کی ہر بات نہیں مانی جا سکتی۔ میں نے پہلے بھی ایک کالم میں ایران میں مدبرانہ قیادت کی شدید ضرورت کا ذکر کیا تھا جو جذباتی نعروں کے بجائے ہوشمندی کے ساتھ ملک کی پالیسیوں پر‘ اپنی پراکسیوں پر نظر ثانی کرے اور ایران کو وہ امن مہیا کرے جو اس کی شدید ضرورت ہے۔
مذاکرات میں سب سے بڑی کامیابی پاکستان کی ہے۔ پوری دنیا میں پاکستان کا نام گونج رہا ہے۔ ہر ملک کے میڈیا پر اسلام آباد کی خبریں چل رہی ہیں۔ شہباز شریف‘ سید عاصم منیر‘ اسحاق ڈار کو مبارکبادیں پہنچ رہی ہیں اور کوئی شک نہیں کہ ان تینوں کی انتھک محنت نے پاکستان کو وہ معتبر‘ معزز اور باوقار مقام دلایا ہے جس کی ہر پاکستانی صرف خواہش ہی کر سکتا تھا۔ کوئی ملک اربوں ڈالر خرچ کر کے بھی اتنی شہرت اور نیک نامی نہیں کما سکتا جتنی اس سیز فائر اور مذاکرات کی وجہ سے اسلام آباد نے کمائی ہے۔ پاکستان امن کے ایسے پیغامبر کے طور پر ابھرا ہے جو امن کی کوشش کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں‘ مسلمہ جوہری طاقت ہونے کے باوجود کرتا ہے۔ یاد رکھیں! خاندان ہوں‘ معاشرے ہوں یا ملک‘ دنیا دو ہی چیزوں کی عزت کرتی ہے: دولت اور طاقت۔ پاکستان عسکری اور سفارتی طاقتوں کا مظاہرہ کر چکا‘ اب اسے عزت کے لیے معاشی طاقت بھی بننا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved